What you keep saying to yourself… quietly shapes your days.
Some people begin the week already expecting stress, problems, exhaustion.
And without realizing…
they start walking in that direction. - Daily Motivation
امام حسینؑ نے قاصد جنابِ قیس ابن مسہر صیداویؑ کو خط دے کر کوفہ روانہ کیا تو راستے میں حصین بن نمیر ملعون کے سپاہیوں نے انہیں گرفتار کر لیا۔ جنابِ قیسؑ نے خط کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے نگل لیے تاکہ مولاؑ کے راز دشمن تک نہ پہنچ سکیں ۔
" جب انہیں ابنِ زیاد ملعون کے دربار میں پیش کیا گیا، تو خط چبا کر نگلنے پر ابنِ زیاد غصے سے پاگل ہو گیا۔ سچ اگلوانے اور مولا حسینؑ کے کوفہ میں موجود دیگر ساتھیوں کے نام معلوم کرنے کے لیے ان پر بدترین جسمانی تشدد شروع کیا گیا :
" جلادوں نے ابنِ زیاد کے حکم پر انہیں زمین پر لٹا کر کوڑوں اور چمڑے کے تسموں سے اس بے رحمی سے مارا کہ ان کا پورا جسم لہولہان ہو گیا
ان کے ہاتھوں اور پیروں میں بھاری اور تیکھی لوہے کی بیڑیاں اور طوق اس طرح جکڑے گئے کہ وہ ہڈیوں تک چبھنے لگے ،
" شدید مار پیٹ کے بعد انہیں تپتی ہوئی زمین پر گھسیٹا گیا تاکہ وہ درد کی شدت سے راز اگل دیں، جب جسمانی اذیتیں بھی ان کا عزم نہ توڑ سکیں، تو ابنِ زیاد نے تلملا کر حکم دیا کہ انہیں محل کی بلند فصیل سے نیچے پھینک دیا جائے "
" جب انہیں ہاتھ باندھ کر بلندی سے نیچے گرایا گیا تو بلندی سے گرنے کی وجہ سے ان کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور وہ شدید زخمی ہو کر تڑپنے لگے ۔ ہڈیاں ٹوٹ جانے کے باوجود ان کے سانس چل رہی تھی ۔ اس شدید کرب اور تڑپنے کی حالت میں بھی ابنِ زیاد کے سنگدل جلاد نے آگے بڑھ کر ان کا سر قلم کر دیا اور یوں ان تمام ہولناک اذیتوں کو سہتے سہتے تڑپتے ہوئے جناب قیس علیہ السلام کی شہادت ہو گئی "
" جب امام حسینؑ کو اپنے اس باوفا قاصد کی اس قدر مظلومانہ شہادت کی خبر ملی تو آپؑ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ، آپؑ نے شدید گریہ فرمایا اور روتے ہوئے خدا کی بارگاہ میں دعا کی اور آیت پڑھی :
" فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا " ( احزاب )
"پس ان میں سے کوئی اپنی نذر (قربانی) پوری کر چکا ہے اور کوئی انتظار کر رہا ہے، اور انہوں نے ( اپنے عہد میں ) کوئی تبدیلی نہیں کی"
۔۔۔۔۔
( کتبِ حوالہ: کتاب الارشاد جلد 2 صفحہ 71 تاریخِ طبری جلد 5 صفحہ 395 الکامل فی التاریخ جلد 4 صفحہ 43 بحار الانوار جلد 44 صفحہ 370 )
ایک بات یاد رکھیے گا جب اپ کا دل پاک ہو، آپ کی نیت پاکیزہ ہو اور آپ کی روح بیدار ہو تو پھر دنیا کا کوئی شر آپ کے رب کی خیر کو ٹال نہیں سکتا۔ اپنے لیے مال دولت کی بجاۓ وہ کندن تلاش کریں کہ جس کی قدر وقیمت کی کوئی انتہا ہی نہ ہو وہ انمول ہو جس کی خیر کے لیے خود قدرت حرکت میں آجاۓ ۔