🔴 بلاسفیمی : پاکستان میں منافع کے لیے الزامات
پاکستان میں توہین مذہب کے الزامات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اب صورتحال اس سے بھی آگے نکل گئی ہے۔
توہین رسالت کے بڑھتے ہوئے منظم کاروباری نیٹ ورک کے اراکین سوشل میڈیا پر لوگوں کو "توہین رسالت" کے ارتکاب میں پھنسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کچھ پاکستانی حکام جن میں ملک کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ارکان بھی شامل ہیں، توہین مذہب کے نیٹ ورک کی جانب سے فری لانس ہیں۔ اپنی قانون نافذ کرنے والی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے، وہ گرفتاریاں کرتے ہیں جو کہ بنیادی طور پر اغوا ہیں۔
یہاں بنیادی مقصد مجرمانہ الزامات کو چھوڑنے کے عوض ہدف سے رشوت وصول کرنا ہے۔ ایسے لوگوں کی تحویل میں یہ سلوک افسوسناک ہے۔ کم از کم کئی معاملات میں بدسلوکی کو مہلک ہوتے دیکھا گیا ہے۔
پاکستان میں کوئی بھی آبادی توہین مذہب کے الزامات سے محفوظ نہیں ہے۔ لیکن مذہبی اقلیتیں - عیسائی، ہندو، اور اسلام کے اندر بعض فرقے جنہیں بدعتی سمجھا جاتا ہے - کو زیادہ خطرہ لاحق ہے۔
مذہبی اقلیت کے خلاف توہین مذہب کے الزامات اس قدر متزلزل ہو سکتے ہیں کہ ملزم کی برادری کے ہر فرد کو اپنے گھروں سے بھاگنا پڑے۔ ہجوم کے کچھ حملے ایک ساتھ درجنوں گھروں کو تباہ کر سکتے ہیں۔
جب پاکستان کے اندر عیسائیوں کے ساتھ اس مسئلے کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو ان کی بے حسی کا احساس واضح ہوتا ہے۔ وہ آپ کو بتا سکتے ہیں، "جو سوالات آپ پوچھ رہے ہیں وہ بہت حساس ہیں۔" وہ اپنے خلاف کسی "کیس بنانے" کے بارے میں بھی بات کر سکتے ہیں۔
یہاں تک کہ اگر وہ WhatsApp ویڈیو چیٹ کے دوسری طرف کسی مغربی باشندے کا چہرہ دیکھتے ہیں، تو وہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اس طرح کے معاملات کے بارے میں بات کرنا بہت خطرناک ہے۔
یہ قابل فہم ہے۔ اور جتنا زیادہ آپ اس مسئلے کے بارے میں سیکھیں گے، اتنا ہی زیادہ سمجھ میں آتا ہے۔
ایک پاکستانی مسیحی "سائمن" نے تصدیق کی کہ ان دنوں توہین مذہب کے زیادہ تر الزامات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مبینہ رویے سے متعلق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ پاکستانی مذہبی اقلیتوں کا آن لائن پیچھا کرتے ہیں اور انہیں ایسی بات کہنے پر لالچ دیتے ہیں جسے توہین آمیز قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، "اگر وہ کسی کو نشانہ بناتے ہیں، تو وہ اپنی [سوشل میڈیا] پوسٹس میں کوئی ایسی خامی تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔"
برا ارادہ رکھنے والا کوئی شخص پاکستان میں کسی شخص کے ساتھ آن لائن بات چیت شروع کر سکتا ہے اور بات چیت کو ایمان کی طرف لے جانے سے پہلے، آخر میں ملک کے غالب مذہب کو چھونے سے پہلے اعتماد کی فضا قائم کرنے کے لیے ذاتی تفصیلات ظاہر کر سکتا ہے۔
اس مقام پر، اگر ہدف ایک ایسی بات بھی کہتا ہے جسے تنقیدی، طنزیہ، یا مذہبی طور پر متنازعہ سمجھا جا سکتا ہے، تو وہ بڑی مصیبت میں ہے۔ صرف "ناگوار" پیغام کا اسکرین شاٹ لیں، اور آپ کے پاس ناقابل تباہی ثبوت ہیں۔
اب آپ اس سے بھتہ لینا شروع کر سکتے ہیں۔ یا چند منتخب عہدیداروں کو ان سے ملنے کو کہیں۔ اگر ٹارگٹ اس طرح کے دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے منحرف رہتا ہے، تو اسکرین شاٹ کو اس کے آجر، اس کے خاندان، اور یقیناً مقامی اماموں اور کارکنوں کو لیک کر دیں — وہ اسے وہاں سے بخوشی سنبھال لیں گے، ان کے پیچھے ادارہ جاتی تعاون کی تہوں کے ساتھ۔
بہت سے معاملات میں، شکار شخص ذاتی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔ اس کے بجائے، انہیں فیس بک یا واٹس ایپ چیٹ یا گروپ میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کیا جاتا ہے جہاں گستاخانہ مواد شیئر کیا جاتا ہے۔
ایک عام طریقہ یہ ہے کہ فوٹوجینک خاتون — یا کوئی فوٹوجینک خاتون پروفائل تصویر استعمال کر رہی ہو — WhatsApp پر نوجوان مردوں کو تلاش کریں اور انہیں کسی خاص WhatsApp گروپ میں شامل ہونے کے لیے قائل کریں۔
کچھ معاملات میں، ہدف ایک WhatsApp گروپ میں شامل ہوتا ہے اور اسے فوری طور پر انتظامی مراعات دی جاتی ہیں۔ پھر پہلے سے موجود گروپ ایڈمنسٹریٹر باہر نکل جاتا ہے، نئے آدمی کو ایک ایسے "توہین آمیز" گروپ کے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر چھوڑ دیتا ہے جس کے مواد کے بارے میں وہ نہیں جانتا تھا۔
پچھلا ایڈمنسٹریٹر پھر ضروری اسکرین شاٹس لیتا ہے اور توہین رسالت کے نیٹ ورک کے دیگر اراکین تک پہنچتا ہے۔ اب متاثرہ کی زندگی گستاخانہ مواد کی وجہ سے تباہی کا شکار ہے جو اس نے نہیں مانگا تھا اور غالباً وہ دیکھنا بھی نہیں چاہتا تھا۔
1/2
The Kiswa of the Holy Kaaba Has Been Replaced: Inspiring Scenes from Masjid al-Haram - 24 News HD
غلاف کعبہ تبدیل کردیا گیا، مسجد الحرام میں غلاف کعبہ کی تبدیلی کے روح پرور مناظر۔
#Pakistan#Makkah#Kaba
Blasphemy has become its own business sector in Pakistan. And business is good.
In July 2025, the Islamabad High Court ordered Pakistan’s federal government to form a commission to investigate the abuse of the country’s blasphemy laws. And about one week later, this order was suspended..
Detailed Story 👇
https://t.co/FOB8b3NLIp
🟢 ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو لودووک ٹراریو انٹرنیشنل ہیومن رائٹس پرائز ملنا نہ صرف ان کے لیے بلکہ ملک پاکستان کے لیے بھی ایک اعزاز کی بات ہے اور ان تمام مظلوموں کے لیے امید کی ایک کرن ہے جن کی آواز برسوں سے دبائی جاتی رہی۔
📍انہوں نے خوف، دباؤ اور ذاتی نقصان کی پروا کیے بغیر ان لوگوں کا ساتھ دیا جنہیں اکثر سب نے تنہا چھوڑ دیا تھا، خصوصاً توہینِ مذہب کے مقدمات میں پھنسے بے گناہ اور کمزور افراد کا۔
📍آج جب دنیا ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے، یہ ایک تلخ حقیقت بھی ہے کہ دونوں وکلاء خود قید میں ہیں۔
📍انصاف، انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے لیے لڑنے والوں کی جگہ جیل نہیں بلکہ عدالتوں اور عوام کے درمیان ہونی چاہیے، جہاں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
📍مظلوموں کو اپنے وکیلوں کی ضرورت ہے۔ خاموش کر دی جانے والی آوازوں کو اپنے ترجمانوں کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ یہ عالمی اعزاز نہ صرف ان کی جدوجہد کو سراہنے کا ذریعہ بنے گا بلکہ ان کی رہائی کی آواز کو بھی مزید مضبوط کرے گا۔
#FreeImaanMazari #FreeHadiAliChattha #HumanRights #JusticeForAll #BlasphemyVictims #LudovicTrarieuxPrize
BREAKING: Jailed Pakistani lawyers Imaan Mazari and Hadi Ali Chattha have been awarded the Ludovic-Trarieux Human Rights Prize, one of the world’s most prestigious human rights honours for lawyers. The award was first bestowed on Nelson Mandela in 1985 while he was imprisoned by South Africa’s apartheid regime.
جج افضل مجوکہ بلاسفمی بزنس گروپ کا سہولت کار ہے اور کھلے عام عدالتی ریکارڈ کی tampering کرتا ہوا پکڑا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ میں بلاسفمی کے کیسوں میں آج تک پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ سزائے موت سنا چکا ہے۔
ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور حادی علی نے غریب بچوں کے کیس لے کر اس کا دھندہ بند کر دیا۔ تمام عدالتی کارروائی بدلہ لینے کے لیے کی گئی اور سب نے دیکھا کہ کن کے اشاروں پر ناچتے ہوئے اسی جج نے انسانی حقوق کے بہادر وکلا کو مضحکہ خیز اور شرمناک عدالتی کارروائی کے بعد سزا سنائی۔
اس طرح کے جج عوام کو انصاف دیں گے؟
مجوکہ کے کارناموں کی تفصیل پڑھیں 👇
#ReleaseImaanAndHadi
https://t.co/XdL7ak7q3g
🔴 Mishal Pakistan has released its first State of Freedom Report 2026۔
The report also highlights structural pressures, including over 2.3 million pending court cases across different tiers, prison overcrowding particularly in Sindh at 161 percent capacity and rising socio-legal concerns such as 344 blasphemy-related allegations reported in 2024
https://t.co/R3Zb3ocNmk
🟢 الحمد للّہ ، آج گوجرانولہ میں سیشن کورٹ نے توہین مذہب کے ایک وکٹم کو بری کردیا ، تحریک لبیک پاکستان کے کارندوں کی طرف سے قائم کئے گیے اس مقدمہ میں ایک بے گناہ انسان کو آزادی ملی ،
📍 یہ بات بہت اہم ہے کہ یہ بریت سیشن کورٹ نے دی ہے جو کہ خوش آئند ہے اس سے قبل سیشن کورٹس سے ، جتھوں کے دباؤ اور مذہب کارڈ کھیلنے والوں کے ڈر سے ملزمان کو سزا سنادی جاتی تھی اور ہائی کورٹ میں جاکر بریت ہوتی تھی ۔
ایک انسان کو زندگی واپس مل گئی الحمد للّہ
کراچی کی اہم ترین شاہراہ پر بلدیہ عظمیٰ کراچی انجینرنگ ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کا پول کھل گیا جہاں جناح فلائی اوور کی خوبصورتی اور مرمت کے لیے جاری کیے گئے کروڑوں روپے کے فنڈز مبینہ طور پر ناقص مٹیریل کی نذر ہو گئے ہیں 40 سال بعد، 60 کروڑ 90 لاکھ روپے کی خطیر رقم سے فلائی اوور
بھئی واہ! مارکیٹ میں افواہ گرم ہے کہ راجہ صاحب کا CV راتوں رات اپڈیٹ ہو گیا ہے۔ آج کل کوئی نیا ہی پروفیشن چل رہا ہے ان کا۔ اب بندہ پوچھے، یہ نیا ٹیلنٹ کہاں سے آ گیا اچانک؟
@qaiseraraja
ایران-امریکہ مذاکرات کی کامیابی اور جنگ کے خاتمے کا خیرمقدم
15 جون 2026
ہیومن رائٹس کونسل پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کی بحالی کا خیرمقدم کرتی ہے اور اسے عالمی امن، استحکام اور انسانی حقوق کی ایک اہم فتح قرار دیتی ہے۔
موجودہ عالمی حالات میں، جہاں دنیا تنازعات، معاشی مشکلات اور انسانی بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے، وہاں سفارتکاری اور مکالمے کے ذریعے مسائل کا حل ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ یہ معاہدہ لاکھوں انسانوں کے حقِ زندگی، سلامتی اور بہتر مستقبل کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
پاکستان کا اہم کردار
ہیومن رائٹس کونسل پاکستان اس امن عمل میں پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہتی ہے۔ پاکستان نے خطے میں امن، مکالمے اور اعتماد سازی کے فروغ کے لیے مسلسل کوششیں کیں اور ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا مؤثر کردار ادا کیا۔ یہ خدمات قابلِ تحسین ہیں اور تاریخ میں یاد رکھی جائیں گی۔
مطالبات
ہیومن رائٹس کونسل پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ:
امن معاہدے کو پائیدار اور مؤثر بنایا جائے۔
انسانی حقوق کے عالمی معیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
خواتین، بچوں اور دیگر کمزور طبقات کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے مزید عملی اقدامات کیے جائیں۔
اختتامیہ
ہیومن رائٹس کونسل پاکستان اس اہم پیش رفت پر ایرانی اور امریکی عوام سمیت دنیا بھر کے امن پسند افراد کو مبارکباد پیش کرتی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ معاہدہ ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال دنیا کی بنیاد ثابت ہوگا۔
جاری کردہ: ہیومن رائٹس کونسل پاکستان
,15 جون
#IranUSPeace #IranAmericaTalks #PeaceInMiddleEast #PakistanForPeace #HumanRights #GlobalPeace #دیپاامن #امن_بحالی #ایران_امریکہ_مذاکرات #HumanRightsCouncilPakistan
Trump and Peshkin say they have reached a memorandum of understanding (MOU) to be signed in Geneva, Switzerland, on Friday. The text of the MOU remains a mystery. Iam reminded of this quote by (Samuel Goldwyn) "A verbal agreement is not worth the paper it is written on."
بلاسفیمی بزنس گروپ اور اس کے ترجمان اب کتنا ہی معاشرے میں ڈھول پیٹیں کوئی فائدہ نہیں حقیقت اب روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے اللہ نے متاثرین کی آہ و بکا سُن لی ہے بلاسفیمی بزنس گروپ قانون کے شکنجے سے نہیں بچ سکتا ۔
بے شک اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے
🔴 قربان جائیں ایسی معصومیت پر 👇
🔸ایک کمپلینٹ، تین نمبرز، ایک قتل اور ہنی ٹریپنگ کی لازوال داستان
📍آپ کتنے سے واٹس ایپ استعمال کر رہے ہیں ؟ آج اپنے آپ سے سوال کریں کہ کیا کبھی آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے اتنے حسن اتفاقات آپ کے ساتھ ہوئے کبھی ؟
📍کیا آپ کو بھی ایسے ہی کسی دن بیٹھے بٹھائے گروپس کے لنکس اچانک انباکس میں کسی نے بھیجے ہیں ؟
📍کیا آپ نے پھر ان سب لنکس پر لاعلمی اور معصومیت میں کلک کردیا ؟
📍کیا آپ لاعلمی میں گندے گروپس کے ممبر بن گئے (ایڈمن بھی بن گئے بلکہ بطور ایڈمن پھڑے گئے) اور پھر انہی گروپس میں بیٹھ کر مزے لیتے رہے ؟
📍کیا آپ کو بھی اپنی شناخت چھپانے کے لیے سپین یا کسی دوسرے ملک کے نمبر استعمال کرنے پڑے جبکہ آپ کبھی اس ملک گئے بھی نہ ہوں۔ ؟
📍کیا آپ نے بھی ایسے گروپس جوائن کرنے کے بعد کچھ دن تک واٹس ایپ اوپن نہیں کیا ؟ ( ویسے آج کے دور میں ایک نارمل انسان کے تو چند گھنٹے بھی نہیں گزرتے وٹس ایپ اوپن کئے بغیر) اور جب اوپن کیا تو آپ کا موبائل اور واٹس ایپ میسجز سے بھرا ہوا تھا ؟؟
📍کیا آپ کو کبھی اجنبی لوگوں نے اچانک انباکس میں گندہ مواد بھیجا ؟ عام انسان کو تو سالہا سال ایسا مواد کوئی نہیں بھیجتا وہ بھی انباکس میں ۔۔۔۔
📍 کیا آپ نے کبھی بونیر کی کسی نسرین نامی مائی کے نام پر غیر قانونی سم ایشو کرواکے استعمال کی ہے ؟ آپ کے تو اتنے تعلقات ہی نہیں ہوں گے کہ غیر قانونی سم حاصل کہاں سے کریں چلیں یہ بھی چھوڑیں ۔
📍کیا لاعلمی اور معصومیت میں آپ نے جب غلط گروپس جوائن کئے تو اجنبی لوگوں نے آپ سے آپ کا دوسرا نمبر مانگا (ان کو کیسے پتہ چلا کہ آپ کے پاس دوسرا نمبر بھی ہے یہ الگ سوال ہے) تو آپ نے رضاکارانہ طور پر انتہائی معصومیت سے ان کو اپنا دوسرا نمبر بھی پیش کر دیا ہو وہ بھی غیر قانونی طور پر معصومیت سے حاصل کیا گیا نمبر۔۔۔ ؟
📍 کیا اسی نمبر سے آپ نے کسی ایسے بندے کو آخری کال کی جس کا اس کال کے بعد قتل کردیا گیا ہو اور آپ اس سے کبھی زندگی میں اس سے قبل ملے ہی نہ ہوں پھر بھی آپ اس سے رابطے میں ہوں ؟؟؟ (عبداللہ شاہ قتل ، آخری کال راؤ عبدالرحیم)
📍کیا آپ کا کوئی ساتھی دوست اور استاد کوئی جج ایسا ہے جو نہ صرف آپ کو اپنی کروڑوں کے گاڑی استعمال کے لئے دے دیتا ہو بلکہ اپنے چیمبر کا مکمل ایڈریس بھی دے دیتا ہو کہ اسے اپنی کمپلینٹس میں اور اپنے دیگر کاموں میں استعمال کرو ؟ ویسے اتنا جگری یار تو ایک آدھ ہونا چاہئیے بندے کا ۔۔
📍کیا آپ کے ساتھ یہ سب کچھ ہوگیا ؟ اور آپ سائبر کرائم والوں کے پاس گئے کہ میں اتنا معصوم ہوں اور لوگ مجھے میرے 2 (غیر قانونی) پر گندہ مواد بھیجا رہے ہیں ؟
📍کیا آپ کو بھی آگے سے سائبر کرائم والے بھی اتنے معصوم ملے ہیں کہ بھئی پہلے یہ تو بتاؤ کہ سپین کا نمبر تم نے کس لئے رکھا ہوا ہے جو تمہارے نام پر بھی رجسٹرڈ نہیں ؟
📍کیا آپ سے سائبر کرائم کے شریف اہلکاروں نے سوال کیا کہ آپ دوسری غیر قانونی سم کہاں استعمال کر رہے ہیں جو بونیر کی کسی نسرین نامی عورت کے نام پر رجسٹرڈ ہے ؟
📍 کیا ان شریف اہلکاروں نے آپ سے سوال نہیں کیا کہ بھئی یہ غیر قانونی سم تم نے حاصل کہاں سے کی ؟
📍کیا ان اہلکاروں نے پہلے آپ کے دیئے گئے ڈیٹا کی فرانزک کی ؟؟ (ویسے سردار اعجاز اسحاق کی کورٹ میں بیچارے کہہ تو چکے ہیں کہ ہم نے ضروری ہی نہیں سمجھا اس اینگل پر انویسٹی گیٹ کرنا یا فرانزک وغیرہ کرنا)
📍کیا آپ کی آخری کال کے بعد بندہ قتل ہو جائے تو آپ کو پھر بھی کسی نے نہ پوچھا ہو ؟ اور آپ آزاد گھوم رہے ہوں ؟
📍کیا آپ کی آخری کال کے بعد قتل ہونے والے لڑکے کے باپ پر بھی مقدمہ درج ہوا ہے جو اپنے بیٹے کے قتل کیس کی پیروی کر رہا ہو ؟؟ اور پھر وہ باپ آپ کو لکھ دے کہ آپ میرے مجرم نہیں ہو ؟؟؟ ( آپ اتنے خوش بخت کہاں، یہ سہولت پر کسی کو تھوڑی میسر ہوتی)۔۔۔
📍اور پھر کمپلینٹ کے آخر پر آپ اپنا تیسرا نمبر بھی دے رہے ہوں تو سائبر کرائم والے حیران نہ ہوئے ہوں کہ بھئی آخر تم کرتے کیا ہو اتنے نمبرز کا ؟
چلیں کمپلینٹ کے آخر والے نمبر کی کہانی پھر کبھی سہی کیوں کہ اس کی کہانی الگ ہے اور کافی لمبی ہے ، کبھی تحقیقاتی کمیشن بنا ( جس میں بلاسفیمی بزنس گروپ کو اپنی موت نظر آتی ہے) تو اس نمبر کی سٹوری الگ سے بتائیں گے۔
🔸ویسے اتنی معصومیت اور سادگی پر کوئی کیوں نہ مرجائے آخر
#StopBlasphemyBusiness #JusticeFor450 #450LivesMatter
یہ منافق کم عقل کم علم شخص ہے ۔ یہ کہتا ہے جو میں۔کہہ رہا ہوں وہی ٹھیک ہے باقی سب جو کہہ رہے ہیں وہ غلط ہے ۔ چٹ بھی میری پٹ بھی میری
ایسے شخص سے آپ خیر کی امید نہ رکھیں یہ شر کی پیدا وار ہے تو معاشرے میں شر پھیلانا ہی اس کا اصل مقصد ہے۔
کعبے کس منہ سے جاؤ گئے راجے
شرم مگر تجھ کو نہیں آتی
جب بات مولویوں کی گستاخیوں پر آئی تو کیسے مولویوں کے فرنٹ مین نے کنی کاٹ کر اور مغالطے گھڑ کر ثمر عباس عطاری کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنے الفاظ واپس لے لیے ہیں۔
@Intl_Mediatior بالکل اس حوالے سے کوئی خاطر خواں پیشرفت نظر نہیں آتی ۔ اسرائیل مسلسل لبنان میں بڑے پیمانے پر بمباری کر رہا ہے جبکہ ایران کو بمباری پر سخت تشویش ہے ۔ اسرائیل مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے