@theRealYLH@qaiseraraja پتہ نہیں یہ مسئلہ صرف راجہ صاحب کے ساتھ بار بار کیوں پیش آتا ہے۔ کبھی کوئی انہیں famous biologist بنا دیتا ہے، کبھی کوئی موٹیویشنل اسپیکر بنا دیتا ہے اور کبھی کوئی وکیل ہی بنا ڈالتا ہے
عبید چوپا گروپ جو کل تک دوسروں پر بلاسفیمی لگا رہا تھا، آج اپنے ہی ساتھ بیٹھنے والوں پر بلاسفیمی لگانا شروع ہو گیا۔
کنیڈین ڈالرز نے اس عبید چوپا گروپ کی مت مار دی ہے 🤣
@HCNMedia31@qaiseraraja Blasphemy Business Gang ka kutta Qaiser Raja, Blasphemy ka Business krny Wala janwar 🤡 INSHALLAH ALLAH Pak ki taraf iss Dunya ma b zalil o Ruswa Hoga aur Akhrat ma b . Jessy TLP pr Azaab Aya ha inn pr b aay ga INSHALLAH ❤️🔥❤️🔥❤️🔥
🔴 بلاسفیمی : پاکستان میں منافع کے لیے الزامات
پاکستان میں توہین مذہب کے الزامات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اب صورتحال اس سے بھی آگے نکل گئی ہے۔
توہین رسالت کے بڑھتے ہوئے منظم کاروباری نیٹ ورک کے اراکین سوشل میڈیا پر لوگوں کو "توہین رسالت" کے ارتکاب میں پھنسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کچھ پاکستانی حکام جن میں ملک کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ارکان بھی شامل ہیں، توہین مذہب کے نیٹ ورک کی جانب سے فری لانس ہیں۔ اپنی قانون نافذ کرنے والی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے، وہ گرفتاریاں کرتے ہیں جو کہ بنیادی طور پر اغوا ہیں۔
یہاں بنیادی مقصد مجرمانہ الزامات کو چھوڑنے کے عوض ہدف سے رشوت وصول کرنا ہے۔ ایسے لوگوں کی تحویل میں یہ سلوک افسوسناک ہے۔ کم از کم کئی معاملات میں بدسلوکی کو مہلک ہوتے دیکھا گیا ہے۔
پاکستان میں کوئی بھی آبادی توہین مذہب کے الزامات سے محفوظ نہیں ہے۔ لیکن مذہبی اقلیتیں - عیسائی، ہندو، اور اسلام کے اندر بعض فرقے جنہیں بدعتی سمجھا جاتا ہے - کو زیادہ خطرہ لاحق ہے۔
مذہبی اقلیت کے خلاف توہین مذہب کے الزامات اس قدر متزلزل ہو سکتے ہیں کہ ملزم کی برادری کے ہر فرد کو اپنے گھروں سے بھاگنا پڑے۔ ہجوم کے کچھ حملے ایک ساتھ درجنوں گھروں کو تباہ کر سکتے ہیں۔
جب پاکستان کے اندر عیسائیوں کے ساتھ اس مسئلے کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو ان کی بے حسی کا احساس واضح ہوتا ہے۔ وہ آپ کو بتا سکتے ہیں، "جو سوالات آپ پوچھ رہے ہیں وہ بہت حساس ہیں۔" وہ اپنے خلاف کسی "کیس بنانے" کے بارے میں بھی بات کر سکتے ہیں۔
یہاں تک کہ اگر وہ WhatsApp ویڈیو چیٹ کے دوسری طرف کسی مغربی باشندے کا چہرہ دیکھتے ہیں، تو وہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اس طرح کے معاملات کے بارے میں بات کرنا بہت خطرناک ہے۔
یہ قابل فہم ہے۔ اور جتنا زیادہ آپ اس مسئلے کے بارے میں سیکھیں گے، اتنا ہی زیادہ سمجھ میں آتا ہے۔
ایک پاکستانی مسیحی "سائمن" نے تصدیق کی کہ ان دنوں توہین مذہب کے زیادہ تر الزامات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مبینہ رویے سے متعلق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ پاکستانی مذہبی اقلیتوں کا آن لائن پیچھا کرتے ہیں اور انہیں ایسی بات کہنے پر لالچ دیتے ہیں جسے توہین آمیز قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، "اگر وہ کسی کو نشانہ بناتے ہیں، تو وہ اپنی [سوشل میڈیا] پوسٹس میں کوئی ایسی خامی تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔"
برا ارادہ رکھنے والا کوئی شخص پاکستان میں کسی شخص کے ساتھ آن لائن بات چیت شروع کر سکتا ہے اور بات چیت کو ایمان کی طرف لے جانے سے پہلے، آخر میں ملک کے غالب مذہب کو چھونے سے پہلے اعتماد کی فضا قائم کرنے کے لیے ذاتی تفصیلات ظاہر کر سکتا ہے۔
اس مقام پر، اگر ہدف ایک ایسی بات بھی کہتا ہے جسے تنقیدی، طنزیہ، یا مذہبی طور پر متنازعہ سمجھا جا سکتا ہے، تو وہ بڑی مصیبت میں ہے۔ صرف "ناگوار" پیغام کا اسکرین شاٹ لیں، اور آپ کے پاس ناقابل تباہی ثبوت ہیں۔
اب آپ اس سے بھتہ لینا شروع کر سکتے ہیں۔ یا چند منتخب عہدیداروں کو ان سے ملنے کو کہیں۔ اگر ٹارگٹ اس طرح کے دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے منحرف رہتا ہے، تو اسکرین شاٹ کو اس کے آجر، اس کے خاندان، اور یقیناً مقامی اماموں اور کارکنوں کو لیک کر دیں — وہ اسے وہاں سے بخوشی سنبھال لیں گے، ان کے پیچھے ادارہ جاتی تعاون کی تہوں کے ساتھ۔
بہت سے معاملات میں، شکار شخص ذاتی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔ اس کے بجائے، انہیں فیس بک یا واٹس ایپ چیٹ یا گروپ میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کیا جاتا ہے جہاں گستاخانہ مواد شیئر کیا جاتا ہے۔
ایک عام طریقہ یہ ہے کہ فوٹوجینک خاتون — یا کوئی فوٹوجینک خاتون پروفائل تصویر استعمال کر رہی ہو — WhatsApp پر نوجوان مردوں کو تلاش کریں اور انہیں کسی خاص WhatsApp گروپ میں شامل ہونے کے لیے قائل کریں۔
کچھ معاملات میں، ہدف ایک WhatsApp گروپ میں شامل ہوتا ہے اور اسے فوری طور پر انتظامی مراعات دی جاتی ہیں۔ پھر پہلے سے موجود گروپ ایڈمنسٹریٹر باہر نکل جاتا ہے، نئے آدمی کو ایک ایسے "توہین آمیز" گروپ کے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر چھوڑ دیتا ہے جس کے مواد کے بارے میں وہ نہیں جانتا تھا۔
پچھلا ایڈمنسٹریٹر پھر ضروری اسکرین شاٹس لیتا ہے اور توہین رسالت کے نیٹ ورک کے دیگر اراکین تک پہنچتا ہے۔ اب متاثرہ کی زندگی گستاخانہ مواد کی وجہ سے تباہی کا شکار ہے جو اس نے نہیں مانگا تھا اور غالباً وہ دیکھنا بھی نہیں چاہتا تھا۔
1/2
لگتا ہے یہ گانڈو کوئی چن چڑھا کے ہی چھوڑے گا.
اتنے تو میں نے زندگی میں انڈروئیر نہیں بدلے جتنے اس چوتیے نے ٹائٹل بدل لئے ہیں.
سالے نے صیح چوتیا بنایا ہوا ہے
جج افضل مجوکہ بلاسفمی بزنس گروپ کا سہولت کار ہے اور کھلے عام عدالتی ریکارڈ کی tampering کرتا ہوا پکڑا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ میں بلاسفمی کے کیسوں میں آج تک پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ سزائے موت سنا چکا ہے۔
ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور حادی علی نے غریب بچوں کے کیس لے کر اس کا دھندہ بند کر دیا۔ تمام عدالتی کارروائی بدلہ لینے کے لیے کی گئی اور سب نے دیکھا کہ کن کے اشاروں پر ناچتے ہوئے اسی جج نے انسانی حقوق کے بہادر وکلا کو مضحکہ خیز اور شرمناک عدالتی کارروائی کے بعد سزا سنائی۔
اس طرح کے جج عوام کو انصاف دیں گے؟
مجوکہ کے کارناموں کی تفصیل پڑھیں 👇
#ReleaseImaanAndHadi
https://t.co/XdL7ak7q3g
چوتھا دن دکھانے کے لیے جناب کذاب راجہ صاحب نے واسکٹ اتار دی ہے۔ کوئی آدھا درجن ویڈیوز لگتا ہے ایک ہی دن بیٹھ کر بنائی ہیں اور Revivalists کے جو پانچ لاکھ سائنسدان، فلاسفرز اور انجینئرز ہیں، اُنہیں اسی کام پر لگایا ہوا ہے۔
ہمارے پیارے پیارے سے راجہ صاحب لگتا ہے بلکل ایک باؤلے جانور والی حرکتوں پر اُتر آئیں ہیں کہ کسی طرح سے تو انجنئیر انہیں تھوڑی سی لفٹ كرا دے۔ پر مجھے لگ رہا ہے کہ اب جہلم والی سرکار بھی چسکے لے رہی ہے۔
وہ بھی دیکھنا چاہتا ہے کہ یہ بندہ engagements کے لیے کتنا اور گر سکتا ہے۔ پر وہ شاید نہیں جانتا، کہ ہمارے پاکستان کے گٹروں کی حد جہاں پر ختم ہوتی ہے، ہمارے ولدنیزی اُٹھائی گیرے لفنگے کی حد وہاں سے شروع ہوتی ہے۔ ہمارے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر چیرنے والے راجہ جی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اب مقابلہ انجنئیر کے پتھر دِل اور راجہ صاحب کی بےغیرتی میں ہے۔ ویسے اُمید ہے اس پوسٹ کے نیچے بھی Revivalists کے مجاہدین آ جائیں گے اپنی تربیت دکھانے۔
@qaiseraraja@SahilAdeem@revivalistsorg@SecwatchPak@EonHoldings@ZiaulHaqRaja
@mujeeb5002@naqsh12845@qaiseraraja چلو جی، راجے بلاسفیمی گینگ کا بنا ہوا گھسا پٹا انفوگرافک لگا دیا، جیسے تم لوگوں کی چیخ و پکار دنیا نے لائیو نہیں دیکھی تھی۔ 😂
🔴 Mishal Pakistan has released its first State of Freedom Report 2026۔
The report also highlights structural pressures, including over 2.3 million pending court cases across different tiers, prison overcrowding particularly in Sindh at 161 percent capacity and rising socio-legal concerns such as 344 blasphemy-related allegations reported in 2024
https://t.co/R3Zb3ocNmk