پنجاب، خصوصاً لاہور میں، آج ہر محفل، ہر گلی اور ہر گھر میں ایک ہی موضوع ہے: ٹیکس، جرمانے، چالان اور نئی نئی فیسیں۔
گٹر ٹیکس، کوڑا ٹیکس، مسلسل تیسرے سال پراپرٹی ٹیکس میں بھاری اضافہ، ٹوکن ٹیکس، ڈرائیونگ لائسنس کی فیسیں، ای چالان، اور نت نئے مالی بوجھ نے عام شہری کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔
لوگ سر پکڑ کر بیٹھے ہیں کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ہر روز کوئی نہ کوئی نیا مالی بوجھ ان پر ڈال دیا جاتا ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پنجاب میں عوامی حکومت نہیں بلکہ کسی ریکوری مشن پر آئی ہوئی آئی ایم ایف کی ٹیم کام کر رہی ہو، جس کا مقصد ہر ممکن ذریعے سے عوام کی جیب سے مزید رقم نکالنا ہو۔
ریاست کی ذمہ داری صرف محصولات جمع کرنا نہیں بلکہ شہریوں کو ریلیف، بہتر سہولیات اور باوقار زندگی فراہم کرنا بھی ہے۔ اگر ہر مسئلے کا واحد حل نئے ٹیکس اور فیسیں ہوں، تو اس کا بوجھ آخر کب تک عام آدمی اٹھاتا رہے گا؟
@trish344210@IG_Zahra اچھا تم وہی ہو نہ جس کی ماں خان کے بیڈ روم میں روز جاتی تھی اور تمہیں اس پر فخر ہے اور تمھارے باپ کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں
دوسروں کی ماں کو گالی نکالنے سے پہلے سوچ لیا کرو کہ تمھاری بھی کوئی ماں ہو گی چاہے کسی کی داشتہ ہی ہو
گندی نسل کے
@RodiumInsights میڈم جی یہ جوتے پالش کر کے ہی وزیراعظم بنا تھا نہیں تو اس کی اتنی اوقات نہیں تھی
یہ تو اب بھی جوتے زبان سے چاٹنے کو تیار ہے مگر سائیوں کو اس غدار کی حقیقت کا پتا چل گیا ہے
اب یہ ساری زندگی وزیراعظم نہیں بن سکتا
اخے
ششٹم کا باپ 😄😄😄