جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے
جب اپنی اپنی محبتوں کے عذاب جھیلے تو لوگ سمجھے
وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے مسافروں کو اٹھا دیا تھا
انہیں درختوں پہ اگلے موسم جو پھل نہ اترے تو لوگ سمجھے
اس ایک کچی سی عمر والی کے فلسفہ کو کوئی نہ سمجھا
جب اس کے کمرے سے لاش نکلی خطوط نکلے تو لوگ سمجھے
وہ خواب تھے ہی چنبیلیوں سے سو سب نے حاکم کی کر لی بیعت
پھر اک چنبیلی کی اوٹ میں سے جو سانپ نکلے تو لوگ سمجھے
وہ گاؤں کا اک ضعیف دہقاں سڑک کے بننے پہ کیوں خفا تھا
جب ان کے بچے جو شہر جاکر کبھی نہ لوٹے تو لوگ سمجھے
احمد سلمان
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے
شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں
پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے
اس کی وہ جانے اسے پاس وفا تھا کہ نہ تھا
تم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے
احمد فراز
4 اپریل 1979
بھٹو صاحب کے پھانسی کے بعد گڑھی خدا بخش میں دفن کردیا گیا جب ان کی قبر سے پہرہ ختم ہوا تو پپلز پارٹی کے قائدین فاتحہ خوانی کے لئے گئے تو ان میں بھٹو کے وکیل یحییٰ بختیار بھی تھے جب وہ گاؤں پہنچے تو لوگوں کی بھیڑ نے انہیں گھیر لیا اور پوچھنے لگے آپ تو ہمارے لیڈر کے سب سے قریب تھے آخری وقت تک انہوں نے کوئی پیغام دیا یا کچھ اور کہا یہ سن کر یحییٰ بختیار کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور بولے، بھٹو صاحب نے آخری ملاقات میں مجھ سے کہا ۔ ۔ ۔
" بزدل قوموں کے بہادر لیڈروں کا یہی انجام ہوتا ہے "
@FaisalYousaf66