عمران خان کے دور میں جب پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی 17 روپے تھی تو شہباز شریف نے قوم کو کہا کہ اس نظام کے خلاف جنگ کرکے انقلاب لانا ہوگا ،اب فی لیٹر پر ٹیکس تقریباً 170 روپے ہے ، تو اب عوام کو کیا کرنا چاہیے ؟؟؟
بلاول اور نواز شریف کو اچھی طرح پتہ ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ کیا ہورہا ہے لیکن یہ دونوں اتنے کم ظرف ہیں کہ یہ کہہ سکیں تمام پارٹیوں کو الیکشن مہم میں حصہ لینے کا حق ہونا چاہیے، مطیع اللہ جان
حبیب اکرم کا سروے دیکھیں تو یہ پورے گلگت بلتستان کا نہیں بلکہ 2 حلقوں ( جی بی اے ون اور ٹو) کا سروے ہے۔ اگر آپ جی بی اے ون کے پچھلے نتائج دیکھیں تو یہاں سے پچھلی بار بھی پیپلز پارٹی جیتی تھی جبکہ جی بی اے ٹو حافظ حافظ الرحمان کا حلقہ ہے۔ ہو سکتا ہے جب پورے جی بی کا سروے آئے تو آپ کے جذبات حبیب اکرم کے لیے بدل جائیں، اسد اللہ خان
نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اے سراقہ! کیا میں تمہیں جنتی اور جہنمی لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟عرض کی: یا رسولَ اللہ ! ضرور بتائیے۔ ارشاد فرمایا :’’ہر سختی کرنے والا، اِترا کر چلنے والا، اپنی بڑائی چاہنے والا جہنمی ہے جبکہ کمزور اور مغلوب لوگ جنتی ہیں۔(معجم الکبیر، علی بن رباح عن سراقۃ بن مالک، ۷ / ۱۲۹، الحدیث: ۶۵۸۹)
"اللہ نے قرآن میں ایک قوم کا ذکر کیا ہے جو ظلم کرتی تھی۔ اللہ نےان کے اس ظلم کے سبب ان سے تمام نعمتیں چھین لیں" -
خطبہ حج
یا اللّه، تمام مظلوموں کی مدد فرمائیے اور ظالموں کو نیست و نابود کیجئے۔ آمین۔ 🙏
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی ایک معبود ہے، کوئی اس کا ساجھی اور شریک نہیں، اسی کی فرمانروائی ہے، صرف اسی کے لیے حمد و ستائش سزاوار ہے اور ہر چیز اس کے زیر قدرت ہے۔
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ
اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے
یااللہ تمام مر یضوں کو شفاء کاملہ عطا فرما ۔۔۔ خاص طور پر کینسر میں مبتلا سب لوگوں کو اس موزی مض سے شفاء عطا فرما 🙏
حجۃ الوداع کے موقع سے یوم عرفہ کی شام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ دعا کثرت سے پڑھنا منقول ہے :
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
’’اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کَالَّذِیْ تَقُوْلُ وَ خَیْرًا مِّمَّا نَقُوْلُ ، اَللّٰھُمَّ لَکَ صَلوٰتِيْ وَ نُسُکِيْ وَ مَحْیَايَ وَ مَمِاتِيْ ، وَ اِلَیْکَ مَابِیْ وَ لَکَ رَبِّيْ تُرَاثِيْ ، اَللّٰھُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ وَسْوَسَۃِ الصَّدْرِ وَ شَتَاتِ الْاَمْرِ ‘‘(۱)
’’ اے اللہ ! آپ کے لئے تمام تعریفیں اسی طرح ہیں جیسا کہ آپ خود فرمائیں اور اس سے بہتر جو ہم کہہ سکیں ، اے اللہ! میری نمازیں ، میرے مناسک ، میری زندگی اور میری موت آپ ہی کے لئے ہے ، آپ ہی میری پناہ گاہ ہیں ، اور اے پروردگار ! میرے بعد رہ جانے والی اشیاء بھی آپ ہی کی ہیں ، الہی !میں قبر کے عذاب ، دل کے وسوسہ اور کاموں کے انتشار سے آپ ہی کی پناہ چاہتا ہوں ‘‘ ۔