خیبر پختونخوا کے 3,796 اسکولوں میں بجلی نہ ہونے کے باوجود پی ٹی آئی سندھ میں سیاست چمکا رہی ہے۔ یہ انتظامی ناکامی اور دوہرا معیار ہے۔ عوام بنیادی مسائل کا حل چاہتے ہیں مگر پی ٹی آئی ڈرامہ بازی میں مصروف ہے
𝗠𝗢𝗦𝗤𝗨𝗘 𝗗𝗘𝗠𝗢𝗟𝗜𝗦𝗛𝗘𝗗 𝗙𝗢𝗥 𝗞𝗨𝗠𝗕𝗛 𝗥𝗢𝗨𝗧𝗘 𝗗𝗘𝗦𝗣𝗜𝗧𝗘 𝗠𝗔𝗦𝗦 𝗣𝗥𝗢𝗧𝗘𝗦𝗧𝗦 🕌🇮🇳
The final Azaan echoes before the 150 year old Madina Mosque was demolished by the Indian government. The Modi administration has once again targeted the Muslims of India. The historic mosque in Ujjain was bulldozed to clear a corridor for the upcoming Kumbh Mela. Local Muslims gathered, appealed & protested but their voices were ignored. The situation for Muslims under Modi/RSS rule has reached its lowest point in decades.
Details from Kumbh Mela 2025: Attendees & priests harassed, groped, s€ xu ally assaulted & filmed women while they bathed, rather than participating in religious rituals. (Proofs attached in Video 2 & 3).
پیپلز پارٹی کے ایم پی اے سعید غنی نے سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کو لیکر سندھ اسمبلی میں دھواں دار تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جان دینی پڑی تو دیں گے لیکن سندھ کی تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔
سعید غنی کراچی شرقی سے پیپلز پارٹی کے MPA ہیں جبکہ
ان کے حلقے میں صرف "منظور کالونی" کی حالت دیکھ کر فیصلہ کریں کہ کراچی والوں کی کرپشن اور تباہی سے جان لینے سے بہتر ہے جو انہوں نے کہا "ہم اپنی جان دے دیں گے" اسی پر ہی عمل کر لیں۔
🇮🇳 #India’s Post-May 2025 War Diplomatic Story:
🔹The US abandoned India right after it lost the war.
🔹IMEC went in vain.
🔹Iran moved closer to Pakistan.
🔹Relations with China completely collapsed.
🔹KSA downgraded ties with India.
🔹Russia downgraded its ties.
🔹Turkey downgraded its ties with India.
Xi Jinping, Macron & Keir Starmer humiliated Modi by refusing to shake hands with him.
یہ سکھر ہے۔ جی ہاں وہی سکھر جہاں سے پیپلز پارٹی کے سائیں خورشید شاہ ایم این اے ہیں اور سکھر سندھ کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے۔
لیکن یہاں کے رہائشی قابل ترس ہیں جنہیں سیدھی گلیاں، اچھی تعلیم، تو دور پینے کا صاف پانی تک نصیب نہیں۔
دریا کنارے آباد اس شہر میں تین تین مہینے تو پانی ہی نہیں آتا جسکی وجہ سے یہاں کے رہائشی اپنے گھروں تک پانی لانے کیلئے قرض اٹھا کر 3,3 سو میٹر لمبے پانی کے پائپ خریدتے ہیں اور اپنے گھروں تک پانی لاتے ہیں۔
ویڈیو کریڈٹ۔ @raftardotcom
سوچنے اور سمجھنے والی بات یہ ہے کہ لال نواز خان کو کتاب سے بندوق تھمانے والے کون لوگ تھے جو ہماری یونیورسٹیز اور کالجز میں ہمارے اسٹوڈنٹس کے ساتھ رہ کر ان کو بندوق کا راستہ دکھارہے ہیں۔
ان سہولت کاروں کو سب سے پہلے ںے نقاب کرنے کی ضرورت ہے اور وہ کوئی اور نہیں BYC، BNM جیسی تنظیمیں ہیں جو پہلے محرومیوں اور حقوق کے نام پر بلوچ نوجوانوں کو اپنے ساتھ شامل کرتی ہیں اور پھر انہیں بی ایل اے جیسی مسلح تنظیموں کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔
ہم نے دہشتگردوں کے لیے ہمیشہ دعائیں ہی کی ہے وہ ہمیں فائدہ دیتے ہیں اختر مینگل
کیونکہ وہ دہشتگرد اختر مینگل کو سیاست زندہ رکھنے کے لیے بیگناہ لوگوں کی لاشیں دیتے ہیں 👋
سابق صوبائی وزیر صادق عمرانی کی جانب سے مظلومیت کا بیانیہ اپنانا دراصل نیب کی سخت ہوتی ہوئی قانونی گرفت سے بچنے کی ایک کوشش ہے. ان پر 28 کروڑ روپے کی سرکاری اراضی پر قبضے، غریب ملازمین کی سوسائٹی کی زمین پر غیر قانونی سی این جی اسٹیشن بنانے اور محکمہ اریگیشن کی مشینری کوڑیوں کے بھاؤ نیلام کرنے جیسے سنگین الزامات کے تحت ریفرنسز دائر اور سزائیں ہو چکی ہیں
یہ ان دانشوروں کے لیے جو پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ پاکستان نے بلوچستان پر زبردستی قبضہ کیا۔
یہ یکم جولائی 1947 کے اخبار کا ایک ٹکڑا ہے جس میں واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ" بلوچستان پاکستان میں شامل ہوگیا" یعنی پاکستان بننے سے ڈیڑھ مہینہ پہلے ہی بلوچستان شاہی جرگے نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کرلیا تھا لہذا یہ پروپیگنڈا شروع دن سے جھوٹ پر مبنی ہے کہ پاکستان نے زبردستی قبضہ کیا۔
یہ بلوچوں کے ٹھیکیدار صادق عمرانی کا حلقہ ہے۔۔جہاں کے ایک ایک بلوچ کی زبان پر صادق عمرانی کی کرپشن کے قصے ہیں۔۔بلوچوں کے وسائل پر ڈاکے ڈال کر آج ارب پتی بن گے اور جب بلوچوں کے وسائل کا حساب مانگا تو بلوچوں کے ہی حقوق کی چادر تلے چھپنے کی ناکام کوشش کرنے لگے۔
جہاں اختر مینگل جیسے قوم پرستوں کی حکومتوں میں کبھی غریب بلوچوں کا داخلہ تک ممنوع ہوتا تھا وہاں آج ایک غریب بلوچ مزدور اپنے مسائل کے حل کیلئے باعزت طریقے سے بیٹھا ہے۔
بدل رہا ہے بلوچستان
اسلام آباد میں بلدیاتی نظام تین حلقوں پر مشتمل ہو گا اسلام آباد میں ہر کونسل کا الگ میئر ہو گا اور ہر کونسل 21 ارکان پر مشتمل ہوگی جبکہ جنرل کونسل میں خواتین اور اقلیتوں کی نمائندگی بھی شامل ہوگی اسلام آباد مقامی حکومتوں کا بل منظوری کے لیے کل قائمہ کمیٹی داخلہ میں پیش ہوگا اور کمیٹی سے منظوری کے بعد سینیٹ اور قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
Addressing the SCO Council of Heads of State summit today, Prime Minister Shehbaz Sharif outlined Pakistan’s position on regional security & Afghanistan:
“Pakistan seeks a peaceful, stable & prosperous Afghanistan but let there be no ambiguity: so long as terrorists continue to use Afghan territory to shed the blood of innocent Pakistanis & other nationals, lasting peace will remain beyond our reach.”
While border closures continue to impact regional commerce particularly in agriculture, poultry & export sectors Islamabad emphasised at the multilateral forum that addressing cross border militancy remains the critical prerequisite for stability.
لال خان میڈیکل کا طالب علم تھا ریاستی خرچے پر مفت پڑھا تھا، پھر اس کا بی وائے سی کی ایک لڑکی سے رابطہ ہوا، اس نے اسے کہا بی ایل اے جوائن کر لو اچھے پیسے ملیں گے بس پہاڑوں پر چڑھ کر فورسز پر فائرنگ کرنی ہے اور کل فورسز پر فائرنگ کرتے ہوئے جوابی فائرنگ میں واصل جہنم ہوگیا۔
عدالت نے سہولیات کا حکم دے کر انصاف کا مظاہرہ کیا، مگر پی ٹی آئی کا بیماری کا بیانیہ جھوٹا نکلا،کتابوں کی درخواست نے بینائی جانے کا ڈرامہ بےنقاب کر دیا، جس سے انکی منافقت بےپردہ ہو گئی۔
یہ ڈیرہ مراد جمالی نصیر آباد کا ایک مڈل اسکول "الہندہ خان عمرانی" ہے جس میں طلباء کی تعداد 400 سے بھی زیادہ ہے لیکن اسکول کی حالت ایسی ہے کہ بچوں کے بیٹھنے کے لیے اسکول میں فرنیچر تک موجود نہیں۔
یہ اسکول 1988 سے میر محمد صادق عمرانی کے نام پر ہے۔ ہر الیکشن میں اس اسکول میں پولنگ اسٹیشن لگتا ہے اور میر محمد صادق عمرانی جیت جاتے ہیں۔ اس الیکشن میں بھی میر محمد صادق عمرانی نے اس پولنگ اسٹیشن سے جیت حاصل کی تھی لیکن الیکشن جیتنے کے بعد کبھی اس اسکول کا رخ نہیں کیا کیونکہ سرکار سے ملنے والے فنڈز تو ہر بار ان کی کرپشن کی نظر ہوجاتے ہیں اور پھر سوشل میڈیا پر بیٹھ کر سردار صاحب کہتے ہیں پنجاب سارا پیسہ کھا گیا۔
ہم ہر ایم پی ہر ایم این اے کے گھر کے باہر دھرنہ دہں گے،،
پی ٹی آئی پشاور کے جنرل سیکرٹری خورشید عالم اپنی ہی جماعت کی کارکردگی پر برہم،
ان کا کہنا ہے کہ 13 سال میں صرف وعدے کیے گئے، لیکن عوام کے مسائل حل نہیں ہوئے،،صوبے کو تباہ کر ڈالا ہر کوئی صرف اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہے۔
نواب شاہ کے عوام کا نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ کسی لسانی یا سیاسی لڑائی کا نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے۔ 18 سال کی ناقص طرزِ حکمرانی نے ہسپتال، سڑکیں اور سکول تک محروم کر دیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سندھ کو لسانی تعصب کے بغیر صرف بہتر انتظامیہ اور ترقی کی بنیاد پر چلایا جائے۔