The Baloch Genocide has been ongoing for decades, and its identity is under threat. Similarly, the silence and soporific behavior of human rights champions are extremely frustrating. Please help us by signing this petition to raise awareness among international communities.
Click the link below to sign the petition.
https://t.co/00nCFUdp4E
#MarchAgainstBalochGenocide
میں سیما صاف الفاظوں میں اس ریاست کو یہ کہنا چاہتی ہوں کہ جب تک میرا شبیر مجھے صحیح سلامت نہیں ملتا، میں تب تک خاموش نہیں بیٹھوں گی۔
میں چیخوں گی، چلّاؤں گی، امن کے وقتوں میں قیامت لاؤں گی لیکن شبیر کو تمہارے زندان سے چھڑواؤں گی!
آج یہ صرف عوامی جلسہ نہیں ہے، یہ صرف اجتماع نہیں ہے، بلکہ یہ عوامی ریفرنڈم ہے، یہ بلوچ قوم کا فیصلہ ہے یہ بلوچ عوام کے عدالت کا فیصلہ ہے۔ بلوچ عوام آج اپنا فیصلہ کرچکی ہے، کہ وہ اپنے نسل کشی کے خلاف متحد کھڑی ہے ،اب ہم آپ کو پیغام دیں گے آپ طاقت اور ہتھیار استعمال کریں یا ہمارے خلاف جھوٹا پروپیکنڈہ کریں۔ ہم دونوں صورتوں میں اپنے عوامی مزاحمت سے آپ کا سامنا کرنے کو تیار ہے۔
#MarchAgainstBalochGenocide
#StopBalochGenocide
بابا آپ کو یہ خوف تھا کہ آپ کے لوگ ظلم سہتے سہتے کہی ظلم سہنے کے عادی نہ بن جائیں
بابا جان جس قوم کا آپ رہبر ہو وہ قوم کیسے خاموش ہوگا
جنگ جاری ہے۔۔۔!
#MarchAgainstBalochGenocide
The Baloch Yakjeethi Committee declares January 25 as Baloch Genocide Day. On this day, more than 200 bodies of Baloch missing persons were discovered in the Tootak area of Khuzdar. All the deceased individuals were those of missing persons who had been abducted by security forces and death squads at various times.
#MarchAgainstBalochGenocide
#BalochGenocideDay
Dr. Manzoor Baloch a professor and intellectual addressing masses present at today’s National gathering. Emphasised how today's gathering embodies the ideas and values of Nawab Khair Baksh Mari, the founder of Baloch Nationalism.
Help us to end Baloch Genocide by signing this Petition:
🔗 Link:
https://t.co/uklTNHDjK0
#MarchAgainstBalochGenocide
Today courageous women of Balochistan hold peace rally in Quetta to demand end to human rights abuses by Pakistan’s military & state, including disappearances, “kill and dump” extrajudicial killings & mass graves. I’m urging UK to press Pakistan to ensure the safety of protestors
Women and children, including thousands of people, are taking to the streets in every corner of Balochistan in support of the Baloch March and against the genocidal policies of the state towards the Baloch nation.
Today, hundreds of women led a rally against Baloch genocide and in support of the long march in the Paroom area of Panjgoor. The strong support of the Baloch nation for the long march and movement against Baloch genocide demonstrates the anger people have against the state in Balochistan.
The human rights of Baloch people should be considered as equal to the human rights of other people on Earth. The Baloch nation is being targeted based on their national identity for a very long time.
Help us to end Baloch Genocide by signing this Petition: 🔗 Link: https://t.co/uklTNHDjK0
#MarchAgainstBalochGenocide
ضابطہ اخلاق برائے جلسہ ( بی وائی سی)
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام ہمفتہ 12 بجے شاہوانی سٹیڈیم کوئٹہ منعقد ہوگا جسے مکمل طور پر پُر امن طور پر منعقد کیا جائے گا
جس کیلئے عوام اور کارکنوں پر بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی قیادت کے درج ذیل ہدایات پر سختی سے عمل کریں ہے اور دوسروں کو بھی اس پر عمل کرنے کا کہیں۔ جلسہ کا انعقاد مکمل طور پر پرامن اور منظم ہوگا ۔
جلسہ گاہ میں سیاسی پارٹیوں کے جھنڈوں اور پرچموں کو لانے اور لہرانے پر سختی کے ساتھ پابندی عائد کی جاتی ہے
عوام اور کارکنوں کو یہ ہدایت بھی کی جاتی ہےکہ وہ غیر ضروری نعروں سے مکمل طور پر گریز کریں اور اگر ضرورت پڑی تو سٹیج سے نعرے لگائے جائینگے اور ان کا جواب دیا جائیں، ورنہ دوسری صورت میں اپنے قائدین او باہر سے آنے والے مہمانوں کو انتہائی احترام ، سکون اور
اطمینان کے ساتھ سنہیں۔
تمام لوگوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ بی وائی سی کے رضاکاروں کے ساتھ تعاون کریں۔ ایک دوسرے کے ساتھ نرمی اور اخلاق سے پیش آئے۔ سیکورٹی معلومات کی خاطر انتظامیہ اور پولیس سے مکمل تعاون کیا جائے، ان کے ساتھ بھی اخلاق کا مظاہرہ کیا جائے ۔
وقتا فوقتا قیادت اور رضا کاروں کی جانب سے جاری کی جانے والی ہر ہدایت پر سختی کے ساتھ عمل کیا جائے
جلسہ گاہ میں اسلحہ لانا اور اس کی نمائش پر اور کوئی بھی آلہ، جو نقصان دہ ہے اور کسی تخریب کاری کے لئے استعمال ہوا اس کے لانے پر بھی پابندی عائد رہے گی
جلسہ گاہ میں اگر آپ کو کوئی مشکوک فرد/ گروہ نظر آئے تو فوری طور پر بی وائی سی کے رضاکاروں اور پولیس کو مطلع کیا جائے
جلسہ گاہ میں کسی بھی قسم کی چاکنگ کرنے یا مٹانے اور کسی بھی سیاسی پارٹی کا جھنڈا ہٹانے پر مکمل پابندی عائد کی جاتی ہے۔
سیکورٹی صورت حال کے پیش نظر واک تھروگیٹ اور مکمل چیکنگ کے لئے رضاکاروں کے ساتھ تعاون کیا جائے۔ بلوچ قوم کی یکجہتی اور بلوچ نسل کشی کے خاتمے کے لیے اس قومی جلسہ گاہ میں آپ کے تعاون کو قومی تعاون سمجھا جائے گا۔
نوٹ
گیٹ نمبر 1 جو قبرستان کی طرف سے ہے جس سے صرف خواتین جلسہ گاہ میں داخل ہوسکتے ہے اور گیٹ نمبر 2 جو ملک نور روڈ کی طرف سے ہے جہاں سے صرف مرد حضرات کو جلسہ گاہ میں داخل ہونے کی اجازت ہے.
Help us to end Baloch Genocide by signing this Petition: 🔗 Link: https://t.co/uklTNHDjK0 #MarchAgainstBalochGenocide