5 اگست کو چونکہ تحریک انصاف لائحہ عمل دینے جا رہی ہے تو اب محسن نقوی نے سیاسی جماعتوں کو ایک کمرے میں بیٹھانے کی باتیں شروع کر دی ہیں
بات بڑی واضح ہے کہ سیاس جماعتوں کو ایک کمرے میں بیٹھانے سے حالات درست نہیں ہوں گے بلکہ جب تک ادارے اپنی آئینی حدود میں واپس نہیں جائیں گے حالات مزید بدتر ہوتے جائیں گے
اللہ نے آپکو Blessing دی ہے، ایک بندہ آپ کیلئے اتنی بڑی بڑی Opportunities لا کر پلیٹ میں رکھ دیں، سب سے بڑا کریڈٹ جو اس کو جاتا ہے کہ کوئی ریڈ لائن ہے جسے وہ کراس نہیں کرنا چاہتا ۔ وہ کہتا ہے کہ اسی سسٹم میں ہو اور ٹھیک ہو۔
محسن نقوی
محسن نقوی صاحب، پاکستان کو بنے ہوئے اتنے سال ہو گئے ہیں، آج بھی ہم وہی باتیں کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس حل ہے۔ بزنس کمیونٹی عزت مانگ رہی ہے، اس کو عزت دلوائیں۔ ہمیں روز گرفتار کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔، ایس ایم تنویر
تمام سیاسی جماعتوں کو ایک کمرے میں بیٹھنا پڑے گا، چاہے وہ ایک دن بیٹھیں، ایک مہینہ بیٹھیں یا ایک سال بیٹھیں، نئے صوبوں سے لے کر ایک ایک مسئلہ حل کرنا پڑے گا، جب تک اکٹھے نہیں بیٹھیں گے یہ ملک اسی حالت میں رہے گا۔ محسن نقوی
یہ بات کوئی اور کرے تو اس کو اغواہ کر لیا جاتا ہے، ان کی ماں بہنوں سے بدتمیزی کی جاتی ہے اور ان کے گھر میں توڑ پھوڑ کی جاتی ہے!
ڈی جی صاحب، یہ نہیں پوچھ رہے کہ ویگو ڈالا یہاں کیوں نہیں پہنچا، بس یہ کہنا تھا کہ اپنے ریڈار کی سیٹنگ PTI only سے ہٹا کر universal کر لیں۔
محسن نقوی صاحب کا آج کا خطاب غیر معمولی تھا۔ بظاہر انہوں نے آج کھل کر بہت سی ایسی باتیں کیں جن پر آج ہر پاکستانی گفتگو کر رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے حوالے سے جو باتیں کئے۔ وہ بھی غیر معمولی تھی۔
میرا تاثر یہ ہے کہ محسن نقوی صاحب کے ذہن میں یقیناً عمران خان کا معاملہ بھی ضرور ہوگا، کیونکہ انہیں اندر رکھنے اور ان کے ساتھ جو کچھ کیا گیا، اس کے نتائج ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں۔
آج ملک جس صورتحال سے دوچار ہے، چاہے عدالتی نظام ہو یا معاشی فیصلے، الف سے ی تک بہت سے اقدامات صرف ایک شخص سے نفرت اور سیاسی انتقام کی بنیاد پر کیے گئے، جن کے اثرات آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔
میرے نزدیک محسن نقوی صاحب کی آج کی تقریر فارم 47 سے بننے والی حکومت کی ناکامی کا براہِ راست اعتراف تھی۔ انہوں نے نوجوانوں کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان جو چاہتے ہیں، انہیں وہ دیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر نوجوان متحد ہو گئے تو سب لٹک جائیں گے۔
محسن نقوی صاحب کے منہ سے ایسی باتیں سننا واقعی غیر معمولی تھا۔
سب سے بہتر راستہ، اس شخص کو جیل سے باہر بھیجنا ہے۔ کیونکہ کہ نوجوان صرف یہ فیصلہ چاہتا ہے۔
’’ایک بندہ سب کچھ لا کر پلیٹ میں رکھ رہا ہے، کوئی ریڈ لائن ہے جو وہ شخص کراس نہیں کرنا چاہتا، وہ کہتا ہے اسی سسٹم میں ہو اور ٹھیک ہو، اب سب کا فرض ہے کہ مل کر ری سیٹ کریں‘‘
محسن نقوی
کوٹلی آبشار چوک ❌
سرینگر لال چوک ✅
یہ مناظر کبھی ہم سرینگر کے لال چوک سے دیکھتے تھے، آج وہی مناظر کوٹلی میں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔اتنا یاد رکھیے گا وقت بدل جاتا ہے، مگر تاریخ ہر منظر اور ہر لمحہ یاد رکھتی ہے۔