Shameful and deeply disappointing. I had hoped that after Humaira Qamar stepped down, the partisan mindset within APPNA would begin to fade. I also believe Dr. Babar Rao is a better person.
Defacing Imran Khan’s 1992 World Cup photograph at a national forum is a disgraceful act. Every other photograph has been left untouched, yet only Imran Khan’s image was singled out. This is not just disrespect toward one individual—it is an insult to Pakistan and its national identity.
Will the doctors of APPNA really accept such pettiness? This is shameful. APPNA’s members must speak out against this disgraceful act. It is an insult to your collective conscience, your knowledge, your intellect, your integrity, and the dignity and values of the nation.
The 1992 World Cup is not a political symbol. It is a proud chapter in Pakistan’s history. Treating a national hero in this manner is something only small-minded people would do.
اور عمران خان سے ملاقات کئے بغیر کے پی کا پورے سال کا بجٹ پاس۔ خان کی ملاقات مائنس۔
175 ارب بھی دے دئیے گئے۔ بس یہ کہا گیا ہے کہ آپ پیسے کاٹ لیں ہم تھوڑی بہت نورا کشتی کریں گے۔ کیس عدالت بھی جائے گا۔ اور پھر فائل بند پیسہ ہضم۔
نہ وکیل۔ نہ کتابیں۔ نہ فون کالز۔ نہ اہلِ خانہ سے ملاقات۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اب سات ماہ سے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ جیل انتظامیہ اور وہ کرنل جو عاصم منیر کی ہدایات پر عمل کر رہا ہے، جو کچھ کر رہے ہیں وہ ایک مجرمانہ فعل ہے۔
#خان_کی_قید_تنہائی_جرم_ہے
PTI’s Salman Akram Raja Stunning & Emotional Press Conference https://t.co/eYmZtRuwra via @YouTube
آج جو آزاد کشمیر میں سفاکی ہے یہ تصور پاکستان پر حملہ ہے
SHAME!
Mr. M uneeb F arooq confesses about being a hitman of the establishment, discloses identity of his real bosses while masquerading as a journalist.
Reveals - where from he used to get instructions for targeting politicians and governments.
رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کو پاکستان تحریکِ انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کی رکنیت سے معطل کر کے انتہائی غلط کام کیا گیا ہے، اس وقت پارٹی کو عاصم منیر رجیم کے خلاف آپس میں بھرپور اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے، جو رکن درست طور پر اپوزیشن کے اسمبلی میں سب سے بڑے ہتھیار کورم کم ہونے کی نشان دہی کرتا ہے اور جعلی اسمبلی کو نہیں چلنے دیتا اسے معطل اور پریس کانفرنسز کرنے والے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین کو ساتھ بیٹھایا جاتا ہے، یہ سب عمران خان کی تحریک کو نقصان دے رہا ہے۔
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
جس وقت یہ عورت جانتی تھی کہ عمران خان کی حکومت گرانے کی سازش شروع ہو چکی ہے اور یہ بھی جانتی تھی کہ نوازشریف مشرف کے سامنے ایک بار 2007 میں گھٹنے ٹیک بھی چکا ہے اور جنرل باجوہ کے ساتھ چچا شہباز ملاقاتیں کرتا پھر رہا ہے، اس کے باوجود یہ سب لکھنا کمال ہی تو ہے-
#ڈٹ_جاو_حسین_کے_انکار_کیطرح
منیب فاروق نے بھانڈا پھوڑ دیا۔ اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ خان کی حکومت میں یہ سارے MF, لونڈے لپاڑے اور سرکاری حاجنیں کیوں خان کو پڑ گئے گتے۔
خود کو تو ننگا کیا۔ ساتھ بڑے حاجی منجھلے حاجی اور چھوٹے حاجی کے پلے بھی کچھ نہ چھوڑا۔ اور بتایا کہ موجودہ حکومت کے خلاف ابھی تک ہمیں نہیں کھولا
اس بیان کو سنیے اور حقیقت کو پہچانیے۔
عمران خان یا دیگر سے مسئلہ یہ نہیں ہے کہ وہ فوج کی مداخلت کے خلاف ہو گئے۔ اگر بیانات سے مسئلہ ہوتا تو جو آج حکمران ہیں وہ بھی جیلوں میں ہوتے۔
عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کے پیٹ پر لات ماری ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے دھندے کو چھیڑا ہے اور انکے لیے کاروباری نقصان ناقابل برداشت ہے۔
ن لیگ کہتی ہے کہ تحریک انصاف کو باجوہ اور فیض نے اقتدار میں لایا۔ ان کے بیانات آج بھی ریکارڈ پر ہیں کہ ثاقب نثار کے چیف جسٹس بننے پر وہ کیسے خوشیاں منا رہے تھے اور باجوہ کو بھی انہوں نے ہی آرمی چیف لگایا۔ سب جانتے ہیں کہ باجوہ کے سسر کے گھر کون ساری رات بیٹھ کر ڈیلز کرتا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ جو ن لیگ پر احسان کرتا ہے اور ریٹائر ہوتے ہی اسی پر اپنے کالے کرتوت دھر دیے جاتے ہیں۔
نو مئی کی رٹ تو لگائی جاتی ہے لیکن یہ بتائیں کہ پاکستانی آرمی چیف کا طیارہ بھارت میں لینڈ کروانے کی سازش کس نے کی؟ کارگل کے شہیدوں کا سودا کس نے کیا، اجمل قصاب کو پاکستانی کس نے قرار دیا اور جس بیان کا استعمال عالمی عدالت میں پاکستان کے خلاف ہوا؟ وہ کون تھا جس نے کلنٹن کے پاس جا کر اپنی فوج کا سودا کیا تھا؟ ان سب کا جواب ن لیگ ہے اور ایسے کرتوتوں والی ن لیگ آج 9 مئی کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتی ہے۔
بشری بی بی پر ہونے والے ظلم ناروا کی صرف ایک معمولی سی جھلک دکھائی ان کی بہن نے۔
یہاں تک کہ ان کے سیل میں گٹر کا ڈھکن تک جان بوجھ کر کھلا چھوڑا ہے تاکہ کیڑے مکوڑے اور چوہے آنا بند نہ ہوں۔
یہ سب کرنے والے بزدلوں پہ لعنت۔
آواز اٹھائیں
پہلے ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کے کیسز عدالت میں لگتے تھے، پھر عدالت کو جیل میں شفٹ کیا گیا۔ اس کے بعد فیسلیس ٹرائلز اور سرکاری وکیل کے ذریعے یک طرفہ فیصلہ سنا کر انصاف کا قتل کر دیا گیا۔ اسی طرح ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والی نوجوان وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ کو جھوٹے مقدمات میں گرفتار کر کے قید رکھا گیا ہے۔ ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ ہر اٹھنے والی آواز کو طاقت سے دبا دیا جائے۔
قاسم خان سوری
مشہور کشمیری شاعر اور صحافی احمد فرہاد کو باغ سے 16 ایم پی او کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ایک شاعر کا اصل ہتھیار اس کا قلم، اس کے الفاظ اور اس کے خیالات ہوتے ہیں۔ جب شاعروں، صحافیوں اور ناقدین کی آوازوں پر قدغن لگائی جاتی ہے تو یہ معاشرے میں آزادیٔ اظہار کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ گرفتاریوں اور دباؤ کے ذریعے افراد کو تو محدود کیا جا سکتا ہے، مگر خیالات، نظریات اور سوچ کو نہیں۔ اختلافِ رائے جمہوری معاشروں کا بنیادی حق ہے، اور مختلف آوازوں کو سننا ہی ایک مضبوط اور باشعور معاشرے کی علامت ہوتا ہے۔ خاموشی مسلط کی جا سکتی ہے، لیکن سوالات اور خیالات اپنی راہ تلاش کر ہی لیتے ہیں
The UK government is silent on the imprisonment of Imran Khan.
Britain enjoys deep-rooted defence, intelligence, and diplomatic ties with Pakistan, particularly with the country’s powerful military and intelligence services. https://t.co/CIb1oWSv5o