PTI OIC stands shoulder to shoulder with our Kashmiri brethren in this difficult time. We fully condemn the barbaric killings of unarmed civilians and the brutal human rights violations in Azad Kashmir. I am asking all PTI overseas chapters to protest in solidarity with Kashmiris all over the world and raise awareness against this fascist military regime in Pakistan.
Washington DC protest at Capital Hill on Saturday June 27.
. @PTIofficial@PTIOfficialUSA@PTIOfficialCA@UKPTIOfficial@PTIEU_Official@PtiOicOfficial@ImranRiazKhan@SabeeKazmi786@ARYSabirShakir
”اسٹیبلشمنٹ اپنے 12 ٹائوٹس کو اٹھا کر آزاد کشمیر اسمبلی میں بٹھا دیتی ہے، ان 12 کے ساتھ ملا کر اپنی کٹھ پتلی حکومت بناتی ہے، ان 12 کو اہم ترین وزارتیں بانٹتی ہے اور پھر پورے آزاد جموں کشمیر کو کنٹرول کرتی ہے۔ اب آزاد کشمیر کے لوگوں کو سمجھ آئی ہے کہ جن 12 افراد کے ذریعے کٹھ پتلی حکومت بٹھائی گئی ہے انہوں نے ہی دراصل ان کے حقوق دبا رکھے ہیں۔ پیپلزپارٹی اس صورتحال میں دوغلے پن کا مظاہرہ کر رہی ہے اور کشمیریوں کے ساتھ زیادتی کا براہ راست حصہ ہیں۔“ عمران ریاض خان
اگر آپ 8500 سے زیادہ مہینہ کماتے ہیں تو آپ خط غربت سے اوپر ہیں۔۔ اب زرا سانس روک کر دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے۔۔ملک خداداد میں سات کروڑ سے زائد افراد مہینے کا 8500 بھی نہیں کماتے۔
Brave people of Azad Kashmir have demand dignity, proper representation, and fundamental rights despite facing bullets, arrests, violence, and the loss of countless lives.
The message remains clear: force cannot erase political grievances. Lasting peace requires justice, accountability, and respect for human rights not repression.
The people have spoken. Give them their rights. Asim Munir and his regime must pay for their crimes.
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو
راولاکوٹ کی سڑکوں پر اس وقت عوامی سمندر امڈ آیا ہے۔ جو کہہ رہے تھے کہ کوئی نہیں نکلے گا اور جو یہ سوچ کر بیٹھے تھے کہ کشمیری گولیوں سے ڈر جائیں گے ان کی آنکھیں کھولنے کے لیے یہ تاریخی منظر ہی کافی ہے۔
#RightsMovementAJK#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو#گولی_کیوں_چلائی
جس شخص نے ٹرمپ پر گولی چلائی، مجھے یقین ہے کہ اس پر بھی ایسی پابندی نہیں ہوگی؛ اس کا وکیل اور رشتہ دار اس سے ملے ہوں گے۔ وہ شخص ٹرمپ پر قاتلانہ حملے جیسے سنگین جرم میں قید ہے، مگر اسے بھی حقوق حاصل ہیں۔ یہاں عمران خان نے کیا کیا ہے؟ وہ ملک کا وزیرِ اعظم رہا ہے، اس وقت جیل میں ہے، اور اس میں کون سی بری بات ہے اگر علامہ صاحب، گوہر صاحب یا کوئی اور شخص جا کر ان سے ملاقات کر لے؟ ان کے کارندے وہاں بیٹھے سب سن رہے ہوتے ہیں، ہم نے وہاں جا کر حکومت کا تختہ الٹ دینا ہے؟
اس عمر کا ایک قیدی، عمران خان، جیل میں بیٹھ کر کیا آسمان گرا دے گا؟ یہ (ملاقات پر پابندی) انتہائی بری بات ہے، بد اخلاقی بھی ہے، اور آئین، انسانیت اور اسلام کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
@MKAchakzaiPKMAP
The survey showed rural poverty stood at 36.2%, more than double the urban poverty rate of 17.4%, underlining persistent disparities between cities and the countryside. https://t.co/GnYabQ4aHB
رات کو مذاکرات کی باتیں ہو رہی تھیں۔
لیکن آج صبح دریک عیدگاہ کے اطراف مقامی آبادی کے مطابق کافی دیر تک شدید فائرنگ کی آوازیں سنائیں دیتی رہیں۔
اب مساجد میں اعلان کیے جا رہے ہیں کہ لوگ عیدگاہ پہنچیں۔
مقامی لوگوں کے مطابق رینجرز نے یونیورسٹی(تراڑ کیمپس) تک پیش قدمی کی، عوام نے انہیں روکنے کی کوشش کی اور جواب میں شیلنگ اور فائرنگ کی گئی۔ رینجرز سدھن ایجوکیشن کانفرنس کے دفتر تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی تھی اور سڑک میں کھدائی کی کوشش کی تاہم عوام انہیں واپس پیچھے کی طرف دھکیلنے میں کامیاب رہی اور رینجرز کی گاڑیاں واپس چنار ہوٹل چوک کی جانب گئیں۔
اس واقعے کے نتیجے میں چند افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں اور مقامی لوگوں کے مطابق وہاں ایمبولینسز کی آوازیں بھی سنائی دے رہے ہیں
لاک ڈاؤن اور لانگ مارچ جاری ہے، عارضی طور پر راولاکوٹ شہر کے اطراف دھرنے دئیے گئے ہیں- ہم حکمت کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں-
افواہوں پر بالکل دھیان نہ دیں - قیادت کے فیصلوں کو فالو کریں- برستی گولیوں میں پُرامن رہ کر ہم حکمرانوں کو اعصابی شکست دے چُکے ہیں
لانگ مارچ ختم ہو گا اور ایک ہی صورت میں ایسا ممکن ہے- تسلیم شدہ مطالبات پر عملدرآمد کرو نہیں تو جب تک آخری کشمیری ذندہ ہے یہ لانگ مارچ جاری رہے۔عمر نذیر کشمیری
آزاد کشمیر میں جاری عوامی احتجاج، اداروں کی فائرنگ سے نہتے شہریوں کی شہادتوں اور بڑھتی ہوئی بے چینی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سردار وجاہت الیاس ایڈووکیٹ نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ موجودہ بحران حکومتی نااہلی اور مقتدرہ کی غلط پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔ طاقت کا استعمال مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس غیر یقینی صورتحال کو ختم کرنے کے لیے فوری طور پر مذاکرات کیے جائیں اور ملک کو مزید انتشار سے بچایا جائے۔
#RightsMovementAJK
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو
#گولی_کیوں_چلائی
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بیروزگار افراد کی تعداد 45 لاکھ سے 60 لاکھ ہو چکی ہے، عام آدمی کی دودھ اور اشیائے خورد و نوش خریدنے کی سکت کم ہوئی ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری میں مسلسل کمی اور ملکی ایکسپورٹ تنزلی کا شکار ہے۔ گردشی قرضوں میں تاریخی سطح کا اضافہ ہو چکا ہے۔ عاصم منیر کی ایس آئی ایف سی کی کارکردگی صفر رہی ہے۔ ن لیگ کا ہمیشہ سے ریکارڈ ہے کہ ان کی حکومت آنے سے ملکی ایکسپورٹ گر جاتی ہے۔
شہباز گل
"کیا 'تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان' ہم نے اس لیے بنائی ہے کہ لوگوں کو گالیاں دیں؟ بالکل نہیں۔ اندازہ لگائیں، عمران خان وزیرِ اعظم نہ سہی، لیکن ایک شریف آدمی تو ہے۔ دنیا میں کہیں بھی—میں بار بار اپنے یہ روایتی فقرے دہراتا ہوں—کہ بدترین قاتلوں، بدترین اسمگلروں اور بدترین بدکاروں پر بھی ملاقات کی پابندی نہیں ہوتی۔
اب ملاقات کی صورتِ حال دیکھیں۔ جس شخص نے ٹرمپ پر گولی چلائی، مجھے یقین ہے کہ اس پر بھی ایسی پابندی نہیں ہوگی؛ اس کا وکیل اور اس کے رشتہ دار اس سے ملے ہوں گے۔ وہ شخص ٹرمپ پر قاتلانہ حملے جیسے سنگین جرم میں قید ہے، (مگر اسے بھی حقوق حاصل ہیں)۔ یہاں عمران خان نے کیا کیا ہے؟ وہ ملک کا وزیرِ اعظم رہا ہے، اس وقت جیل میں ہے، اور اس میں کون سی برُی بات ہے اگر علامہ صاحب، گوہر صاحب یا کوئی اور شخص جا کر ان سے ملاقات کر لے؟ ان کے کارندے وہاں بیٹھے سب سُن رہے ہوتے ہیں، ہم نے وہاں جا کر کون سا حکومت کا تختہ الٹ دینا ہے؟
اس عمر کا ایک قیدی، عمران خان، جیل میں بیٹھ کر کیا آسمان گرا دے گا؟ یہ (ملاقات پر پابندی) انتہائی برُی بات ہے، بد اخلاقی بھی ہے، اور آئین، انسانیت اور اسلام کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
'دی سونر، دی بیٹر' (The sooner, the better — جتنا جلدی ہو، اتنا اچھا ہے)۔ اگر وہ چاہتے ہیں تو اس سے پریشر کم ہو جائے گا۔ اگر آج یہ خبر آ جائے کہ علامہ صاحب اور فلاں شخص نے عمران خان سے ملاقات کی ہے، یا ان کی بہن علیمہ بی بی یا کسی اور نے ملاقات کی ہے، تو یہ سیاسی دباؤ بہت کم ہو جائے گا اور ہمیں (حقیقی صورتِ حال کا) اندازہ بھی ہو جائے گا۔"
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
جہلم ویلی، 9، 10 اور 11 جون:
پی ٹی آئی رہنما سید ذیشان حیدر مسلسل میدانِ عمل میں موجود ہیں اور مختلف تجارتی مراکز میں احتجاجی مظاہروں میں شرکت۔ اس دوران انہوں نے چکوٹھی، گجر بانڈی، ہٹیاں بالا اور چناری کے تجارتی مراکز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پرامن مظاہرین سے ملاقات کی اور ان کے حوصلے بلند کیے۔
ضلع جہلم ویلی میں گزشتہ تین روز سے مکمل پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے۔ احتجاجی تحریک کے سلسلے میں آج مختلف علاقوں سے قافلے مظفرآباد کی جانب روانہ ہوں گے۔
#RightsMovementAJK
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو
#گولی_کیوں_چلائی