جبری گمشدگیاں انسانیت کے خلاف جرم ہیں — اس عید پر انہیں گھر واپس لاؤ۔ ماہ جبین بلوچ (29 مئی 2025) فرزانہ بلوچ (1 دسمبر 2025) رحیمہ بلوچ (9 دسمبر 2025) حیرنسا بلوچ (20 دسمبر 2025) نسرین بلوچ (22 نومبر 2025) فاطمہ بلوچ (13 جنوری 2026) اور حیات بی بی بلوچ (18 فروری 2026) اُن خواتین میں شامل ہیں جو جبری طور پر لاپتہ کی گئی ہیں۔ جبری گمشدگیاں ایک سنگین انسانی المیہ اور بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ فاطمہ بلوچ کو جس طرح بازیاب کیا گیا انسانی اقدار کا تقاضہ ہے کہ عید کے موقع پر انسانیت کی بنیاد پر تمام جبری لاپتہ بلوچ خواتین کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور ان کے خاندانوں کو اس اذیت سے نجات دلائی جائے۔ عید کے دن بلوچ قوم سمیت تمام انسان دوست افراد ایکس مہم میں شامل ہو کر جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے آواز بلند کریں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔
#ThisEidAskForRelease
#ReleaseAllMissingPersons
#ReleaseBYCLeaders
پریس کلب طویل عرصے سے مقدس اور محفوظ مقامات سمجھے جاتے رہے ہیں جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مداخلت ناقابلِ تصور ہوتی تھی۔ مگر گزشتہ دو برسوں میں دوسری بار پولیس نے بلوچستان کے پریس کلبوں میں داخل ہو کر پریس کانفرنسز روکنے کی کوشش کی ہے۔
جاہلوں، یہ سوشل میڈیا اور ٹیک کا دور ہے؛ اگر کسی کو پریس کلب میں پریس کانفرنس سے آپ روک دینگے تو و وہ سوشل میڈیا کے ذریعے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ ابھر سکتی ہے۔ طاقت، بندوق اور وردی کے زور پر آوازیں دبانے کا یہ طریقہ نہ مؤثر ہے اور نہ ہی دور اندیشی پر مبنی۔
Had a very good meeting with His Majesty Jigme Khesar Namgyel Wangchuck, the King of Bhutan. We covered the full range of India-Bhutan relations. We discussed cooperation in sectors like energy, capacity building, connectivity, technology, defence and security. India is proud to be a key partner in Bhutan's development journey.
"اس وقت بلوچستان پر پنجاب کا قبضہ ہے" پرویز ہودبھائی کی زبانی آنکھو دیکھا حال سُنیں:
ایسے حالات میں بلوچ یکجہتی کمیٹی #BYC ایک سیاسی راستہ نکالنے کی امید بنی تھی، ڈفرز نے اس کا بھی گلہ دبایا ہوا ہے 🥲
میڈیا میں انڈیا کے کشمیر پر اسرائیل کے فلسطین پر مظالم دیکھ کر واقعی دل خون کے آنسو روتا ہے لیکن پچھلے کئ دنوں سے زہری بلوچستان میں ہونے والے مظالم پر خاموشی کیوں؟ کیا لال پیلے کامریڈز کو پاکستانی فورسز کے مظالم نظر نہیں آتے؟شیر خوار بچے دودھ کیلئے بلک رہے ہیں
#ZehriUnderSiege
@wasifmahmood1@mjdawar destabilizes the whole region — including Pakistan, Iran, and Central Asia.
Peace in this region will only come when state policies prioritize stability over strategy and when the Taliban realize that governing a nation requires legitimacy diplomacy responsibility not gun terror
@wasifmahmood1@mjdawar the Taliban
Now, after decades, those old policies have backfired. The Taliban, instead of transforming into a responsible government, continue to behave like a militant organization, relying on force rather than diplomacy. This not only damages Afghanistan’s image but also .
@wasifmahmood1@mjdawar interests shaped regional policies. During the Cold War, Pakistan became a frontline state for Western powers, especially during the Soviet invasion of Afghanistan. This created a long-term dependence on non-state actors, such as the Mujahideen who later evolved into groups like
@wasifmahmood1@mjdawar You are absolutely right — whatever has happened in this region was the decision of the state apparatus, not of the common people. The people of both Pakistan and Afghanistan have suffered the most due to these political and military choices.
The issue lies in how geopolitical