My sister, Dr Uzma Khan, filed a petition before the Supreme Court on the 6th of May 2026 through Uzair Karamat Bhandari, ASC, for Imran Khan’s examination and treatment in the presence of his personal doctors and family members.
On 18th August, a three-member Supreme Court bench ordered the government to shift Imran Khan to Shifa International Hospital within 2 days. The government blatantly violated the order.
The government did not shift Imran Khan to Shifa International Hospital. All the other aspects of the order have also been disobeyed.
The Supreme Court had also ordered:
1.Constitution of a medical board in consultation and coordination with the management of Shifa International Hospital
2.Dr Faisal Sultan, Imran Khan’s personal physician, to be associated with the medical examination and treatment
3.Imran Khan be allowed to speak to his sons twice a week
4.Imran Khan be allowed to meet with his family once a week.
All the above reliefs were in accordance with the Constitution, Prison Rules and earlier orders/precedents.
NONE of the above directions have been complied with. The only limited access granted to the family has been to my sister, Noreen Niazi, who was allowed to meet Imran Khan on each of the previous two Tuesdays. Inexplicably, before meeting Imran Khan she was made to sign an affidavit undertaking that she will not speak to the press after the meeting.
In view of the gross and deliberate violation of the order, Dr Uzma Khan filed a petition for contempt of court. Despite the fact that our lawyer, Uzair Bhandari, filed two applications, early fixation and hearing of the contempt petition has not been granted and it has been fixed on 16th September.
The Constitution and the law require proper check up and treatment for Imran Khan and an END to his torture through isolation and solitary confinement!! This is what the Supreme Court order required. The demand that this be done is not extraordinary: these are Imran Khan’s fundamental rights guaranteed by the Constitution. If the government has no respect for the Constitution and the decisions of the Supreme Court, and can simply disregard its orders, what other forum is left for us?
میری بہن، ڈاکٹر عظمیٰ خان نے 6 مئی 2026 کو عزیر کرامت بھنڈاری، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ (ASC) کے ذریعے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی، جس میں عمران خان کے معائنے اور علاج کا مطالبہ کیا گیا تھا، اور یہ بھی استدعا کی گئی تھی کہ ان کا معائنہ اور علاج ان کے ذاتی ڈاکٹروں اور اہلِ خانہ کی موجودگی میں کیا جائے۔
18 اگست کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حکومت کو حکم دیا کہ عمران خان کو 2 دن کے اندر اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔ حکومت نے کھلم کھلا اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی۔
حکومت نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل نہیں کیا۔ عدالتی حکم کے دیگر تمام پہلوؤں پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے مزید یہ احکامات بھی دئیے تھے:
1. شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی انتظامیہ سے مشاورت اور رابطے کے ساتھ ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔
2. عمران خان کے ذاتی معالج، ڈاکٹر فیصل سلطان، کو ان کے طبی معائنے اور علاج کے عمل میں شامل کیا جائے۔
3. عمران خان کو ہفتے میں دو مرتبہ اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
4. عمران خان کو ہفتے میں ایک مرتبہ اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
مندرجہ بالا تمام چیزیں آئین، جیل قوانین اور اس سے قبل جاری کیے گئے عدالتی احکامات اور نظائر کے عین مطابق تھے۔
ان میں سے کسی ایک حکم پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔
خاندان کو جو محدود رسائی دی گئی ہے، وہ صرف میری بہن، نورین نیازی تک محدود ہے، جنہیں گزشتہ دو منگل کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔ تاہم ناقابلِ فہم طور پر عمران خان سے ملاقات سے قبل ان سے ایک حلف نامے پر دستخط کروائے گئے، جس میں انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی کہ ملاقات کے بعد وہ میڈیا سے بات نہیں کریں گی۔
عدالتی حکم کی اس سنگین اور دانستہ خلاف ورزی کے پیشِ نظر ڈاکٹر عظمیٰ خان نے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی۔ ہمارے وکیل، عزیر بھنڈاری، کی جانب سے جلد سماعت اور مقدمے کو فوری طور پر مقرر کرنے کے لیے دو درخواستیں دائر کیے جانے کے باوجود، توہینِ عدالت کی درخواست کی جلد سماعت منظور نہیں کی گئی اور اسے 16 ستمبر کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔
آئین اور قانون عمران خان کے مناسب طبی معائنے اور علاج کا تقاضا کرتے ہیں، اور انہیں تنہائی اور قیدِ تنہائی کے ذریعے دی جانے والی اذیت کا خاتمہ ہونا چاہیے!!
سپریم کورٹ کا حکم بھی دراصل یہی تقاضا کرتا تھا۔ اس مطالبے میں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔۔۔۔ یہ عمران خان کے وہ بنیادی حقوق ہیں جن کی ضمانت آئینِ پاکستان دیتا ہے۔
اگر حکومت کو آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کا کوئی احترام نہیں، اور وہ محض سپریم کورٹ کے احکامات کو نظرانداز کر سکتی ہے، تو پھر ہمارے لیے انصاف حاصل کرنے کے لیے اور کون سا فورم باقی رہ جاتا ہے؟
بکواس بند کرو ڈبو، تجھے تو باند کر آیا تھا۔ تم خود ایک مراسی خاندان سے ہو۔ ہمیشہ انگریزوں کے غلام رہے ہو۔ جوتے پالش کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں آتا۔ پی ٹی آئی والے تمھیں لیتے نہیں، سارے دن ادھر بیٹھ کر بکواس کرتے ہو اور قوم کو گمراہ کرتے ہو۔ پاکستان کے لوگ دین دار ہیں تمھارے جیسے مراسی نہیں ہیں۔
عالیہ حمزہ کو پونے دو سال کی ناحق قید کے بعد دوبارہ گرفتار ہوئے 158 دن گزر چکے ہیں، مگر ظلم و جبر بھی ان کے عزم کو متزلزل نہ کر سکا۔
سلاخیں جسم کو قید کر سکتی ہیں، حوصلے اور نظریے کو نہیں!
عالیہ حمزہ کو رہا کرو!
#ReleaseAliyaHamza#ReleaseImranKhan
حماد جاوید کو یزید کے پیروکاروں نے ساڑھے تین سال سے جیل میں ڈال رکھا ہے، ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اپنے کزن کا پتہ کرنے تھانہ سرور روڈ گئے تھےـ
ایسی ایسی ظلم کی داستانیں ہیں کہ دل خون کے آنسو روتا ہےـ
#عمران_خان_پر_ظلم_بند_کرو
ہم عمران خان کی شخصیت سے بے حد متاثر بھی تھے اور ڈرتے بھی تھے،کیونکہ وہ فضول باتیں بالکل پسند نہیں کرتے تھے۔ لیکن کرکٹ کے معاملے میں وہ ایک دس سالہ بچے کی طرح جنونی تھے جو ہر وقت کرکٹ ہی کی باتیں کرتا رہتا ہے۔
جب ہم بطور اوپنر بیٹنگ کے لیے میدان میں جا رہے ہوتے، تو وہ ساتویں نمبر پر بیٹنگ کرنے کے باوجود پہلے سے ہی پیڈز پہن کر تیار بیٹھے ہوتے۔
وہ ہر وقت ہمیں کھیل کی تکنیک، مخالف ٹیم سے نپٹنے کے گر سکھاتےتھے۔ مجھے یاد ہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف تین روزہ میچ میں جب سر رچرڈ ہیڈلی کافی تیز باؤلنگ کر رہے تھے اور میں اوپننگ کر رہا تھا، تو عمران خان مجھے ایک طرف لے گئے اور بولے ،تمہیں معلوم ہے ہیڈلی کو اپنے اوور میں باؤنڈری کھانا بالکل پسند نہیں اور وہ زیادہ باؤنسر بھی نہیں پھینکتا۔ اگر وہ تمہیں باؤنسر کرائے تو تم فورا پل شاٹ مارنا، وہ دوبارہ تمہیں باؤنسر کرانے کی ہمت نہیں کرے گا۔
میں نے اس میچ میں 70 سے زائد رنز بنائے۔ ہیڈلی نے مجھے ایک باؤنسر کرایا، میں نے اس پر چوکا جڑ دیا، اور اس کے بعد اس نے پورے میچ میں مجھے کوئی شارٹ پچ گیند نہیں کرائی۔ حریف کھلاڑی کو پڑھنے اور یوں جرات مندانہ سوچ دینے کا نام عمران خان تھا۔ رمیز راجہ کمنڑی کےدوران عمران خان کے گن گاتے ہوئے
عمران خان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ غلط ہے۔ میں کھل کر کہوں گا کہ یہ غلط ہے، وہ اس سب کا مستحق نہیں۔ وہ پاکستان کا قومی ہیرو ہے اور اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑا تو میں تیار ہوں۔— جاوید میانداد
#ImranKhan@Javed__Miandad#Pakistan
وہ کون سے صحافی تھے جو اسلام آباد ہائی کورٹ یہ پٹیشن لے کر گئے تھے کہ کیا ہوا نواز شریف سزا یافتہ ہے پھر بھی اس کی بکواس ٹی وی پر چلنی چاہئے؟؟؟
@asmashirazi
Imran Khan Mania All Over the World!
Everyone demanding urgent medical care and his release. Pakistani authorities are giving a bad name to the country by ignoring human right organizations and global celebrities raising voice for justice.
#ReleaseImranKhan
ائین بوتھم بھی عمران خان کے بول چکے ہیں ♥️
عمران خان, آپکے ملک میں جو ہورہا ہے, مُجھے نہیں سمجھ آرہی, لیکن عمران خان میں آپکو جانتا ہوں!!
اپنا بہت خیال رکھیں!!