"میں نے ایک بار اپنے دادا سے پوچھا، جن کی شادی کو 60 سال سے زیادہ ہو چکے تھے:
"پوری زندگی ایک ہی عورت سے محبت کرتے رہنے کا راز کیا ہے؟"
مجھے امید تھی کہ وہ بات چیت، بھروسے یا معاف کرنے جیسی کوئی بات کہیں گے۔
اس کے بجائے، انہوں نے کمرے میں دوسری طرف بیٹھی میری دادی کی طرف دیکھا اور کہا:
"تم پوری زندگی ایک ہی عورت سے محبت نہیں کرتے۔"
اس جواب نے مجھے دنگ کر دیا۔
پھر انہوں نے بات جاری رکھی:
"وہ ہر چند سال بعد بدل جاتی ہے۔ اور اگر تم یہ نہیں سیکھتے کہ جو انسان وہ بن رہی ہے اس سے محبت کیسے کی جائے، تو تم بالآخر اسے کھو دو گے۔"
"جس عورت سے میں نے اپنے بیس کی دہائی کے شروع میں شادی کی تھی، وہ بالکل ویسی نہیں تھی جیسی وہ تیس کی عمر میں بنی۔ ماں بننے نے اسے بدل دیا۔ مشکل ادوار نے اسے بدل دیا۔ زندگی نے اسے بدل دیا۔ وقت نے اسے بدل دیا۔"
وہ ایک لمحے کے لیے رُکے۔
"اپنی چالیس کی دہائی میں، اسے بڑے رومانوی اشاروں سے زیادہ عزت کی ضرورت تھی۔ پچاس کی دہائی میں، اسے جنون سے زیادہ سہارے کی ضرورت تھی۔ ساٹھ کی دہائی میں، اسے وعدوں سے زیادہ میری موجودگی کی ضرورت تھی۔"
پھر انہوں نے ایک ایسی بات کہی جو میرے دل میں اتر گئی:
"جب بھی وہ بدلی، مجھے دوبارہ اس کا انتخاب کرنا پڑا۔"
وہ یہ شکایت بھی کر سکتے تھے کہ وہ اب وہ جوان عورت نہیں رہی جس سے انہوں نے کئی دہائیوں پہلے محبت کی تھی۔
یا پھر وہ اس عورت سے محبت کر سکتے تھے جو وہ بن رہی تھی۔
اور یہی وہ بات ہے، انہوں نے مجھے بتایا، جہاں بہت سے جوڑے غلطی کرتے ہیں۔
"لوگ یہ غلطی کرتے ہیں کہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ محبت کو ہمیشہ بالکل ویسا ہی رہنا چاہیے۔ وہ ایک بار محبت کرتے ہیں اور پھر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ رشتہ خود بخود چلتا رہے گا (لیکن) عمر بھر کی محبت کا مطلب یہ نہیں کہ دو انسانوں کو اسی عمر میں جما دیا جائے جب وہ پہلی بار ملے تھے۔ لوگ بدلتے ہیں۔ ان کے جسم بدلتے ہیں۔ ان کی ترجیحات بدلتی ہیں۔ کیریئر، بچے، غم، کامیابی، مایوسی، بیماری، بڑھاپا، اور عام زندگی انہیں ایسے طریقوں سے ڈھالتی ہے جن کا آغاز میں دونوں میں سے کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا۔
جو شخص پچاس کی عمر میں آپ کے ساتھ ہے، شاید اسے آپ سے کسی ایسی چیز کی ضرورت ہو جو پچیس کی عمر میں درکار نہیں تھی۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ محبت ختم ہو رہی ہے۔
کبھی کبھی اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ محبت کو بھی بڑا ہونا پڑتا ہے۔
میرے دادا نے ایک بار پھر میری دادی کی طرف دیکھا اور کہا:
"اگر تم کسی سے زندگی بھر محبت کرنا چاہتے ہو، تو اس کے بارے میں تجسس برقرار رکھو۔"
جانتے رہو کہ وہ کون ہیں۔
یہ پوچھتے رہو کہ اب ان کے لیے کیا اہم ہے نہ کہ وہ جو بیس سال پہلے اہم تھا۔
چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں پر دھیان دیتے رہو۔
سنتے رہو۔
ان کی تعریف کرنے کے لیے نئی وجوہات تلاش کرتے رہو۔
اور سب سے بڑھ کر، بار بار ان کا انتخاب کرو نہ صرف اس لیے کہ وہ تب کون تھیں جب تم نے پہلی بار محبت کی تھی، بلکہ اس لیے بھی کہ وہ اب کیا بن رہی ہیں۔
کیونکہ ایک دیرپا رشتہ صرف ایک بار محبت میں پڑنے سے نہیں بنتا۔
یہ اپنے ساتھ بیٹھے انسان کے ہر نئے روپ سے بار بار محبت کرنے سے بنتا ہے۔
یہ چتیاپے کی گہری کتابی باتیں کر کے ساتھ ہی دادا جی اپنے موبائل میں محو ہو گئے اور اپنی پرانی محبوباؤں فرزانہ ، ثوبیہ، سلمی ، کوثر ، نسیم، صائمہ ، رابعہ، فردوس کے پرانے میسجز اور تصویریں دیکھنے لگے ۔
@AsadAToor@Tiktok__PK This is right action, it should not be used against innocent persons. Almost in every country around the globe people cannot talk openly against Government policies or Government officials, for that politicians or leaders are there.
BREAKING 🚨🇺🇸🇮🇷🇵🇰
Donald Trump: I want to thank the country of Pakistan and its great Prime minister and its great, great field marshal. He’s a great field marshal, two fantastic people for helping. They really are terrific people.
Islamabad is positioning itself to host that next round of direct US-Iran talks. With thousands of security personnel deployed and outreach to world leaders underway, Pakistan is looking to play a central role in brokering regional peace.
Al Jazeera's @KimberlyHalkett reports.
Breaking 🔥
Chinese Artist Li Wei releases a special legoland song praising Pakistan for playing a role in preventing a global nuclear catastrophe,
From Iran to China, the world remains all praise for Pakistan
رب سوہنڑا شالا پاکستان کی عزتاں قائم رکھے۔۔
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر لگتا ہے قسمت کے دھنی ہیں۔ پچھلے سال مئی کے بعد ان کی قسمت کا ستارہ اونچا جار رہا ہے ( ویسے وہ Gemini ہیں اور صدر ٹرمپ کا بھی یہی اسٹار ہے)۔
جنرل عاصم ایران میں ہیں جب یہ سب خبریں بریک ہورہی ہیں جس سے دنیا سکھ کا سانس لے سکے گی۔
خبریں آرہی ہیں کہ ایران امریکہ معاہدہ تقریبا طے پا گیا ہے اور کہا جارہا ہے اتوار کو اسلام آباد میں شاید سائن ہو جائے گا جس کے لیے صدر ٹرمپ کی آمد متوقع ہے۔اگر ٹرمپ آئے تو پھر ایرانی صدر مسعود صاحب بھی اسلام آباد آئیں گے۔
ایران کے وزیرخارجہ نے ٹوئٹ کیا ہے کہ فوری طور پر آبنائے ہرموز کو کھول دیا گیا ہے جب تک لبنان اسرائیل سیز فائر چلے گی۔
ٹرمپ نے فوری طور پر ہرموز کھولنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا ہے بلکہ شاید سکون کا بہت بڑا سانس بھی لیا ہوگا۔
اب ایک اور خبر بھی آرہی ہے کہ امریکہ ایران کو پیشکش کررہا ہے کہ بیس ارب ڈالرز کے بدلے بچا کچھا ایٹمی مواد ہمیں دے دیں۔
یہ ویک اینڈ بہت بڑی عالمی خبروں کا ہے اور اس میں اگر کسی نے عزت کمائی ہے تو وہ پاکستان نے کمائی ہے ۔ 1947 کے بعد دو ایسے مواقع آئے ہیں جب ہمارے ملک اور ہماری عزت عالمی سطح پر بنی ہے۔
1998 میں جب نیوکلیر دھماکے کیے جس پر عالمی ورلڈ نے عزت کی نگاہوں سے دیکھا اور اب اتنی خوفناک جنگ نہ صرف ختم کرائی بلکہ جیسے چین اور امریکہ کے درمیان 1971 میں ہنری کسنجر کی خفیہ چین وزٹ میں رول ادا کیا تھا وہی اب ایران اور امریکہ کے درمیان کیا ہے۔ جو کام پوری دینا 1979 سے مل کر نہ کر سکی وہ اب پاکستان نے کر دکھایا ہے۔ یہ معمولی کام نہیں۔ اس پر اس ملک کی سیاسی اور فوجی اور سفارتی لیڈرشپ کو مبارکباد اور شاباش بنتی ہے۔
ساری عمر پاکستان کو عالمی سطح پر کٹہرے میں ہی کھڑا پایا، انکوائری بھگتیں، سنگین الزمات، کہیں پٹاخہ بجا تو بھی ہم ملزم ٹھہرے۔ دنیا بھر کا میڈیا ہمیں برا بھلا کہتا رہا اور جو ہم نے طالبان کے برسوں لشکر بنوا کر بدنامی کمائی اس کا ازالہ اب ہورہا ہے۔
میرا ایک دوست جب بھی ملے گا ایک بڑی خوبصورت دعا دیتا ہے کہ رب شالا عزتاں قائم رکھے۔ آپ بھی سب دعا کریں سوہنڑا رب پاکستان اور پاکستانیوں کی یہ عزتیں قائم رکھے، انشاء اللہ۔
تحریر/رئوف کلاسرا
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا دورہءِ انطالیہ ترکیہ
وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر فورم میں شریک عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی ملاقاتیں۔
وزیرِ اعظم کی ترک صدر رجب طیب ایردوان، امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں۔
وزیرِ اعظم کی قطر کے وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آلثانی اور کوسوو کی سابق صدر ویوسا عثمانی سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔
ملاقاتیں خوشگوار ماحول میں ہوئیں. ملاقاتوں میں وزیرِ اعظم عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز رہے. ملاقاتوں میں عالمی سطح اور خطے کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
دونوں کی کہانی عجیب ہے۔
شہباز شریف ہوں یا فیلڈ مارشل عاصم منیر ۔۔
دوں کی کہانی مختلف بھی ہے اور عجیب بھی ۔۔
جنرل عاصم منیر ۔۔
سروس کا آخری دن تھا،
ہونا تو یہی تھا کہ یہ بھی اس آخری دن ریٹائرڈ ہونے والے جنرلز کی طرح چپکے سے ریٹائرڈ ہو جاتے، گھر چلے جاتے ، کسی گوشہ عافیت میں شام کی چائے پیتے اور اپنے پوتے پوتیوں سے کھیلتے گمنامی میں بقیہ زندگی گزار دیتے۔۔ مگر پھر یکایک ایک غیر متوقع اور ناقابل یقین لمحہ طلوع ہوا۔۔ انھیں ریٹائرمنٹ کی تاریک غار سے نکال کر آرمی چیف کی مضبوط ومستحکم اور طاقت ور ترین کرسی پر بٹھانے کی باتیں ہونے لگیں۔ غور کیا جائے تو امیدواروں میں سب سے کمزور یہی شخص تھے۔ یہ بطور ڈی جی آئی ایس وقت کے وزیراعظم سے ایک مشہور بات پر ذاتی مخاصمت مول لے بیٹھے تھے۔ مقبول و مشہور اور محبوب ترین وزیراعظم سے انھوں نے ان کے ایک قریبی رشتہ دار کے متعلق کہہ دیا کہ وہ کرپشن کر رہا ہے۔ جواب میں انھیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اب وہ وزیراعظم جا چکے تھے مگر ڈٹ کے ان کی توسیع اور سپہ سالاری کی راہ میں کھڑے ہو گئے۔ کہا گیا کوئی بھی چلے گا بس یہ نہیں۔ ان کے متعلق سعودیوں کو مسلک کے حوالے سے سینسٹائز کیا گیا۔ ہر رکاوٹ ان کی راہ میں کھڑی کی گئی مگر حیرت انگیز طور پر پھر یہی آرمی چیف بن گئے۔ گمنامی سے نکل کر دنیا کے سامنے آگئے۔ پھر ایک جنگ میں انھوں نے پہلی بار انڈیا کے مقابل ایسی حیرت انگیز کارکردگی دکھائی کہ تاریخ کے سب سے بڑے بڑبولے شخص ٹرمپ کے یہ فیورٹ ہوگئے اور پھر ایران امریکہ تناظر میں اور زیادہ معتبر اور اہم ہوتے گئے۔۔ اتنے کہ آج دنیا جس کے گن گاتی اور دنیا جس کی جرات و اہمیت کا چلا کے اعلان کرتی ہے۔
کہاں جاب کی تکمیل پر گوشہ گمنامی اور کہاں دنیا کے حساس ترین مسئلے کی ڈرائیونگ سیٹ۔۔ یہ کرشمہ ہے یا کیا۔۔۔؟
دوسرے شہباز شریف ۔۔
پنجاب کی حد تک ایک اچھے منتظم اور بس ۔۔وہ بھی اس لئے کہ مرکز میں بھائی وزیراعظم تھے اور راہ کی کئی رکاوٹیں ویسے ہی ہٹ گئی تھیں۔ حالات بدلے اور یہ معتوب اور مطلوب ہوتے گئے۔ ایسے وقتوں میں بھلا ان کی کیا حیثیت ہوتی جبکہ ان کے مقبول بھائی کے مقابل سارے ادارے پوری طاقت سے کھڑے کر دئیے گئے۔ اور ان کے مقابل ایک بہت مضبوط اور طاقتور شخص آہنی رکاوٹ بنا کے کھڑا کر دیا گیا۔۔انھیں تخت سے تختے پر لا کھڑا کیا گیا۔یہ ملک بدر ہوئے۔ ان کی فائلز کلوز ہوئیں اور ان کی بساط لپیٹ دی گئی۔ یہ سعودیہ اور لندن میں تاریخ کی گمشدہ کہانی بن کے زندگی کے دن پورے کرنے لگے۔ حالات ان پر تنگ کر دئیے گئے۔ طاقتوروں نے میڈیا کے بل پر چور ان کے نام کا حصہ بنا دیا۔ انھیں دنیا کے کسی بھی ہوٹل میں کافی کا ایک کپ پینا دشوارہوگیا۔ لوگ انھیں ان کے گھر میں بھی نہ چھوڑتے۔ وہ اکٹھے ہوتے اور ان کے گھروں کے باہر چور چور کے نعرے لگاتے۔انھیں منہ چھپا کے باہر نکلنا پڑتا۔ ان کی سیاسی قبر بند کر کے پلستر کر دی گئی۔ اس پر ڈھیروں ڈھیر گھاس بھی اگ آئی۔
پھر مگر ایک کیفیت بنی ،نوعیت بدلی، اورفارم سینتالیس کی متنازع ترین حیثیت میں انھیں وزیراعظم بنا دیا گیا۔ یہ آرمی چیف کو سیلیوٹ مارتے تو اور لوگ کیا ،خود ان کی پارٹی کے رہنما ان کی حیثیت پر ہنستے۔ انھوں نے ایک دن انھیں اپنی جیب سے فارم سینتالیس نکال کے دکھانے کی بات کر دی کہ میرے سیلیوٹ پر اعتراض کرنے والو! مجھے تمھاری اور اپنی حکومت کی اوقات بخوبی معلوم ہے۔ حالت یہ تھی کہ انھیں اسلام آباد کی حدود کا وزیر اعظم کہا جاتا۔
پھر قسمت کا سورج چمکا اور یہ انڈیا جنگ کی تاریخی جیت کے مشہور زمانہ وزیراعظم بن گئے۔ تاریخ کی سب سے واضح جنگ جیتنے والے ایٹمی ملک کے معتبر وزیراعظم۔ یا حیرت دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا دعویدار ٹرمپ ان کا دیوانہ ہوگیا اور پھر امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑ گئی۔ ٹرمپ ، نیتن یاہو ہوں یا عرب کے تیل کی دولت سے مالامال بادشاہ سب مسٹر شہباز شہباز کرنے لگے،دنیا بھر کا پریس مسٹر شریف کے نام سے سٹوریاں کرنے لگا اور اب دنیا نے انھیں سعودی عرب سے ٹرمپ سے بڑھ کر پروٹوکول لیتے پایا۔ جس ملک کے ایک سرور پیلس میں یہ قیدیوں کی پابند،مجبور اور غلامانہ گمنامی والی ل زندگی گزار رہے تھے۔ آج وہاں ان کے گرد استقبالیہ گھوڑے تھے اور عرب ان کے آگے پیچھے بچھے پڑے تھے۔۔
دونوں کی کہانی ایک سی بھی ہے اور عجیب بھی۔
دونوں گمنامی میں ڈوب رہے تھے کہ حالات کی لہروں نے انھیں اچھالا اور عالمی سطح پر اتنا معتبر اور مقبول کر دیا کہ بطور پاکستانی تاریخ میں جس کی مثال نہیں ملتی۔ دونوں کی کہانی عجیب ہے۔ شہباز شریف کی اور جنرل عاصم منیر کی۔
ہوسکتا ہے کہ یہ حالات و واقعات آپ کو اچھے نہ لگیں اور آپ کی تکلیف اور خون کا دباؤ بڑھا دیں۔۔ مگر یاد رکھیے آپ حالات کو ناپسند تو کرسکتے ہیں، بدل اور جھٹلا نہیں سکتے۔
#یوسف_سراج
چک دے پاکستان!!
آج کا دن پاکستان کی تاریخ کے تین بڑے دنوں میں سے ایک ہے۔
پہلا دن 28 مئی 1998 تھی جب چاغی میں دھماکہ ہوا اور پاکستان ایٹمی طاقت بنا۔ دوسرا دن مئی 2025 میں آیا جب بھارت کے خلاف پاکستانی فوج نے وہ دفاع کیا جس نے ثابت کیا کہ یہ ملک اپنی سرزمین کی حفاظت کر سکتا ہے۔ تیسرا دن آج ہے جب پاکستان نے لاکھوں ایرانیوں کو عفریت سے بچایا اور دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کو دو ہفتے کی باعزت مہلت دلوائی۔
مگر یہ مضمون ایٹمی دھماکے کے بارے میں نہیں ہے۔ فوجی دفاع کے بارے میں نہیں ہے۔ جنگ بندی کے بارے میں بھی نہیں ہے۔ یہ مضمون ایک اور چیز کے بارے میں ہے جو ایٹمی بم سے بھی زیادہ طاقتور ہے اور فوجی دفاع سے بھی زیادہ اہم۔
برانڈ پاکستان۔
میں چھ براعظموں پر واقع درجنوں ممالک میں جا چکا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ پاکستانی پاسپورٹ دکھانے پر کیا ہوتا ہے۔ میں نے وہ نظریں دیکھی ہیں جو ائرپورٹ پر پاکستانی پاسپورٹ دیکھ کر بدلتی ہیں۔ میں نے وہ اضافی سوالات سنے ہیں جو صرف پاکستانیوں سے پوچھے جاتے ہیں۔ میں نے وہ لمحات گزارے ہیں جب آپ کسی بین الاقوامی کانفرنس میں کھڑے ہوں اور سامنے والا آپ کا ملک سن کر بم دھماکوں کے بارے میں بات شروع کر دے۔
ڈیڑھ کروڑ پاکستانی دنیا بھر میں بکھرے ہوئے ہیں۔ دنیا کا چوتھا یا پانچواں بڑا تارکین وطن کا گروہ۔ لندن سے دبئی تک، نیویارک سے سڈنی تک، جدہ سے ٹورنٹو تک۔ یہ لوگ محنت کرتے ہیں، ٹیکس دیتے ہیں، کاروبار چلاتے ہیں، ڈاکٹر ہیں، انجینئر ہیں، اساتذہ ہیں، ٹیکنالوجی ماہر ہیں۔ مگر جب وہ اپنا ملک بتاتے ہیں تو سامنے والے کے ذہن میں پہلی تصویر کیا آتی ہے؟
بم دھماکہ۔ خودکش حملہ۔ اسامہ بن لادن۔ دہشت گردی کا برآمد کنندہ۔ ناکام ریاست۔
یہ وہ برانڈ ہے جو بیس تیس سالوں میں بنا ہے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان کا نام دہشت گردی کے ساتھ ایسے جڑ گیا جیسے کوئی مستقل داغ ہو۔ ہر بین الاقوامی خبر میں پاکستان کا ذکر آتا تھا تو ساتھ "ایٹمی ہتھیار"، "انتہا پسندی"، "طالبان" کے الفاظ ہوتے تھے۔ سی این این پر، بی بی سی پر، الجزیرہ پر، ہر جگہ ایک ہی تصویر۔ دھواں اٹھتی عمارتیں۔ بارود سے بھرے ٹرک۔ چیخیں اور سائرن۔
جو لوگ پاکستان کے اندر رہتے ہیں انھیں اس تکلیف کا اندازہ نہیں ہوتا۔ یہ تکلیف صرف وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جو باہر رہتے ہیں۔ جب آپ لندن میں ٹیکسی ڈرائیور سے ملتے ہیں اور وہ پوچھتا ہے "کہاں سے ہو؟" اور آپ کہتے ہیں "پاکستان" اور اس کی آنکھوں میں وہ جھجک آتی ہے جو ہزار الفاظ سے بھاری ہے۔ جب آپ کا بچہ سکول میں پوچھتا ہے "ابو ہمارا ملک خراب کیوں ہے؟" اور آپ کے پاس جواب نہیں ہوتا۔ جب آپ کسی کاروباری ملاقات میں جاتے ہیں اور سامنے والا "رسک پروفائل" کی بات کرتا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ وہ آپ کے ملک کی بات کر رہا ہے۔
برانڈنگ کیا ہوتی ہے؟ برانڈنگ وہ تصویر ہے جو آپ کا نام سنتے ہی ذہن میں بنتی ہے۔ سوئٹزرلینڈ سنتے ہیں تو چاکلیٹ اور گھڑیاں یاد آتی ہیں۔ جاپان سنتے ہیں تو ٹیکنالوجی اور نظم و ضبط۔ اٹلی سنتے ہیں تو فیشن اور کھانا۔ پاکستان سنتے ہیں تو کیا یاد آتا ہے؟
یہی وہ زخم ہے جو بیرون ملک بسنے والا ہر پاکستانی ہر روز برداشت کرتا ہے اور جس کا کوئی علاج کسی بجٹ میں نہیں ہوتا۔
اب دیکھیں کہ آج کیا ہوا ہے۔
آج پاکستان کا نام بم دھماکے کے ساتھ نہیں، امن کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کے ساتھ نہیں، سفارتکاری کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔ ناکامی کے ساتھ نہیں، قیادت کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔ یورپی کونسل کی صدر نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔ سابق اطالوی وزیر اعظم نے پاکستان کے لیے نوبیل انعام کی بات چھیڑی ہے۔ رائٹرز نے نکسن کے چین دورے سے موازنہ کیا ہے۔ دنیا بھر کی زبانوں میں، عربی میں، فارسی میں، فرانسیسی میں، جرمن میں، ہندی میں، چینی میں، ہر جگہ آج ایک ہی بات ہو رہی ہے: پاکستان نے جنگ بندی کروائی۔
اس کی مالیت کا اندازہ لگائیں۔
برانڈنگ کی دنیا میں ایک اصول ہے: "earned media value"۔ جب کوئی خبر بغیر اشتہاری خرچے کے دنیا بھر میں پھیل جائے تو اس کی قیمت کا حساب لگایا جاتا ہے۔ آج پاکستان کا نام نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، ٹیلی گراف، بلومبرگ، سی این این، الجزیرہ، رائٹرز، اے پی سمیت سینکڑوں عالمی ذرائع ابلاغ میں مثبت تناظر میں آیا ہے۔ یہ اربوں ڈالر کی مالیت کا برانڈ ایکسپوژر ہے جو کوئی اشتہاری مہم نہیں خرید سکتی۔
کولمبیا کی مثال دیکھیں۔ وہاں بہت دفعہ گیا ہوں. بیس سال پہلے کولمبیا کا نام سنتے ہی منشیات اور پابلو ایسکوبار یاد آتا تھا۔ آج کولمبیا سیاحت کا مرکز ہے۔ تبدیلی میں دو دہائیاں لگیں اور اربوں ڈالر خرچ ہوئے۔ متحدہ عرب امارات کی مثال دیکھیں۔ پچاس سال پہلے صحرا تھا۔ برانڈنگ نے دبئی کو دنیا کا مرکز بنا دیا۔ رواندا کی
مثال دیکھیں۔ نسل کشی کے بعد پال کاگامے نے "Visit Rwanda" مہم سے ملک کی تصویر بدلی اور آرسنل کی جرسی پر نام لکھوایا۔
مگر ان سب ممالک نے اربوں خرچ کیے۔ پاکستان کو یہ موقع مفت میں ملا ہے۔ جنگ بندی کی صورت میں۔ اور پاکستان نے اسے لپک لیا ہے۔
انگریزی میں ایک کہاوت ہے: "Give a dog a bad name and hang it"۔ کتے کو برا نام دے دو پھر پھانسی دے دو۔ بیس سال سے پاکستان کو برا نام دیا گیا۔ دہشت گرد۔ ناکام ریاست۔ خطرناک ملک۔ اور پھر اسی نام کی بنیاد پر ہر بین الاقوامی فورم پر نظرانداز کیا گیا۔ سلامتی کونسل میں آواز نہیں سنی گئی۔ تجارتی مذاکرات میں کونے میں بٹھایا گیا۔ ویزا دینے سے پہلے دس بار سوچا گیا۔
آج وہ نام بدل رہا ہے۔
آج سڈنی میں بیٹھا پاکستانی ڈاکٹر اپنے ساتھی کو بتا سکتا ہے کہ "یہ میرا ملک ہے جس نے جنگ روکی۔" آج دبئی میں بیٹھا پاکستانی تاجر اپنے کلائنٹ کو بتا سکتا ہے کہ "یہ میرا ملک ہے جس پر امریکہ اور ایران دونوں نے اعتماد کیا۔" آج ٹورنٹو میں پاکستانی نژاد بچہ اپنے سکول میں فخر سے کہہ سکتا ہے کہ "میرا ملک وہ ہے جس نے ایک تہذیب بچائی۔"
یہ احساس ایٹمی دھماکے سے کم نہیں ہے۔ ایٹمی دھماکے نے سلامتی دی۔ اس لمحے نے عزت دی۔ اور بیرون ملک بسنے والے ڈیڑھ کروڑ پاکستانیوں کے لیے عزت بم سے زیادہ قیمتی ہے۔
ہاں یہ پٹرول سستا نہیں کرے گا۔ آٹے کی قیمت نہیں گھٹائے گا۔ بجلی کا بل کم نہیں ہو گا۔ آئی ایم ایف کا قرض معاف نہیں ہو گا۔ عرب ممالک ہمیں ایک دم مسکین سے رفیق نہیں بنا لیں گے. ہماری ریاست ہمارے سینے پر بیٹھی رہے گی. ملکی سیاسی مسائل میں زیادہ فرق نہیں پڑے گا. مگر کچھ چیزیں آٹے اور پٹرول سے بڑی ہوتی ہیں۔ ایک قوم کا وقار ان میں سے ایک ہے۔ ایک پوری نسل جو بیرون ملک سر جھکا کر رہی ہے اس کا سر اٹھنا ان میں سے ایک ہے۔ ایک ملک کا نام بم سے جڑے ہونے کی بجائے امن سے جڑنا ان میں سے ایک ہے۔
سرمایہ کاری کی دنیا میں ایک اصول ہے: "perception precedes reality"۔ پہلے تصور بدلتا ہے پھر حقیقت بدلتی ہے۔ پہلے لوگ آپ کو مختلف نظر سے دیکھتے ہیں پھر آپ کے ساتھ مختلف سلوک کرتے ہیں۔ پہلے خبریں بدلتی ہیں پھر سرمایہ آتا ہے۔ پہلے وقار ملتا ہے پھر ویزے آسان ہوتے ہیں، تجارتی معاہدے بہتر شرائط پر ہوتے ہیں، سیاحت بڑھتی ہے، طلبا کو بہتر داخلے ملتے ہیں۔
پاکستان کے رنگ ہیں۔ آوازیں ہیں۔ تاریخ ہے۔ موہنجو داڑو ہے۔ ٹیکسلا ہے۔ بادشاہی مسجد ہے۔ شالامار باغ ہے۔ ہنزہ ہے۔ سوات ہے۔ صحرائے تھر کی خاموشیاں ہیں اور کراچی کی گہماگہمی ہے۔ انیس کروڑ لوگ ہیں جن کی اوسط عمر بائیس سال ہے۔ دنیا کی سب سے نوجوان آبادیوں میں سے ایک۔ یہ ملک دم توڑتا نہیں، دم توڑنے والوں کو سانس دیتا ہے۔
مگر بیس سال بد برانڈنگ نے یہ سب چھپا دیا تھا۔ دنیا کو صرف دھواں دکھائی دیتا تھا، رنگ نہیں۔ صرف دھماکے سنائی دیتے تھے، موسیقی نہیں۔ صرف خوف محسوس ہوتا تھا، مہمان نوازی نہیں۔
آج وہ پردہ اٹھا ہے۔
آج دنیا نے پاکستان کو وہ دیکھا ہے جو پاکستان واقعی ہے: ایک ایسا ملک جو بحران کے عین وسط میں کھڑا ہو کر دونوں فریقوں سے بات کر سکتا ہے۔ جس پر دشمن بھی اعتماد کرتا ہے اور دوست بھی۔ جو قرض لے کر بھی دنیا بچا سکتا ہے۔ جو ٹوٹ کر بھی جوڑ سکتا ہے۔
آج نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، ٹیلی گراف، بلومبرگ، سی این این، الجزیرہ، رائٹرز، فاکس نیوز، این بی سی، سی بی ایس، اے بی سی، پی بی ایس، سی این بی سی، ٹائم، نیوزویک ان سب میں ایک لفظ چمک رہا ہے: Pakistan۔ اور اس لفظ کے آگے "bomb" نہیں لکھا ہے۔ "peace" لکھا ہے۔
یہ لمحہ اربوں ڈالر کا ہے۔ یہ لمحہ ایٹمی دھماکے جتنا بڑا ہے۔ یہ لمحہ فوجی دفاع جتنا اہم ہے۔ کیونکہ ایٹمی بم دشمن سے بچاتا ہے مگر برانڈ دوست بناتا ہے۔ اور آج پاکستان کو دوستوں کی ضرورت بم سے زیادہ ہے۔
ایک پرانی کہاوت ہے: قوموں کی عزت میدان جنگ میں بنتی ہے۔ آج ایک نئی کہاوت لکھی جا رہی ہے: قوموں کی عزت اس وقت بنتی ہے جب وہ میدان جنگ میں لڑنے کی بجائے جنگ روک دیں۔
8 اپریل 2026۔ آج کا دن یاد رکھیں۔ یہ وہ دن ہے جب برانڈ پاکستان نے کروٹ بدلی۔ اللہ کرے ہم اور بھی ایسے دن دیکھیں.
پاکستان - ہمیشہ زندہ باد!
عارف انیس
Pakistan’s PM Shehbaz Sharif has arrived in Qatar on a working visit as part of a wider regional diplomatic tour. He arrived in Doha after meetings in Saudi Arabia and ahead of planned travel to Turkiye.
Al Jazeera's @osamabinjavaid reports.
قطر نے بھی پاکستان کی محبت میں گانا ریلیز کر دیا ھے۔
بیشک یہ دنیا بہادروں کا ساتھ دیتی ھے، سوائے امارات کے باقی تمام ممالک پاکستان کی تعریفیں کر رھے ہیں۔ پاکستان کو اپنا دوست بول رھے ہیں اور ہماری محبت میں گانے ریلیز کر رھے ہیں۔۔ شکرالحمداللہ❤️
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif received a telephone call from Canadian Prime Minister Mark Carney
During their warm and cordial conversation, the Canadian Prime Minister congratulated Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif on Pakistan’s peace efforts that culminated in the temporary ceasefire and led to the recently held talks between the United States and Iran, hosted by Pakistan.
The two leaders also exchanged views on Pakistan-Canada bilateral relations and expressed their desire to work together to enhance cooperation in agriculture, clean energy, mines and minerals as well as enhancing Canadian investments in Pakistan.
The Prime Minister reiterated his invitation to the Canadian Prime Minister to undertake an official visit to Pakistan at his kind convenience.
Pls ask Indians who have visited Pakistan about bill. Even ordinary Pakistani shopkeepers/rikshawala, restaurants owners and others wont charge rent or food bill if they come to know you are from India.
Thats how Pakistanis are.
Listen @virendersehwag sb.
@vikrantgupta73