Absolutely Not…
یہ صرف دو لفظ نہیں تھے،
یہ ایک قوم کی غیرت کی آواز تھی۔
وہ صرف باتیں نہیں کرتا تھا،
وہ جو کہتا تھا، کر کے دکھاتا تھا۔
“کیا ہم کوئی غلام ہیں؟”
یہ صرف جلسوں کا نعرہ نہیں تھا،
یہ ایک للکار تھی اُن لوگوں کے لیے
جو سمجھتے تھے کہ پاکستان ہمیشہ جھکا رہے گا۔
اس نے دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا:
ہم آزاد قوم ہیں،فیصلے بھی اپنے کریں گے،،اور جئیں گے بھی سر اٹھا کر۔
اقتدار گیا
سازشیں ہوئیں
جیلیں، مقدمے، پابندیاں
لیکن وہ پھر بھی کھڑا رہا۔
کیونکہ کچھ لوگ کرسی کے لیے لڑتے ہیں،
اور کچھ قوم کی خودداری کے لیے۔
وہ صرف لیڈر نہیں ہے،
وہ ایک سوچ ہے،
اور سوچوں کو کبھی قید نہیں کیا جا سکتا۔
آؤ دنیا کو بتا دیں
عمران خان کی تین سالہ دور حکومت اور کارکردگی
1۔احساس کفالت پروگرام
2۔لنگر خانے
3۔شیلٹر ہوم کا قیام
4۔راشن کارڈ
5۔کسان کارڈ
6۔صحت انصاف کارڈ
7۔احساس سکالر شپ پروگرام
8۔انصاف آفٹر نون سکول
9۔انصاف معذور و بزرگ کارڈ
10۔مزدور کارڈ
11۔روشن ڈیجیٹل پروگرام
12۔خدمت ای مراکز کا قیام
13۔نیب کو با اختیار بنانا
14۔راست پروگرام
15۔سیرت یونیورسٹی کا قیام
16۔ٹورازم کا فروغ
17۔بلین سونامی ٹری کا آغاز
18۔ ٹیکس ریفارمز
19۔کرکٹ سے ہی کرکٹ بورڈ کا چیئرمین
20۔پاکستان میں کرکٹ کی بحالی
21۔ پی ایس ایل کی کامیابی
22۔ای ٹرانسفر و پنشن کا قیام
23۔بھاشا، ۔مہمند اور واسو ڈیم پر کام کا آغاز
24۔اپنا گھر سکیم کا قیام
25۔بلا سود قرضے کی سکیم
26۔21 نئی یونیورسٹیوں پر کام کا آغاز
27۔اور 23 نئے ڈسٹرکٹ ہسپتالوں پر کام
28۔پاکستان سٹیزن پورٹل کا قیام
29۔رحمت اللعالمینؐ اتھارٹی کا قیام
30۔ہر فورم پر حرمت رسولؐ پر آواز اٹھانا
31۔پی آئی اے، پی ٹی وی اور این ایچ اے کو منافع بخش ادارہ بنانا
32۔زمینوں کی ڈیجیٹلائزیش
33۔دنیا کی 11ویں بڑی آئل ریفائنری کا قیام
34۔خیبر پی کے میں یتیم خانے اور اولڈ ہوم کا قیام
35- کرونا میں سری لنکا کے مسلمانوں کو مرنے کے بعد جلائے جانے کے خلاف آواز اٹھائی اور رکوایا
36۔کشمیر اور فلسطین کی آواز اٹھائی
37۔سکولوں میں صبح درود شریف اور قرآن پاک کی تعلیم کا آغاز
38۔قرآن کی تعلیم کے بغیر ڈگری دینے کا قانون ختم کرنا
39۔یکسان نظام تعلیم لاگو کرنے کی کوشش
40۔ریکوڈک منصوبے بر کام
41۔سعودی عرب سے مزدوروں کی رہائی
42۔پوری دنیا کی حاکمیت صرف اللہ کے پاس ہے اس چیز کو پوری دنیا میں باور کرانا
43۔قوم کے اندر خوداری پیدا کرنا
44. ملک کی گرتی معشیت کو دوبارہ پاؤں پہ کھڑا کرنا
45. تجارتی خسارے کا خاتمہ
زرع مبادلہ کے ذخائر میں _اضافہ
46. غیر ملکی قرضوں کی واپسی
47. سی پیک اتھارٹی کا قیام
48. گوادر پورٹ کو فنکشنل کرنا
49. انفراسٹرکچر نواز کے پانچ سالہ دور سے ڈبل اور کم لاگت پہ کرنا
50. ملکی خزانے کو 9 ارب ڈالر سے 22 ارب ڈالر تک لے جانا
51. اسلامو فوبیہ کی قرارداد یو این سے منظور کروانا
52. کشمیر کا کیس پوری دنیا میں لڑنا
53. پاکستان کا کیس یو این میں اچھے طریقے سے پیش کرنا
54. امریکہ کو اڈے نا دینا ایبسلوٹلی ناٹ
55. بند صنعتوں کو دوبارہ چلانا
56. رشیا کے ساتھ ملکی مفاد تجارتی معاہدہ کی کوشش
57. چوروں سے 397 ارب روپے کی ریکوری
58. کار کے کمپنی کیساتھ مذاکرات کر کے جرمانہ معاف کروانا
59. ایل این جی کے دوبارہ سستے معاہدے کرنا
60. احساس پروگرام کی شفافیت اور بلا تفریق تقسیم
61ْْْ اپنے دور حکومت میں او آئ سی اجلاس دو بار
اسلام آباد بلانا اور 57 اسلامی ممالک کی سربراہی پاکستان کو دلانا
62۔کرونا وائرس میں بہترین حکمت عملی
63 سکھوں کے دل میں پاکستان کی عزت کرانا كرتار پور باڈر کھول کر
*عمران خان پاکستان اور قوم کی ترقی دیکھ کہ سب تمہارے خلاف ہو گئے میں پہلے سے بھی زیادہ جذبے کے ساتھ عمران خان کے ساتھ ہوں کیونکہ عمران خان تم عزم شجاعت بہادری اور خودداری کی علامت ہو پاکستان میں تم واقعی مسلم امہ کے لیڈر ہو ہار،جیت, اٹھنا گرنا، یہ وقتی باتیں ہیں یہ دنیا داری ہے تم دنیا کی عظیم فکر کے وارث ہو اصل جیت ہی فکر اور نظریہ کی جیت ہوتی ہے اور وہ تم جیت چکے ہو تم نے قوم کو یہ بتا دیا ہے کہ یہ نظام کتنا گندا نظام ہے۔
@MaidahMuhammad
This image will remain with me for the rest of my life. The passionate cry for freedom while dancing and pouring water on his head to dilute the effects of tear gas.
MashaAllah a nation waking up finally and demanding freedom.
تم جس شخص کی آنکھ کی روشنی چھیننا چاہ رہے ہو، وہ قوم کی آنکھ کا تارا ہے۔
اس نے تمہاری 75 سال سے جاری چوری عوام کے سامنے رکھ دی ہے۔
تم اسے جھکا نہیں سکے، نہ اس کا سر جھکا نہ اس کی کمر میں درد ہوا۔
تم جیل میں بیٹھے عمران خان سے ڈرتے ہو!
جس دن نوازشریف کی بیٹی کو سیڑھیوں سے دھکا دیا جائے،
زرداری کی بہن کو SHO گھسیٹے مارے،
شریف/زرداری پر راہ چلتے کوئی فائرنگ کر دے،
بلاول ہاؤس اور جاتی امرا پر ایکسپائر آنسو گیس کے ساتھ دس ہزاری سرکاری جتھے حملہ کریں اندر سامان توڑ پھوڑ دیں،
جیل میں علاج، اسپتال، ملاقات میسر نا ہو،
جج تمہارے کیس فکس نا کریں، بےگناہی ثابت ہونے پر بھی سزائیں سنائیں،
موت کی چکی میں دھوپ دیکھنے کو نا ملے، مہینوں تک کوئی سلام دعا کرنے والا نا ہو
اس دن
اپنا موازنہ عمران خان سے کرنا
ورنہ
“کہاں راجہ بھوج ۔۔ کہاں گنگو تیلی”
@chiefofstars Lanat tum sb beghairton py
Khan ny jo kch kiya apni qoam k liye kiya
Us ny apna haq ada kr diya
Baki tum mai sy kisi sy b kch na ho ska
Sb dhokaybaz or buzdil nikly
آپ سب نے قصائی کو مرغی کا گوشت بناتے دیکھا ہوگا۔ پنجرے میں ہاتھ ڈالتا ہے۔ ایک آدھ موئی سی مرغی کو کھینچ کر نکالتا ہے وہ زندگی کی پہلی اور آخری کٹیں کٹیں کرتی ہے اور کٹی ہوئی گردن کیساتھ ڈرم میں پھینک دی جاتی ہے۔ چند ہی سیکنڈز بعد قصائی اسکو نکالتا ہے اور اسکی کھال کو ایک ہی جھٹکے سے اتار کر کھینچ دیتا ہے۔
اس سارے عمل میں ہم منہ دوسری طرف پھیر لیتے ہیں کیونکہ ہم برداشت نہیں کرپاتے۔ لیکن قصائی کو رتی برابر فرق نہیں پڑتا۔ اسے عادت ہے۔ وہ دن میں سینکڑوں جانیں ایسے ہی لیتا ہے۔ ہم سب بھی قصائی جیسے ہوچکے ہیں۔ مجھے مدتوں سے اس انڈسٹری کی وجہ سے کٹی ، پھٹی ، جلی لاشیں دیکھنے کی عادت ہے۔ قبیح سے قبیح جرم ہو یا کوئی بدترین زیادتی ، اسکو دیکھنا ، اس کو پرکھنا ، اس پر لکھنا میرا کام رہا ہے۔ ہمیں ان سب چیزوں سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کیونکہ قصائی کی طرح یہ سب اب ہمارا معمول بن چکا ہے۔
لیکن کبھی کبھی دل کٹ جاتا ہے۔ شاید قصائی بھی کبھی کبھار کسی مرغی پر چھری چلانے سے پہلے نینو سیکنڈز کے لیے رکتا ہو اس مرغی کی آنکھوں میں دیکھتا ہو اور چھری چلا دیتا ہو۔ لوگ جل جل کر مر رہے ہیں اور سوا دو کروڑ کے شہر میں فائر بریگیڈ ہی نہیں ہے۔ لوگوں کو زبردستی انکے گھروں سے نکالا جارہا ہے۔ ان ٹھٹھرتی راتوں میں وہ اپنے گھروں سے نکال کر کیمپوں میں ڈال دیے گئے ہیں۔ پولیس مقابلوں کے نام پر ، قانون کی حکمرانی کے نام پر لوگوں کو گھروں سے اٹھا اٹھا کر قتل کیا جارہا ہے۔ ہم صرف موت کے وقت زندگی کی پہلی اور آخری کٹیں کٹیں کرتے ہیں اور پھر ہم کسی نا کسی کی بھوک کا ایندھن بن جاتے ہیں۔ کوئی ہمارا ذکر نہیں کرتا کوئی ہمیں پوچھتا نہیں۔ ہم چند ہفتے پرانی خبر اور پھر فلاں سال کا سانحہ رہ جاتے ہیں۔