عوام کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ؟
سوال یہ ہے کہ زیادہ تر آئ پی پیز معاہدے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور میں نوے کی دھائ میں 25 سال کیلئے ہوۓ تھے،
آج 2026 میں سب معاہدوں کی میعاد ختم ہو چکی ہے، لیکن اب بھی یہ چورن بیچا جا رہا ہے کہ معاہدے ختم کرنے سے جرُمانہ دینا پڑے گا،
اصل حقیقت یہ ہے کہ آئ پی پیز کے معاہدے 25 سال کی میعاد پوری کرکے ختم ہو چکے ہیں، کیا چوری چھپے ان معاہدوں کی میعاد بڑھا دی ہے؟ اگر نہیں؟ تو عوام کے سامنے سب معاہدے رکھیں، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاۓ گا،
وزیر خزانہ صاحب تمام آئ پی پیز کا ریکارڈ عوام کے سامنے لائیں، ہر آئ پی پی نے کتنا کمایا؟ کتنے میں بجلی فروخت کرتے ہیں؟ کپیسٹی چارجز کتنے ادا کیے جاتے ہیں؟
آی پی پیز کو بچانے کیلئے سولر انڈسٹری کو کیوں تباہ کیا گیا؟ اور کون لوگ ہیں جو آئ پی پیز کے محافظ اور وکیل ہیں؟
Everyone can see horizon, few can see beyond
Stay Tuned on Economics
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
وزیر خزانہ صاحب آپ سو فیصد غلط ہیں،
پتہ نہیں ہماری قسمت میں قابل اور ویژن والے لوگ کب اعلی عہدوں پر آئیں گے؟
اب میں بتاتا ہوں کہ وزیر خزانہ صاحب آپ کیسے غلط ہیں؟
۱- جتنے مرضی پٹرول کے ذخائر بنا لیں، ذخائر پندرہ دن نہیں تو ایک ماہ یا دو ماہ میں ختم ہو جائیں گے، کیا آپ دو ماہ سے آگے سوچ سکتے ہیں؟
۲- ایران سے پٹرول اور گیس پائپ لائین بچھائیں، نا آپ کو ذخائر کی ضرورت پڑے گی اور نا بحری جہازوں کی، نا ٹرکوں کی ضرورت، نا کوئ ناکہ بندی اس پائپ لائین کو روک سکے گا، ساتھ میں سمگلنگ بھی بند ہو جاۓ گی، صرف ایک سال کی سمگلنگ بند ہونے سے آپکی گیس اور تیل کی پائپ لائین کی قیمت پوری ہو جاۓ گی
۲- پاکستان میں دس ہزار میگا واٹ بجلی ایک سال میں گھروں کی چھتوں سے پیدا ہو سکتی ہے، اگر آپ گرین میٹر کے ذریعے عوام سے آئ پی پیز کی قیمت سے آدھی قیمت پر بجلی خریدنے کی پالیسی اپنائیں، بیٹریز اور سولر پینل کو ایک سال کیلئے ٹیکس فری کر دیں، کم از کم ایک لاکھ جابز پیدا ہونگیں اور دس ہزار میگا واٹ بجلی سولر پیدا کریں، بیٹریز کی لوکل مینوفیکچرنگ پر پانچ سال کیلئے ڈیوٹی اور ٹیکس فری کر دیں، اربوں کی نئی انڈسٹری ایک سال میں قائم ہو جاۓ گی، انرجی سٹوریج کی واحد آپشن بیٹریز ہیں، اس آپشن کو اتنا سستا کر دیں کہ دس ہزار میگا واٹ سولر بجلی دن میں سٹور ہو کر رات کو استعمال ہو
۳- بینظیر انکم سپورٹ کو بند کرکے اس کے ساڑھے چار سو ارب روپے سے سالانہ آٹھ لاکھ گھروں کو سولر سسٹم دیکر صرف پانچ سالوں میں چالیس لاکھ گھروں کو 25 سال کیلئے مفت بجلی پر منتقل کر دیں،
۳- الیکٹرک گاڑیوں پر ڈیوٹیز ٹیکسز آدھے کر دیں، پاکستان سے پٹرول گاڑیاں اور موٹر سائیکل چند سال میں ختم ہو جائیں گی اور اسی فیصد پٹرول کی ضرورت ختم ہو جاۓ گی،اس سے پاکستان کے دس ارب ڈالر سالانہ بچ جائیں گے
جو حل میں نے چند منٹوں میں دیا ہے وہ پاکستان کی پوری وزارت خزانہ ایک وزیر خزانہ کی قیادت ہزاروں کی ٹیم کے ساتھ نہیں دے سکتی
کیا آپ کے خیال میں مجھے پاکستان کا وزیر خزانہ نہیں ہونا چاہیے؟
ہرگز نہیں،
میرا جیسا وزیر خزانہ آئ پی پیز بند کرا دے گا، سمگلنگ ختم ہو جائیگی، پٹرول اور گیس آج کی قیمت سے آدھی قیمت پر ملے گی، مافیاز ختم ہو جائیں گے، مہنگائی ختم ہو جاۓ گی، لوڈشیڈنگ ختم ہو جاۓ گی، سستی بجلی سے انڈسٹری ترقی کرے گی، ایکسپورٹ بڑھ جاۓ گی، آئ ایم ایف کی ضرورت ختم ہو جاۓ گی
احمد جواد
عمران خان کو سازش کے ذریعے رجیم چینج کر کے اقتدار سے ہٹایا گیا، اس کی جماعت کے احتجاج پر قدغنیں لگیں، اسے زندان میں ڈالا گیا۔ الیکشن چوری کرلیا۔ یہ سب کوئی نئی بات نہیں، سیاستدانوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے، اور وہ اپنی جماعت اور حامیوں کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں۔
لیکن گرفتاری کے وقت ان کے ساتھ بدسلوکی، اور قید میں لے جانے کے بعد ان کی آواز، اس کا چہرہ، اس کی آئینی شخصی آزادی چھین لینا، یہ پوری قوم کا معاملہ بن گیا اور ایک شخص تک محدود نہ رہا، اس سے قوم کو ایک گہرا اور منفی پیغام گیا۔
خدا کی قسم، اکثریت کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان تو ہے، مگر اس کی روح نہیں رہی۔ ملک ایک زندہ لاش کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ نہ کوئی امید، نہ کوئی دلچسپی، نہ وہ قومی جذبہ۔ عجیب احساس ہے جو شاید موضوع الفاظ میں بیان بھی نہی کیا جاسکتا۔
قید یا اغوا کہیں تو بہتر ہے، اغوا کیا جانے والا عمران خان صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھا، وہ اس قوم کا پاکستان اور دنیا بھر میں فخر تھا، دہائیوں سے ایک ہیرو تھا۔ وہ تین نسلوں کی پسند تھا۔
وہ ورلڈ کپ نہ بھی جیتتا تو بھی لوگ اسے عظیم مانتے، وہ شوکت خانم اسپتال نہ بھی بناتا تو بھی اس کے لیے دلوں میں محبت ہوتی۔ وہ نمل یونیورسٹی کا قیام نہ بھی کرتا تو لوگ اسے عشق کرتے۔ اس کا تعلق صرف کارناموں سے نہیں تھا، ایک احساس سے تھا۔ کیونکہ اس نے ہمیشہ ملک کا نام روشن کیا تھا اور دنیا میں پاکستان کی پہچان تھا۔
جن لوگوں نے یہ فیصلے کیے، انہوں نے شاید ایک حکومت بدلی اور ایک سیاسی رہنما کو نظروں اور سماعتوں سے دور کردیا، مگر ہمارے اندر سے پاکستانیت کا ایک حصہ بھی کاٹ دیا۔
ایسا نہیں کہ ہم غدار ہو گئے یا وطن سے نفرت کرنے لگے۔ نہیں! کبھی نہی! مگر اپنے ہی ملک میں ایسے رہنے لگے ہیں جیسے کوئی پردیس میں رہتا ہے۔
جہاں اس بات سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ کس کی حکومت ہے۔ بس کمانا ہے، وسائل استعمال کرنے ہیں، بچوں کی تعلیم دیکھنی ہے، کھانا پینا ہے، کہیں گھوم پھر لینا ہے۔
پردیس میں رہنے والے عموماً اس زمین سے محبت یا نفرت کے رشتے میں بندھے نہیں ہوتے، وہ صرف اپنی سہولت اور آرام دیکھتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی احساس پاکستان میں رہتے ہوئے ہونے لگا ہے۔
آگے کیا ہوگا، کیا قومی جذبہ دوبارہ جاگے گا، کیا پہلے جیسی پاکستانیت لوٹ آئے گی، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ جین زی تو ویسے ہی اس سب میں کوئی خاص دل چسپی نہیں رکھتی، ان کی ترجیحات مختلف ہیں۔
شاید ہم ہی آخری نسل تھے جو قومی نغمے سنتے تھے، جہاں بھی دنیا میں ہوں، دل میں پاکستانیت لیے پھرتے تھے۔ نئی نسل کو اس میں کشش نظر نہیں آتی۔
جو فیصلے کرنے والے تھے، انہوں نے ہمارے اندر سے پاکستانیت کو جیسے مٹا دیا، ہمیں بھی اسی بے حسی کا حصہ بنا دیا۔
آپ نے صرف عمران خان کو قید نہیں کیا، اس کے حقوق سلب نہیں کیے، آپ نے کروڑوں دلوں میں بسے ایک جذبے کو زخمی کیا ہے، اور ایک پوری قوم کو یہ احساس دیا ہے کہ اس کی آواز کی کوئی حرمت باقی نہیں رہی۔
شاید یہ موضوع حساس ہو، مگر اسے بیان کرنا ضروری ہے، تاکہ یہ احساس، یہ درد، اس دور کی ڈیجیٹل تاریخ میں محفوظ ہو جائے۔ کبھی نہ کبھی، کوئی اسے پڑھے اور سمجھے کہ اس زمانے میں ناانصافی اور لوگوں کے احساسات کا اندازہ کرسکیں۔ ۔
The only thing I miss these days is hiking in our northern mountains with my sons.
Allah has blessed Pakistan with the best mountain trekking in the world. Inshallah one day we will make Pakistan the skiing capital of the world.
“سب سے پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں ہے-
میں اس آمریت کو کبھی تسلیم نہیں کروں گا اور اس آمریت کے خلاف جدوجہد میں مجھے جتنی دیر بھی جیل کی کال کوٹھری میں رہنا پڑا میں رہوں گا لیکن اپنے اصولوں اور قوم کی حقیقی آزادی کی جدوجہد پر سمجھوتہ نہیں کروں گا-
ہمارا عزم حقیقی آزادی، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی ہے، جس کے حصول تک اور آخری گیند تک لڑتے رہیں گے- کوئی ڈیل نہیں کروں گا اور تمام جھوٹے کیسز کا سامنا کروں گا-
میں ایک بار پھر قوم کو کہتا ہوں کہ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پڑھیں- پاکستان میں 1971 کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے- یحیٰ خان نے بھی ملک کو تباہ کیا اور آج بھی ڈکٹیٹر اپنی آمریت بچانے کے لیے اور اپنی ذات کے فائدے کے لیے یہ سب کر رہا ہے اور ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کر کھڑا کر دیا ہے-
آج القادر ٹرسٹ کے کالے فیصلے کے بعد عدلیہ نے اپنی ساکھ مزید تباہ کر دی ہے- جو جج آمریت کو سپورٹ کرتا ہے اور اشاروں پر چلتا ہے اسے نوازا جاتا ہے- جن ججز کے نام اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے بھیجے گئے ان کا واحد میرٹ میرے خلاف فیصلے دینا ہے-
یہ کیس تو دراصل نواز شریف اور اس کے بیٹے کے خلاف ہونا چاہییے تھا جنہوں نے برطانیہ میں اپنی 9 ارب کی پراپرٹی ملک ریاض کو 18 ارب میں بیچی- سوال تو یہ ہونا چاہیے کہ ان کے پاس 9 ارب کہاں سے آئے؟ پانامہ میں ان سے جو رسیدیں مانگی گئیں وہ آج تک نہیں دی گئیں۔ قاضی فائز عیسی کے ساتھ مل کر حدیبیہ پیپر ملز میں اربوں روپے کی منی لانڈرنگ معاف کروائی گئی۔
القادر یونیورسٹی شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کی طرح ہی عوام کے لیے ایک مفت فلاحی ادارہ ہے جہاں طلبأ سیرت النبی ﷺ کے بارے میں تعلیم حاصل کر رہے تھے- القادر یونیورسٹی سے مجھے یا بشرٰی بی بی کو ایک ٹکے کا بھی فائدہ نہیں ہوا اور حکومت کو ایک ٹکے کا بھی نقصان نہیں ہوا-
القادر ٹرسٹ کی زمین بھی واپس لے لی گئی جس سے صرف غریب طلبأ کا نقصان ہو گا جو سیرت النبی ﷺ کے بارے میں تعلیم حاصل کر رہے تھے-
القادر ٹرسٹ کا ایسا فیصلہ ہے جس کا پہلے ہی سب کو پتہ تھا- چاہے فیصلے کی تاخیر ہو یا سزا کی بات سب پہلے ہی میڈیا پر آ جاتا ہے- عدالتی تاریخ میں ایسا مذاق کبھی نہیں دیکھا گیا- جس نے فیصلہ جج کو لکھ کر بھیجا ہے اسی نے میڈیا کو بھی لیک کیا-
میری اہلیہ ایک گھریلو خاتون ہیں جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے- بشرٰی بی بی کو صرف اس لیے سزا دی گئی تاکہ مجھے تکلیف پہنچا کر مجھ پر دباؤ ڈالا جائے- ان پر پہلے بھی گھٹیا کیسز بنائے گئے- لیکن بشرٰی بی بی نے ہمیشہ اسے اللہ کا امتحان سمجھ کر مقابلہ کیا ہے اور وہ میرے کاز کے ساتھ کھڑی رہی ہیں-
مذاکرات میں اگر 9 مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن بنانے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوتی تو وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں- بددیانت لوگ (cheaters) کبھی نیوٹرل ایمپائرز کو نہیں آنے دیتے- حکومت جوڈیشل کمیشن کے مطالبے سے اسی لیے راہ فرار اختیار کر رہی ہے کیونکہ وہ بد دیانت ہے۔” - سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
پنجاب حکومت پاکستان
مبینہ طور غيرقانونی روڈ پر ريڈی لگانے پر اسسٹنٹ کمشنر صاحبہ غصہ۔
کیا اسسٹنٹ کمشنر کسی شہری کو اس طرح تھپڑ مارنے کا مجاز ہے کیا کوئی قانون اس کو شہری کی اس قدر تذلیل کی اجازت دیتا ہے ؟
کون سا سیاسی عمل؟ عمران خان سے اس کی بہن کی ملاقات کی کوشش کرنا سیاسی عمل ہے؟
عمران خان کی رہائی کی کوشش کرنا سیاسی عمل ہے؟
عمران خان کی رہائی کیلئے احتجاج کی اپیل کرنا سیاسی عمل ہے؟
اس حرامزادے کی سوچ ہو بہو شریف اور زرداری خاندان جیسی ہے۔ تم خود سیاستدان ہو، تم نےپچھلے دو سال کے دوران کون سا سیاسی عمل کیا جس سے عمران خان کی رہائی کی کوششوں کو تقویت ملی ہو؟
آپ کے ساتھ پچھلی پوسٹ میں پیمانہ شئیر کرچکا ہو۔
علی محمد خان بھی حرامدہ ہے!!!
ریاست ہوگی ماں جیسی💔
وہی ریاست 9مئی کے نام پر ہمارے کیسےکیسےنوجوان کھا گئی
لاہور کے 6 ہیروز
مجاہد شاہ،
شیخ لطیف،
ندیم چوہدری،
عابد مسیح،
عبداللہ عالم
افتخار جٹ
یہ سب ہیرے کوٹ لکھپت جیل لاہور میں ایک سال سے زائد بےگناہ قید میں رہے
اور آزاد ہوتے ہی بیمار ہو کے وفات پا گئے!!