عمران خان کا یہ خطاب میں صبح سے درجنوں بار سن چکا ہے، اس خطاب کے درمیان عمران خان کی گفتگو میں جو تکلیف تھی وہ تکلیف سائفر پڑھنے کے بعد میں 100 گنا زیادہ محسوس کررہا ہوں
یہ سائفر پڑھ کر بطور پاکستانی سر شرم سے جھک گیا ہے کہ کیا ہم ایٹمی قوت ہیں لیکن یماری اوقات یہ ہے کہ ہم امریکہ کے ایک تھرڈ کلاس سیکرٹری کی دھمکی کا وزن بھی نہیں اٹھا سکے
سائفر کی اصل کاپی شائع ہونے کے بعد ثابت ہوا کہ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کا تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے کی رولنگ دینا بالکل درست آئینی فیصلہ تھا
ایران جنگ کے دوران اسرائیل نےعراقی صحرا میں خفیہ فوجی اڈہ بنایا ہواتھا۔وہاں سےایران پرحملوں کی نگرانی کی جاتی تھی۔ایک چرواہے نےعراقی فوج کواطلاع دی اورعراقی فوج تلاش کیلیے پہنچی تواسرائیلی فضائیہ نےبمباری کرکےقریب نہیں آنے دیا۔تفصیلات دیکھیے
شادی کے صرف 45 دن بعد وہ کراچی مزدوری کے لیے گیا۔۔ اور پھر 50 سال تک واپس نہ آیا۔
نہ کوئی خط، نہ خبر۔۔۔ بس ایک نام جو گھر والوں کی یادوں میں زندہ رہا، اور ایک دلہن جو دہائیوں تک دروازے کی طرف دیکھتی رہی۔
امیر احمد نے کراچی میں ایک حادثے کے بعد ایسا فیصلہ کیا جس نے ان کی پوری زندگی بدل دی۔۔۔ قرض، ’پیغور‘ کا خوف، اور وہ خاموشی جس نے انہیں اپنے ہی گھر سے کاٹ دیا۔ وقت گزرتا رہا، والدین دنیا سے چلے گئے، بھائی تلاش کرتے رہے۔۔۔ مگر وہ کہیں نہ ملے۔
پھر اچانک ایک بیماری، ایک ویڈیو، اور ایک لمحہ۔۔۔ جس نے آدھی صدی کی دوری کو ختم کر دیا۔
لیکن جب وہ واپس لوٹے تو سب کچھ ویسا نہیں تھا جیسا وہ چھوڑ کر گئے تھے۔
آخر ان 50 سالوں میں کیا گزری؟ اور واپسی پر ان کا سامنا کس حقیقت سے ہوا؟ تفصیل اس لنک پر
https://t.co/mLJqzInPQk
ترکی نے لبنان یا ایران پر حملے کی صورت میں اسرائیل پر حملے کی دھمکی دی ہے
دو سوال ہیں۔ ترکی جو ایران جنگ میں ثالث کے طور پر آ رہا تھا اس نے یہ دھمکی کیوں دی؟ اور ترکی اگر کچھ کرنا چاہے تو کیا کر سکتا ہے؟
اسرائیل کیلئے تیل کا 65 فیصد سے زائد آذربائیجان اور قازقستان سے BTC پائپ لائن کے ذریعے ترکی کی بندرگاہ جیحان آتا ہے جہاں سے بحری جہازوں کے ذریعے اسرائیل جاتا ہے۔
ترکی اپنی بندرگاہ سے سپلائی روکنے کی طاقت رکھتا تو ہے مگر BTC پائپ لائن ایک بین الاقوامی کنسورشیم کے تحت چلتی ہے۔ اسے بند کرنا بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہو گی جس سے ترکی پر بھاری جرمانے یا قانونی چارہ جوئی ہو سکتی ہے۔ مگر جنگی صورتحال میں یہ سب کون دیکھتا ہے اس میں ایک چیز اور رکاوٹ ہے وہ یہ کہ آذربائیجان ترکی کا قریبی اتحادی ہے اس سے اس کے تعلقات آذربائیجان سے خراب ہوں گے،
2. کیا ترکی روس سے آنے والا تیل بند کر سکتا ہے؟
اب وہ سوال کہ ترکی نے اسرائیل پر حملے کی دھمکی کیوں دی ؟
دراصل ترکی کے حصے بخرے کرنے کے متعلق کئی منصوبے کب سے پائپ لائن میں ہیں اور ترکی بھی ان سے آگاہ ہے۔ مشرقی بحیرہ روم میں گیس کے ذخائر اور کردستان کے معاملات بھی ہیں ۔ اس وجہ سے ترکی دفاع کی بجائے جارحانہ کارروائی میں پہل کرنے کا سوچ سکتا ہے
اگر ترکی "تیل کی ناکہ بندی" جیسا بڑا قدم اٹھاتا ہے تو یہ محض اسرائیل کے خلاف نہیں ہو گا بلکہ اپنی پوزیشن ایک بالادست علاقائی طاقت کے طور پر منوانے کی کوشش ہوگی۔
مگر
ترکی کے پاس "تیل کا کارڈ" موجود تو ہے لیکن اسے استعمال کرنا ایک دو دھاری تلوار ہے کیونکہ اس کا اثر اسرائیل سے زیادہ ترکی کے اپنے عالمی معاہدوں اور آذربائیجان سے تعلقات پر پڑے گا۔
🚨🚨ایک عجیب سی مخلوق ٹوئیٹر پر عمران خان کے نام کا لبادہ اوڑھ کر گھوم رہی ہے
جس دن پاکستان کی کوئی خوشخبری آتی ہے اس کی پہلی کوشش ہوتی ہے کہ اسے متنازعہ بنا دے
عمران خان کے حقیقی حامی وہ نہیں جو ہر اچھی خبر پر تنقید کا زہر اگلتے ہیں۔
حقیقی حامی وہ ہے جو پاکستان کی ترقی، معیشت کی بہتری اور عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن ہونے پر خوش ہوتا ہے چاہے اس وقت اقتدار میں کوئی اور ہی کیوں نہ ہو یہ جعلی فارم 47 حکومت تو نا 3 میں ہے نا 13 میں انکی اوقات تو گھر میں پالی ہوئی بکری کی نہیں ہے نا انکا کوئی کردار ہے ہم عمران خان کی وجہ سے پاکستان کے حامی ہیں نہ کہ عمران خان کی وجہ سے پاکستان کے مخالف
اسلام آباد اکورڈ ہو یا کوئی اور معاہدہ، جب پاکستان کا نام آگے بڑھے جب دنیا پاکستان کی تعریف کرے تو خوش ہونا غداری نہیں بلکہ سچا وطن پرستی ہےجھوٹ پھیلانا ہر اچھی چیز کو تنقید کا نشانہ بنانا اور عمران خان کے نام کا غلط استعمال کرنا یہ عمران خان کی حمایت نہیں ان کا نقصان ہے ہم عمران خان کے لیے لڑیں گےانصاف کے لیے لڑیں گےمگر پاکستان کو کمزور کرنے والوں کے ساتھ نہیں کھڑے ہوں گے۔
پاکستان زندہ باد۔
عمران خان زندہ باد
عمران خان کی وجہ سے دنیا اگر عزت دے رہی ہیں واحد لیڈر ہے پاکستانی قوم کا اثاثہ ہے جسکی کوئی قیمت نہیں ہے 👍🔥🇵🇰❤️
ایران جنگ میں سیزفائر پر عالمی ذرائع ابلاغ نے پاکستان کے کردار پر خصوصی مضامین شائع کیے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل، فائننشل ٹائمز، فارن پالیسی میگزین اور نیویارکر نے ، چاروں پے وال کے پیچھے رہتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ ان کے مضامین کے اہم نکات کو دوستوں کو پیش کیا جائے۔
فائننشل ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا نے خود پاکستان کو ایران کے ساتھ عارضی سیزفائر کروانے کے لیے استعمال کیا۔ امریکی حکام نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کرے کیونکہ مسلم اکثریتی پڑوسی ملک کے طور پر اس کا پیغام زیادہ قابل قبول ہوسکتا ہے۔ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کیا، مختلف تجاویز پیش کیں، اور اسلام آباد کو مذاکرات کی جگہ کے طور پر پیش کیا۔ ان کوششوں کے نتیجے میں سیزفائر ممکن ہوا حالانکہ دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات برقرار تھے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے کہا ہے کہ اسلام آباد نے واشنگٹن، بیجنگ، تہران اور ریاض کے ساتھ تعلقات استعمال کرتے ہوئے ایک بڑے تنازع کو وقتی طور پر روکنے میں مدد دی۔ اس میں آرمی چیف عاصم منیر کا کردار اہم رہا جو ملک کے "حقیقی طاقتور رہنما" ہیں۔ ان کے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات اس سفارتی کامیابی کی بنیاد ہیں۔ اگرچہ پاکستان نے سفارتی سطح پر کامیابی حاصل کی ہے لیکن اس کی معیشت کمزور ہے اور خطے میں کشیدگی اسے مزید مشکلات میں ڈال سکتی ہے۔ اس مضمون میں یہ دلچسپ نکتہ بھی شامل ہے کہ اس عمل نے پاکستان کی فوجی قیادت کو مضبوط کیا ہے اور عمران خان کی سیاسی حیثیت مزید کمزور ہوگئی ہے۔
فارن پالیسی میگزین نے کہا ہے کہ پاکستان نے ابتدا سے آخر تک فعال سفارتی کوششیں کیں اور مذاکرات کو ممکن بنانے میں قیادت کی۔ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات اور عالمی سطح پر محدود اثرورسوخ کو دیکھتے ہوئے اسے غیر جانبدار ثالث نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن امریکا، ایران، چین اور خلیجی ریاستوں سے بیک وقت تعلقات اسے منفرد پوزیشن دیتے ہیں۔ پاکستان کے اس کردار کے پیچھے مضبوط وجوہات موجود ہیں، جن میں ایران کے ساتھ سرحد، توانائی پر انحصار اور خطے میں کشیدگی کے براہ راست اثرات سے متاثر ہونا شامل ہیں۔ مزید یہ کہ ایران کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے اسے چین کی مدد بھی حاصل رہی۔
نیویارکر کے مضمون میں پاکستان کو امریکا اور ایران کے درمیان سیزفائر مذاکرات میں غیر متوقع ثالث قرار دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں آرمی چیف عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان قریبی تعلق کام آیا۔ پاکستان نے صدر ٹرمپ کو عالمی امن ساز کہا تھا جس سے دونوں کے تعلقات مضبوط ہوئے۔ ایران کے ساتھ سرحد اور ملک میں شیعہ آبادی کی موجودگی اسے اس تنازع میں متوازن کردار ادا کرنے کی طرف لے گئی۔ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات، معاشی دباو اور توانائی پر انحصار بھی اس حکمت عملی کا سبب بنے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ فوجی قیادت اندرون ملک طاقت مضبوط کرتے ہوئے خارجہ پالیسی کو کنٹرول کر رہی ہے اور افغانستان و طالبان کے ساتھ تعلقات میں تبدیلیاں بھی اسی پس منظر کا حصہ ہیں۔
میں پاکستان کے لیئے خوش ہوں اور کیوں نہ ہوں پاکستان میری آخری آرامگاہ ہوگی انشااللہ۔
مخالفت نظام کی ہے مُملکتِ پاکستان کی نہیں۔ پاکستان پر جان قربان۔ پوری دُنیا پاکستان کی تعریف کررہی ہے۔ بھارت میڈیا پر آگ لگی ہوئی ہے۔ بذاتِ خود ایران کھلے عام پاکستان کی تعریف کررہا ہے۔
پہلے دن سے کہہ رہا تھا کہ ایرانی حکومت پاکستان سے بہت خوش ہے۔ ایرانی سفیر سے ملاقات کے بعد میں نے خود اُن کی بات آپ سب کے سامنے رکھی کہ وہ پاکستان کی کاوشوں سے پسِ پردہ اور سرِ عام بھی بہت خوش ہیں۔
اس تمام ہیجانی کیفیت کے دوران دن میں کئی مرتبہ میری ایرانی سفارتکاروں سے بات ہوتی تھی اور ہر بار پاکستان کی بات نکلتی اور ہر بار وہ اطمینان کا اظہار کرتے۔
اپنی سیاسی مخالفت کو برقرار رکھیں۔ یہ آپ کا جمہوری حق ہے مگر جب پاکستان کے لئیے خوش ہونے کا اور بطور پاکستانی فخر کرنے کا وقت ہو تو اُس پر فخر کریں۔
ہمارا پاکستان کے علاوہ کچھ نہیں۔ ایرانیوں کی مشکلات سے سیکھیں۔ دُنیا کی مشکلات سے سیکھیں۔ برادر عرب ممالک کی مشکلات سے سیکھیں۔
بہتر نظام کے خواہشمند رہیں اور پاکستان کی خوشی میں خوش ہوں۔
آباد رہیں۔ اللہ آپ سب کو کامیاب کرے۔ آمین۔
کوئ بات بُری لگی ہو تو پیشگی معذرت۔
پاکستان زندہ باد۔ آمین۔
ایران امریکہ جنگ کا فاتح تو یقینا ایران ہے لیکن حقیقت میں دِلوں کا فاتح پاکستان ہے ، پاکستان کا جنگ رکوانے کے لئے قابل فخر فاتحانہ کردار صدیوں تک یاد رکھا جائے گا - پاکستان زندہ باد 🇵🇰
ایران اب لیبیا یا عراق کی طرح بقا کی جنگ لڑنے والا ملک نہیں رہا، بلکہ صہیونی اور سامراجی قوتوں کی بلااشتعال جارحیت کے مقابلے میں مسلمانوں کا آخری قلعہ بن چکا ہے۔
عدنان عادل
شیعہ سنی اختلافات کو اس وقت نہیں اچھالنا چاہیے،
خدا کے بندو، ایران پر امریکہ نے اسلئے حملہ کیا کیونکہ وہ مسلمانوں کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے اور ایران امریکہ کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا ہے۔ مفتی تقی عثمانی