سچ میں، ساری کہانی بس یقین کی ہے۔
موسیٰؑ نے جب سمندر کے سامنے عصا اٹھایا تو انہیں یقین تھا کہ راستہ ضرور بنے گا۔
اور
ہمارا ربّ بھی وہی ہے جو موسیٰؑ اور ابراہیمؑ کا ہے ۔۔۔
تو ہر حال میں کامل یقین رکھیے کہ جو ربّ دعا کی توفیق دیتا ہے، وہی اس کے قبول کرنے کا ضامن بھی ہے۔!!🤍
@SaleemKhanSafi صحافت تو تم نے چھوڑ نی نہیں ۔
بغض عمران میں آپ کو کبھی بھی حقیقت نظر نہیں آ ئے گی۔اور نہ آپ میں ایسی کوالٹی اور معیار ہے کہ آپ سے شئیر کی جائے ۔
@ImranKhanPTI جناب آپ کے احکامات پر عمل ہوتا ہوا بھی نظر آے۔ آے روز کوئی نہ کوئی ایسا سانحہ رونما ہوتا ہے ۔کمیٹیاں تو بن جاتی ہیں پر کوئی خاطر خواہ حل نظر نہیں آتا ۔
السلام علیکم
کسی انسان کو بہت قیمتی تحفہ دینا چاہو تو اس کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا تحفہ ہو گا
کہ اسے اپنی ہر_دعا میں شامل کیا جائے ہر پل جب بھی دعا کے لیے ہاتھ اٹھیں تو اس کا نام بھی شامل ہو دعا میں اس سے بڑھ کر تو کوئی قیمتی تحفہ ہو ہی نہیں سکتا