کل تک کوٹوں کے سامنے چیخیں مارنے والے، انگوٹھے لگوانے والے اور کھوتے پر بیٹھ کر بھاگنے والے آج بھی عمران خان کو پھنسانے میں لگے ہیں۔
ادھر عمران خان کا بیانیہ بھی ہر بار بدلتا رہا؛ کبھی حکومت کو “امپورٹڈ” کہا، پھر کہا امریکہ شامل ہی نہیں تھا، کبھی الزام زرداری پر ڈالا، کبھی آرمی چیف پر اور کبھی محسن نقوی پر۔
مسئلہ مخالفین سے زیادہ بدلتے ہوئے مؤقف کا ہے۔
یہ سیاست نہیں ہے صاحب
یہ یادداشت کھو دے گا اجتماعی المیہ ہے
کیا خوبصورت دور تھا قوم خوددار تھی فوج پروفیشنل تھی عدلیہ آزاد تھی الیکشن کمیشن غیر جانبدار تھا تمام ادارے ایک پیج پہ تھے ایک سالی کرسی کیا گئی پاکستان انگریزوں کے ہاتھوں میں چلا گیا تاریخ ریورس ہو گئی دوبارا 1947 آگیا قائد اعظم بھی خود بن گیا اور قوم غلام ہو گئی😭
میں 💯 فیصد یقین سے کہتا ہوں جب عمران خان عدم اعتماد پر ووٹنگ نہیں کروا رہے تھے اور ملک کا آئین توڑنے کی کوششوں میں مصروف تھے شہباز گِل کی موجودگی میں عمران خان کو تھپڑ مارے گئے اور شہباز گِل نے اپنے لیڈر کو تھپڑ کھاتے اپنی آنکھوں سے دیکھا، مزمل سہروری
@ctplahore@MohUmair87 Nobody has the right to hit anyone, either public or govt employees. In the nation, interest, you guys have to do lot's of things.
Like people hit and run away, bikes or car no one doesn't know how to drive according to law infact laws they don't know, no license etc....
یہودی دیوار گریہ پر مدد کے واسطے دجال کے خروج کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔ لیکن فی الحال یہ ممکن نہیں کیونکہ دجال نے جس گدھے پر بیٹھ کر آنا ہے اسے تو حافظ صاحب نے اڈیالہ میں بند کیا ہوا ہے۔ 😷
عمران ریاض برطانیہ کیسے پہنچا اصل کہانی
بلوچستان کے علاقے تربت کے مضافات میں ایک غیر نمایاں فارم ہاؤس ہے ۔ یہاں 2022ء کے آخر میں بھارتی RAW کا فیلڈ افسر، کوڈ نیم راجیف–K17 ، موساد کے رابطہ کار یِعیل بن شاؤل کے ساتھ خفیہ ملاقات کرتا ہے۔ اس ملاقات میں پاکستانی اینکر عمران ریاض بھی شامل تھا ۔ بظاہر ایک اسٹوری پر کام کرنے والا صحافی، مگر پسِ پردہ پراجیکٹ ان ڈو کے لیئے بھرتی ہونے والا نیا مہرہ۔ یہ مہم اس خیال پر اُٹھی کہ طاقتور پاکستانی فوج کو میدان میں نہیں، ذہنوں میں شکست دو۔
پہلا مرحلہ فروری 2023ء میں اسلام آباد سے شروع ہوا، جہاں بظاہر ایک میڈیا اسٹریٹجی ورکشاپ کے نام پر ایک اجلاس منعقد کیا گیا، جو درحقیقت بھارتی خفیہ ایجنسی RAW کے زیرِ انتظام ایک فیک تھنک ٹینک کا کور تھا۔ اس ورکشاپ میں عمران ریاض کو یوٹیوب چینل کی عالمی سطح پر برانڈنگ، لندن کے فینٹم پروڈکشن ہاؤس سے اسپانسرشپ، اور آزادیٔ اظہار کے نام پر لامحدود فنڈنگ کی پیشکش کی گئی۔
یہیں سے عمران ریاض کے کیمرے کے پیچھے اصل ہدایت کاروں کا کنٹرول شروع ہوا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ایک مخصوص بیانیہ تیار کرنا تھا جس میں فوجی قیادت پر براہِ راست تنقید، قومی اداروں کے خلاف مایوسی پھیلانا، اور عالمی اداروں کی زبان دہرا کر نوجوان ذہنوں کو متاثر کرنا شامل تھا۔ اس شہرت کو ہوا دینے کے لیے SEO بوٹس، جعلی فالورز، ٹرول فیکٹریز اور ٹرینڈ واریئرز کا ایک پورا نیٹ ورک استعمال کیا گیا، جن کا ڈیجیٹل سراغ بعد میں بھارتی شہر پونے سے ملنے والے سٹیلائٹ ٹریفک اور IP لاگز سے ملا۔
پھر ایک روز عمران ریاض لاپتہ ہوگیا اور 👇