When decisions are made behind closed doors, without judges, the accused, or their lawyers present, what remains of law, justice, and the Constitution?
For the missing and the victims of extrajudicial killings, it seems these protections are reserved for a select few. Stop mocking democracy and the judiciary. If Balochistan mattered, this is not how its people would be treated. Every day, it is being pushed closer to a point of no return.
جس ایک قتل کی پاداش میں ڈاکٹر مارنگ ، شاہ جی اور دیگر لوگوں کو سزائیں دی گئی ہیں کیا بلوچستان میں ہونے والا یہ واحد واقعہ ہے جو قابل جرم اور قابلِ سزا ہے ۱۹۴۷ سے آج دن تک ماروائے آئین قتل جبری گمشدگیاں، مسخ شدہ لاشیں، گھروں کو نذرِآتش کرنا کیا یہ سب جرائم کے ذمرے میں نہیں آتے کیا یہ لوگ اس ملک کے شہری تصور نہیں ہوتے اِن جرائم میں ملوث کتنے لوگوں کو عدالتی کٹہرے میں لایا گیا ہے۔
Dissents are being silenced through extrajudicial killings, enforced disappearances, and unfair trials.
We are bringing together a panel of distinguished speakers to discuss this catastrophic human rights crisis in Balochistan.
افسوسناک پہلو —-
#بلوچستان کے موجودہ بجٹ میں تقریباً تمام سماجی شعبے نظرانداز کر دیے گئے ہیں، مگر سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ صوبے کے ہزاروں معذور افراد کے لیے کوئی نئی سہولت، مالی ریلیف یا ایسا اقدام شامل نہیں کیا گیا جو ان کی انسانی عظمت (Human Dignity) اور باعزت زندگی کے حق کو یقینی بنا سکے۔
یہ معاملہ صرف فلاح و بہبود کا نہیں بلکہ انسانی حقوق، سماجی انصاف اور ریاستی ذمہ داری کا ہے۔
بطور رکن بلوچستان اسمبلی، میں نے معذور افراد کے لیے ماہانہ سماجی معاونت (Social Support Allowance) اور برقی ویل چیئرز سمیت ضروری سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ایک قرارداد پیش کی تھی، جسے بلوچستان اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ یہ قرارداد "Social Support for Persons with Disabilities" کے عنوان سے منظور ہوئی تھی۔ قرارداد کا بنیادی مقصد معذور افراد کو مستقل مالی معاونت فراہم کرنا اور انہیں معاشرے کا باعزت اور فعال حصہ بنانا تھا۔
اسمبلی کی مدت کے آخری دنوں میں اس قرارداد پر عملدرآمد کی ابتدائی کوششیں بھی ہوئیں، لیکن بدقسمتی سے حکومتی ترجیحات میں معذور افراد کبھی سنجیدگی سے شامل نہیں رہے۔
آج بھی میری یہ پُرزور مطالبہ ہے کہ:
• بلوچستان کے تمام رجسٹرڈ معذور افراد کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا جائے؛
• تمام مستحق معذور افراد کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے؛
• صحت، تعلیم، روزگار اور نقل و حرکت کی سہولیات تک ان کی رسائی یقینی بنائی جائے؛
• بلوچستان پرسنز وِد ڈس ایبلٹیز ایکٹ 2017 پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔
کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان اس کے کمزور ترین شہریوں کے ساتھ اس کے رویے سے ہوتی ہے۔ معذور افراد خیرات نہیں، حقوق مانگ رہے ہیں؛ ہمدردی نہیں، مساوی مواقع مانگ رہے ہیں۔
اگر بجٹ میں ان کے لیے جگہ نہیں، تو پھر ہماری ترقی اور ترجیحات دونوں پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔
#PesonWithDisabilities #Balochistan #Pakistan #Budget
.@sakhtarmengal announced a shutter-down strike across Balochistan on June 10, condemning the June 2 incident in Zehri in which the party’s district vice-president was shot dead. https://t.co/eY9OqcDg76
You moved on where only on social media? What is your contribution, wasn’t it be better if you would have stayed back with your friends and colleagues and faced the music which all the party leadership and workers faced but you chosen better and comfortable life abroad
Since 8 this morning, I and members of the party’s central leadership have been held back and prevented from travelling to Zehri to offer condolences to Sardar Naseer Ahmed Moosani on the loss of his son. Even more tragic, Sardar Moosani’s sons in custody were denied the right to attend their brother’s funeral. Preventing families, friends, and political colleagues from mourning their dead is a dark stain on any democracy.
Was it democracy when you became speaker didn’t you believe in it, during speakership you were arrested wasn’t you, you protested in front of CM why there no Pakistani flag on the car which was sent for you at the airport and still you are proud to call yourself speaker of Balochistan assembly Shame!
کوئٹہ میں گزشتہ روز ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ ہماری روایات، ہماری اقدار اور بلوچستان کی اجتماعی غیرت پر حملہ ہے۔ یہ اس سرزمین کی روح کے خلاف ہے جہاں عورت کو عزت، وقار اور احترام کا سب سے بلند مقام حاصل رہا ہے۔
آج ہم ایک ایسے دور کے گواہ ہیں جو ہمارے لیے باعثِ شرم ہے۔ ہم خاموش بیٹھے ہیں جبکہ ہماری بیٹیاں ہسپتالوں میں نشانہ بنائی جا رہی ہیں، انہیں اٹھایا جا رہا ہے، قید کیا جا رہا ہے اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔ یہ سب اُس دھرتی پر ہو رہا ہے جہاں کبھی عورت کی حرمت ہر شے سے بڑھ کر سمجھی جاتی تھی۔ یہ دیکھنا روح کو زخمی کر دیتا ہے کہ ہم بحیثیتِ معاشرہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں۔
بلوچستان وہ سرزمین ہے جہاں عورت صرف عزت کی علامت نہیں بلکہ قیادت، ہمت اور شعور کی نمائندہ بھی رہی ہے۔ جو لوگ پسماندہ، تنگ نظر اور فرسودہ سوچ کے ذریعے باعزت اور کامیاب خواتین کو بدنام کرنے، دبانے یا ان کی آواز خاموش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں جان لینا چاہیے کہ وہ صرف ایک عورت نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بنیادوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
کسی بھی عورت کی عزت، ساکھ اور کامیابی پر حملہ دراصل ہماری اجتماعی اقدار پر حملہ ہے۔ ایسے رویوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ خواتین کا احترام کوئی انتخاب نہیں، بلکہ ایک اصول ہے جسے ہر حال میں برقرار رکھنا ہوگا۔
ہم متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ذمہ دار عناصر کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ خاموشی اب جرم بن چکی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی روایات، اپنی غیرت اور اپنی بیٹیوں کے وقار کے دفاع کے لیے یک آواز ہو جائی!!
آج صبح 8 بجے سے مجھے اور پارٹی کی مرکزی قیادت کے اراکین کو زہری جانے سے روکا جا رہا ہے، جہاں ہم سردار نصیر احمد موسانی کے صاحبزادے کے انتقال پر تعزیت کے لیے جانا چاہتے تھے۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ سردار موسانی کے وہ بیٹے جو حراست میں ہیں، انہیں اپنے ہی بھائی کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ پارٹی کارکنوں، ہمدردوں اور دوستوں کو بھی سوگوار خاندان کے ساتھ اظہارِ تعزیت اور یکجہتی سے روکا گیا۔
غم میں شریک ہونا، جنازے میں شرکت کرنا اور تعزیت کرنا نہ صرف ایک بنیادی انسانی حق ہے بلکہ ہماری معاشرتی اور روایتی اقدار کا بھی حصہ ہے۔ ایسے حالات کا سامنا ہمیں جنرل مشرف کے دور میں بھی نہیں کرنا پڑا تھا۔ یہ انتہائی تشویشناک امر ہے کہ جمہوریت کے دعوے کرنے والے نظام میں لوگوں کو اپنے پیاروں کے غم میں شریک ہونے کے بنیادی حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔
What happened to the female doctor in Quetta yesterday goes against our traditions, our values, and everything Balochistan stands for. Women hold the highest place of respect in our society, and there can be no tolerance for those who try to bring down respected and successful women with backward and patriarchal thinking.Balochistan is a land where women are honoured, valued, and often lead from the front. Any attack on a woman’s dignity, reputation, or achievements is an attack on our collective values. We stand with every woman facing injustice and strongly condemn those who believe they can silence, shame, or target women. There must be zero tolerance for such behaviour. Respect for women is not a choice it is a principle that must be upheld at all times. We stand united with the victims family and demand justice.
محترم محمود خان صاحب کے لیے میرے دل میں بے حد احترام ہے، وہ ھمارے بزرگ ہیں - لیکن اگر ہم برطانوی نوآبادیاتی حوالوں کو حرفِ آخر اور مستند تاریخ ماننا شروع کر دیں تو پھر #پشتونوں، #بلوچوں اور خطے کی دیگر اقوام کے بارے میں بھی بے شمار گمراہ کن دعوؤں کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ پشتون اور بلوچ دونوں صدیوں تک #نوآبادیاتی طاقتوں کے زیرِ اثر رہے، اس لیے ان کے وضع کردہ اصطلاحات، درجہ بندیاں اور سیاسی تعبیرات کو تاریخ کا حتمی حوالہ نہیں بنایا جا سکتا۔
"براہوی کنفیڈریسی" کی اصطلاح بھی دراصل قلات کے حکمرانوں کی نہیں بلکہ نوآبادیاتی دور کے برطانوی مصنفین اور مورخین کی وضع کردہ اصطلاح ہے۔ تاریخی ریکارڈ سے واضح ہے کہ قلات کے حکمران خود کو "خانِ بلوچ" کہتے تھے، نہ کہ "براہوی کنفیڈریسی" کے سربراہ۔ خانۂ قلات ایک مشترکہ سیاسی وحدت تھی جس میں براہوی، بلوچ اور دیگر قبائل شامل تھے۔ حتیٰ کہ Encyclopaedia Iranica بھی تسلیم کرتی ہے کہ خانِ قلات کا لقب خانِ بلوچ تھا اور ریاست کی سیاسی شناخت بلوچ تھی۔
بلوچستان کی تاریخ اتحاد، مشترکہ جدوجہد اور اجتماعی سیاسی شناخت کی تاریخ ہے، نہ کہ ان نوآبادیاتی اصطلاحات کی جو بعد میں تفریق اور تقسیم کے لیے متعارف کرائی گئیں۔ میر نوری نصیر خان نے بھی اپنی شاعری اور سیاسی فکر میں اس سرزمین کو بلوچ وطن کے طور پر بیان کیا۔ تاریخ کو انہی لوگوں کی نظر سے پڑھنا چاہیے جنہوں نے اسے جیا، نہ کہ صرف ان قوتوں کی نظر سے جنہوں نے اس پر حکومت کی۔
During a raid on the home of Sardar Naseer Ahmed Moosani in Bulbul Zehri, the sanctity of the home was violated and his sons and close relatives were detained and taken to an undisclosed location. Among them was Sardarzada Khalil Ahmed Moosani, Senior Vice President of BNP Khuzdar and son of former District Chairman and Central Committee member Sardar Naseer Ahmed Moosani. Despite being injured, Khalil Ahmed Moosani was taken away by security forces, and his family was later informed to collect his body.
#بلوچستان کے دیہات ، گاؤں، قصبہ اور شہروں میں پینے کا #پانی، #روزگار کیلے کارخانے، #صنعت کاری و بنیادی ضرورتوں کیلے #بجلی ، #گیس اور #انفراسٹرکچر نہیں لیکن #شعور کی بھر مار ہے - ایک لیکچرار کی موت پر نوح کنا ں پرامن بلوچ جنہیں #پاکستان کا زرائع ابلاغ کبھی نہیں دکھائے گا - 💔
The disappearance of senior academics from the University of Gwadar has left us deeply troubled. Vice Chancellor Dr. Abdul Razzaq Sabir, Pro-Vice Chancellor Syed Manzoor Ahmed, Dr. Irshad and their driver Hatum went missing while traveling on an official visit — and their whereabouts remain unknown.
These are educators and institution builders. Their disappearance is not just a tragedy for their families — it is an assault on education and civil society in Balochistan.
We demand an immediate investigation and call on the authorities to ensure their safe recovery without any further delay.
🚨 بلوچستان strait of Hormuz سے شروع ہو کر کراچی کے دہانے تک ہے بلوچستان ایک صوبہ نہیں بلوچستان ایک خطہ ہے آبنائے ہرمز کے دہانے پر میناب کے سکول میں جہاں پہلی بمباری ہوئی وہاں سے لیکر یہاں تک اس خطے کو آپ نے اس قدر غیر سنجیدہ لے رکھا ہے کہ بکاؤ لوگ بلوچستان پر مسلط کر رکھے ہیں ۔
ثناء اللہ بلوچ (BNP)