امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بندے کی اصل خوبی تین عادات میں ہے اپنی تنگدستی کو اس حد تک چھپانا لوگ آپ کی خود داری کی وجہ سے آپ کو امیر سمجھیں غصے کو اتنا دبانا کہ لوگ سمجھیں آپ راضی ہیں اور اپنی تکلیف و پریشانی کو اس حد تک پوشیدہ رکھنا کہ لوگ سمجھیں آپ بڑے عیش و آرام میں ہیں
اس پر زیادہ سے زیادہ شور ڈالیں ورنہ یہ بہت بڑی واردات ہے چھ مہینے والی سزا تو پہلے نون لیگ نے مقرر کی تھی اب تو یوں سمجھ آ رہا کہ ایک دفعہ 201یونٹ استعمال کرنے پر ہمیشہ آپ کا بل زیادہ آئے گا
اس کی وضاحت آنا بہت لازم ورنہ غریب مکمل تباہ ہے
اے اللہ! میں نے تیری سب سے محبوب چیز، یعنی تیری توحید میں تیری اطاعت کی،
اور میں نے تیری سب سے ناپسندیدہ چیز، یعنی شرک میں تیری نافرمانی نہیں کی،
پس میرے ان دونوں کے درمیان جو بھی گناہ ہیں، انہیں معاف فرما۔
سیدنا عمر بن عبدالعزیز
سانحہ لاہور ایک حادثہ ہے اور بس۔
اس میں ریاست کی زمہ داری طبی امداد سے لیکر مالی معاونت ہی ہو سکتی ہے۔
ملک میں کروڑوں گھر اسی غریب عورت کے گھر جیسے ہیں فلسفہ جھاڑنا بہت آسان ہے لیکن ریاست سارے گھر مسمار کر کے کروڑوں نئے گھر تعمیر کر دے ممکن نہیں۔ پہلے ہی کتنے ہی لوگ معمولی چھت کو ترس رہے ہیں۔
ٹیوشن پڑھانے والی بچیاں اور عورتیں ایک باعزت انتہائی محدود حلال کمائی کر رہی ہیں ہیں یہ پابندیاں اور قوانین نہ بنائیں پہلے ہی بہت غربت ہے ائیر کنڈیشنڈ گھروں میں یا باہر ممالک کی فضاء میں بیٹھے پوسٹیں کرنے والے نہیں جانتے کہ محلوں اور گلیوں کی زمینی حقیقت کتنی تلخ ہے۔
تماشا بنا کر رکھ دیا ہے اس ملک کو پورے ملک کو برباد کر دیا ہے ۔ ہر جگہ لوٹ مار ہے ۔
اس خاتون کی دن بارہ بجے ٹکٹ تھی ائیر بلیو کی جب یہ ائیرپورٹ پر پہنچی تو کہا گیا ٹکٹ کینسل ہو گی ہے ۔
اس نے بحث کی تو اگے سے ائیر بلیو والی لڑکی کہتی ہے اب تم نے ویڈیو بنای ہے میری ۔ مجھے تم ائیر بلیو سے اسلام اباد جا کر دیکھاو ۔
لڑکی کی ہمت کو سلام ہے جو دن بارہ بجے سے رات کے اٹھ بجے تک اپنے حق کیلے اواز اٹھاتی رہی ۔۔
یہ رعونت تکبر سرکاری اداروں میں تو پہلے سے ہی تھا اب یہ ادھر بھی اگئی ہے ۔ کیونکہ انکو پتہ ہے یہ عوام کیڑے مکوڑے ہیں ہمارا کچھ نہی بگاڑ سکتے ۔۔
زیادہ سے زیادہ عدالت میں چلیں جائیں گے اور عدالتیں ایسے کیسز کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتی ہیں ۔۔
اس وقت ملک میں ان لوگوں کا راج ہے ۔
@MaryamNSharif
riasat ho gi Maa k jesi please C.M sahiba defend her family they are not a criminal please do something openly not only for her but all family's.....
ہائے ری غربت۔۔تیرا ککھ نا رووے
جس ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے 14 معصوم اللہ کو پیارے ہو گئے۔
اب اس استانی(عورت) کو بندہ کیا کہے۔۔🤦♂️
شوہر ریڑھی لگاتا تھا،غربت کے باعث خود گھر میں بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھی،بارش میں چھت ٹپکتی تھی،
پیسے اکٹھے کر کے اس پر اینٹیں/مٹی ڈال رہے تھے
مگر چھت گر گئی۔
اب یہ عورت خود زخمی ہے،بندہ اور مستری گرفتار ہے۔
یہ بھی گرفتار ہو گی۔
کل کو اس گھر میں اس کے بچے بھی نہیں رہ سکیں گے
کیونکہ
جن محلے داروں کے بچے فوت ہوئے وہ ان کو اس گھر میں نہیں رہنے دیں گے۔
ہو سکتا ہے کہ اس کا بندہ بھی اگر رہا ہو گیا تو اسے اس واقعے کی وجہ سے کل کو چھوڑ جائے۔
معصوم بچے بھی اللہ کو پیارے ہو گئے اور یہ
خاندان بھی برباد ہو گیا۔
(اسد آر چوہدری)
لاہور کاہنہ حادثہ: زخمی ٹیچر کا اسپتال سے ویڈیو بیان۔
"یہ سب اللہ کی طرف سے ہوا ہے، کسی کا کوئی ہاتھ نہیں۔ چھت پر کوئی کام نہیں ہو رہا تھا، وہ پہلے ہی بن چکی تھی..." زخمی ٹیچر نے روتے ہوئے تمام افواہوں کو رد کر دیا۔
اللہ تعالیٰ جاں بحق ہونے والے بچوں کے والدین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ 💔😭
پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا سوال
ایک وقت تھا جب پنجاب کی اکثریت ہندو آبادی پر مشتمل تھی۔ پھر گیارہویں صدی سے اس دھرتی پر اولیائے کرام کا ورود شروع ہوا۔ Ali Hujwiri (وفات 1077ء) لاہور آئے اور محبت و انسانیت کا چراغ روشن کیا۔ Baha-ud-Din Zakariya (1170–1268ء) نے ملتان کو روحانیت کا مرکز بنایا۔ Fariduddin Ganjshakar (1173–1266ء) نے پنجاب کی زبان میں اللہ کی محبت کا پیغام عام کیا۔ بعد کے ادوار میں Shah Shams Tabriz، Sultan Bahoo، Bulleh Shah اور Waris Shah نے اسی روحانی روایت کو آگے بڑھایا۔ چشتیہ، سہروردیہ، قادریہ، نقشبندیہ اور مجددیہ جیسے سلسلوں نے پنجاب کے گاؤں گاؤں میں خانقاہیں قائم کیں۔ ان بزرگوں کی اصل طاقت نہ فوج تھی، نہ حکومت؛ ان کا اصل سرمایہ کردار، خدمت، محبت اور روحانی اثر تھا، اور انہی ذرائع سے پنجاب کی ایک بڑی آبادی اسلام سے وابستہ ہوئی۔
پھر 1469ء میں Guru Nanak کی ولادت ہوئی۔ اس وقت دہلی پر لودھی خاندان کی حکومت تھی، اور چند دہائیوں بعد مغل سلطنت قائم ہوئی۔ اس زمانے تک اسلام پنجاب کی ایک مضبوط مذہبی قوت بن چکا تھا، صوفی خانقاہیں آباد تھیں، مساجد موجود تھیں، اور مسلم حکومت بھی قائم تھی۔
یہیں سے تاریخ کا ایک بڑا سوال جنم لیتا ہے۔
اگر صوفیائے کرام کی دعوت نے صدیوں تک لاکھوں دل جیتے، اگر پنجاب میں مسلم حکومت بھی قائم تھی، تو پھر سکھ مذہب کیسے ایک مضبوط مذہبی اور بعد ازاں سیاسی قوت بن گیا؟
تاریخ بتاتی ہے کہ سکھ مذہب کی پہلی مضبوط بنیاد ماجھا میں پڑی، کیونکہ یہی سکھ گروؤں کی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ دوآبہ نے بھی اس تحریک کو قبول کیا، جبکہ مالوا میں سترہویں اور اٹھارہویں صدی کے دوران جاٹ کسان برادریوں کی شمولیت، خالصہ کی تنظیم اور بعد میں پٹیالہ، نابھا اور جند جیسی سکھ ریاستوں کے قیام نے سکھ مذہب کو مزید وسعت دی۔
اس کے باوجود یہ حقیقت بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ پنجاب کی ایک بہت بڑی مسلم آبادی اسلام پر قائم رہی۔ صوفی روایت، خانقاہوں اور اسلامی شناخت کی جڑیں اتنی مضبوط تھیں کہ خصوصاً مغربی پنجاب اور دیگر مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت نے سکھ مذہب اختیار نہیں کیا۔
پھر آخر فرق کہاں تھا؟
مؤرخین کے مطابق سکھ روایت میں ایک مسلسل اور مرکزی قیادت موجود رہی۔ ایک گرو نے اپنے سے پہلے والے گرو کے پیغام کو آگے بڑھایا، اور بعد میں خالصہ نے اس مذہبی برادری کو ایک مضبوط اجتماعی نظم عطا کیا۔ دوسری طرف مسلمان معاشرے میں چشتیہ، قادریہ، سہروردیہ، نقشبندیہ اور مجددیہ جیسے عظیم سلسلے اسلام کی خدمت میں مصروف تھے، مگر وہ مختلف خانقاہوں اور مراکز سے الگ الگ کام کرتے تھے، نہ کہ ایک مرکزی تنظیم کے تحت۔ اس کے ساتھ مغل سلطنت کے آخری دور کی سیاسی کمزوری، بعض مقامی انتظامی مسائل، کسان برادریوں کی بدلتی ہوئی کیفیت اور پنجاب کے مخصوص سماجی حالات نے بھی نئی مذہبی شناخت کے ابھرنے میں کردار ادا کیا۔
تاریخ کا نچوڑ یہی ہے کہ کسی بھی مذہبی یا سیاسی تحریک کی کامیابی صرف روحانی دعوت یا حکومتی طاقت سے نہیں ہوتی، بلکہ مضبوط تنظیم، مسلسل قیادت، عوامی اعتماد، سماجی انصاف اور وقت کے حالات مل کر تاریخ کا رخ متعین کرتے ہیں۔ پنجاب کی تاریخ اسی حقیقت کا ایک زندہ باب ہے۔
مڈل کلاس سے کوئی اعلیٰ افسر بن ہی جائے تو بچپن کی محرومیاں دور کرنے کیلئیے یہ سب سے پہلے اپنے اندر کے فرعون کی سنگلی کھولتے ہیں۔ انسان دس منٹ کی طور اطوار اور گفتگو سے اندازہ لگا سکتا ہے کہ خاندانی پن سے عاری کوئی متوسطیہ سسٹم کو شکست دے کر آگے آ گیا ہے اور اب ان سے بدلہ لے گا جو آگے نہیں آ سکے۔
ویلکم ٹو ریپ کیپٹل بھارت!
جہاں بیہار کے وزیراعلی ہاؤس سے چند کلومیٹر دور ایک مظلوم لڑکی کا ریپ کر کے اسکو زندہ لاش بنا کر کوڑے پر پھینک دیا گیا اور وہ کئی گھنٹے اس کوڑے پر بےجان لاش بن کر پڑی رہی
یہ غزہ ، لبنان یا ایران کی داستان نہیں بلکہ پاکستان کو دیشت گرد کہنے والے بھارت کی اصلیت ہے👇👇👇
"میرے بھائی کو پینٹ اتار کر دیکھ کر مسلمان ہونے کی وجہ سے مارا گیا اسکو کلہاڑی ، تیر ، چاقو ، ڈنڈے کے وار سے یہ کہہ کہہ کر مارا گیا کہ یہ مسلمان ہے اسے مار دو"
دنیا کو بھارت کی یہ اصلیت فرض سمجھ کر دکھایا کریں #Pakistán #सम्राट_चौधरी