نبي ڪـريمﷺ کا فـرمــان ہے :🍃
🍁اَلۡبَخِیـۡـلُ الَّذِیۡ مَنۡ ذُکِـرۡتُ عِنـۡـدَہُ فَـلَمۡ یُصَــّلِ عَلَيَّ🍁
”بخیل وہ ہے جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھؐ پر دُرود نہ بھیجے۔“
[جامـع التـرمـذي : ۳۵۴۶/ وصححہ الأبانی]
🌷صَـلُّوا عَـلَـيٰ الۡحَـبِیۡب محمد💕ﷺ
قادیانی، اللہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کو ماننے کے باوجود مسلمان کیوں نہیں کہلوا سکتے؟
ایک یہودی کا مولانا زاہد الراشدی صاحب سے سوال
آ�� یہ وڈیو دیکھ لیں۔ آپ کو کئی کتابیں پڑھ کر بھی وہ علم نہیں ملے گا جو اس بیان میں موجود ہے۔
ایک درود بچاس انعام
https://t.co/bGS9ADGEdH
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ وَسَلِّمْ تَسْلِيْمًا
ایک بار درودوسلام پڑھنے پر کم از کم پچاس انعامات ملتے ہیں … شاہی انعامات … بلکہ شہنشاہی انعامات … دس خصوصی رحمتیں، دس نیکیاں، دس درجے، دس گناہوں کی معافی اور دس غلام آزاد کرنے کا اجر ……
درودوسلام ایک ”دعا“ ہے … جو حضرت آقا مدنی ﷺ کے لیے اللہ تعالیٰ سے مانگی جاتی ہے ……
یہ عبادت ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کی جاتی ہے ……
دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے … فرشتوں کو بھی وہی دیتا ہے اور پیغمبروں کو بھی وہی … مانگنا صرف اللہ تعالیٰ سے جائز … اور کسی سے نہیں ……
*《اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ》*
درودوسلام، اللہ تعالیٰ کی وہ عبادت ہے جس میں حق شناسی بھی ہے اور احسان شناسی بھی ... سب سے بڑھ کر یہ کہ اس میں عشق بھی ہے اور وفا بھی … کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے حق کو مانتے ہیں، احسان کو مانتے ہیں … ان سے عشق و وفا رکھتے ہیں … ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے رحمت اور سلام مانگتے ہیں … حضرت آقا مدنی ﷺ کے احسانات بےشمار ہیں ……
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ……
ہم حضرت آقا ﷺ سے جس قدر قریب ہوں گے …ہ��یں اسی قدر اللہ تعالیٰ کا زیادہ قرب ملے گا …اور والہانہ درودوسلام اس قرب کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
*(زادِ شفاعت؛ ص ١٤)*
#درود #سلام
پاکستان کے سرکاری دارالامانوں ٫یتیم خانوں٫پناہ گاہوں سے باعزت زندہ بچ کر نکل پانا کسی بھی عورت٫ بچی اور بچے کیلئے ناممکن ھے٫افشاں لطیف سابق سپرنٹنڈنٹ کاشانہ دارالامان
مدینہ کی ایک صبح تھی اور بازار کی گلیاں خرید و فروخت سے گونج رہی تھیں۔ لوگ اپنی مصروفیات میں مشغول تھے۔ اسی دوران نبی کریم ﷺ تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے دیکھا کہ ا��ک فقیر بھوکا اور پریشان بیٹھا ہے، ہاتھ پھیلا کر لوگوں سے مدد مانگ رہا تھا، مگر کسی نے اس کی طرف دھیان نہ دیا۔
آپ ﷺ نے اپنی سواری روک کر قدم پیچھے کیا اور نرمی سے فقیر کے پاس بیٹھے۔ فرمایا:
"کیا تمہیں کچھ کھانے کو ملے گا؟"
فقیر شرمندگی کے ساتھ بولا:
"نہیں، یا رسول اللہ! میں بھوکا ہوں۔"
آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ جو کچھ بھی ہے، اسے فقیر کے ساتھ بانٹ دو۔ صحابہؓ نے اپنی چند روٹیاں اور کھانے کے ٹکڑے پیش کیے۔ آپ ﷺ نے خود بھی تھوڑا سا کھانا اس کے ہاتھ میں دیا۔
فقیر کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ بازار کے لوگ بھی اس منظر کو دیکھ کر سکون اور حیرت محسوس کرنے لگے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسانیت کی خدمت اور دوسروں کے دکھ میں شریک ہونا نہ صرف نیکی ہے بلکہ حقیقی اخلاق اور ایمان کی پہچان بھی ہے۔
https://t.co/6sxnS7YqK1
درود شریف کی قبولیت یقینی ہے۔!
حضرت اقدس مولانا مفتی محمد حسن امرتسری ؒ نے ارشاد فرمایا کہ: تمام امت کا اتفاق ہے کہ ایک دعا ضرور قبول ہوتی ہے، یعنی درود شریف۔ اس واسطے بزرگوں کا ارشاد ہے کہ اپنے مقصود کو درودشریف میں لپیٹ دو، یعنی دعا کے اول و آخر درود شریف پڑھو۔ سخی اور کریم داتا سے یہ بعید ہے کہ اول اور آخر تو قبول کرلے اور بیچ والی دعا کو رد فرمادے۔
(احسن السوانح صفحہ ۲۷۹)
10 وجوہات جن کی وجہ سے آپ کا رزق رُکا ہوا محسوس ہوتا ہے
آپ فجر کی نماز نہیں پڑھتے۔
آپ گناہوں کو بس بُری عادت سمجھتے ہیں۔
آپ استغفار نہیں کرتے۔
آپ سمجھتے ہیں کہ رزق صرف پیسہ ہے، حالانکہ یہ خاندان، صحت، نیند، برکت، توانائی، سکون اور خوشی بھی ہے۔
آپ اپنی روزانہ کی نمازیں نہیں پڑھتے۔
آپ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے۔
آپ صدقہ نہیں دیتے۔
آپ نے اپنی زندگی دنیا کے گرد بنا رکھی ہے۔
آپ اپنی حالت اور اپنے اعمال کی بجائے حالات کو الزام ٹھہراتے ہیں۔
آپ بھول گئے ہیں کہ رزق کا اصل ذریعہ اللہ ہے۔
اللہ سے یہ نہ مانگیں کہ وہ زیادہ دے، بلکہ یہ مانگیں کہ جو چیز رزق میں رکاوٹ ڈال رہی ہے وہ دور کر��۔ اپنے دل کو صاف کریں، عادات درست کریں، برکت کے لیے جگہ بنائیں، اور دیکھیں کہ اللہ آپ کیلئے کیا بھیجتا ہے۔
یہ اپنے تمام دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ شیئر کریں، اور انہیں یاد دلائیں کہ وہ ہر بات میں، ہر کام میں اللہ کو یاد رکھیں
اپنے نفس اور شیطان کے شر سے پناہ کی دعا
أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ
( اے اللہ ) میں اپنے نفس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، میں شیطان کے شر اور اس کی دعوت
ِشرک سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
{جامع ترمذی۔۳۳۹۲}