"چپ"
کوئی نہ بولے
اکھاں اتے کھوپے چاڑو
جیب تے لا لو جندرے
پکھ نال بھاویں لوک مرن
بھاویں بلکن ساڈے بچے
کوئی نہ بندہ رولا پاوے
نہ کوئی اتھرو کیرے
میرے دیس دا ڈھول شپاہی
کدرے رس نہ جاوے
منصف ساڈا
کڑیاں لا کے سانوں مار مکاوے
قضاء کدرے آن پھڑے ناں
اکو نیت لے چپ
#چپ
پاکستان کی یہ دو وہ شخصیات ہیں جنہوں نے اپنے اپنے کردار نہایت خوش اسلوبی سے ادا کیے
ایک ڈی آئی جی فیصل کامران صاحب جو مریم نواز کے ترجمان کے روپ میں سامنے آئے جنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ مریم نواز کی ہدایت پر ہم نے خواتین کو بازیاب کر لیا مگر بعد ازاں یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد ثابت ہوا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان پر بھی پیکا قانون کا اطلاق ہوگا یا ان کے خلاف بھی کوئی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی
دوسری شخصیت سہیل ظفر چٹھہ صاحب ہیں جنہیں غریب کے نیفے میں موجود پستول دکھائی دیتا ہے غریب کا مبینہ مقابلہ دکھائی دیتا ہے مگر جب اثر و رسوخ رکھنے والے بااختیار افراد سامنے آتے ہیں تو ان کی تمام کارروائیاں یکسر ماند پڑ جاتی ہیں
یہ نظام اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ اس معاشرے کا ایک طبقہ اس قدر بے لگام اور منہ زور ہو چکا ہے کہ وہ جو چاہے کرے جیسے چاہے کرے اور اس سے باز پرس کرنے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا
"جس شخص نے پاکستان کو ایٹم بم دیا، آج اسی کی بیٹی عدالتوں میں دھکے کھا رہی ہے!" محسنِ پاکستان کی بیٹی کے رلا دینے والے انکشافات!
ڈاکٹر عبدالقدیر خان... وہ نام جس کی وجہ سے آج ہم سکون کی نیند سوتے ہیں، جس نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس عظیم ہیرو کے مرنے کے بعد ان کے نام اور ان کی فیملی کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟
محسنِ پاکستان کی صاحبزادی، ڈاکٹر دینا خان نے خاموشی توڑتے ہوئے ایک ایسا لرزہ خیز انکشاف کیا ہے جس نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔
"جب میں اپنے باپ کا آخری خواب بچانے کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹ رہی تھی، تو میں سوچتی تھی کہ کیا میرے والد نے اپنی پوری زندگی، اپنا سب کچھ اس ملک پر لٹا کر کوئی غلطی تو نہیں کر دی؟ آج اس ملک میں ان کے نام کو مٹایا جا رہا ہے اور ان کی بیٹی کو رلایا جا رہا ہے!"
ہوا کچھ یوں کہ 2013 میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے غریبوں کے مفت علاج کے لیے لاہور میں 500 بیڈز کے ایک عظیم 'ٹرسٹ ہسپتال' کی بنیاد رکھی۔ لیکن ان کے انتقال کے فوراً بعد، ان کے اپنے قریبی ساتھیوں اور نام نہاد 'دوستوں' کی نیتیں بدل گئیں۔ انہوں نے جعلی کاغذات بنائے، ڈاکٹر دینا کو ٹرسٹ سے دھکے دے کر نکال دیا اور محسنِ پاکستان کے نام پر لوگوں سے کروڑوں روپے بٹورتے رہے۔
ڈاکٹر دینا نے ہمت نہیں ہاری! اس اکیلی بیٹی نے ایک طویل قانونی جنگ لڑی، ان آستین کے سانپوں کو بے نقاب کیا اور اپنا ٹرسٹ بڑی حد تک واپس لیا۔ لیکن آج بھی مافیا ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔
انتہائی دکھی دل کے ساتھ ڈاکٹر دینا نے سوال کیا: "کیا باوقار قوموں کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے محسنوں کو بھول جائیں اور ان کی اولاد کو ذلیل کریں؟" انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ انہیں ان کے والد کا آخری خواب (غریبوں کا ہسپتال) پورا کرنے کے لیے آسانیاں فراہم کی جائیں۔
جس عظیم انسان نے دن رات ایک کر کے ہمیں ایٹم بم دیا اور دشمنوں سے محفوظ کیا، آج اس کی بیٹی اپنوں سے ہی انصاف کی بھیک مانگ رہی ہے۔
سلام خاک نشینوں پہ سوگواروں کا
غریب دیتے ہیں پرسہ تمہارے پیاروں کا
سلام اُن پر جنہیں شرم کھاۓ جاتی ہے
کھلے سروں پہ اسیری کی خاک آتی ہے
سلام ان پر جو زحمت کشِ سَلاسل ہے
مصیبتوں میں امامت کی پہلی منزل ہے
سلام بھیجتے ہیں اپنی شاہزادی پر
کہ جس کو سونپ گۓ مرتے وقت گھر سرورؑ
مسافرت نے جسے بے بسی یہ دکھلائی
نثار کردیے بچے نہ بچ سکا بھائی
اسیر ہو کے جسے شامیوں کے نرغے میں
حسینیت ہے سکھانا علیؑ کے لہجے میں
سـکـینـہؑ بی بی تمہارے غلام حاضر ہیں
بجھے جو پیاس تو اشکوں کے جام حاضر ہیں
یہ سِن یہ حشر یہ صدمے نۓ نۓ بی بی
کہاں پہ بیٹھی ہو خیمے تو جل گۓ بی بی
پہاڑ رات بڑی دیر ہے سویرے میں
کہاں ہو شامِ غریباں کے گھپ اندھیرے میں
زمینِ گرم یتیمی کی سختیاں بی بی
وہ سینہ جس پہ کہ سوتی تھی اب کہاں بی بی
جناب مادر بے شیر کو بھی سب کا سلام
عجیب وقت ہے کیا دیں تسّـلیوں کا پیام
ابھی کلیجے میں اِک آگ سی لگی ہوگی
ابھی تو گود کی گرمی نہ کم ہوئی ہوگی
نہیں اندھیرے میں کچھ سوجھتا کہاں ڈھونڈیں
تمہارا چاند کہاں چُھپ گيا کہاں ڈھونڈیں
نہ اس طرح کوئی کھیتی ہری بھری اجڑی
تمہاری مانگ بھی اجڑی ہے کوکھ بھی اجڑی
نہیں لعینوں میں انساں کوئی خداحافظ
درندے اور یہ بے وارثی خداحافظ
شریکِ حقِّ درود و سلامِ پیغمبرؐ
سلام سید لولاک کے لٹے گھر پر
سلام محسن اسلام خستہ تن لاشو
سلام تم پر شہیدوں کے بے کفن لاشو
سلام تم پر رسولؐ و بتولؑ کے پیارو
سلام مہر شہادت کے گرد سیارو
بچے تو اگلے برس ہم ہیں اور یہ غم پھر ہے
جو چل بسے تو یہ اپنا سلام آخر ہے
مالک اشتر (رض) مولا علی (ع) کا شیر
حضرت مالک اشتر (رض) وہ تھے کہ اگر ( تمھارے ماموں ) قرآن نیزوں پر بلند نہ کرتے تو تمھارے ماموں خود نیزے پر بلند ہوجاتے ۔۔
توہین صحابہ اکرام نا منظور۔۔!
اہل حدیث مولوی ہشام الہی کی صحابی رسول حضرت مالک اشتر رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں بد ترین گستاخی
اس کتے کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور توہین صحابہ کے جرم میں اسے قانون کے مطابق سزا دے کر نشان عبرت بنایا جائے۔!
@GovtofPakistan@MohsinnaqviC42
ایئر پورٹ پر اوور سیز پاکستانی سے نامناسب رویہ اور رشوت کا مطالبہ
میرا نام محمد ارشد ہے اور میں گزشتہ 16 سال سے یورپ میں مقیم ہوں۔ میں 11 مئی 2026 کو فلائٹ PK-750 کے ذریعے پاکستان آیا تھا۔ میری واپسی کی فلائٹ PK-749 مورخہ 21 جون 2026 کو تھی۔
میں تقریباً 9:00 بجے ایئرپورٹ پہنچا۔ اندر داخل ہوتے ہی میری ملاقات ایک افسر جناب ارشد خالد سے ہوئی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ میں لیٹ ہو چکا ہوں اور مجھ سے انتہائی غیر مہذب اور نامناسب انداز میں بات کی۔( جیسا کہ تصویر میں بھی ان کا انداز دیکھا جا سکتا ہے) حالانکہ میرے پہنچنے کے بعد بھی کئی دوسرے مسافروں کی بورڈنگ جاری تھی اور وہ میرے بعد ایئرپورٹ میں داخل ہوئے تھے۔
میں نے مؤدبانہ طور پر انہیں بتایا کہ میری فلائٹ کا مقررہ وقت 11:45 بجے تھا اور اس وقت صرف 9:00 بجے تھے۔ بظاہر فلائٹ کے وقت میں ایک گھنٹے کی تبدیلی کی گئی تھی، لیکن مجھے اس تبدیلی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
اس کے باوجود جناب ارشد خالد بار بار یہ کہتے رہے کہ میں لیٹ ہوں اور مجھے فلائٹ میں سوار ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن پھر 20 ہزار مانگ لیئے جس پر جب میں نے رقم دینے سے انکار کیا تو انہوں نے مجھے بورڈنگ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اور کہا کہ 20 ہزار کے بغیر سوچنا بھی مت
میں نے کئی منٹ تک انہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ نہ مانا اور میں سفر نہ کر سکا، میرا ٹکٹ ضائع ہو گیا، اور مجھے پورے دن شدید ذہنی اذیت، پریشانی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
میں گزشتہ 16 سال سے یورپ میں مقیم ہوں اور میرے پاس تمام ضروری سفری دستاویزات موجود ہیں۔ ایک فرد کے غیر مناسب رویے کی وجہ سے مجھے مالی نقصان اور شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مجھے امید ہے کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات اور انکوائری کر کے مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اوور سیز پاکستانی
محمد ارشد
ٹکٹ نمبر: 2142431511028
@QasimRizvi_RSM4 درست فرمایا اور مفتی ثمر جو توہین رسالت کی سزا ،سر تن سے جدا مگر جب اپنی باری آتی ہے خالی رجوع کرنے پر کلین چٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اسے بھی لٹکانا چاہیے ۔۔
@mazhar_h002 درست فرمایا اور مفتی ثمر جو توہین رسالت کی سزا ،سر تن سے جدا مگر جب اپنی باری آتی ہے خالی رجوع کرنے پر کلین چٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اسے بھی لٹکانا چاہیے ۔۔
قانون سب کے لیے ایک ہونا چاہیے
@AQEELSARDAR84 درست فرمایا اور مفتی ثمر جو توہین رسالت کی سزا ،سر تن سے جدا مگر جب اپنی باری آتی ہے خالی رجوع کرنے پر کلین چٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اسے بھی لٹکانا چاہیے ۔۔
مگر نہیں متی ثمر تو اس کا پیٹی بھرا ہے ۔
@WithSHR_ درست فرمایا اور مفتی ثمر جو توہین رسالت کی سزا ،سر تن سے جدا مگر جب اپنی باری آتی ہے خالی رجوع کرنے پر کلین چٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اسے بھی لٹکانا چاہیے ۔۔
دنیا کا انوکھا ترین ملک جہاں اشرافیہ کے جیٹ فیول 231 روپے اور عام شہری کی گاڑی،موٹر سائیکل کا پیٹرول 300 روپے کا ہے۔۔ شاکر محمود اعوان
@ShakirAwan88
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
Saudi Arabia’s King Salman bin Abdulaziz Al Saud has approved a special program to host 1,000 Umrah pilgrims from 66 countries as royal guests under the Custodian of the Two Holy Mosques’ Hajj, Umrah and Ziarat initiative.
The program will be implemented in four phases, starting with 250 pilgrims from 16 Asian countries, including Indonesia, Malaysia, Pakistan, China, Japan, and others.
Saudi officials said the initiative reflects the kingdom’s commitment to serving Islam and strengthening unity among Muslim communities worldwide.
It also aims to build stronger ties with scholars and religious leaders across different regions.
Disclaimer: This post is for informational purposes only and is based on publicly available reports. The image is AI generated and is just for reference.
#KingSalman #UmrahProgram #SaudiArabia #IslamUnity #HajjUmrah #RoyalGuests
ایل پی جی صارفین کو قیمتوں میں شدید فرق کا سامنا ہے۔ اوگرا کا سرکاری نرخ 309 روپے فی کلو گرام ہے، جبکہ مارکیٹ میں صارفین 500 سے 550 روپے فی کلو گرام ادا کر رہے ہیں۔ شہریوں نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ قیمتوں پر موثر کنٹرول کو یقینی بنائیں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے درمیان ریلیف فراہم کریں۔
فاطمہ ثنا کے ہاتھوں وہاب ریاض کی لائیو بے عزتی۔ وہاب ریاض بات کرتے رہ گئے، لیکن فاطمہ ثنا نے منہ اٹھا کر دیکھا تک نہیں۔
#PakistanCricket#T20WorldCup#cricket