شوکت نواز میر صاحب کی گرفتاری والے دن اس بندے نے اپنے گھر رینجرز اور پولیس کو کھانا کھلایا اور سہولت کاری میں مکمل ساتھ دیا اس کا نام صوبیدار گلفراز عباسی اس کو اتنا شئیر کرے کہ پوری کشمیری قوم اس کی شکل دیکھےلانتی دلالوں کی جماعت مجرم کانفرنس سے اس کا تعلق ہے
#AjkRightmovement
🚨 رینجرز نے پاکستان مقبوضہ کشمیر راولاکوٹ میں زین بیکری کی لوٹ مار کر کے اور توڑ پھوڑ کی اور اس پر کام کرنے والے بھائیوں پر تشدد کر کے نامعلوم مقام پر لے گئے۔
مؤرخہ 12 جون وقت 5:46AM سے تا حال لاپتہ ہیں۔۔۔
پاکستان کی تاریخ کی مقبول ترین سیاسی، سماجی اور کھیلوں کی سب سے بڑی عالمی شخصیت، عمران خان کو اس وقت اڈیالہ جیل کی ایک تنگ اور تاریک 'چکی نما' کال کوٹھڑی میں شدید ترین نامساعد حالات کا سامنا ہے
۔
جیل حکام کی جانب سے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں عروج پر ہیں:
بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی: سخت گرمی میں نہ تو اے سی (AC) کی سہولت میسر ہے اور نہ ہی ٹھنڈے پانی کا کوئی انتظام۔
طبی غفلت: آنکھوں کی بینائی شدید متاثر ہونے کے باوجود مناسب طبی معائنے اور علاج کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
مذہبی آزادی پر قدغن: وضو کے لیے صاف پانی کی عدم دستیابی سمیت جمعہ کی نماز کی ادائیگی پر بھی پابندی عائد ہے۔
جس شخص نے اپنی زندگی ملک کی خدمت، شوکت خانم جیسے اداروں اور عالمی اعزازات کے نام کر دی، وہ اس نوعیت کے انتقامی سلوک کا حقدار ہرگز نہیں تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کے کسی سیاسی قیدی کے ساتھ ایسا غیر انسانی سلوک نہیں کیا گیا۔
نماذ فجر کے وقت چہڑھ اور چنار دونوں اطراف سے فورسز کی سینکڑوں گاڑیوں نے احتجاجی دھرنا دریک پر حملہ کر دیا- انتظامیہ دھرنا دریک کی حکمت عملی کو سلام جنھوں نے راستے مکمل بند کر رکھے تھے اور وہاں فورسز نے اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے پیش رفت کی پوری کوشش کی مگر آگے نہ بڑھ سکیں- اس وقت فورسز دھرنے سے تقریبا 200 میٹر کے فاصلے پر تھیں جو کہ اب پیچھے ہٹ چکی ہیں- الحمدللہ اللہ پاک کے کرم سے عوام محفوظ رہے ہیں- رب کریم سے دعا ہیکہ اس جبر کے آگے ہمیں ثابت قدم رہنے کی ہمت عطا فرمائے امین- عوام کا جم غفیر دھرنے میں موجود ہے، سٹیج سے اس قتل و غارت کے خلاف شدید نعرے بازی جاری ہے۔
کوٹ لکھپت میں پانی کا مسئلہ کافی دیر سے چل رہا اور پینے کا پانی بھی گندا ہے لیکن دو دنوں سے بجلی کا بہت زیادہ مسئلہ چل رہا وہاں خواتین بلاک میں کچھ چھوٹے بچے بھی اپنی ماؤں کے ساتھ ہیں خواتین اور بچے شدید اذیت سے گزر رہے ساتھ ہمارے بزرگ اسیران بھی وہی ہیں
ہم ایک ملاقات نہیں ہم چاہتے ہیں عمران خان کے سارے حقوق بحال کریں یہ ایک ملاقات کراکے پھر چھ مہینے کے لئے قید تنہائی میں ڈال دیں گے، ان کی ملاقاتیں بحال ہوں ان کا ہسپتال میں علاج ہو ، ان کا ٹی وی ان کی اخبار کتابیں تمام حقوق بحال کیے جائیں ان کی قید تنہائی ختم کی جائے۔ علیمہ خان
🚨بڑی بریکنگ بلکہ بری بریکنگ ۔۔۔۔۔
کیا پنجاب میں ہلاکو خان کی حکومت آ گئی ہے؟
🔴🔴🔴ڈان نیوز (Dawn News) کے مطابق پنجاب حکومت اتوار کو صوبائی اسمبلی سے ایک انتہائی متنازع اور سخت قانون پاس کروانے جا رہی ہے جسے ’پنجاب کنٹرول آف ہیبی چوئل آفینڈرز اینڈ اینٹی سوشل بیہیوئیر بل 2026‘ (Punjab’s Control of Habitual Offenders and Anti-Social Behaviour Bill 2026) کا نام دیا گیا ہے۔ مسلم لیگ ن (PML-N) کے رکنِ اسمبلی خالد محمود رانجھا کی طرف سے پیش کردہ اس بل کے تحت انتظامیہ (Executive) اور ضلعی انٹیلی جنس کمیٹیوں (District Intelligence Committees) کو یہ غیر معمولی اختیارات حاصل ہو جائیں گے کہ وہ کسی بھی شہری کو محض الزامات، پولیس چالان، یا ایک سے زائد بار گرفتاری کی بنیاد پر—بغیر عدالت سے جرم ثابت ہوئے—’عادی مجرم‘ (Habitual Offender) قرار دے سکیں۔ اس قانون کے تحت مانیٹرنگ کے لیے ملزم کو کم از کم تین ماہ تک الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس (Electronic Monitoring Device) پہننے، بائیومیٹرکس اور ڈی این اے (DNA) دینے، اور باقاعدگی سے پولیس اسٹیشن رپورٹ کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اس بل میں سماج دشمن رویوں (Anti-social behaviour) کی 23 مختلف کیٹیگریز شامل کی گئی ہیں جن میں منظم جرائم کے ساتھ ساتھ پبلک میں گالی گلوچ، کسی کو تنگ کرنا، سوشل میڈیا پر غلط معلومات (Misinformation) پھیلانا اور جانوروں پر تشدد جیسے مبہم اور انتہائی وسیع پہلو بھی شامل ہیں۔ انٹیلی جنس کمیٹیوں کی سفارش پر کسی بھی شہری کے خلاف انتہائی سخت تادیبی کارروائیاں کی جا سکیں گی، جن میں بینک اکاؤنٹ منجمد کرنا، جائیداد ضبط کرنا، سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنا، فون اور لیپ ٹاپ ضبط کرنا، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کرنا، پروویژنل نیشنل آئیڈنٹی فکیشن لسٹ (PNIL) میں نام ڈالنا، اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے چوبیس گھنٹے نگرانی (Surveillance) شامل ہیں؛ اور ان سب کے لیے کسی پیشگی عدالتی منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی۔ قانونی ماہرین اور مبصرین اس قانون کو 1871 کے برطانوی نوآبادیاتی دور کے ’کرمنل ٹرائبز ایکٹ‘ (Criminal Tribes Act)، 1918 کے ’ریسٹرکشن آف ہیبی چوئل آفینڈرز ایکٹ‘ (Restriction of Habitual Offenders Act)، اور ایوب خان کے 1959 کے ’کنٹرول آف گونڈاز آرڈیننس‘ (Control of Goondas Ordinance) کا ایک بدترین اور جدید ترین تسلسل قرار دے رہے ہیں، کیونکہ یہ عام فوجداری طریقہ کار اور بنیادی انسانی حقوق کو بائی پاس (Bypass) کر کے ملک کے کمزور عدالتی و پولیس نظام میں شہریوں کی آزادی کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔
مظفرآباد مکمل طور پر بند ہے
لگاؤ زور تم بھی
ہم بھی دیکھتے ہیں کیسے شٹر اٹھاتے ہو
مطالبات پر عمل درآمد نہیں ہو گا تو نہیں کھلے گا مظفرآباد نہیں کھلنے دیں گے انشاءاللہ
ان کی حالت دیکھیں کیسے کھڑے ہیں
اور یہ پنجاب پولیس کے لوگ ہیں جو کسی بھی گاڑی جس میں ایک کلو ٹماٹر بھی ہوں اسے لیکر یہاں سے گزرنے نہیں دیتے ادویات اور بچوں کے دودھ تک کی اجازت نہیں دی جاتی۔۔۔!!!
اس راستے میں اس وقت بھی خوراک کے بیسیوں ٹرک کھڑے ہیں اور سینکڑوں راستے کی بندش کی وجہ سے واپس ہوئے ہیں۔۔۔!؟!
اور باتیں کی جاتی ہیں کہ بی بی سی کی رپورٹ درست نہیں۔۔!!!
آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جھکانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا، بڑی سے بڑی آفرز دی گئیں، لیکن کپتان کا جواب ہمیشہ پاکستان کے مفاد میں تھا۔ انہوں نے ذاتی فائدے کے بجائے 3 بنیادی مطالبات سامنے رکھے:
پہلا مطالبہ: قید میں موجود تمام سیاسی رہنماؤں اور بے گناہ کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے۔
دوسرا مطالبہ: ملک کے مستقبل کا فیصلہ عوام کو کرنے دیا جائے اور فوری شفاف الیکشن ہوں گے۔
تیسرا اصول: ہم اقتدار میں آ کر کسی سے بدلہ نہیں لیں گے، بلکہ ملک کو آگے لے کر جائیں گے۔
یہ ایک حقیقی مدبر (Statesman) کی نشانی ہے جو ذاتی عناد سے اوپر اٹھ کر ملک کا سوچتا ہے۔
گزشتہ روز ہماری فیملی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں خیبر پختونخوا کے وزراء سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں عمران خان کے تمام قانونی اور جائز جیل حقوق کی بحالی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وزراء نے درج ذیل پیش رفت سے آگاہ کیا:
1۔ کوئی اضافی (سرپلس) بجٹ نہیں ہوگا، کیونکہ عمران خان نے ہمیشہ ہدایت دی ہے کہ تمام دستیاب وسائل خیبر پختونخوا کے عوام کی ترقی، فلاح و بہبود اور خوشحالی پر خرچ کیے جائیں۔
2۔ خیبر پختونخوا حکومت وفاقی حکومت کی جانب سے طلب کردہ 175 ارب روپے کی منتقلی کے لیے کسی بھی معاہدے پر اس وقت تک دستخط نہیں کرے گی جب تک کہ درج ذیل مطالبات پورے نہیں کیے جاتے:
• خیبر پختونخوا کو ضم شدہ اضلاع (سابق فاٹا) کے لیے موجودہ مالی سال کا مکمل حصہ فراہم کیا جائے، جو تقریباً 300 ارب روپے بنتا ہے۔ یہ فنڈز ضم شدہ علاقوں کی معاشی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔
• عمران خان کے تمام قانونی اور جائز حقوق مکمل طور پر بحال ہونے تک کسی بھی معاہدے پر دستخط نہیں کیے جائیں گے، جن میں شامل ہیں:
1۔ عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا مکمل طبی معائنہ، تشخیص اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔
2۔ عمران خان کی گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری غیر قانونی تنہائی اور عملی طور پر سولیٹری کنفائنمنٹ کا فوری خاتمہ کیا جائے، جس میں:
الف) ہر ہفتے 6 اہلِ خانہ، 6 وکلاء اور 6 دوستوں (سیاسی ساتھیوں) سے ملاقات کا حق فوری طور پر بحال کیا جائے۔
ب) ان کے بیٹوں کے ساتھ ہفتہ وار ٹیلیفونک رابطے کا حق فوری طور پر بحال کیا جائے۔
ج) کتابوں، اخبارات اور دیگر مطالعے کے مواد تک ان کی رسائی فوری طور پر بحال کی جائے۔
یہ کوئی خصوصی مراعات نہیں بلکہ بنیادی قانونی اور انسانی حقوق ہیں، جن کا احترام اور فوری بحالی مزید کسی تاخیر کے بغیر یقینی بنائی جانی چاہیے