خوائش ہے کسی دن شریکِ حیات مجھ سے پوچھے
” کیا اب بھی آپ کے دل میں ہوں “
میں اسے بتاؤں کہ تم صرف دل میں نہیں پوری دنیا ہو بس زندگی کی تھکن نے اظہارِ محبت کم کر دیا ہے اب ذمہ داریاں زیادہ ہیں مگر سچ یہ ہے کہ تمہاری فکر آج بھی پہلے دن جیسی ہے تمہاری مسکراہٹ ساری تھکن اتار دیتی ہے
میرا ذاتی مشورہ ہے جس کے پاس صرف بیٹیاں(رحمت )ہوں اسے بیٹا ہونے کی دعا بھری محفل میں مخاطب کر کے نہیں دینی چاہئیے میں نے محسوس کیا ہے انہیں فیل ہوتا ہے کہ بیٹی کا ہونا اچھی بات نہیں۔
ترک تعلق کے بعد ہر اس چیز اور مشغلے کو ترک کر دیں جو اس وابستگی کے تحت اپنائے ہوئے تھے ورنہ جب جب وہ تحاریر وہ دلچسپیاں وہ یادیں پھر سے سامنے آئیں گی جسم و جاں کی تمام رگوں میں اذیت کا کرنٹ ایسے دوڑے گا کہ آپ کا جسم نیلا پڑ جائے گا مگر اس اذیت سے باہر نکالنے والا کوئی نہیں ہوگا