عہد کریں حقیقی آزادی کی لڑائی اپنی نسلوں کو منتقل کر کے مریں گے۔ جنگ طویل ہوتی ہے ہو جائے۔
پیچھے موت اور تباہی ہے۔ آگے ہماری نسلوں کا مستقبل ہے۔
ہمارے بچوں نے اس ملک میں رہنا ہے انکو اس ملک پر قابض جرنیلوں کے غلام نہیں بننے دیں گے۔
پاک فوج کیونکہ حلف کی پاسداری نہیں کرتی ، کسی اسلامی ، آئینی یا اخلاقی حد کو نہیں مانتی لہذا پاک فوج سے آنے والی تنخواہ حرام ، پنشن حرام ، انکے بچوں کے منہ میں اترنے والا ایک ایک نوالہ حرام۔
پاک فوج کیونکہ حلف کی پاسداری نہیں کرتی ، کسی اسلامی ، آئینی یا اخلاقی حد کو نہیں مانتی لہذا پاک فوج سے آنے والی تنخواہ حرام ، پنشن حرام ، انکے بچوں کے منہ میں اترنے والا ایک ایک نوالہ حرام۔
دہشتگرد تنظیموں کی جانب سے عوامی اجتماعات کو ٹارگٹ کرنے کا خدشہ، پنجاب میں 10 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ: "انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق دہشت گرد تنظیمیں عوامی اجتماعات کو ٹارگٹ کرنےکی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔"ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
اوے بد بختو جسے تم باپ سمجھتے ہو وہ گھر کا ملازم ہے، چوکیداری کے لیے رکھا تھا، تم نے اسے ماں سے منسوب کر دیا!
ٹھیک کہتا ہے عمران خان ایک تو پڑھے لکھے نہیں اوپر سے محنت بھی نہیں کرتے۔
“جو اصل دہشت گرد ہیں وہ ghq میں بیٹھے ہوۓ ہیں
ہم مطالبہ کرتے ہیں ڈالری جنگیں بند کی جاہیں، تمام جرنیل کرنیل جنہوں نے اس ملک کیساتھ غداری کی ہے اُن کا کورٹ مارشل کیا جاۓ
ایمان مزاری”
@ImaanZHazir
لاہور میں اکثر سپیشلسٹ ڈاکٹرز حضرات کنسلٹیشن فیس 6 ہزار روپے لیتے ہیں لیکن صرف کیش کی صورت میں، ڈیبٹ کارڈ سے نہیں۔ کیوں؟ تاکہ ٹیکس نہ دینا پڑے۔
اسی طرح نامی گرامی کڑاہی فروش اور مچھلی فروش بھی کچا بل بنا کر پیسے کیش میں لیتے ہیں تاکہ ٹیکس نہ دینا پڑے۔
دوسری طرف سیدھے سادے لوگ جو تنخواہ دار ہیں یا کسی اور سورس سے انکی انکم بینک اکاؤنٹ میں آتی ہے انکے سامنے FBR والے جنگلی بھینسے کی طرح دوڑے چلے آتے ہیں!
آذادی مفت نہیں ملتی، اور جمہوریت کی قیمت لانگ مارچ ہے۔ پی ٹی آئی میں ٹاوٹس مذاکرات کا بہانہ بناکر بھاگیں گے، مگر حق پرست لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔ طاقت صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہے، منت ترلے نہیں!
میرا پیغام کشمیر کمیٹی کے لئے ہے کہ آپ بھی نکلنے کی تیاری کریں۔ پر امن احتجاج آپکا حق ہے۔ ایک طرف سے پی ٹی آئی اسلام آباد کا رخ کرے تو دوسری طرف سے آپ نکل آئیں اسلام آباد کی طرف۔
کوہلہ پل کراس کرنے سے پہلے ڈکٹیٹر ملک سے باہر ہو گا۔
جس طالبانی گروہ کو دہشتگرد کہہ کر اس کے خلاف آپریشن کی تیاری ہورہی ہے، اس کے ممبران کی بھی ایسی ہی داڑھیاں ہیں۔
ابوجہل کی بھی داڑھی تھی اور عبداللہ بن ابئ کی بھی۔
ولید بن مغیرہ کی بھی داڑھی تھی اور ابولہب کی بھی۔
ہجرت کے وقت مدینہ میں یہودی علما بھی داڑھیاں رکھتے تھے۔
نجران سے عیسائیوں کا جو وفد آیا تھا، وہ بھی باریش ہی تھا۔
ہلاکو اور چنگیز بھی داڑھیاں رکھتے تھے۔
احد کے میدان سے جو تین سو منافقین لڑے بغیر واپس چلے گئے تھے، وہ بھی داڑھیاں رکھتے تھے۔
یزید کی بھی داڑھی تھی اور عبداللہ بن سبا کی بھی۔
محض داڑھی کی بنیاد پر نہ تو کردار کا تعین ہوسکتا ہے اور نہ ہی ایمان کا۔
ہمیں تمہاری داڑھیاں متاثر نہیں کرسکتی، تمہارا کردار، حلف کی پاسداری اور انسانی حقوق کا احترام کرکے دکھاؤ، پھر ہم تمہاری عزت بھی کریں گے اور سر آنکھوں پر بھی بٹھائیں گے۔
اگر تم ایسا نہیں کرتے تو تمہاری داڑھیاں اور سکھوں کی داڑھیوں میں کوئی فرق نہیں!!!
ایک عزیز دوست نے گلہ کیا تھا کہ میں ناحق آفتاب اقبال پر تنقید کرتا ہوں۔ کہا کہ وہ تو عمران خان سے بڑا پیار کرتے ہیں۔ اور موجودہ رجیم کے بڑے خلاف ہیں۔
معذرت کے ساتھ مجھے ایسا نہيں لگتا۔ آفتاب اقبال صرف اپنے آپ سے پیار کرتے ہیں۔ عمران خان کی جدوجہد سے انہيں کوئی خاص لگاؤ نہيں ہے۔ انہیں اپنے دھندے سے دلچسپی ضرور ہے۔ اس کے لئے وہ خان صاحب کا نام استعمال کرتے ہیں۔
خاکسار نے تنقید اس وقت شروع کی تھی جب انہوں نے کہنا شروع کیا کہ عمران خان کو خطرناک بیماری لگ گئی ہے اور وہ اب کچھ دنوں کے مہمان ہیں۔ عمران خان کے بعد کی صورتحال کے بارے میں سوچیں۔
یہ بہت ہی خطرناک بات تھی۔ اور احتمال زیاد ہے کہ ان تک پہنچائی گئی تھی کہ وہ عوام تک پہنچائیں تا کہ رائے عامہ تیار ہو۔ وہی کام انہوں نے کیا۔
پھر انہوں نے جمہوریت کے خلاف باتیں کرنا شروع کر دیں۔ اور کہا ایک 40 سالہ خلیفہ آ رہا ہے۔ جمہوریت ناکام ہوگئی۔
ابھی ایک تازہ ویلاگ دیکھا۔ تھمبنیل موجودہ رجیم کے خلاف تھا۔ اندر جرنیلوں کا احترام اور تعریفیں تھیں۔ انکی طاقت اور کنٹرول کے ترانے تھے۔ کچھ منٹ سے زیادہ نہ سن سکا ویلاگ بند کرنا پڑا۔ ایک لاکھ ستر ہزار لوگوں نے اسے دیکھا تھا۔