Life is unpredictable!!
Nobody knows what the next moment holds. Life can change in a heartbeat—so cherish the present, because nothing is guaranteed. ❤️
سہیل آفریدی کا لانگ مارچ سے کفن کے ساتھ پہلا خطاب
میں کفن ساتھ لے کر آیا ہوں
وصیت یہ ہے کہ جہاں گولی لگے وہاں دفن کریں
اسٹیبلشمنٹ کو میرا پیغام - ABSOLUTELY NOT
#CMSohailAfridi#PTILongMarch#AbsolutelyNot
بہاولپور سے تعلق رکھنے والے نوجوان سید گلفام نقوی نے چیئرمین عمران خان کی سالگرہ کے موقع پر عمران خان کی شرٹ پہن کر ہوائی جہاز سے چھلانگ لگائی اور کپتان کو خراج تحسین پیش کیا، اتنے ظلم و جبر اور فسطائیت کے باوجود بھی عمران خان کی محبت پاکستان کے لوگوں کے دلوں سے ختم نہیں کر سکے
بالقسط لانگ مارچ
لوئر وزیرستان وانا: لوئر وزیرستان کا قافلہ ایم پی اے عجب گل، صدر انصاف یوتھ ونگ نور علی ہمدرد کی قیادت میں تیار، کچھ دیر بعد وانا سے قافلہ روانہ ہوگا. انشاءاللہ
#سر_بکف_میدان_میں
تحریک انصاف کی وفاقی حکومت میں پاکستان اور خیبر پختونخواہ terrorism نہیں tourism کے لیے جانے جاتے تھے۔ رجیم چینج کے بعد دہشتگردی کو دوبارہ جان بوجھ کر خیبر پختونخواہ پر مسلط کیا گیا۔ جب ۲۰۲۲ کی گرمیوں میں ہم نے آواز اٹھائ تو آپ نے ہمیں جھوٹا کہا لیکن آج اسی دہشتگردی کو بہانہ بنا کر معصوم پختونوں کا خون بہایا جارہا ہے-
دہشت گردی خیبرپختونخوا پر مسلط کی گئی ہے۔ وفاق کی ناکام پالیسیز سے ہمیشہ خیبرپختونخواہ گولہ بارود اور آگ کے لپیٹ میں رہی ہے۔ ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں سے میرے صوبے کے معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں جس کو کولیٹرل ڈیمج کا نام دے دیا جاتا ہے اور ایک سوری سے بات ختم کردی جاتی ہے۔ پالیسی یہاں صرف عمران خان کی چلے گی۔ اُسی پالیسی میں ملک اور قوم کی بھلائی ہے۔
مزاکراتی کمیٹی کو میرا بھیجا گیا ڈرافٹ یہ ہے جسے میں اپنی قوم کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہئیے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے۔ ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہ ہمارے ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔
ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل، قومی یکجہتی، امن و امان کے قیام اور تمام سیاسی و قومی معاملات کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے درج ذیل امور پر اتفاقِ رائے کیا جائے گا:
1۔وزیرِ اعظم پاکستان اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش تمام اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات، بالخصوص زیرِ التوا امور، پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
فریقین اس امر کے پابند ہوں گے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے مذکورہ امور کے حل کے لیے دو ماہ کے اندر مؤثر اور قابلِ عمل پیش رفت یقینی بنائی جائے۔
2۔وزیرِ اعظم پاکستان حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیں گے۔
یہ کمیٹی اپوزیشن کے ساتھ قومی و سیاسی معاملات، باہمی اختلافات اور دیگر اہم امور پر مسلسل مذاکرات کرے گی اور باہمی اتفاقِ رائے سے قابلِ عمل حل تلاش کرے گی۔ جمہوریت، سیاست، عدالت اور صحافت کی مکمل آزادی ہوگی۔
کمیٹی اپنے قیام کے بعد ایک ماہ کے اندر مذاکرات اور حل کے حوالے سے قابلِ ذکر پیش رفت یقینی بنائے گی اور اپنی سفارشات متعلقہ قیادت کے سامنے پیش کرے گی۔
3۔ جیل مینول، آئینِ پاکستان اور مروجہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو حاصل تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق بلاامتیاز فراہم کیے جائیں گے۔
ان کے علاج و معالجے کے سلسلے میں، جہاں قانوناً قابلِ اطلاق ہو، ان کے ذاتی/نامزد ڈاکٹروں کی طبی رائے، ہدایات اور مشوروں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضروری طبی سہولیات اور علاج معالجے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
4۔جیل مینول اور متعلقہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلاء اور مجاز/نامزد رفقاء سے ملاقات کا حق فراہم کیا جائے گا۔
ملاقاتوں کا انعقاد قانون اور جیل قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگا۔ تاہم ملاقات کی سہولت کو کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جو قانوناً ممنوع ہوں۔
5۔عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، معمر اور بیمار قیدیوں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی جانب سے سزاؤں کے خلاف دائر درخواستوں اور دیگر قانونی درخواستوں پر آئین و قانون کے مطابق دس دن کے اندر غور کا عمل شروع/مکمل کیا جائے گا، جہاں قانوناً ایسا ممکن ہو۔
تمام مقدمات کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں اور قانونی فورمز آئین، قانون، شفاف عدالتی طریقۂ کار اور انصاف کے اصولوں کے مطابق، بلاجواز تاخیر کے بغیر، کریں گے۔
خواتین جو سیاسی قید کاٹ رہی ہیں جن میں بزرگ یاسمین راشد اور بشری بی بی سرفہرست ہے اُن کو انسانی ہمدردی دکھاتے ہوئے جلد رہا کیا جائے۔
6۔خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مستقل و پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔
وفاقی اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں گے۔
اس حکمتِ عملی پر آئین و قانون کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے عمل درآمد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔
7۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مذکورہ بالا یقین دہانیوں اور طے شدہ اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف موجودہ لانگ مارچ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی۔
تاہم اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرے یا مذاکراتی عمل کو بلاجواز تعطل کا شکار کرے تو پاکستان تحریکِ انصاف آئین و قانون کے مطابق اپنے پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔
ہم پاکستان کی سب سے بڑی اور سب سے مقبول سیاسی جماعت ہیں۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، جس کا آئین ہمیں پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔
4 اکتوبر کو گنڈی چوک، لکی مروت سے عوام کا سمندر اپنا سفر شروع کرے گا اور پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
تحریکِ انصاف کے تمام مطالبات آئین اور قانون کے مطابق ہیں۔ اس سے پہلے گیدڑوں کو ہر طرح سے غیر قانونی طور پر فیسلیٹیٹ کیا گیا، لیکن ایک لیڈر سے خوف اتنا ہے کہ اسے اور اس کے اہل خانہ اور ورکرز کو جائز قانونی حقوق بھی نہیں دیے جا رہے۔
پاکستان پر جن لوگوں کا زبردستی قبضہ قائم رکھوایا ہوا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ خدانخواستہ ہمارا پاکستان ٹوٹ جائے۔ جن کو ہندوستان سے خطرہ نہیں، لیکن پاکستانی عوام سے خطرہ ہے- جنہوں نے ڈان لیکس کروائے، جنہوں نے میمو گیٹ اسکینڈل کیا، جنہوں نے ۵۳۰۰ ارب کی IMF سے تصدیق شدہ کرپشن کی، جنہوں نے فوج کے بارے میں کہا کہ انہوں نے ہماری ہڈیاں تک کھا لی ہیں، جنہوں نے پاکستان پر دوبارہ دہشت گردی مسلط کی، جن کا جعلی وزیرِ اعظم کسی شہید کے جنازے میں نہیں گیا، جن کا بھگوڑا قائد اور اس کی بیٹی انڈیا سے جنگ کے دوران خاموش رہے، جن کی پوری جماعت پاکستان کے پختونوں کو دہشت گرد کہتی ہے، اور جنہوں نے پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے، وہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے پاکستان میں آگ لگا رہے ہیں۔
دہشت گردی خیبر پختونخوا اور پاکستان کے عوام کے لیے کسی “بیانیے کی جنگ” نہیں ہے، اس سے ہر شہری متاثر ہے- عمران خان نے ہمیشہ کہا ہے کہ اپنے ہی لوگوں پر ملٹری آپریشنز کرنا اور انہیں بےگھر کرنا کسی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہے۔ ڈرون اٹیکس اور نام نہاد “کولیٹرل ڈیمج” سے دہشت گردی بڑھتی ہے۔ میں اس بات پر چٹان کی طرح قائم ہوں۔ آج خیبر پختونخوا میں یہ صرف PTI کا موقف نہیں رہا، بلکہ ہر سیاسی و مذہبی جماعت اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے شخص کا یہی موقف ہے، جس کے دستخط صوبائی اسمبلی کے جرگے میں بطور ثبوت موجود ہیں۔
تحریک انصاف کی وفاقی حکومت میں پاکستان اور خیبرپختونخوا Terrorism نہیں Tourism کے لیے جانے جاتے تھے- رجیم چینج کے بعد دہشتگردی کو دوبارہ جان بوجھ کر خیبر پختونخوا پر مسلط کیا گیا۔ جب 2022 کی گرمیوں میں ہم نے آواز اُٹھائی تو آپ نے ہی ہمیں جھوٹا کہا، لیکن آج اُسی دہشت گردی کو بہانہ بنا کر معصوم پختونوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔
جب میں کہتا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں ۱۰۰ دن کے اندر امن آ سکتا ہے اور آپ نے صرف پالیسی میں تبدیلی لانی ہے، کیونکہ آپ کی موجودہ پالیسی کامیاب نہیں ہے، تو اُس بات پر عمل نہیں کیا جاتا۔ تو دہشت گردی کی سہولت کاری کون کر رہا ہے؟ ہمارے وزیروں اور کارکنوں کو اپنے “گُڈ” لاڈلوں کے ساتھ مل کر کون اُٹھا رہا ہے؟ ہمارا خریدا ہوا اسلحہ کون ہماری پولیس تک نہیں پہنچنے دے رہا؟ ہماری پولیس بغاوت کرنے پر کیوں مجبور ہو گئی ہے؟
بلوچستان اور وفاقی حکومت ایک پیج پر ہیں، پھر وہاں بھی امن کیوں نہیں آ رہا؟ دہشت گردی میں پاکستان پہلی بار پہلے نمبر پر کیوں آ گیا ہے؟ کیونکہ خود کو عقلِ کل سمجھنے والے پہلے بھی غلط تھے، آج بھی غلط ہیں، اور جب تک اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کرتے، تب تک غلط ہی رہیں گے۔
باقی، ہم ۹ مئی کو دوبارہ نہ ہونے دیں گے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دیں گے۔ جس نے CCTV فوٹیجز چُرائیں، اُسی نے ۹ مئی کروایا۔
4 اکتوبر، گنڈی چوک، دن ایک بجے۔ سب پاکستانی یاد رکھیں !!
اگر خیبر پختونخوا سے آنے والا احتجاجی طوفان اسی شدت سے اسلام آباد پہنچتا ہے، تو وفاقی حکومت کے پاس آپشنز بہت محدود رہ جائیں گے۔ سیاسی استحکام کا واحد راستہ عوامی فیصلے کو تسلیم کرنا ہے۔
(Team)
ایسی عدالتیں ہمارے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں کہ جنہیں تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی اتنی فکر تھی کہ اس کے آنے سے اسلام آباد بند ہو جائے گا، لیکن یہ جو دو ہفتوں سے حکومت نے خود اسلام آباد کو کنٹینر لگا کر بند کر دیا ہے، اس کی کوئی فکر نہیں ہےـ
ایسے ٹاؤٹ عدالتوں نے کیا کرنا ہے؟
#اکتوبر4_آغاز_مزاحمت
پشاور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی حیات آباد انڈر پاس کے افتتاح کےلئے پہنچے،تحریک انصاف کے کارکن بڑی تعداد میں جمع ہوگئے،عمران خان کے حق میں نعرے بازی۔