مشرف کے پاکستان کیخلاف جرائم۔ 🧵
یوں تو جنرل مشرف کے سیاہ کارناموں کی ایک طویل فہرست ہے,لیکن میں یہاں صرف انکا ذکر کروں گا جس نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا:
1-جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کے مارشل لاء لگایا۔
2-ڈاکٹر قدیر کو ذلیل کیا اور نظر بند کیا۔
-3امریکہ کی جنگ میں
اگر PTIکی سوشل میڈیا پے گولہ باری کم کرنے سے ہمارے اسیران رہا ہوتے ہیں تو ہمیں یہ راستہ ضرور اپنانا چاہیے۔
اس وقت سب سے اہم PTIکے قیدیوں کی رہائی ہے تا کہ وہ اپنے گھر واپس جاسکیں۔
اس کے لیے اگر ہمیں کچھ کمپرومائز کرنے پڑیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔
حکمت کا تقاضہ یہی ہے۔
حضرت موسی نے بھی فرعون سے لڑای نہیں کی بلکہ ایک حکمت کے تحت اس علاقے سے اپنی قوم کو لے کے چلے گے۔ حضور ﷺ نے بھی اپنی مکی زندگی میں تمام ظلم کے باوجود کوئ جنگ نہیں کی۔
وجہ یہی ہے کے صبر اور حکمت سے کام لے کر ایک وقت کے بعد اللہ آپکو کامیاب کر دیتا ہے۔
بہت سوچ بچار کے بعد اس نتیجہ پے پہنچا ہوں کے عمران خان کی جدو جہد میں حکمت کی شدید کمی ہے۔
ٓٓایک ظالم قوت سے لڑنے کا اپنا ایک طریقہ کار ہے۔ جس میں صبر بھی بہت چاہیے ہوتا۔
اگر آپ ظالم کو چھیڑیں گے تو ظاہر ہے وہ آپ پے حملہ آور ہوگا۔
آپ کا فرض ہے کے اپنے لوگوں کو بچایں۔
عمران خان کو سیاسی جماعتوں سے بات کرنے کی شدید ضرورت ہے۔
ان جماعتوں میں PPPسر فہرست ہو سکتی۔ سب سے پہلے اپنے سیاسی اسیران کو جیلوں سے چھڑوائیں۔ چاہے اس کے لیے کچھ لین دین کرنا پڑے۔
ظالم سے لڑنے کا ایک خاص طریقہ کار ہے۔
اتنی بڑی لڑائی حکمت و دانشمندی کے بغیر نہیں جیتی جا سکتی۔
بہ�� سوچ بچار کے بعد اس نتیجہ پے پہنچا ہوں کے عمران خان کی جدو جہد میں حکمت کی شدید کمی ہے۔
ٓٓایک ظالم قوت سے لڑنے کا اپنا ایک طریقہ کار ہے۔ جس میں صبر بھی بہت چاہیے ہوتا۔
اگر آپ ظالم کو چھیڑیں گے تو ظاہر ہے وہ آپ پے حملہ آور ہوگا۔
آپ کا فرض ہے کے اپنے لوگوں کو بچایں۔
ایک پوائنٹ ایجنڈا پے سب سے بات ہو سکتی۔
نوازشریف، زرداری، اور باقی سیاسی جماعتوں سے بات کی جائے کی فوج کی سیاست میں ہر قسم کی مداخلت کی مخالفت کی جائیگی۔
اور عمران خان اس بارے میں پہل کر سکتے۔
عمران خان کی حکمت عملی میں کچھ واضح غلطیاں ہیں۔
یہ ایک ملک نہیں بلکہ جنگل ہیں جہاں ہر طرف بھیڑیے ہیں۔
ٓٓاور جنگل میں بہادری سے زیادہ حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔
احتجاج اور کوئ بھی ایسا کام جس سے ورکرز مشکل میں آتے ہوں کو ترک کرنا چاہیے۔
اور سیاستدانوں سے بات ہونی چاہیے۔
عمران خان کی حکمت عملی میں کچھ واضح غلطیاں ہیں۔
یہ ایک ملک نہیں بلکہ جنگل ہیں جہاں ہر طرف بھیڑیے ہیں۔
ٓٓاور جنگل میں بہادری سے زیادہ حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔
احتجاج اور کوئ بھی ایسا کام جس سے ورکرز مشکل میں آتے ہوں کو ترک کرنا چاہیے۔
اور سیاستدانوں سے بات ہونی چاہیے۔
پاکستان کی عدالتیں اس ملک کا سب سے بڑا فراڈ ہیں۔
ججز دس دس لاکھ تنخواہیں لیتے ہیں لیکن جب ظالم کے آگے کھڑے ہونے کی باری آتی ہے تو کچھ نہیں کر پاتے۔
یہ چیف جسٹس اور باقی ججز سب بقاو مال اور بزدل ہیں۔
ان سے کوئی امید نہ رکھیں۔
شہر میں گولی چلتی ہے تو سب سے چھوٹا اور ماٹھا رپورٹر بھی ہسپتال کی طرف بھاگتا ہے، ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی گنتی کرتا ہے۔ مطیع اللہ جان یہی نشہ کرنے ہسپتال پہنچا تھا،
Source: BBC News اردو https://t.co/b9a237Q6Mb
بندوق سے مقابلہ ہوتا ہے تو پتلونیں اتار دیتے ہیں۔
بندوق سے مقابلہ ہوتا ہے تو اپنے فوجی کارگل میں چھوڑ آتے ہیں۔
بندوق سامنے ہوتی ہے تو ایبٹ آباد میں امریکیوں کے سامنے چوں نہیں نکلتی۔
اور نہتے لوگوں کو مار کے جشن مناتے ہیں۔
اگلی نسل کے بد نسلے ہیں۔۔
What's the solution for all this Pak Army vs People mayhem?
Well, there is no solution. If you think you can reclaim your rights after Asim is gone, you're wrong.
Ask PTM, Balochs, and other suppressed and they'll tell you.
Mark my words: PTI leadership will try its best to downplay the massacre, because this is what establishment wants.
There are no press conferences. No engagement with int'l media. no naming of Asim Munir.
They think if they do this, they'll go straight to jail.
کالونئل ریاستی نظام کا ظلم جبر اپنے عروج پر ہے۔
ایک طرف پی ٹی ائی احتجاج پر ظلم جبر، شھادتیں، زخمی اور گرفتاریاں تو دوسری طرف انکو کوریج دینے والے صحافی مطیع اللہ جان کی اغوائیگی اور جھوٹے ایف ائی ار۔
اس ظلم جبر پر ہمیں سخت افسوس ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں پی ٹی ائی اور حق گو صحافیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
ریاستی میشنری عوام پر کئے گئے ظلم جبر کو بطور فتح جشن منا رہی ہے مگر یقین کر لے کہ یہی اعمال ان ظالموں کے شکست اور بھیانک انجام کا سبب بنینگے۔
پی ٹی ائی کے شہیدوں کے اللہ تعالی درجات بلند فرمائے اور زخمیوں کو کامل شفاء نصیب فرمائے۔آمین
ظلم جبر اور طاقت کے ناجائز استعمال کے زریعے عوام کو خاموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔
جتنا یہ ظلم زیادہ کرینگے اتنا ہی ان کے زوال کے دن کم ہوتے جائینگے بشرطہ یہ کہ مختلف عوامی حلقے انکے خلاف جدوجہد میں حوصلے بلند رکھے اور اپنی جدوجہد جاری رکھے۔
اتنا سب کچھ ہو گیا۔ ا گر پی ٹی آی لیڈرشپ جنرل عاصم منیر کا اب بھی نام نہیں لے سکتی تو یہ سب بزدل ہیں۔
آج ہی سے ہر زبان پے عاصم منیر قاتل کا نام ہونا چاہیے۔
اسد طور اور مطیع اللہ جان اگر نام لے سکتے ہیں تو آپ کیوں نہیں؟
انتہائ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کے PTIکی لیڈر شپ بزدلی کے تمام ریکارڈز توڑ رہی ہے۔
گنڈہ پور کا متبادل سامنے نہ آنا انتہائ بزدلی ہے۔
اگر ابھی کچھ نہ کیا تو پھر بعد میں سب آئین آئین کھیلتے رہ جائیں گے۔
اس وقت اشد ضرورت ہے کو احتجاج کو کوئی دوسرا لیڈر لیڈ کرے۔
اس معاملے میں خاموشی تحریک لے لیے خطرناک ہے۔
سمجھ سے باہر ہے کے KPKسے ابھی تک کوئ بلند آواز نظر نہیں آئی۔