“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
As a court reporter in Pakistan for about 30 years now I can only say that the judiciary should at least fix appeals of former prime minister for an early decision, whatever this may be. It seems that the judges are afraid of giving a final judgement on his cases because they know what we all know- he has been a victim of unfair trial in almost every case and conviction.
Our father lived in Pakistan - away from us - for most of our lives. Not because he had to, but because he chose to stand up against a corrupt regime. While he wasn’t there every day as a father, Pakistan had him as a leader. He gave his country everything: hospitals, universities, and a movement for justice.
He’s been offered the chance to spend the rest of his days in comfort - going on walks or playing cricket with us in England. Instead, he chooses to remain locked away in a dark prison cell.
His sacrifice is for Pakistan.
His strength comes from its people.
میں نے گذشتہ ٹویٹ میں خیبر پختونخواہ خصوصاً سابقہ فاٹا کے حوالے سے ”ریاست“ کی نئی جنگ کی خواہش اور اس سے وابستہ وقتی مفادات کے لیے نئے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے امن کے لیے آواز اٹھانے والوں کی زندگی کو لاحق خطرات سے آپ کو آگاہ کیا تھا۔ نہ صرف امن کی ہر آواز کے لئے زمین تنگ کی جارہی ہے بلکہ فضاء میں ڈرون بھی اس غرض سے پیچھا کرتے ہیں۔ آج باجوڑ کا افسوس ناک واقعہ ان خدشات اور معلومات کو بھی درست ثابت کرتا ہے۔ نئی جنگ کی خواہش وسائل پر قبضے سے لے کر امن کی آوازوں کو دبانے تک وہی پلے بک ہے۔
میری تمام ساتھیوں سے گزارش ہے کہ خیبر باجوڑ اور وزیرستان میں جاری امن مارچز اور آنے والے جرگے کے سامنے اب یہ بات بھی رکھیں کہ ”امیر شہر کو اونچا سنائی دیتا ہے“ پختونخواہ اور امن پسندوں کی آواز اگر اسلام آباد تک نہیں پہنچ رہی تو کیا ان مارچز کا رخ اسلام آباد کی طرف کیا جائے؟ اور جب تک ریاست اپنی پالیسی پر نظر ثانی نہیں کرتی تب تک واپسی نہ ہو؟ اس عفریت کے منہ کو خون لگ چکا ہے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کتنی ریلیز نکالیں کتنے جرگے کریں اور کتنی تعداد میں نکلیں۔ یہ ہر جرگے کے بعد ڈرون حملے بھی جاری رکھے ہوئے ہیں امن کی آواز کو بھی دبایا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی جنگ کے لئے ماحول بنایا جا رہا ہے جس سے آپریشن کے نام پر ایک دفعہ پھر ہمارے لوگ بے گھر کئی جائیں گے اس پر کام جاری ہے۔ نئے تجربے کے لئے ابھی سے کمیٹی کمیٹی کھیلی جا رہی ہے تفصیلات پچھلے ٹویٹ میں بیان کر چکا ہوں۔ تو پھر کم از کم دنیا تو دیکھے کہ ایک ایسا ملک بھی ہے جہاں عوام امن اور خود کو ریاست کہنے والے جنگ چاہتے ہیں، عوام ڈرون کے خلاف اور ریاست اپنے ہی شہریوں کو ڈرون حملوں میں مار رہی ہے، عوام اپنے وسائل کا تحفظ اور ریاست ان کو لوٹنا چاہتی ہے، عوام اپنے گھروں کی آبادی اور ریاست اس کو ڈالری جنگ کے لئے تباہ کرنا چاہتی ہے۔ کیونکہ جب طاقت کا حصول اور طول ہی واحد خواہش اور ترجیح ہو تو اسی طرح اپنے جرائم کو چھپانے اور خواہش کی تکمیل کے لئے ہر ناجائز کام کیا جاتا ہے عوام پر ظلم وجبر ہوتا ہے۔ پھر اسی طرح مقبول لیڈر جیل میں،فسطائیت عروج پر،خون سستا اور امن نا پید ہوتا ہے۔ مسئلہ گلگت سے وزیرستان، پنجاب سے سندھ اور بلوچستان تک ایک ہی ہے؛ آئین کی معطلی۔ آئین کی حقیقی معنوں میں بحالی ہی تمام مسائل کا حل اور ہماری جدوجہد ہے۔ ہمیں متفقہ فیصلہ کرنا ہوگا اگر جاری تحریک سے ہمارا امن حاصل نہیں ہوتا اور پرانے ناموں کے ساتھ نئے تجربے کی خواہش کو ترک نہیں کیا جاتا تو پھر تیار رہیں انشاءاللہ ہر علاقے کے جرگے کے فیصلے کے بعد تاریخ کا سب سے بڑا مارچ کریں گے۔
رہی بات ناحق اسیران کی رہائی اور آئین کی بحالی کی تحریک کی تو اس میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب سیکٹری جنرل سلمان اکرم راجہ صوبائی صدور کا خان صاحب کی فیملی اور تنظیموں سے مشاورت سے جو جو لائحہ عمل سامنے آتا جائے گا ہم ہر لحاظ سے اس کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں گے۔ ہم خان صاحب کی طرف سے نامزدہ کردہ ذمہ داروں عہدیداروں اور تنظیموں کی ہر کال پر لبیک کہیں گے۔
“I remain a free man, even in jail, but my nation is trapped in a prison where there is no independent judiciary, no genuine democracy, and no free media. Every Pakistani must rise up for their true freedom!”
The cornered Tiger, @ImranKhanPTI roars from the Prison asking all Pakistanis to rise against tyranny and injustice.
Former Prime Minister Imran Khan's Message – July 8, 2025
“When a nation rises for its rights, no force on earth can suppress it. I remain a free man, even in jail, but my nation is trapped in a prison where there is no independent judiciary, no genuine democracy, and no free media. Every Pakistani must rise up for their true freedom!
For two years, I have remained imprisoned solely for the sake of the Pakistani nation, so that no one can enslave you. Now, the time has come for you to stand up for your own freedom and defeat this oppressive system.
I repeatedly called for dialogue in the best interest of the country. But the time for negotiations has now passed. After the 26th Constitutional Amendment, the rule of law, the Constitution, and the very concept of justice have been buried. Any hope of receiving justice from the courts has been completely extinguished. The Pakistani nation now has only one path forward: a nationwide protest movement. Nothing short of this can pull us out of this quagmire of lawlessness.
A complete roadmap for the nationwide movement will be announced this week. I will have completed two full years of unjust imprisonment on August 5th. One that very day our nationwide protest campaign will be at its peak.
There will be no further negotiations of any kind with anyone anymore! The only path forward is mass protest in the streets, so the nation can rid itself of the puppets forcibly imposed upon it as its rulers.
Let me be clear: any officeholder in Pakistan Tehreek-e-Insaf who cannot shoulder the weight of this movement should step aside immediately. Those who have submitted to these oppressors must remember: these very people will eventually crush you, and the people will never forgive you either.
Even leaders like Nelson Mandela and Gandhi were allowed to meet other prisoners, read books, and write. I am enduring a form of solitary confinement where I am locked for 22 hours a day in a 6x8 foot cell. Police officers are forbidden from speaking to me. I have been denied books for the past six months. I am not allowed to speak to my children. My lawyers and colleagues cannot visit me. My family is allowed only a few minutes of visitation each week, and many of them are often denied even that. My personal physician has not been allowed to examine me for the past ten months. Even my access to newspapers and television has been cut off for the last week. Books sent by my family are withheld and kept in the superintendent’s office. My wife is also being held in inhumane conditions in solitary confinement.
Behind all of this is the establishment and its pawns. All of this is being done to break me. But I will continue to stand against tyranny until my very last breath.
We restored the constitutional and legal rights of the tribal areas after decades and provided full resources for reconstruction and development. The current regime not only withheld their rightful funds for three years but is now actively working to roll back their constitutional rights, an action that is utterly condemnable. I commend our parliamentarians and representatives for boycotting these unlawful measures.
As for our Punjab MPAs who were suspended for protesting during the fraudulent government’s budget session, the real reason behind it was that their protest against Maryam Nawaz was intolerable for the regime, although it is a long-standing tradition to protest during budget sessions.”
“جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ میں جیل میں بھی آزاد ہوں مگر میری قوم باہر ایک ایسی قید میں ہے جہاں نہ آزاد عدلیہ ہے نہ آزاد جمہوریت نہ ہی آزاد میڈیا۔ تمام پاکستانیوں کو اب اپنی حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہو گا!!
دو سال سے میں صرف پاکستانی قوم کی خاطر جیل میں قید ہوں تا کہ آپ کو کوئی غلام نہ بنا سکے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ آپ خود اپنی آزادی کے لیے کھڑے ہوں اور اس جابر نظام کو شکست دیں۔
ملک کی خاطر میں نے بارہا مذاکرات کی بات کی مگر اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے ۔ چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد اس ملک میں آئین و قانون اور انصاف کو دفن کر دیا گیا ہے۔ ہمیں عدالتوں سے انصاف کی جو امید تھی وہ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، اس لیے اب پاکستانی قوم کو ملک گیر احتجاجی تحریک کے علاوہ کوئی اور طریقہ لا قانونیت کی اس دلدل سے باہر نہیں نکال سکتا۔
ملک گیر تحریک کا مکمل لائحہ عمل اسی ہفتے پیش کیا جائے گا- پانچ اگست کو میری نا حق قید کو پورے 2 برس مکمل ہو جائیں گے۔ اسی روز ہماری ملک گیر احتجاجی تحریک کا نقطہ عروج ہوگا۔
اب کسی سے کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے! صرف اور صرف سڑکوں پر احتجاج ہو گا تاکہ قوم زبردستی کے مسلط کردہ کٹھ پتلی حکمرانوں سے نجات حاصل کرے۔
دوٹوک پیغام دے رہا ہوں کہ تحریک انصاف کا جو عہدہ دار اس تحریک کا وزن نہیں اٹھا سکتا وہ ابھی سے الگ ہو جائے۔ جن لوگوں نے اُن کے آگے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہیں وہ یاد رکھیں! کچھ عرصے بعد یہی لوگ انہیں کرش کر دیں گے اور عوام بھی انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی-
نیلسن منڈیلا اور گاندھی تک کو دیگر قیدیوں سے ملنے، کتابیں پڑھنے اور کتابیں لکھنے کی اجازت تھی- میں ایک ایسی قید کاٹ رہا ہوں جہاں روزانہ 22 گھنٹے مجھے 6x8 کے سیل میں بند رکھا جاتا ہے، پولیس اہلکار تک مجھ سے بات نہیں کر سکتے، 6 ماہ سے کتابیں بند ہیں، میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میرے وکلأ اور ساتھی مجھ سے نہیں مل سکتے، میرے اہل خانہ کو ایک ہفتے بعد چند منٹ کے لیے ملنے دیا جاتا ہے اور اکثر انہیں بھی روک لیا جاتا ہے، دس ماہ سے میرے ذاتی ڈاکٹر سے میرا معائنہ نہیں کروایا گیا، پچھلے ایک ہفتے سے تو میرا اخبار اور ٹی وی بھی بند ہے۔ جو کتابیں مجھے خاندان کی طرف سے بھجوائی جاتی ہیں وہ تک مجھے مہیا نہیں کی جاتیں اور سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں پڑی رہتی ہیں۔ میری اہلیہ کو بھی بدترین حالات میں قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے-
اس سب کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ اور اس کے بغل بچوں کا ہاتھ ہے۔ یہ سب کچھ مجھے توڑنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ لیکن میں آخری سانس تک ظلم کے خلاف کھڑا رہوں گا-
ہم نے قبائلی علاقوں کو کئی دہائیوں بعد ان کے آئینی و قانونی حقوق دلوائے اور علاقے کی تعمیر نو اور ترقی کے لیے بھرپور وسائل مہیا کیے- موجودہ رجیم نے پہلے تو تین سال تک ان علاقوں کے جائز فنڈز روکے رکھے اور اب ان کے آئینی حقوق واپس لینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے- ہمارے پارلیمینٹیرینز اور نمائندوں نے ان اقدامات کا بائیکاٹ کر کے اچھا فیصلہ کیا-
ہمارے پنجاب کے ایم پی ایز کو جعلی حکومت کے بجٹ کے دوران احتجاج کرنے پر معطل کرنے کے پیچھے یہی وجہ ہے کہ مریم نواز کے خلاف احتجاج ان کو بہت ناگوار گزرا ہے- حالانکہ ہمیشہ بجٹ کے دوران احتجاج ہوتا آیا ہے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (۸ جولائی، ۲۰۲۵)
My father, former Prime Minister Imran Khan, has now spent over 700 days in prison - held in solitary confinement. He is denied access to his lawyers, not allowed visits from his family, fully cut off from us (his children), and even his personal doctor is refused entry. This is not justice. It is a deliberate attempt to isolate and break a man who stood for rule of law, democracy, and Pakistan.
@najam_ali Pakistan has a history of extensions for the army chiefs. Now judiciary, election commission are also seeking the same. Retired judges and generals have occupied key positions across departments.
حُر کے لشکرِ یزید سے نکل کر لشکرِ حسین میں شامل ہونے تک یہ جو رات ہے یہ بڑی کشمکش کی رات رہی ہو گی۔ اسی رات نے حُر کا مقدر بدل دیا۔ اسے ذِلتوں سے نکال کر حسینی بنا دیا اور تا قیامت امر کر دیا۔ حُر کا نام جب آئے گا، جہاں آئے گا احترام میں سر جھک جائیں گے۔ آج اس کا نام ضرب المثل بن چکا ہے۔ "مردِ حُر"۔
یہ وہی حُر تھا جس نے 2 محرم کو حسینی قافلے کو زبردستی کربلا میں روک لیا تھا اور قافلے کی ناکہ بندی کر دی تھی۔ حُر کی کمان میں تین ہزار نفوس پر مشتمل لشکر تھا۔ امام عالی مقام کے گھوڑے کی نکیل میں حُر نے ہاتھ ڈالا تو امام نے قدرے غصہ فرماتے ہوئے کہا " تیری ماں تیرے غم میں بیٹھے، کیا تو بھول گیا کہ کس کے گھوڑے کو روک رہا ہے ؟ " ۔۔ حُر نے جواب دیا " آپ کی والدہ خاتونِ جنت ہیں، میں جواب میں آپ کو کچھ کہہ کر گستاخی نہیں کر سکتا۔ مجھے حکم ہے کہ جہاں آپ کو پا لوں وہیں روک لوں۔"
اور یہ وہی حُر ہے جو صبحِ عاشور فجر سے ذرا پہلے اپنے بیٹے کے ہمراہ امام کے پاس آیا اور بولا کہ میرے گناہوں کی کوئی معافی ہے ؟ ۔ یہ وہی ہے جو کربلا کا پہلا شہید ہے۔ اسی نے عرض کی تھی کہ آپ کو سب سے پہلے روکا بھی میں نے تھا اور اب سب سے پہلے جنگ کو بھی میں جاؤں گا۔
یہ جو نو اور دس محرم کی درمیانی رات ہے جسے تاریخ شبِ عاشور لکھتی ہے۔ یہ حُر کے لئے بہت بے چین رات رہی ہو گی۔ اس کی نگاہیں خیام گاہ حسینی پر ٹکی رہی ہوں گی۔ اسی شب امام عالی مقام نے اپنے اصحاب کو خیمے میں جمع کیا اور چراغ گُل کر کے مکمل اندھیرا کرتے ہوئے کہا " صبح موت یقینی ہے۔ میں تم سب سے اپنی بیعت اٹھاتا ہوں۔ اس اندھیرے میں جو جانا چاہے ابھی چلا جائے۔ سپاہ یزید کی دشمنی مجھ سے ہے۔ وہ میرے اور میری اولاد کے خون کے پیاسے ہیں۔ تم سب کو وہ بخوشی جانے دیں گے۔ دیکھو اگر تم کو میرے منہ پر رخصت ہوتے شرم آتی ہے تو میں نے چراغ بجھا دیئے ہیں۔ اور دیکھو، اگر تم اس وجہ سے برائے مروت رکے ہو کہ بروزِ محشر میرے نانا کو کیا منہ دکھاؤ گے تو میں حسین ابن علی تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تمہاری وفا کی گواہی میں دوں گا۔ میں اپنی رضا سے تم سب سے اپنی بیعت اٹھاتا ہوں۔"
جب خیمہ گاہ سے کوئی بھی رخصت نہ ہوا اور چراغ دوبارہ روشن ہو گئے تو شاید یہی وہ فیصلہ کن گھڑی رہی ہو جس نے حُر کی قسمت لکھ دی۔ اس نے اپنے بیٹے کو جب اپنا فیصلہ سنایا تو وہ اپنے باپ کے ہمراہ ہو لیا۔
حُر بننا آسان تھوڑی ہوتا ہے۔ اک طرف دنیا ، دولت، عیش و عشرت، تین ہزار نفوس پر مشتمل دستے کی سپہ سالاری۔ دوسری جانب نری موت، پکی موت، یقینی موت۔۔۔ فیصلہ تو حق و باطل کا تھا۔ اس نے کیا خوب فیصلہ لیا۔
ساڑھے چودہ صدیاں بیتیں ، حُر ایک کردار تھا، جیتا جاگتا کردار۔ جب موت یقینی ہو اور بالکل سامنے ہو تو کوئی نہیں مرتا صاحب ! حُر بننا آسان نہیں، بہت کٹھن ہے بہت کٹھن
میرا حسین ابھی کربلا نہیں پہنچا
میں حُر ہوں اور لشکرِ یزید میں ہوں
منقول
خطے بلخصوص خیبر پختونخواہ کو نئی جنگ میں دھکیلنے اور دہشت گردی کی واپسی کی غلط پالیسی کی نشاندہی کی تو پروپریگنڈا قرار دیا گیا۔ عوامی طاقت سے دہشت گردوں کو واپس دھکیلا تو فیصلہ سازوں کو اس میں اپنی شکست محسوس ہوئی اور غدار ڈکلئیر کر دیا۔ مالاکنڈ میں تین دفعہ اس کوشش کو ناکام بنایا تو جنوبی اضلاع اور سابقہ فاٹا کی جانب سے کھیل کا آغاز ہوا اور ہمارے سروں کی قیمت لگا دی گئی۔ مگر اس سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ ہر بات، ہر خدشہ، اور ہر دعوی سچ ثابت ہوا۔
کاٹلنگ میں ڈرون حملہ ہوا معصوم عوام شہید ہوئے تو فیصلہ سازوں نے پبلک انٹرسٹ میں ان کو دہشت گرد ثابت کرنے کا بیانیہ چلوایا۔ ہم نے پوری دنیا کو بتایا کہ یہ کوئی دہشت گرد نہیں سوات کی گجر برداری سے تعلق رکھنے والے معصوم لوگ تھے لیکن ریاست پہ قابض مافیہ اور ان کا سہولت کار میڈیا ان کو دہشت گرد ثابت کرنے پر تلا رہا۔ اسی طرح ڈرون حملوں میں اضافہ ہوتا گیا اپنے ہی شہریوں پر ان کی اپنی ہی فوج پبلک انٹرسٹ میں ڈرون حملے کرتی رہی۔ گھر، کھیل کے میدان، بزرگ بچے سب پبلک انٹرسٹ میں بلا تفریق قتل کیے گئے اور ہر دفعہ نیا بیانیہ، نیا جھوٹ۔۔ کبھی کہیں بچے اور عوام نہیں دہشت گرد مارے گئے۔ کبھی کہیں کہ ڈرون طالبان نے کیا تو یہ بھی کس کی نا اہلی ہے؟ یہاں تک امن تحریک کے ساتھیوں نے پیغامات بھیجے کہ ہمارے اوپر نہ صرف زمین تنگ کر دی گئی ہے بلکہ فضاء میں ڈرون بھی پیچھا کرتے ہیں۔ اگر ڈرون گرانا شروع کر یں گے تو کہا جائے گا کہ ریاست سے ٹکر لے لی، دہشت گرد ہیں۔ اگر خاموش رہتے ہیں تو ایک ایک کر کے امن کے لیے اٹھنے والی ہر آواز خاموش کردی جائیگی۔
اور اب نیا تماشہ شروع ہونے لگا ہے اٹھارویں ترمیم پاس ہوچکی، فاٹا کا انضمام ہوچکا ہے لیکن چونکہ بڑی گیم کا حصہ بننے کی خواہش اور آفر ہے اس لیے صوبائی حکومت اور منتخب نمائندوں کو بائی پاس کرکے پرانے مقامی نظام کا نام دے کر پبلک انٹرسٹ میں نیا تجربہ کرنے جا رہے ہیں۔ مقصد نئی جنگ یا آپریشن کی آڑ میں معدنیات پر قبضہ، اور بین الاقوامی مفادات ہیں۔ وگرنہ پبلک انٹرسٹ کی فکرہوتی تو بارڈر سیکیوریٹی کی ذمہ داری سرانجام دیتے اس کےلیے تو صحیح غلط کی کوئ توجیح نہیں درکار تھی وہ تو آپ کی ذمہ داری تھی پھر کیسے آتے ہیں دہشت گرد، کیوں ہوتی ہے دہشت گردی؟ پبلک انٹرسٹ کی پروا ہے تو ڈرون اڑا کر اپنے ہی لوگوں کو مارنا بند کر دیں۔ پبلک انٹرسٹ سے کوئی سروکار ہے تو فاٹا مرجر کے بعد طے شدہ این ایف سی شئیر ان کو کیوں نہیں دے رہے وہ دیجئے۔ ہمارے لوگوں کی فکر ہے تو ہمارے وسائل کو ہمارے لیے مسائل کا سبب نہ بنائیں۔اگر اتنی فکر ہے تو کرفیو لگا کر سکول ہسپتال کاروبار بند کرنے کی بجائے، غیر قانونی کان کنی بند کر دیں لیکن نہیں آپ کی نظر میں پبلک انٹرسٹ یہ ہے کہ پہلے دہشت گردی کی واپسی کو پروپیگنڈا قرار دے دیا، پھر امن کی آوازوں کو غدار ڈیکلئیرکردیا، پھر ڈرون حملوں کے زریعے خوف پھیلایا، پھر کرفیو، پھر آپریشن کی خواہش کا اظہار اور اب جرگہ سسٹم بحال کرنے جیسے نام دے کر نئی چالیں چلنی ہیں ۔ ہاں یہ علاقے یہ لوگ آپ کے لیے ہمیشہ سے تجربہ گاہ رہے ہیں لیکن اب نہیں۔ اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ آپ آپریشن کا اعلان کرکے ایک دفعہ پھر ہمیں گھروں سے نکال دیں گے تو یہ آپ کی بھول ہے یہ ۲۰۰۰۸ نہیں ہے۔ قوم دیکھ رہی کہ جب ریاست کسی اور محاذ پر مصروف ہوجاتی ہے تو کیسے سابقہ فاٹا میں بھی امن آجاتا ہے۔
سو اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ ڈالری جنگ شروع کرکے، دنیا کو ہمارے جنازے دکھا کر، ڈرون میں معصوم لوگوں کو شہید کرکے، ڈالر کما لیں گے اور ان سب کی آڑ میں ہمارے علاقوں کے ذخائر پر قبضہ کر لیں گے تو یہ آپ کی خام خیالی ہے۔ اب پبلک اپنا انٹرسٹ آپ کے بیانیوں سے نہیں جانچتی۔ باجوڑ سے وزیرستان تک جو خونریزی کا کھیل کھیلا جا رہا ہے اپنی طاقت کو طول دینے بڑی طاقتوں کی لڑائی میں ریلیونٹ رہنے اور ہمارے وسائل کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنے کے لئے ان ڈراموں کو بند کرنا ہوگا۔ گذشتہ تین سالوں میں، کل اور آج جس انداز سے لوگ نکلے ہیں آپ کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی ہوگی یہ آپ کے اپنے انٹرسٹ میں بہتر ہوگا!
میں اپنے لوگوں کو بھی کہتا ہوں کہ اس نئے کھیل سے باخبر رہیں اور اسی طرح متحد رہیں۔ ۱۱ تاریخ سے وزیرستان میں دھرنا شروع ہوگا، دیگر مارچز کے علاوہ اس میں بھی اپنی شرکت یقینی بنائیں۔ یہ پورا کھیل جس طرح ان فولڈ ہو رہا ہے اس کی تفصیل میں نے آپ کے امن نمائندوں کو پہلے سے بتائی ہوئی ان سب کی زندگی کو خطرات ہیں لیکن ایسے متحد رہیں گے تو اپنا امن حاصل کر کے ان کے مضموم مقاصد کو شکست دینے میں کامیاب ہوں گے۔
Imran Khan is Isolated!
Over the past 8 months, Imran Khan has been subjected to increasing isolation in Adiala Jail.
1. Imran Khan has not been allowed to speak to his sons for the past six months, despite jail regulations allowing weekly calls. This continued denial is both inhumane and unlawful.
2. Over the past month, the jail authorities have refused to provide him the books we submitted , a clear attempt to cut him off intellectually and spiritually.
3. For the past eight months, as head of the largest political party in Pakistan, Imran Khan has been barred from meeting his party members. He is being denied his constitutional right to political consultation and leadership.
4. Imran Khan has been denied proper access to his legal team for several weeks. On Tuesday, July 1, his lawyer Zaheer Abbas was granted only 95 seconds to consult with him , an utter mockery of due process.
5. Our family has been blocked from meeting Imran Khan for several months. For the past three months, my sisters and I arrive at Adiala, only to be stopped several kilometers before the prison by Punjab Police. Volunteers stand with us at these roadblocks. We then walk 1.5 km to the next blockade. After hours of waiting, only Dr. Uzma Khan and Noreen Niazi are allowed to briefly see their brother. What used to be a half-hour visit has now been reduced to just 15 minutes , for the past four Tuesdays.
6. For the past ten months, Imran Khan’s doctors ( Dr. Faisal Sultan and Dr. Aasim Yusaf ) have not been allowed to examine him. His health is being put at risk by the continued denial of essential medical care.
We have been told that this extreme isolation is being enforced on the instructions of Maryam Nawaz, not the colonel controlling Adiala. The jail lies in Punjab, where a 17-seat PML-N government is so fearful that it has blocked all access to Imran Khan. They fear any information going in or coming out.
Insha’Allah, we will continue to bring out Imran Khan’s complete message until he is freed from this illegal incarceration and once again leads his people.