اسلحے اور طاقت کے زور پر زبردستی نکالے گئے لوگ ہیں۔ سیاسی سوچ تبدیل ہوتی یا کسی لالچ کے لیے جانا ہوتا تو کافی پہلے چھوڑ جاتے۔ سیاسی لوگ تھے کوئی تربیت یافتہ کمانڈوز تو تھے نہیں کہ جرنیلوں سے لڑ جاتے مگر آفرین ہے ڈٹ جانے والوں خصوصاً ان خواتین پر جو یہ لڑائی بھی لڑ گئیں اور آج ملٹری اسٹیبلشمنٹ انہی کی وجہ سے ہلکان ہوئی پڑی ہے۔
میری گاڑی کو لے کر کچھ احمق شور کر رہے ہیں یہ گاڑی اس بجٹ میں نہیں 2024/2025 کے بجٹ میں منظور ہوئی تھی
یہ 13 کروڑ کی گاڑی ہے بُلٹ پروف بھی نہیں ہے مجھے نہیں سمجھ کس بات کا واویلاہے
یوسف رضا گیلانی حیران ہیں کہ انہوں نے حکومتی پیسے سے 13 کروڑ کی گاڑی لی تو لوگ سوال کیوں کر رہے ہیں
جنرل ایوب نے الزام لگایا کہ جب سہروردی وزیر اعظم تھے، انھوں نے اپنے اختیارات کے غلط استعمال میں ایک شخص سیٹھ نور علی کو چاولوں کا پرمٹ دیا تھا۔ فوجی عدالت میں سہروردی نے اپنا کیس خود لڑا سہروردی نے ریکارڈ سے ثابت کر دیا کہ پرمٹ کے اجرا کے لیے وزارت تجارت کے سیکریٹری نے ان سے منظوری لی ہی نہیں، بلکہ خود ہی پرمٹ جاری کر دیا، اسکندر مرزا اور جنرل ایوب خاں کے کہنے پر۔
مگر فوجی عدالت نے سہروردی کو سات سالہ نااہلی کی سزا تو پھر بھی سنا دی پریس کو عدالتی کارروائی رپورٹ کرنے سے بزور بندوق روک دیا گیا
66 سال گزر گئے کیا بدلا
https://t.co/QYRtj2WDI8
اب جولائی 2026 ہے مارچ 2037 کو 8 ماہ بعد بطور سینیٹر ان کی مدت ختم ہو رہی ہے سینیٹر عبد القادر ترمیم پیش کرنے والے اور کل سینیٹ کی کمیٹی میں جنہوں نے اس کے حق میں ووٹ دیا ان میں سے بھی کچھ سینیٹرز کی مدت مارچ 2027 میں ختم رہی ہے اسی لئے قبل از وقت انتظام کیا جا رہا ہے تاکہ سابق ہونے کے بعد بھی بلیو پاسپورٹ والی سہولت برقرار رہے ۔۔۔ حد ہے اشرافیہ کے اللے تللوں کی ۔۔۔ !!
کیا آپ لوگ ایک بات محسوس کر رہے ہیں کہ موجودہ حالات میں جہاں پورے پاکستان میں ہر طرف آگ دکھائی دے رہی ہے لیکن جو لوگ اس آگ کو بجھا سکتے ہیں وہ سارے جیلوں میں ہیں۔
پورے پاکستان کی بات کریں تو عمران خان ایک ایسا رہنما ہے جو ملک میں استحکام لا سکتا ہے، سب لوگوں کو اور تمام صوبوں کو اکٹھا کر سکتا ہے، وہ تین سال سے جیل میں ہے۔
بلوچستان میں حالات بدترین ہو چکے ہیں، ان حالات میں ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ عوام کو متحد کر سکتی ہے، علیحدگی پسندوں کو سیاسی دھارے میں لانے کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتی ہے، ہم نے اس کو سیاسی طور پر متحرک کرنے کی بجائے جیل میں ڈال دیا۔
آزاد کشمیر جیسے انتہائی حساس علاقے میں حالات بہت خراب ہیں، وہاں عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ عوام کھڑی ہے لیکن ہم نے عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنماؤں بشمول شوکت نواز میر جیل میں ڈال دیا ہے۔
پاکستان میں آگ لگانے والے کھلے گھوم رہے ہیں اور فائر بریگیڈ کو سلاخوں کے پیچھے بند کر دیا گیا ہے
تو فرمائیے محترمہ اب ان کے ساتھ کیا ہونا چاہیے۔۔؟
خدانخواستہ اگر یہی درندے آپ کے خاندان کی کسی خاتون کے ساتھ ایسا ہولناک جرم کرتے تو آپ کی نگاہ میں ان کا کیا انجام ہونا چاہیے بتائیے۔۔۔
رضا ڈار کے ساتھ قانون ضابطہ دیکھا جائے گا یا سی سی ڈی استعمال کی جائے گی ۔۔؟
ن لیگی صحافی بتاتے ہیں، قانون کی اصل حکمرانی تو پنجاب میں ہے، کوئی یہ بات سمجھا دے کہ 15 پر کال کے بعد IG کو پھر وزیراعلیٰ کو بتانا کون سا قانون ہے؟ قانون تو یہ ہے کہ 15 پر کال چلے، پولیس ملزم پکڑے، یہ وزیراعلیٰ تک بات پہنچانا سمجھ سے باہر ہے، احمد وڑائچ
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
@ahmadwaraichh
" عینی شاہد نے پولیس اور مریم نواز حکومت کا بھانڈہ پھوڑ دیا"
یکم جولائی 7:45 منٹ غازی روڈ پر ایک گاڑی نے ہمیں ہٹ کیا میں گاڑی سے باہر نکلا تو 2 خواتین گاڑی سے اتریں اور شور مچا دیا میں گاڑی کے پاس گیا تو وہاں پر (ہٹ کرنے والی) گاڑی نکل گئی ہم نے 15 پر کال کی ( جبکہ ڈی آئی جی نے کہا تھا ہالینڈ سے لڑکی کے باپ نے کال کی) کال کا ریکارڈ بھی انکے پاس موجود ہوگا، یاسر شامی کیساتھ عینی شاہد فیملی کی گفتگو
لگتا ہے اسٹیبلشمنٹ ن لیگ کو سیاسی طور پر صفر کرنے کے بعد اخلاقی طور پر بھی صفر کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے، اگر راول ڈیم ریسٹ ہاؤس ویڈیو سکینڈل سامنے آتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عوام کی نظر میں اگر ان کی رتی برابر عزت رہ گئی تھی تو وہ بھی صفر ہو جائے گی۔ بالکل جھاڑو پھیرنے کی تیاریاں لگتی ہیں
رضا ڈار کو کسی نے مخبری کی کہ انہیں گھر سے نکالو کیونکہ یہ خواتین اگر گھر سے بازیاب ہوتیں تو گھر کا مالک اور رضا ڈار بھی ملوث ہوتے رضا ڈار نے جان بوجھ کر گاڑی سلو کی اور پاسپورٹ اپنی ٹانگ پہ رکھے تاکہ یہ خواتین خود ہی گاڑی سے نکل جائیں اور پھر جب پولیس ان کو بازیاب کرے تو رضا ڈار ساتھ نہ ہو اب لاہور کے سیف سٹی کا اور مریم کا پتہ چلے گا کہ وہ خواتین کے لیے کتنی سنجیدہ ہیں ! مطیع اللہ جان ۔۔
محمد عمیر، ذیشان عزیز اور یاسر شامی تینوں صحافی داد کے مستحق ہیں جیسے انہوں نے غیر ملکی خواتین کے کیس میں ایک ایک پہلو کو رپورٹ کیا۔ خصوصا یاسر شامی کی غازی روڈ سے آنیوالی ویڈیو نے تو سارا کھیل ہی بے نقاب کر دیا۔ اب پولیس اور حکمران مجرموں کی صف میں کھڑے صفائیاں دینے پر مجبور ہیں۔
@MohUmair87@iemziishan
بحریہ ٹاؤن کارپوریٹ آفس ون اور ٹو ، ارینا سیمنا ، بحریہ ٹاؤن انٹرنیشل اکیڈمی اور سفاری کلب کو نیب کی جانب سے 7 جولائی کو نیلام کرنے کا فیصلہ ، 29 جون کو اس حوالے سے پبلک نوٹس اخبارات میں جاری کیا گیا
بحریہ ٹاؤن نے 7 جولائی نیلامی کا عمل اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا کل 6 جولائی کو جسٹس ارباب محمد طاہر بحریہ ٹاؤن کی درخواست پر سماعت کریں گے
بحریہ ٹاؤن کی جانب سے فاروق ایچ نائیک کیس کی پیروی کریں نائیک کافی بھاری وکیل ہیں پہلے بھی بحریہ ٹاؤن کے کیسز کی پیروی کرتے آرہے ہیں اب ان کی بھاری کا مطلب ہے کہ وہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے ممبر بھی ہیں
بطور ممبر وہ انہی ہائیکورٹس کے ججز کی کارکردگی کا بھی جائزہ لے سکتے ہیں
کیسا حسین امتزاج اور مفادات کا ٹکراؤ ہے
🚨 اسحاق ڈار نواسہ کیس : مجھے الگ کمرے میں لے جایا گیا میرے بر*** کیساتھ چھیڑا اور میرے جوتے اتار کر خود پہن لیے ،وہاں ایک شخص اور تھا جو انگلش روانی کیساتھ بول رہا تھا ؛ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تم لوگ ہمیں مار دو گے ، اس نے کہا کہ اگر تم نے ہمیں پیسے نا دیئے تو زندہ نہیں جاو گے- کچھ دیر بعد یہ شخص نیچے چلا گیا اور تین لوگ بیڈ روم میں آ گئے۔
ایک بڑی عمر کا شخص رائفل کے ساتھ تھا اس نے 2 لوگوں کو میرے پاس رکنے کا کہا۔ وہ صرف اردو بول رہے تھے ،اور زور زور سے ہنس رہے تھے ،انہوں نے مجھے جنسی تعلق کا کہا جس کا میں نے متعد بار انکار کیا ، کالے کپڑوں میں ملبوس شخص مجھے دوسرے فلور پر لے گیا اور مجھے برہنہ کیا۔ رضا ڈار آیا اور اس نے مجھے سے لیپ ٹاپ اور پیسوں کے بارے میں پوچھا میں نے سبز بیگ کی طرف اشارہ کر دیا۔اس دوران سٹیفنی کو واپس لایا گیا ، ہم دونوں سے پاسورڈ اور کمپیوٹر کے بارے میں پوچھتے رہے۔ یہ بیان 15-16 صفحات پر مشتمل ہے جس کے اندر خوفناک تفصیلات ہیں ۔ میری عمر 40 چالیس ہے ، سپین کے شہر ہنڈان دی لاس کی رہائشی ہوں ، حلف لیکر اپنا بیان ریکارڈ کروا رہی ہوں ، میری کہانی ویسی ہی ہے جیسے سٹیفنی نے بتایا : متاژرہ خاتون آسٹرڈ روبنس کا مبینہ بیان
لاہور غیر ملکی خواتین کے ساتھ پیش آنے والا معاملہ ، خواتین کے 164 کے بیانات پڑھ کر معلوم ہوتا ہے اسلام آباد کے عثمان مرزا جنسی تشدد کیس سے بڑا کیس ہے
اب پڑھ لیں عثمان مرزا کیس میں صلح نامہ کے باجود ، ایف آئی آر میں تاخیر کے باوجود کیا ہوا تھا
اسلام آباد ای الیون عثمان مرزا جنسی تشدد کیس کا واقعہ نومبر 2020 میں ہوا تھا ایف آئی آر جولائی 2021 کو درج ہوئی تھی متاثرہ لڑکا لڑکی نے ایک اسٹیج پر ملزمان کے ساتھ صلح کر لی تھی عدالت کے سامنے صلح کا بیان بھی دے دیا تھا کہ ہم کیس نہیں چلانا چاہتے ہمارا ملزمان سے کوئی مسئلہ نہیں
اس کے باوجود اس وقت کی سرکار نے کیس کی خود پیروی کی تھی ڈیجٹیل شواہد موجود تھے جن کی بنیاد پر ملزموں کو پہلے ٹرائل کورٹ سے عمر قید ہوئی جو اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھی تھی اب ان کی اپیلیں سپریم کورٹ میں ہیں اور وہ جیلوں میں ہیں
لاہور سے خواتین زیادتی کیس کے حوالے سے جو نئی فوٹیج ایک بار پھر ثابت کیا کہ شریف خاندان کا اوڑھنا بچھونا "جھوٹ" ہے سرتاپاء جھوٹ میں لپٹے ہوئے لوگ ہیں ان کا خمیر جھوٹ اور بے ایمانی فراڈ نوسربازی سے اُٹھا ہے دو دن سے ان کے طبلچی شریف خاندان کے..............کو حلوہ بنا کر پیش کر رہے تھے۔
بے شرم لوگ
اس مقدمہ میں اب تک #NCCIA اور #FIA کا تحقیقات نہ کرنا حیرت انگیز ہے، یہ پوچھا جانا چاہیے کہ 21 سالہ نوجوان کے پاس لاکھوں امریکی ڈالر کی انویسٹمنٹ کہاں سے آئی؟پیسہ باہر کیسے گیا؟منی ٹریل،ٹیکس ریٹرنز کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ شریف فیملی پر اس سے قبل بھی مقصود پٹواری اور مشتاق چینی جیسے کرداروں سے منی لانڈرنگ کے الزامات موجود ہیں۔
غیر ملکی خواتین سے متعلق پولیس کیجانب سے جو کہانی سنائی گئی یا بتائی گئی اور سب جھوٹ ثابت ہوئی ہے اسکا مطلب ہے کہ BOSS بہت زیادہ طاقتور ہے جس کے اشاروں پر پولیس تگنی کا ناچ رہی ہے،، یہ اسوقت کی تصویر ہے جب دونوں خواتین بھٹہ چوک کے قریب گاڑی کے ایکسیڈنٹ کے بعد پناہ لینے کی تصویر ہے۔۔