جس دن ہمارے ساتھیوں کے مقدمات کو فیس لیس ٹرائل میں منتقل کیا گیا، پراسیکیوٹر کی جانب سے ججز پر ٹرائل کو تیز کرنے اور سزا سنانے کے لیے مسلسل زور دیا گیا، اور عدالت کے رویے سے ظاہر ہونے والی بے چینی سامنے آئی، اسی دن ہمیں اندازہ ہوگیا تھا کہ انصاف نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ سزائیں ہمارا انتظار کر رہی ہیں۔
لیکن بلوچ قوم یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرے گی کہ پرامن سیاسی آوازوں کو خاموش کرانے کے لیے صرف پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے، حکومت اور خفیہ ایجنسیاں ہی متحرک نہیں تھیں، بلکہ انصاف کے ایوان بھی اس عمل میں شریک تھے۔ وہی عدلیہ جس سے مظلوموں نے امید باندھی تھی کہ وہ ظلم کے سامنے دیوار بنے گی، اسی نے ظالم کے ہاتھ مضبوط کیے۔ وہی ججز جن پر انصاف کی ذمہ داری عائد تھی، انہوں نے انصاف کا ترازو طاقتوروں کے حق میں جھکا دیا اور یوں آزاد اداروں کے بجائے اقتدار کے اشاروں پر چلنے والی کٹھ پتلیوں کا کردار ادا کیا۔ تاریخ گواہ رہے گی کہ جب مظلوم انصاف مانگ رہے تھے تو ریاست کے مختلف ستون ایک صف میں کھڑے ہو کر ان کی آواز دبانے میں مصروف تھے اور یوں اپنے حق کے لئے کھڑے ہونے والے مظلوموں کو عمر قید کی سزائیں دی گئیں۔
Yesterday, our family met with KP ministers at the Islamabad High Court. We held a detailed discussion on the steps being taken to restore all of Imran Khan’s legal and lawful prison rights.
During the meeting, Ministers provided the following update:
1. There will be no surplus budget, as Imran Khan has consistently directed that all available funds be utilized for the development and uplift of the people of Khyber Pakhtunkhwa.
2. The KP Government will not sign any agreement to transfer the Rs. 175 billion requested by the Federal Government unless the following demands are met:
• Khyber Pakhtunkhwa must receive its full share for the merged districts (formerly FATA) for the current fiscal year, amounting to approximately Rs. 300 billion. These funds are essential for the economic development and stability of the merged areas.
No agreement will be signed until all of Imran Khan’s legal and lawful rights are fully restored, including
1. The immediate transfer of Imran Khan to Shifa International Hospital for proper diagnosis, examination, and treatment by qualified specialists.
2. An immediate end to Imran Khan’s eight-month isolation and solitary confinement.
a) Restore weekly meetings with 6 family members, 6 members of his legal team, and 6 friends (political associates)
b) Restore his weekly phone calls with his sons.
c) Restore his access to books, newspapers, and other reading material.
These are the basic legal and human rights that must be respected and restored without further delay.
یہ انصاف ہے؟ کاغذی کاروائی میں فُل سٹاپ،زبر ، زیر پیش ختم ہوگیا؟ عمران خان کی میڈیکل ایمرجنسی کی کسی کو فکر نہیں ہے ان ججز کو انصاف دینا چاہیے یہ اتنی بڑی بڑی عمارتیں کھڑی کر رکھی ہیں انکا کیا فائدہ؟ کہتے سپریڈنٹ اڈیالہ کو نوٹس جاری کرتے وقت لگے گا، ان سے ایک فون کال یا واٹس ایپ پر جواب لیا جا سکتا تھا اس کو بھی وقت دے دیا گیا ہے۔ علیمہ خان
June is the only window available to PTI to build sufficient pressure to end Imran Khan’s isolation and ensure he is transferred to Shifa International Hospital for proper medical treatment in the presence of his family and personal doctors.
شہداء کشمیر کو سلام!
ڈاکٹر احسن
"کشمیریوں کی آزادی اور ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا اور ان کے ساتھ کھڑا ہونا اللہ کی راہ میں جہاد ہے۔ اگر دنیا کشمیریوں کا ساتھ نہیں بھی دیتی، تب بھی پاکستان آخری حد تک اپنے کشمیری ب��ائیوں کے ساتھ کھڑا رہے گا۔“
پاکستان کے حقیقی وزیر اعظم جناب عمران احمد خان نیازی
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو
#WhereIsImranKhan
@Naya__Pakistan_ بے غیرتوں تمھیں اس لیے حکومت دی تھی کہ تم فوج کے شتے چاٹتے رہو؟ کہاں ہے تمہاری تحریک؟ کہاں ہے خان کے حکم کہ جب مجھے isolate کریں تو تم نے KPK بند کرنا ہے؟
تم دگڑ دلے فوجیوں کے ہی بچے بنے ہوئے ہو۔ لعنت تم پر نمک حرامو۔۔۔
خان کوئی عام قیدی نہیں، پچیس کروڑ عوام کی دھڑکن ہے۔
اس کی صحت کے معاملے پر تمہاری چالبازیاں اب نہیں چلیں گی، ذاتی معالجین اور فیملی کو فوری رسائی دو۔
#WhereIsImranKhan
عمران خان کہا ہے پوری قوم کا سوال ؟
کہا ہے بزدل ایم این اے ایم پی ایز بزدل نگران چیئرمین بزدل سیکرٹری جنرل بزدل وزیر اعلی بزدل سابقہ وزیر اعلی
#WhereIsImranKhan@TeamiPians