قاضی فائز عیسی صاحب کے گزشتہ چند ماہ کے فیصلوں کا سب سے بڑا بینیفشری ملک کا وزیر اعظم شہباز شریف ہے۔ بلا واپس لینا، بیوروکریسی کو آر اوز لگانا اور لیول پلیئنگ فیلڈ کے کیسز اسکی بڑی مثالیں ہیں جو براہ راست قاضی فائز عیسی صاحب سے جڑی ہیں۔
دوسری جانب قاضی فائز عیسی صاحب کے منصب سنبھالنے کے بعد جس لیڈر کو تیز ترین سزائیں ہوئیں اور اسکی جماعت کو دیوار سے لگایا گیا اور بالآخر مینڈیٹ کی چوری تک معاملہ پہنچا وہ عمران خان ہے۔
6 ججز کی جانب سے اسی عمران خان کے فیصلوں پر دباؤ کی شکایت سامنے آنے کے بعد بینیفشری شہباز شریف اب قاضی فائز عیسی صاحب سے ملاقات کرنے جا رہا ہے۔ جبکہ قاضی فائز عیسی صاحب اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے دباؤ کا یہ مسئلہ ایک سال پہلے سے لایا جا چکا ہے مگر کوئی ایکشن نہیں ہوا۔
شہباز شریف جو اپنی کابینہ کے انتخاب میں آزاد نہیں ہے
اورقاضی فائز عیسی صاحب جو پہلے ہی عمران خان اور انکی جماعت کی نظروں میں متنازعہ ہیں کیا ان دونوں کی ملاقات موجودہ بحران کو حل کر سکے گی؟
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطّار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
کشمیر ہائی وے پر صدام خان ترین کی ریلی پر ڈنڈا بردار افراد کا حملہ، کارکنان پر تشدد سے کئی ورکرز زخمی ہوئے۔مینڈیٹ چوروں کی فاشسٹ حکومت میں آواز اٹھانے والوں کے خلاف ظلم اور بربریت جاری۔
#MandateThieves
Pakistan’s recent election might seem like business as usual for the country. But the army’s latest interference has made the generals look desperate and vulnerable https://t.co/AiRT4cDIuv 👇
محترم شاہد آفریدی صاحب آپکی مجبوری دیکھتے ہوئے آپ پر ترس آرہا ہے۔ کاش آپ میں ظلم کے خلاف بولنے اور سچ کا سامنا کرنے کی جرات ہوتی۔ کاش آپ چھوٹے موٹے دنیاوی فائدوں کے حصول کی بجائے اپنے اس مقام پر اکتفا کرتے جو اللہ تعالیٰ نے آپکو عوام کی نظروں میں عطا کیا۔ میں آج بھی مایوس نہیں ہوں امید ہے آپ ایک دن ضرور سمجھ جائیں گے۔
عمران خان، بشری بی بی، تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنان کی رہائی اور عوامی مینڈیٹ کی واپسی کے لیے پارٹی قیادت عمران خان کے مشاورت سے جلد ہی جلسے/ دھرنے یا مارچ کا حتمی فیصلہ جاری کرے گی۔ اسی سلسلے میں اور اگلے مرحلے کی تیاری کے لیے ہم نوجوانوں اور کارکنان کے زریعے احتجاجی تحریک کا آغاز کررہے ہیں۔ جس کی ابتداء سوات اور مالاکنڈ ڈیویژن میں روزانہ کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں پُر امن احتجاج سے کی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میں اپنے ساتھیوں کو مندرجہ ذیل نکات کی یاد دہانی کرانا چاہتا ہوں؛ ۱- سوشل میڈیا، پارلیمان، جلسہ ہو یا ٹاک شو براہ مہربانی اپنی گفتگو کا آغاز عمران خان کی رہائی اور مینڈیٹ کی واپسی سے کریں۔ ہر اجلاس اور ٹاک شو میں عمران خان کے تصویر کے ساتھ شرکت کریں۔ ۲- خان صاحب کی ہمشیرہ، علیمہ خان صاحبہ کی ہدایت کے مطابق منتخب نمائندے تمام مقدمات کی سنوائی کے دوران عدالت میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں اور یہ سلسلہ جاری رکھیں۔ ۳- عمران خان کے وکلاء روزانہ بنیادوں پر عمران خان کے کیسز کے حوالے سے قوم کو آگاہ کریں۔ تاکہ ان کے ساتھ روا ظلم اور انتقامی کاروائیوں سے عوام کو مزید آگاہی ملے۔ ۴- اپنا فوکس قائم رکھیں۔ اس وقت غیر ضروری بحث مباحثوں اور آپسی لڑائیوں میں الجھنے کی ہمیں بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ عمران خان کی ہدایات، فیصلے اور مشورے سیکرٹری جنرل اور چیف آف سٹاف کی جانب سے کور کمیٹی سے شئیر کیے جاتے ہیں جنہیں پارٹی اعلامیہ کی صورت میں جاری کرتی ہے۔ اپنے اور عوام کے لیے لائحہ عمل فقط اس اعلامیہ کی روشنی میں طے کریں۔
شاہد آفریدی کو قوم نے سر آنکھوں پر بٹھایا مگر انہوں نے ملک لوٹنے والوں سے لے کر مینڈیٹ چوری کرنے والوں تک کو مبارکبادیں دیں۔ لوگوں نے برادشت کیا مگر جب اپنی مقبولیت کی دھن میں مگن شاہد خان آفریدی نے پاکستان کے سب سے بڑے عوامی لیڈر پر کھل کر تنقید کرنا شروع کی تو لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ پاکستان میں شاہد آفریدی کی طرح ان سے کم تر اور ان سے بہتر بہت سے سٹارز موجود ہیں۔ جو آج بھی مختلف انداز میں خود کو عوام سے جوڑے ہوئے ہیں۔ ان سب کی بھی اپنی اپنی سیاسی سوچ ہے مگر ان میں سے کسی نے بھی عوام کی دل آزاری نہیں کی۔ مگر شاہد آفریدی کی نظریں شائد کسی اور ٹارگٹ پر مرکوز ہیں۔ عہدوں کے حصول کے لیے عزت داؤ پر لگانا ایک ہیرو کو زیب نہیں دیتا۔ اگر بولنا ہی تھا تو شاہد آفریدی کو ظلم اور جبر کے خلاف بولنا چاہیئے تھا تاکہ جن لوگوں نے اسے پیار دیا انکی محبتوں کا حق ادا ہوتا مگر لالہ نے ہمیشہ غلط شارٹ کھیل کر خود کو آؤٹ کروانے کی روایت برقرار رکھی۔
Once again Poor shot selection Afridi.
عمران خان کو پاکستانی فوج نے حکومت سے نکالا پھر بعد میں جیل میں ڈال دیا
اگر فوج باز نہیں آتی تو ہمیں اپنی معاشی طاقت کا استعمال کرتے ہوۓ اُن کو راہ راست پر لانا چائیے
امریکن کانگرس مین
ایک اور گواہی آگئی
یہ امریکی کانگریس مین کہے رہا عمران خان کو حکومت سے اتارنے والا
ان کا اپنا باجوہ ہے اگر وہ عمران خان کو اقتدار سے نا اتارتا تو آج پاکستان کے معاشی حالات بہتر ہوتے
پی کے 79 دھاندلی کی کہانی میں ایک اور حیرت انگیز انکشاف، جہاں ایک اور حلقہ پی کے 83 کا فارم 45 پی کے 79 کے نتیجے کے لیے آر او نے استعمال کیا۔ ایسی بدترین دھاندلی کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
#مینڈیٹ_پر_ڈاکا_نامنظور#RiggingEXPOSED