Ptiکے امیدوار ظہیر عباس کھوکھر 8 فروری الیکشن میں عطا تارڑ اور بلاول بھٹو سے جیتے تھے، نواز شریف کو یاسمین راشد نے 70 ہزار ووٹوں سے ہرایا ہے، حکومت کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی خود کہہ رہی ہے کہ پی ٹی آئی جیتی ہے، شیر کو جیل میں رکھ کے مقابلہ کررہے ہو وہ جیل میں بیٹھ کر بھی آپ کو پٹخ پٹخ کے مار رہا اس شیر کو نکالو تمہاری دوڑیں لندن تک پھر لگیں گی۔
نعیم حیدر پنجوتھہ
@NaeemPanjuthaa
Ptiکے امیدوار ظہیر عباس کھوکھر 8 فروری الیکشن میں عطا تارڑ اور بلاول بھٹو سے جیتے تھے، نواز شریف کو یاسمین راشد نے 70 ہزار ووٹوں سے ہرایا ہے، حکومت کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی خود کہہ رہی ہے کہ پی ٹی آئی جیتی ہے، نعیم
Free Imran Khan! Imran Khan has been left to languish in a Pakistani prison cell for over three years. Today in the House of Commons I presented a petition calling for his release, as well as the release of all political prisoners in Pakistan.
ڈکٹیٹر کا پاکستان: پاکستان کے مسائل حل؛ کم از کم ایک ہزار بندے مار دو۔
کسی بھی نارمل یا مہذب ملک میں ایسے شخص کو نوکری سے نکال کر جیل میں ہونا چاہیے تھا، لیکن یہاں ایک ذہنی مریض نے اسے ترقی دے کر آزاد جموں و کشمیر کا آئی جی پولیس لگا دیا گیا۔
سابق کیپٹن اور جموں و کشمیر کے حاضر ڈیوٹی آئی جی ملک لیاقت علی سول سروسز کے انٹرویو میں فخر سے اپنی ذہنی عدم استحکام کا اعتراف کر رہے ہیں۔آفیشل انٹرویو میں اتنی بڑی بات آرام سے کہنا نارمل انسان کی سوچ نہیں ہو سکتی۔
لیکن یہ صرف باتیں نہیں تھیں۔ 9 مئی کے کریک ڈاؤن، زمان پارک آپریشن، انتخابات کی زیادتیاں اور عمران خان کی گرفتاری—جہاں طاقت کا ننگا ناچ ہوا اور شہریوں و کارکنوں کو کچلا گیا، وہاں ان کا نام سامنے آیا۔ انہوں نے اپنی سوچ کو عملی شکل دے دی۔
انعام میں انہیں مزید ٹارگٹ پریکٹس اور ہزار بندے مارنے کا خواب پورا کرنے کے لیے کشمیر کی عوام ملی۔
یہ ہے #عاصم_لاء کی حقیقت۔ یہاں قانون کی بات کرنے والوں کو سزا ملتی ہے جبکہ جو جتنا بڑا ظالم ہو، قانون کو پیروں تلے روند کر طاقت کا راج قائم کرے، اسے بڑے عہدے دیے جاتے ہیں۔ یہ اب قائد یا اقبال کا پاکستان نہیں، ذہنی مریض کا مقبوضہ پاکستان ہے۔
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو
“عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا، نہ بچوں اور بزرگوں پر رحم کھایا گیا۔ عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اس وقت ملک میں صرف ایک شخص عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے، جس کی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے۔”
- عمران خان، 4 نومبر 2025
“ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔ دو سال میں پاکستان میں سویلینز کے قتل عام کے چار بڑے واقعات ہوچکے ہیں۔ جن میں پہلا 9 مئی، دوسرا 26 نومبر، تیسرا آزاد کشمیر اور چوتھا مریدکے قتلِ عام ہے۔ اپنی ہی عوام پر ایسا ظلم کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ باعث تکلیف بات یہ ہے کہ ان تمام واقعات میں کوئی بیرونی دشمن نہیں، بلکہ اپنی ہی پولیس، رینجرز اور پیرا ملٹری فورس کے ہاتھوں اپنے ہی ہم وطنوں کو بےدردی سے شہید کیا گیا ہے۔”
- عمران خان، 15 اکتوبر 2025
#ذہنی_مریض
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر ہوتے وقت انصاف سٹوڈنٹس کے دوستوں کے ہمراہ جابر کو پیغام : تم جھوٹ، فریب اور دھونس ہو۔ حق، سچ اور شرافت ہر پاکستانی کا ایمان ہے۔ جیت ہمارا مقدر ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی جنرل سیکرٹری سلمان اکرام راجا، ندیم حیدر پنجوتہ، شوکت بسرا، ضیاء الدین قریشی اور ظہیر عباس کو گلگت بلتستان (دیامر) کی حدود میں داخل ہوتے ہی پہلی چوکی پر روک کر صوبہ بدر کرنا انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہے۔
یہ اوچھے ہتھکنڈے اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ ریاستی مشینری کے دلوں میں پی ٹی آئی اور عوامی طاقت کا کتنا شدید خوف بیٹھا ہوا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ اگر الیکشن واقعی آزاد اور شفاف ہیں تو پھر پی ٹی آئی اور اس کی قیادت کا اتنا خوف کیوں؟ جو الیکشن کروانے کے دعویدار ہیں: کیا سیاسی مخالفین کے ہاتھ پاؤں باندھ کر، انہیں گرفتار اور صوبہ بدر کر کے الیکشن کی "شفافیت" کو یقینی بنایا جائے گا؟ کیا اس اندھیر نگری کا نام ہی اب جمہوریت رکھ دیا گیا ہے؟
@salmanAraja@NaeemPanjuthaa@sh_basra
آج مجھے شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو گلگت بلتستان داخل ہوتے ہی جل تھانہ کی حدود میں آگے جانے سے روک دیا گیا۔ میرا نام ڈی آیس پی کے پاس درج تھا۔ ہمیں اور آئی ایس ایف کے آئے دوستوں کو پولیس کی گاڑیوں کے نرغے میں صوبہ بدر کر دیا گیا ہے۔ عمران خان اور آزادی _ قوم کا فیصلہ
آج میں سکردو جا رہا تھا، جہاں 7 جون کو انتخابات ہو رہے ہیں۔ وہاں حکومتی وزراء پہلے سے موجود ہیں، حالانکہ وزراء انتخابی مہم نہیں چلا سکتے۔ میری صبح ساڑھے 9 بجے فلائٹ تھی، مگر ایئرپورٹ جانے والی سڑک بلاک کر دی گئی۔ ڈی ایس پی سمیت پولیس کی بھاری نفری مجھے روکنے کے لیے تعینات تھی۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ پنجاب پولیس کیسے مجھے گلگت بلتستان جانے سے روک سکتی ہے؟ پنجاب پولیس نے انتہائی غیر اخلاقی حرکت کی۔ میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور موجودہ رکن قومی اسمبلی ہوں، جبکہ یہ ایک وفاقی معاملہ ہے۔ بلاول بھٹو بھی وہاں گئے، وزیراعظم نے بھی وہاں جا کر اعلانات کیے، اور پیپلز پارٹی و ن لیگ کی پوری فوجِ ظفر موج وہاں بیٹھی ہوئی ہے، مگر پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ ہمارے صوبائی صدر جنید اکبر کو صوبہ بدر کیا گیا۔ یہ کس قسم کا نقشہ پیش کیا جا رہا ہے۔
جب آپ نے بلاول صاحب کو لیڈر مان کر اُس وقت کی سب سے بڑی جماعت کی کمان اس کے سپرد کی تھی اُس وقت بلاول 19 سال 3 ماہ اور 6 دن کے تھے۔ یہ کافی عرصہ سے آپ کیسی عجیب گفتگو کرنا شروع ہو گئے ہیں؟؟؟
لاڈلی وزیر اعلیٰ عوامی پیسے سے جہاز خرید کر بیرون ملک سہیلیوں سمیت سیر کر سکتی ہے جبکہ ناپسند وزیر اعلیٰ لیڈر سے ملنے اڈیالہ نہیں جا سکتا۔ ایک نہیں دو پاکستان!
🇵🇰 The man Khan fired is now running Pakistan's nukes.
Think about that for a second. Munir was sacked by Khan in 2019 after just eight months as ISI chief. Eight months. Khan threw him out after he went to Tehran with the Pakistani delegation and blew up the room, went completely off the script the government had agreed on internally, used language with Iranian officials that had no business being used, and actively wrecked what could have been a genuine step toward better Pakistan-Iran ties. Iran complained directly to Khan. Khan fired him.
That same man now controls 170 nuclear warheads with zero institutional checks left standing.
What happened between getting fired and getting the keys is the part that should make every Pakistani furious. After the sacking, Munir allegedly flew to London and sat down with Nawaz Sharif, who was conveniently living in self imposed exile at the time. Khan called it the London Plan. The deal as Khan described it was straightforward, Munir gets army chief, Khan's government gets taken apart, his party gets destroyed, the judiciary plays along. Sounds insane until you watch it happen exactly like that, step by step, over the next three years.
Munir became army chief in November 2022 in a process multiple reports said involved heavy consultations with the same Nawaz Sharif sitting in London. Within months Khan was arrested. Shariar waltzed back into Pakistan in October 2023 and had most of his convictions vacated almost overnight. By February 2024 his brother was prime minister, the elections were rigged openly and Washington and Brussels said nothing.
Then Munir really got to work. He promoted himself to Field Marshal, invented a brand new title of Chief of Defence Forces, and passed the 27th Constitutional Amendment scrapping the Nuclear Command Authority that had existed since 2000. That authority existed for one reason, to make sure no single person could ever make a nuclear decision alone. It required the prime minister, the joint chiefs, the service chiefs, all in the room. All of that is now gone. Munir replaced it with the National Strategic Command, headed by himself, answerable to nobody above him. The prime minister's only remaining role is to appoint people Munir recommends.
Pakistan has 170 nuclear warheads. Every single one of them now answers to one man.
Khan, the man who saw all of this coming and tried to stop it, has been rotting in a cell for nearly 3 years. And Munir gets called "my favorite Field Marshal" by Trump.
Source: Drop Site News