بشری پنکی اور انمول پنکی جیسی نشین عورتوں کے مکس بچے ہمیشہ بدچلن عورتوں کی حمایت اور شریف باوقار اور وطن کی خدمت کرنے والی خواتین کی مذمت کرتے ہو اس دلالت کا تمہیں ویوز کے علاوہ ملتا کیا ہے
@dranamfatima#sydaanamfatima
Example of how Sitare Imtiaz is being awarded. The only achievementof this officer is rejection of nomination papers of @MoonisElahi for PP 158, Lahore. The rejection was later declared illegal by Lahore High Court and Moonis Elahi was allowed to contest elections.
اوئے بشری پنکی اور انمول پنکی کے مشترکہ ناجائز بچے مانیکا اور عمران خان کی مشترکہ اولاد اور جنرل نیازی کے پلٹن گراؤنڈ ڈھاکہ میں پیدا ہونے والے بچے میں قوم کی باوقار بچیوں پر بھونکتے ہو جبکہ کوکین کنگ انمول پنکی کی مرشد بزرگ کلر بشری پنکی کہ حمایتی ہو تمہارے یوم پیدائش پر لعنت
Example of how Sitare Imtiaz is being awarded. The only achievementof this officer is rejection of nomination papers of @MoonisElahi for PP 158, Lahore. The rejection was later declared illegal by Lahore High Court and Moonis Elahi was allowed to contest elections.
یہ بنگلہ دیش ھے جہاں چئیرمین پی سی بی محسن نقوی کو دیکھنے کافی تعداد میں بنگالی بھائی کھڑے ھوئے بچے اور جوان سب پاکستانزندہ باد کا نعرہ لگا رہے ہیں ♥️♥️😍
#BunyanUmMarsoos
دو باتوں کا جواب دو جعلی صادق اور امین ساری دنیا کو پتہ تھا کہ یہ عمارت غیر قانونی ہے پھر بھی تم اس میں کیوں انویسٹمنٹ کرتے رہے دوسرا سوال پاشا سے تمہارا کیا تعلق ہے میرے خاص زرائع نے مجھے بتایا ہے کہ اس نے یہ اپارٹمنٹ صحافتی رشوت کے طور پر دیا ہے کیا اپ اسے جانتے ہیں یا نہیں
صحافی کے طور پر جوابدہی کے احساس کے ساتھ چند مزید سوالوں کے جوابات۔۔۔
ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے ایک کمرے کے فلیٹ کی پہلی پیمنٹ 30 لاکھ روپے 2015 میں بُکنگ کے ساتھ کی جب ڈالر کا ریٹ 105 روپے تھا۔ فلیٹ کا قبضہ ملا آٹھ سال بعد 2023 میں جب بلڈنگ مکمل ہوئی اور فُل پیمنٹ دو کروڑ 16 لاکھ ادا کردی۔
تمام ٹرانزیکشن اور آمدن کی تفصیلات باقاعدگی سے ٹیکس حکام کو فائل کی جاتی رہیں۔
اس فلیٹ کی کُل رقم کی ٹیکس حکام کو جمع کروائی گئی انکم اور ویلتھ ٹیکس ریٹرن کی تفصیلات 👇
"ون کنسٹیٹیوشن ایونیو اتنا بڑا scam ہے جو پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا، ججز بیوروکریٹس،بنکرز،سمیت افراد ملوث ہیں، 21 سال تک یہ سب چلتا رہا، سی ڈی اے کا موقف واضح ہے کہ ون کسٹیٹیوشن ایونیو غیر قانونی ہے یہی موقف کمیٹی میں رکھیں گے"
محسن نقوی کا ردعمل
ابصارے کنجر تم نے اپنے وی لاگ میں الزام لگایا تھا کہ محسن نقوی صاحب نے عدالت کے رٹن آرڈر کے بغیر ہی بلڈنگ خالی کرنے کا حکم دے دیا یہ لو عدالت کا ریٹرن ارڈر بھی اگیا ہے اب کوئی نئی بہن پیش کرو
@AbsarAlamHaider@geonews_urdu
ابصار عالم کی 2015 کی ٹیکس اور ڈیکلئرڈ اپارٹمنٹ کی تفصیلات !
میرے بولنے کے بعد چند طاقتورلیکن شدید تشویش کے شکار افراد نے میرے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا مہم لانچ کروائی ہے اُن کو یاد دہانی کروادوں:
کہ دل سے بولتا ہوں، اپنے پیٹ یا کسی کی پاکٹ سے نہیں
ساری زندگی اللہ اور باپ کا دیا رزقِ حلال کھایا اور اُس کے بعد اپنی محنت کا
جس سال فلیٹ کی پہلی ڈاؤن پیمنٹ/قسط 30 لاکھ دی، اُس سال اپنی سالانہ آمدن پر میں نے 77 لاکھ 54 ہزار روپے صرف انکم ٹیکس ادا کیا تھا۔
اس لئے سوال پوچھنے کا حوصلہ ہے۔ آئی سمجھ؟
ابصار تم لوگوں کی سوچ سے بھی بڑے حرامی ہو ٹیکس ریٹرن کے نام پر بطور چیئرمین پیمرا جو تمہاری تنخواہ پر ٹیکس کٹتا تھا وہ پیپر دکھا رہے ہو پانچ لاکھ روپے مہینہ تم اشرافیہ اور سعد رفیق کے فرنٹ مین ہو بہرحال محسن نقوی پر جو تم نے الزام لگائے ہیں یا ثابت کرو گے یا جیل جاؤ گے یا اپنی۔۔
ابصار عالم کے ساتھ میرا بڑا ذاتی اچھا تعلق رہا ہے لیکن جب وہ چیرمین پیمرا بنے تو ہمارا تعلق بڑا عرصہ سخت خراب بھی رہا۔ان پر تنقید بھی کرتے رہے۔
شاید ٹوئیٹر پر ہماری ایک دوسرے سے بدمزگی بھی ہوئی تھی۔
پیمرا میں پندرہ کیسز ہمارے پروگرام کے خلاف وہاں رجسٹرڈ ہوئے اور ان سب کا وہاں دفاع کیا اور جیتے۔
لیکن ابصار عالم کے بارے میں ان کے بدترین ناقدیں بھی نہیں کہیں گے کہ وہ فنانشلی طور پر کمپرومائزڈ ہے۔
مالی معلات میں معاملے ابصار عالم ایک کلین انسان ہے۔ فیلڈ میں کسی کی کوئی بات ایک دوسرے سے نہیں چھپتی کہ کون کیا ہے اور کیا اچھی بری حرکتیں ہیں۔
باقی اختلافات اپنی جگہ ہیں۔ وہ لاکھوں لوگوں کو مجھ سے بھی ہیں، چند سے مجھے بھی ہوں گے۔
ابصار عالم کا کہنا ٹھیک ہے ہم چاہے کتنے سچے کیوں نہ ہوں، ہم پر سوالات اٹھیں گے اور ہمیں جواب دینا چاہئے اور ابصار نے اچھا کیا ہے اگرچہ ناقدین مطمئن پھر بھی نہ ہوں گے۔
میرا ماننا ہے ایسی ذاتی وضاحتیں بندہ اپنی فیملی، بچوں، رشتہ دار، دوستوں، ادارے اور خیرخواہوں کے لیے دیتا ہے نہ کہ مخالفوں یا دشمنوں کے لیے۔
خیرخواہ یا ہمارے دوست اس پراپگنڈے سے متاثر نہ ہوں۔ کہ اگر بندہ چپ کر گیا تو کچھ نہ کچھ تو کیا ہوگا ورنہ ڈٹ کر جواب دیتا۔ بے شک وہ دوست یا خیرخواہ نہ پوچھیں لیکن دل میں ہلکا سا شک پیدا ہونا فطری ہے۔
جواب اس لیے بھی دیں کہ کسی ایک فین کا بھی دل نہ ٹوٹے کہ کسی غلط بندے کو پڑھتے سنتے رہے۔۔ لہذا وضاحت دینے میں ہرج نہیں ہے جو ابصار نے اچھی طرح دی ہے۔
ہمارے سرائیکی علاقوں میں محاورہ ہے
دل اچ ہووی سچ
گلی اچ کھڑا نچ۔
ابصار عالم نے وہی کیا ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ (ون کانسٹیٹیوشن عمارت) دو مافیاز کی لڑائی بن گئی ۔ ایک مافیا سی ڈی اے کے اندر ہے ۔ یہ مافیا بہت سے دیگر مافیاز کی سہولت کاری کرتا ہے ۔ لینڈ مافیا سی ڈی اے کے اعلیٰ افسران کی ملی بھگت سے ہی اسلام آباد کے جنگلات اور پہاڑ کاٹ کر یہاں ہاؤسنگ اسکیمیں شروع کرتا ہے ۔ اگر کوئی سرکاری افسر اس ملی بھگت کا حصہ نہیں بنتا تو اُسکا ٹرانسفر ہو جاتا ہے، حامد میر
بات کو مکمل تصویر کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے، نہ کہ صرف آدھا سچ پیش کر کے بیانیہ بنایا جائے۔
جس One Constitution Avenue کا آج شور مچایا جا رہا ہے، اس کے بارے میں کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی۔ سالوں پہلے ریحام خان اپنی کتاب میں اس نوعیت کی ڈیلز اور رعایتی معاملات کا ذکر کر چکی ہیں—جہاں مخصوص لوگوں کو عام مارکیٹ ریٹ سے ہٹ کر سہولتیں ملنے کی بات سامنے آئی۔ یعنی جو آج “انکشاف” بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، وہ دراصل پرانی کہانی ہے جس پر اس وقت سب خاموش تھے۔
اب سوال یہ ہے کہ اُس وقت آواز کیوں نہیں اٹھی؟ اُس وقت کیوں کسی کو پاکستان کی “امیج” یاد نہیں آئی؟ کیونکہ تب معاملہ اپنے دائرے سے باہر تھا۔ آج جب ریاستی سطح پر چیزوں کو دیکھا جا رہا ہے، ریکارڈ کھنگالا جا رہا ہے، تو اچانک شور مچ گیا ہے۔
ابصار عالم جیسے لوگ ایک ہی رخ دکھا کر پورا بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر شفافیت کی بات کرنی ہے تو ماضی کے تمام معاملات کو بھی سامنے لانا ہوگا۔ صرف آج کی کارروائی کو تنقید کا نشانہ بنانا اور پرانے حقائق کو نظر انداز کرنا کھلا تضاد ہے۔
محسن نقوی پر تنقید ضرور کریں، مگر یہ بھی دیکھیں کہ کیا پہلی بار ان معاملات کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے؟ اگر جواب ہاں ہے تو پھر اسے یکطرفہ “پروپیگنڈا” کہنا حقیقت سے انکار ہے۔
بات سادہ ہے:
جب تک یہ سب کچھ دوسروں تک محدود تھا، سب ٹھیک تھا۔
اب جب بات اپنے حلقے اور اپنے مفادات تک پہنچی ہے تو چیخیں نکل رہی ہیں۔
اگر واقعی اصول کی بات ہے تو پھر احتساب سب کا ہونا چاہیے—ماضی کا بھی، حال کا بھی۔ ورنہ یہ شور اصول کا نہیں، صرف مفاد کا لگتا ہے۔
درست کہا آپ نے @GFarooqi
میری اس پوسٹ کی پکچرز میں اس حوالے سے تمام اہم حقائق موجود ہیں کوئی بھی آزاد ذہن جو اس معاملے کو سمجھنا چاہ رہا ہو وہ ان پکچرز پہ دیے گئے ٹیکسٹ کا بغور مطالعہ کر لیں تاکہ پتہ چلے@AbsarAlamHaider نے ذاتی مفاد اور اشرافیہ کے مفاد کو کیسے پروٹیکٹ کیا
ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو؛ معاملہ اس قدر سادہ نہیں ہے، جن لوگوں نے خریدے وہ سب جانتے تھے کہ یہ جگہ غیرقانونی طریقے کی ہے، پھر بھی انویسٹمنٹ کی، کئی لوگوں کو اونے پونے داموں اپارٹمنٹ فروخت کیے گئے، ایک کروڑ دو کروڑ کا فلیٹ اسلام آباد ریڈ زون میں کب ملتا ہے بھئی۔۔۔!!!! سابق وزیراعظم عمران خان کو ایک فلیٹ ایک کروڑ میں بیچا گیا۔ کیوں!؟ کئی اور لوگوں کو بھی اسی قیمت پر اور کئیوں کو مفت فلیٹ دیے گئے۔ کیوں!؟ لہذا یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں، کرپشن اور اھم لوگوں کو ساتھ ملوث کر لینے کی گھمبیر داستان ہے۔
شاباش بلال غوری صاحب اپ زبردست صحافی ہیں یہی وہ بندہ ہے جس نے سیاسی رشوت کے طور پر عمران خان کو پینٹ ہاؤس کوڑیوں کے بھاؤ دیا اور جب وہی اپارٹمنٹ ریحام خان نے اپنے کسی عزیز کے لیے خریدنے کی کوشش کی تو اس نے کہا یہ افر صرف عمران بھائی کے لیے ہے
ون کانسٹٹیوشن ایونیو کےمرکزی کردار، عبدالحفیظ شیخ پاشا جنہوں نے ظفراللہ خان جمالی سے شہبازشریف تک کئی حکومتوں کو بیوقوف بنایا۔بعض لوگ انہیں سابق وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ سے کنفیوژ کررہے ہیں تو کچھ لوگ اس معاملے کو عبدالحفیظ پاشا سے جوڑ رہے ہیں جو عائشہ غوث پاشا کے شوہر ہیں مگر عبدالحفیظ شیخ پاشا اس اسکینڈل کے مرکزی کردار ہیں۔فیصل آباد سے تعلق ہے بسم اللہ ٹیکسٹائل مل کے مالک جبکہ ستارہ ٹیکسٹائل والوں کے داماد ہیں۔ باقی تفصیلات اگلی قسط میں
ایک نقطۂ نظر یہ بھی ہے کہ گرینڈ حیات کیس کو “سیاسی انتقام” کہنا حقیقت نہیں۔
13.5 ایکڑ زمین، جس کی لیز 4.8 ارب روپے تھی اور عدم ادائیگی کی وجہ سے واجبات 17.5 ارب روپے تک پہنچے، لیکن ادائیگی صرف 2.9 ارب کی گئی۔
معاہدے کی خلاف ورزی، غیر قانونی 263 فلیٹس، اور مسلسل نادہندگی کے بعد لیز 2023 میں ختم ہوئی۔
عدالتی حکم پر کارروائی قانون کی عملداری ہے۔ البتہ ریاست نے متاثرین کو اصل قیمت دینے کا فیصلہ کر کے فراخدلی دکھائی ہے۔