"عمران خان نے کہا میری طبیعت خراب تھی جس کا میں بار بار بتا رہا تھا لیکن کوئی سننے کو تیار نہیں تھا جو آخری ڈاکٹر دیکھنے آیا اس نے بتایا کہ آپ کا ہائی بلڈ پریشر Anxiety کی وجہ سے ہے عمران خان نے کہا محمد مرسی کو اسی طرح مارا گیا تھا قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی ٹارچر کرکے"۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان
بہت ہو گیا یہ تماشا۔ اب ہم اس تماشے کا مزید حصہ نہیں رہ سکتے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم مکمل طور پر کشتیاں جلا دیں۔
میں اپنی قیادت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ کور کمیٹی اور پولیٹیکل کمیٹی کا فوری مشترکہ اجلاس بلایا جائے اور فیصلہ کیا جائے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے علاوہ تمام اسمبلیوں سے فوری استعفے دیے جائیں۔ اب ہماری تمام تر توجہ اور توانائیاں 27 ستمبر کی کال کی بھرپور تیاری پر مرکوز ہونی چاہئیں۔
عمران خان بار بار ایک ہی بات کرتے تھے کہ میرے ساتھ ظلم ہوا ہے میرے ساتھ کوئی انسانی رابطہ نہیں تھا کوئی کتابیں نہیں تھی ٹی وی نہیں تھا عمران خان نے کہا میرے سر کو کچھ ہونے لگا میرا پلس ریٹ کبھی 42 سے اوپر نہیں گیا اور بلڈ پریشر کبھی 120 سے اوپر نہیں گیا میں ڈاکٹر کو کہتا تھا تو کوئی میری پرواہ نہیں کرتا تھا ! عظمی خان ۔۔
عمران خان بار بار ایک ہی بات کرتے تھے کہ میرے ساتھ ظلم ہوا ہے میرے ساتھ کوئی انسانی رابطہ نہیں تھا کوئی کتابیں نہیں تھی ٹی وی نہیں تھا عمران خان نے کہا میرے سر کو کچھ ہونے لگا میرا پلس ریٹ کبھی 42 سے اوپر نہیں گیا اور بلڈ پریشر کبھی 120 سے اوپر نہیں گیا میں ڈاکٹر کو کہتا تھا تو کوئی میری پرواہ نہیں کرتا تھا ! عظمی خان ۔۔
”عمران خان نے کہا، میری قوم کو بتائو یہ جیل میں میرے ساتھ کتنا ظلم کر رہے ہیں۔ یہ انسان نہیں ہیں، انہوں نے مجھے قید تنہائی میں ٹیلی ویژن یا پڑھنے کیلئے کسی بھی قسم کے مواد سے دور رکھا۔ میرے سر میں کچھ ہوتا تھا، میں نے ڈاکٹرز سے اپنی طبیعت کا کئی بار ذکر کیا مگر انہیں کوئی پرواہ نہیں۔“ ہمشیرہ اعظممئ خان، 9 ماہ بعد عمران خان سے ملنے کے بعد ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے آبدیدہ