زرداری صاحب کے دوسرے برخوردار فرمارہے تھے کہ یہ سسٹم ختم ہوچکا ہے، آگے چلنے کے قابل نہیں رہا، بھئی اس سسٹم میں تم نے 30 سال کا سفر ساڑھے تین سال میں طے کرلیا، کہاں سے چلے ہو، کہاں پہنچے ہو، اب تمہیں پتہ چلا ہے کہ سسٹم نہیں چل سکتا۔
رانا ثناءاللہ
سسٹم Collaps کر چکا ہے اور اس لائن پر بیٹھی عوام تالیاں بجا رہی ہے- یعنی شرم کوئی غیرت نامی چیز؟ ملک کا سسٹم نہیں چل رہا اس بات کا اعتراف ہو رہا ہے اور تالیاں بجائی جا رہی ہیں : صدقے جاؤں میں
رپورٹ کیا جا رہا ہے کہ ٹرن آوٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے پولنگ کا وقت 1 گھنٹہ بڑھایا گیا ہے لیکن یہ دونوں صحافی جن پولنگ اسٹیشنز سے بیپر دے رہے ہیں وہاں کوئی ووٹردیکھائی نہیں دے رہے۔
“ہمیں جب حکومت ملی تو یہ ملک دیوالیہ کرکے ، خزانے خالی کر کے گئے" لیگی رہنما عمر اسرار خان : " عمران خان کی حکومت کا گروتھ ریٹ 6.2تھا،" بیرسٹر سعد رسول :
" میں اسےچیک کرلوں گا،ہمیں تو خزانے خالی ملے،" لیگی رہنما : "سر23بلین ڈالر کا ریزرو تھا جو اب 12 پر ہے" بیرسٹر سعد رسول
@SaadRasooll
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
پاکستان اپنا پیٹرول اور ڈیزل زیادہ تر پاکستان اســٹیٹ آئل PSO
آئل ڈپو PARCO اور آئل مارکیٹنگ کمپـــنیوں میں ذخیرہ کرتا ہے۔ صرف PSO اکیلے ملک کے سب سے بڑے اسٹوریج نیٹورک کا مالک ہے، جس میں 19 ڈپو ہیں اور تقریباً ایک ملـــین میٹرک ٹن پیٹرول ذخیرہ کرسکتے ہیں۔
یہ سن کر آپ کو جھــٹکا لگے گا کہ یہ تقریباً 46 دن کا پیٹرول اور 57 دن کا ڈیزل ذخیرہ کرتے ہیں حالیہ حکومتی اپڈیٹس میں بتایا گیا ہے کہ ڈیزل کا ذخیرہ تقریباً 25 دنوں کےلیے کافی ہوتا ہے یعنی پہلے ہم زیادہ ڈیزل اور پیٹرول ذخیــــرہ کرتے ہیں لیکن اب چونکہ مشکلات پیش آرہی ہیں اس وجہ سے درآمدات میں کمی آئی ہے ہم شاید آبنائے ہرمز کی وجہ سے کم ہی منــــگواتے ہیں لیکن پھر بھی پاکستان میں 25 دنوں کا ڈیزل اور پیٹرول پہلے سے ذخیـــرہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ڈیزل اور پیٹرول پہلے سے دستیاب ہے تو قیمتیں روزانہ کیوں بڑھ رہی ہیں؟
اگر حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمــت میں صرف ایک روپے فی لیٹر اضافہ کر دے تو اسے اربوں روپے اضــافی ریونیو اکٹھا کیا جا سکتا ہے کیونکہ پاکستان میں روزانہ لاکھوں لیٹر ڈیزل اور پیٹرول فروخت ہوتا ہے۔ اب وزیر پٹرولیم روزانہ کی بنیاد پر یہ کام کر رہے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ اس کا کیا مطلب ہے وہ کیا ثابت کرنا چاہتا ہے؟ کیا وہ عوام کو بیوقوف سمجھتے ہیں؟ کیا یہ لوگ واقعی دوسری چیــــزوں کے بارے میں نہیں جانتے ہیں جو تھوڑے سے اضافے سے ملک بھر میں مہنگی ہو جاتی ہیں؟
کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ جو تیـــل ذخیرہ کیا گیا ہے اور جس ریٹ پر وہ لائے ہیں وہی تیل کس بنیاد پر اور کیوں مہنگا کیا جارہا ہے؟ یہ کس قدر عجیب لوگ ہیں کہ چار سالوں میں قــرضہ بھی تقریباً 97 کھرب روپے تک پہنچایا اور مہنگائی بھی کم نہیں ہو رہی ہیں۔
یہ پیسہ جاتا کہاں ہے؟
چین براستہ وا خان کوریڈور افغانستان کے ساتھ اپنے زمینی راستے کو بھرپور تیاری کے ساتھ کھول رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب سی پیک بند ہو چکا اور ملک میں چینی سرمایہ کاری کو بریک لگ چکی، آپ فیلڈ مارشل کے ماضی کے دعوں اور حالیہ بڑھکوں سے مزید کیا توقع رکھیں گے؟ اس ملک کو کسی بیرونی فتنے نے شاید اتنا نقصان نہیں پہنچایا جس قدر اس ذہنی مریض اور جنونی درندے نے پہنچا دیا ہے۔
🚨🚨 بہت بڑی خبر
چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل سید عامر رضا کو وزیراعظم پاکستان نے فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر پاکستان کا پہلا کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کیا ہے یہ عہدہ افواج پاکستان کی حالیہ ری سٹریکچرنگ کے وقت بنا تھا سید عامر رضا پہلے کور کمانڈر لاہور بھی رہ چکے ہیں اس پرموشن کا کافی عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا
جب قسمت کی دیوی مہربان ہوتو ایسے ہوتی ہے ۔چند ماہ بعد ریٹائر ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا ملک کے تیسرے طاقتورترین عہدے پر تعینات کر دیئے گئے۔
لیفٹیننٹ جنرل سید عامر رضا، ہلالِ امتیاز (ملٹری)، 1988 میں 6 لانسرز میں کمیشن حاصل کرکے پاک فوج میں شامل ہوئے۔ انہوں نے نومبر 2007 سے ستمبر 2009 تک 6 لانسرز کی کمانڈ کی۔ اس کے علاوہ ایک آرمرڈ بریگیڈ، جنوبی وزیرستان میں ایک انفنٹری بریگیڈ، اور ایک انفنٹری ڈویژن کی بھی کمانڈ سنبھالی۔
اسٹاف تقرریوں کے دوران وہ ایک انفنٹری بریگیڈ میں بریگیڈ میجر، چیف آف جنرل اسٹاف کے جی ایس او-2، ایک اسٹرائیک کور کے چیف آف اسٹاف، اور ڈائریکٹوریٹ آف ویپنز اینڈ ایکوپمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
تدریسی ذمہ داریوں میں انہوں نے اسکول آف آرمر اینڈ مکینائزڈ وارفیئر (SA&MW) میں انسٹرکٹر، ڈائریکٹر FORADS، اور کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج، کوئٹہ میں چیف انسٹرکٹر کے فرائض انجام دیے۔
انہوں نے 28 اپریل 2020 کو ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (HIT) کی کمانڈ سنبھالی۔ بعد ازاں 11 اکتوبر 2022 کو انہیں ترقی دے کر پاک فوج کے اعلیٰ ترین عہدوں میں سے ایک، لیفٹیننٹ جنرل کے رینک میں ترقی دیدی گئی۔9مئی 2023 کے بعد جب کور کمانڈر لاہور سلمان فیاض غنی کو ہٹا دیا گیا تو لیفٹننٹ جنرل عامر رضا کو وہاں بھیجا گیا اور پھر چیف آف جنرل اسٹاف بنایا گیا اور اب ایک ستارہ اور لگا کر بطور فور اسٹار جنرل انہیں کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ تعینات کردیا گیا ہے
دو باتیں قابل ذکر ہیں ،ایک تو فیلڈ مارشل کی طرح سید ہیں اور دوسرا یہ بھی پی ایم اے کے بجائے آفیسرز ٹریننگ کورس OTSکے ذریعے فوج میں شامل ہوئے