جناب @akleghari صاحب,
سولر سسٹم لگانے والے بوجھ نہیں ہیں- اصل بوجھ ہیں:-
🔸️ کیپیسٹی چارجز لینے والے آئی پی پیز-
🔸️ بجلی چوری کرنے والے; اور
🔸️ مفت یونٹس کی سہولت حاصل کرنے والے-
اور اگر آپکو اب یہ احساس ہو رہا ہے سولر رائج کرنے سے حکومت کی کیش لیکویڈیٹی متاثر ہوئی ہے تو جب آپ 2024 میں سولر کو فروغ دینے کیلئے کمپین کر رہے تھے, یہ بات اسوقت آپکو کیوں سمجھ نہ آئی؟
اس تمغے والے نے ستمبر کے مہینے میں عوام سے 35 ارب مزید نچوڑنے کا ارادہ کیا ہے تین روپے فی یونٹ بجلی مہنگی کر دی
اس کا ایک اور تمغہ بنتا ہے ہر رذیل ذلیل لعنتی کو تمغہ دے دیتے ہیں
محترم سپریم کورٹ سے پوچھنا تھا کہ قیدی کو اسکی مرضی کے ہسپتال سے علاج کروانے کا آئینی حق صرف اشرافیہ کیلئے ہی ہے یا کبھی کسی غریب قیدی کو بھی آپ نے یہ حق دیا ہے؟
یہ بھی پوچھنا تھا کہ ایسی مدت کس قانون میں لکھی ہوئی ہے کہ فلاں تاریخ تک قیدی پرائیویٹ ہسپتال میں رہے گا، مطلب اگر کوئی قیدی 7 دن میں تندرست ہو جائے تو بھی قیدی کو پورا مہینہ ہی پرائیویٹ ہسپتال میں عیاشی کروانا کس آئین، قانون اور رولز میں لکھا ہوا ہے؟؟
مناسب ہوتا اگر عمران خان کے حق میں حکم جاری کرتے ہوئے آئین، قانون کی کسی شق کا حوالہ بھی دے دیتا۔
کیوں عدلیہ ہر مرتبہ عوام میں خود ہی اپنا اعتماد کم سے کم کرنے کے فیصلے صادر فرماتی ہے؟
بنگلہ دیش میں آخری مرتبہ یکم جون 2026کو پیٹرول کے نرخ بڑھائے گئے ۔تین ماہ سے کوئی اضافہ نہیں ہوا۔پیٹرول 140ٹکہ جبکہ ڈیزل 115ٹکہ فی لیٹر دستیاب ہے مگر پاکستان کے بنارسی ٹھگ روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں بڑھا کر پیٹرول 331روپے جبکہ ڈیزل 390روپے لیٹر تک لے گئے ہیں۔کیا آبنائے ہرمز صرف پاکستان کے لیئے بند ہوتا ہے ؟
پیٹرول پمپ مالکان نے احتجاج کرکے اپنے پرافٹ مارجن میں اضافہ کروا لیا مگر عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔پیٹرولیم لیوی کے نام پر بھتہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
صدر زرداری کے دوستوں کا پاکستان؟
عالمی شہرت یافتہ ماہر تعلیم ، فل برائٹ سکالر اور پاکستان میں OIC Comstech کے کواڈنیٹر ڈاکٹر اقبال چوہدری نے اپنے ایک سنسنی خیز خط میں صدر زرداری کو لکھا ہے کہ ان کے خلاف جو انہوں نے انکوائری کمیٹی کا سربراہ ڈاکٹر عاصم حسین کو بنایا تھا اس نے پندرہ منٹ کی انکوائری میں انہیں صرف گالیاں ہی دیں، ان کو شدید بے عزت کیا اور ان پر دبائو ڈالا گیا کہ وہ OIC میں اپنے عہدے سے فورا استحفی دیں۔
تاہم ان کے انکار کے بعد انہیں گالیاں دی گئیں اور یہ سب کچھ فیڈرل سیکرٹری شاہد اقبال بلوچ کی موجودگی میں ہوا جو انکوائری کمیٹی کے ممبر ہیں۔
انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے انہوں نے انکوائری کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر عاصم کو ریکوسٹ کی کہ آپ نے مجھے انکوائری کے لیے بلایا ہے تو مجھے بتائیں تو سہی میرے خلاف کیا کیا الزامات ہیں۔
تاکہ میں جواب تیار کر کے دے سکوں۔
ان کا کہنا تھا انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا آڈر بھی انہیں پیش کیا جس میں انکوائری ٹیم کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ڈاکٹر اقبال کو ان کے خلاف الزامات کی تفصیل پیش کریں تاکہ وہ انصاف کے مطابق جواب دے سکیں۔
تاہم بقول ڈاکٹر اقبال جونہی انہوں نے یہ بات کمیٹی میں کہی تو ڈاکٹر عاصم نے violent انداز میں انہیں زبانی طور پر گالیاں دینی شروع کر دیں اور کہا مجھ سے اپنے خلاف شکایت کی تفصیل مت مانگو۔ تم نفسیاتی مریض اور کرپٹ ہو۔
جس پر میں نے بڑے احترام سے کہا سر آپ ایسے مت کریں۔ یہ درست عمل نہیں۔ اس پر وہ مزید غصے میں آگئے اور مجھے کہا بکواس بند کرو۔
مجھے کہا ان کے بہت اعلی سطح پر تعلقات ہیں اور ان کے پاس میرے فون کالز اور دیگر چیزوں کا کال ریکارڈ موجود ہے جو انہوں نے اپنے تعلقات سے نکلوایا ہے۔
پھر انہوں نے مجھے دھمکی دی کہ
مت بھولو تم نے کراچی بھی جانا ہے۔
اور پھر مجھ پر شاوٹ کرتے ہوئے کہا نکل جائو کمرے سے۔ دفع ہو جائو۔
ڈاکٹر اقبال نے صدر زرداری کو لکھا ہے اس میٹنگ کے منٹس ڈائریکٹر تعلیم ایوان صدر اسد صاحب نے ریکارڈ کیے ان سے منگوائے جاسکتے ہیں کہ پندرہ منٹ میں میرے ساتھ کیا بدترین سلوک کیا گیا۔
اس بدتمیزی/گالی گلوچ کی ایک ہی وجہ ہے کہ میں نے ڈاکٹر عاصم کے فون پر استحفا دینے سے انکار کیا تھا کیونکہ وہ میری جگہ اپنی بیوی کو لگوانا چاہتے ہیں”
@BBhuttoZardari@AseefaBZ@AAliZardari@CMShehbaz@TararAttaullah@sherryrehman@HinaRKhar@ShaziaAttaMarri@KamalMQM@AyazSadiq122@betterpakistan@KhawajaMAsif@KhSaad_Rafique@MIshaqDar50@OIC_OCI@SyedAliZafar1@BarristerGohar@Ali_MuhammadPTI@SenatorSaleem@DFSMQM@MuradAliShahPPP@sharjeelinam@MediaCellPPP@MIshaqDar50
پچھلے 5 سال میں بغیر بجلی بنائے کپیسٹی پیمنٹ کے نام پر سات ہزار ارب نجی بجلی گھروں کو ادا کئے گئے ہیں یہ رقم 25 ارب 18 کروڑ ڈالر بنتی ہے
پاکستان کی معیشت کو ڈبونے کے لئے ایک یہی چیز کافی ہے
آپ سوچیں پنجاب کے 41 اضلاع ہیں دس ڈویژن ہیں جن کو الگ صوبہ بنانے کا کہہ رہے اگر ان 41 اضلاع میں لوکل حکومت کو مکمل خودمختار براہ راست منتحبب مئیر یا لارڈ مئیر ہو تو پنجاب کا جو چودہ سو ارب کا ترقیاتی بجٹ ( سات سو ارب اس دفعہ مرکز کو دے دیا ) جو اس وقت ایک مریم اورنگزیب کے پاس ہوتا وہ برابر تقسیم ہو تو ہر ضلع کو 34 ارب ملے گا یوں ترقی کا عمل صوبے بھر میں مکمل تقسیم ہو جائے گا محرومی والا گلہ نہی رہے گا اور پیسہ ایک ہاتھ کے بجائے 41 منتحب مئیر کے پاس ہو گا ان کا احتساب آسان ہو گا جمہوری اصولوں میں جب طاقت ایک ہاتھ میں مرکوز ہوتی تو وہ آمریت بن جاتی ہے اس میں کرپشن زیادہ ہوتی ہے
پڑدادا وزیر اعظم رہا، دادی وزیر اعظم رہی، باپ وزیر اعظم رہا، خود اپوزیشن لیڈر اور اپنی پارٹی کے صدر اور سینئر لیڈر کے جوتے سیدھے کر رہا ہے......ہمارے ہاں پچاس پچاس سالہ سیاسی کیریئر والے 34 سالہ لونڈے کے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں کہ لیڈر ہے مائی باپ ہے.
جنگ کے بعد عالمی منڈی میں قیمتیں گریں تو پاکستان میں مطالبہ کیا گیا کہ تیل سستا کریں تو حکومت کی دلیل تھی تیل خریداری کے معاہدے پہلے کیے جاتے ہیں اور وہ تیل دو سے تین ہفتوں میں پاکستان پہنچتا ہے تو فورا سستا نہیں ہو سکتا ۔
اب ماشااللہ سے روز تیل معاہدے ہوتے روز خریدا ہوا تیل فوراپاکستان پہنچ جاتا اور پھر روز ہی مہنگا ہوجاتا ۔
یہ ہوتا ہے تجربہ !
حکومت کا ایک اور ایسا فیصلہ جس کی قیمت اسے چکانا پڑے گی۔ کسی بھی عقل دلیل کے اعتبار سے اس فیصلے کو صائب نہیں کہا جا سکتا۔ سنگاپور کا Platts Index اگر ہفتے کے مجموعی اعتبار سے قیمتوں کا تعین کرتا ہے تو روزانہ کس طرح قیمتوں میں اتار چڑھاو لایا جا سکتا ہے؟؟ اور کیا مہنگا تیل روزانہ کی بنیاد پر پاکستان پہنچ رہا ہے؟؟ یہ فیصلہ صرف آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، پٹرولیم ڈیلرز، پیسے کمانے کی غرض سے کیا گیا ہے۔ ملکی معیشت اب صرف پٹرول قیمتیں بڑھا کر اور ایران امریکہ جنگ کے مرہون منت ہی چلائی جا رہی ہے، اور تو کہیں سے ریونیو اکٹھا نہیں ہو رہا۔ انتہائی افسوسناک ۔۔۔۔۔
ایک تو عوام پہلے ہی بجلی کے بلز سے تنگ ھے اوپر سے واپڈا والوں کی حرامزدگیاں چیک کریں۔ ابھی 5 منٹ پہلے واپڈا والا میٹر ریڈنگ نوٹ کر رہا تھا۔ میں نے اسے پوچھا یہ ریڈنگ تو 12 تاریخ کو ہوتی ھے تو کہنے لگا ہڑتال تھی۔۔ میں نے کہا کوئئ ہڑتال نہیں تھی کیوں جھوٹ بولتے ہو؟؟
تو آگے سے چپ کر گیا۔ ریڈنگ لیٹ کرنے کا مقصد ہی یہی ھے کہ اگر کوئی غریب آدمی اپنے میٹر کو ایک حساب سے چلا رہا ھے کہ یونٹ 2 سو یا تین سو سے اوپر نہ جائیں۔ تو یہ حرامزادے بل ڈبل بھیجنے کے لئے ریڈنگ لیٹ کرنے آ رھے ہیں۔۔
لعنت بھی چھوٹا لفظ ھے ان جیسے حرامیوں کے لئے🖐️
کیا مہنگے آئی پی ایز ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے جارہے ہیں؟
سینٹ میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے سینٹر عبدالقادر نے بجلی گھروں کے بارے نئے انکشافات کیا کہ اگلے سال ان بجلی گھروں کو 1800 ارب روپے کیپسٹی چارجز کے نام پر ملیں گے چاہے آپ بجلی خریدیں یا نہ خریدیں جبکہ ڈیموں کے لیے صرف دس دس ارب روپے رکھے گئے ہیں جہاں سے سب سے سستی بجلی پیدا ہوتی ہے۔
میرا کہنا تھا جب حکمرانوں کے اپنے بچوں کے بجلی گھر ہوں گے تو پھر حیرانی کیسی ؟
خوفناک انکشافات سنیں کہ حکمران اشرافیہ خود کارخانے لگا کر عوام کو مہنگی بجلی بیچ کر اربوں کما رہی ہے؟
مکمل پروگرام لنک
👇
https://t.co/JYhUgPE9e2 via @YouTube@NeoNewsUR@fawadnb@NasrullahMalik1
اللہ کا شکر ہے کہ پنجاب میں تعلیم کے نظام کی تباہی سکولوں کی فروخت کا معاملہ اب قومی اسمبلی میں بھی پہنچ چکا ہے
محمد الیاس چوھدری گجرات سے ایم این اے ہیں وہ اسمبلی کے فلور پر بتا رہے ہیں کہ ان کے گاؤں میں سرکاری سکول میں 98 بچیاں تھی اسے ٹھیکدار کو دے دیا اب 26 بچیاں ہیں جس دن انسپیکشن ہوتی پرائویٹ سکول سے بچے لے آتے ہیں دس دس ہزار پر ٹیچر پڑھا رہے ہیں
آپ سب پنجاب کی تعلیم کی بربادی پر آواز اٹھاتے رہیں یہ بہت بڑا مسلہ ہے نسلوں کی بقا کا معاملہ ہے
پچھلے 10 مہینوں میں 3 ارب ڈالر کی گاڑیاں امپورٹ کی گئیں، جبکہ 1 ارب ڈالر کے لیے آئی ایم ایف کے سامنے ناک رگڑوائی جا رہی ہے۔
یہ کیسا نظام ہے جہاں 3 ارب ڈالر عیاشیوں پر خرچ ہو جائیں، مگر 1 ارب ڈالر کے لیے پوری قوم پر بوجھ ڈال دیا جائے؟ واقعی یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔