@alilarijani_ir اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
Agha you were a lion. Lived like a lion. Returned to your creator like a lion
World produces very few like you. May Allah reward you in heaven. Ameen.
The first day she ever slept over at my place, I left for work and she stayed behind. When I came home, she was in the kitchen cooking. I walked into my room and everything was spotless. She had cleaned the house, done my laundry, and then served me a plate of food.
I remember thinking to myself, women like this still exist?
She’s beautiful, successful, and well put together, so it surprised me even more that she still carried that traditional femininity and warmth.
Six months later, I proposed to her.
We’ve been married for five years now, and nothing has changed. She still cooks, keeps the home peaceful, and never brings unnecessary stress into my life. She lets me relax, play my video games, and watch sports. She even started watching soccer with me and reminds me when my games are on.
Peace in a man’s life is priceless.
I wish every man out there a safe journey in finding a woman like her. I know I did. And I’m never leaving my wife. She’s South American.
You woke up at 7 AM & it's raining outside... Mom smiles and says,“No school today”
You stay under the blanket a little longer. Cold weather.. warm bed.. zero worries.
You turn on the TV.. Watching Doraemon or Shinchan.. No pressure.. No responsibilities.
Back then, Happiness didn't need any reasons. We didn't chase peace.. We lived in it.
Back then, life WAS good.
🇵🇰now formally in a crises of hunger and nutrition, with people eating less, children are out of school and graduates are without jobs , the back bone of any country the middle class struggling to meet ends and live with dignity , if it wasn’t for charity people would go hungry even in Ramzan , because of profiteers … but of course lavish weddings and luxurious jets and unnecessary foreign trips are on , who may dare ask why so utterly shameless is our ruling elite . the Islamic republic of 🇵🇰it is
That lockdown Ramadan will always be a core memory when all of us were watching Ertugal. Playing Plato ludo, cod. No studies. No office, Greatest son of soil was our PM. Warra days.
He who once had the eye of the tiger has now lost most of the vision in his right eye due to solitary confinement, medical neglect and the denial of proper treatment in jail. What a sad and tragic state of affairs
@raftardotcom Accountability of everyone who played his role in destroying this motherland
Power with the people/Respect for people
Rule of law/Justice
آج 20؍نومبر 1984
سب سے پسندیدہ اور مقبول پاکستانی شاعروں میں سے ایک ، اپنے انقلابی خیالات کے سبب کئی برس قید میں رہنے والے مشہور شاعر ”فیض_احمد_فیضؔ صاحب“ کا یومِ وفات ہے۔
مختصر تعارف
نام فیض_احمد اور تخلص فیضؔ ہے۔
13؍فروری 1911ء کو کالا قادر، ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ سیالکوٹ میں پاس کیا۔ بعد ازاں لاہور میں ایم اے (انگریزی) اور ایم اے (عربی) کے امتحانات پاس کیے۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد درس وتدریس سے وابستہ ہوگئے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران فوج کے محکمۂ نشرواشاعت سے منسلک رہے۔ جب لاہور سے ’’پاکستان ٹائمز‘‘ اور ’’امروز‘‘ جاری ہوئے تو آپ ان کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ عبدﷲ ہارون کالج، کراچی کے پرنسپل اور نیشنل کونسل آف آرٹس کے صدر بھی رہے۔ 1951ء میں پاکستان سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار ہوئے۔ وہ چار سال تک سرگودھا، منٹگمری، کراچی اور لاہور کی مختلف جیلوں میں قید رہے۔ 1955ء میں قید سے رہا ہوئے۔ دسمبر 1958ء میں دوسری بار گرفتار ہوئے اور اپریل 1959ء میں قید سے رہائی ملی۔ فیض کو شعر وشاعری سے لگاؤ اوائل عمر سے تھا۔ کسی سے اصلاح نہیں لی۔ادب کے لینن پرائز سے آپ کو نوازا گیا۔ فیض نے اردو غزل کو ایک نیا لہجہ دے کر اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ ان کا شمار پاکستان کے بہترین غزل گو شعرا میں ہوتاہے۔ 20؍نومبر 1984ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔
ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:👇
’’نقشِ فریادی‘‘، ’’دستِ صبا‘‘، ’’زنداں نامہ‘‘، ’’دستِ تہہ سنگ‘‘، ’’شام شہرِ یاراں‘‘، ’’متاعِ لوح وقلم‘‘، ’’سروادئ سینا‘‘، ’’مرے دل ، مرے مسافر‘‘۔ ان کی کلیات ’’نسخہ ہائے وفا‘‘ کے نام سے چھپ گئی ہے۔ مضامین کا مجموعہ ’’میزان‘‘ کے نام سے بھی شائع ہوا ہے۔ ’’مہ و سال آشنائی‘‘ (یادوں کا مجموعہ) بھی ان کی تصنیف ہے۔
👈 #بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:21
پیشکش : اعجاز زیڈ ایچ
برصغیر کے مقبول شاعر فیض احمد فیضؔ کے یوم وفات پر منتخب اشعار بطور خراجِ عقیدت..
ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
-
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
-
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
---
نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی
---
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے
-
آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہربان
بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے
-
اک طرزِ تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک
اک عرضِ تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے
گلوں میں رنگ بھرے بادِ نوبہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
-
مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
-
''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر''
چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر
---
یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہم دم
وصالِ یار فقط آرزو کی بات نہیں
---
بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے
تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے
---
اٹھ کر تو آ گئے ہیں تری بزم سے مگر
کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں
---
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
---
آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے
---
اب اپنا اختیار ہے چاہے جہاں چلیں
رہبر سے اپنی راہ جدا کر چکے ہیں ہم
---
جدا تھے ہم تو میسر تھیں قربتیں کتنی
بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا
---
غمِ جہاں ہو رُخِ یار ہو کہ دستِ عدو
سلوک جس سے کیا ہم نے عاشقانہ کیا
---
ان میں لہو جلا ہو ہمارا کہ جان و دل
محفل میں کچھ چراغِ فروزاں ہوئے تو ہیں
---
اگر شرر ہے تو بھڑکے جو پھول ہے تو کھلے
طرح طرح کی طلب تیرے رنگ لب سے ہے
---
سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں
ہم لوگ سرخ رو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں
---
یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ
یوں فضا مہکی کہ بدلا مرے ہم راز کا رنگ
---
مری چشمِ تن آساں کو بصیرت مل گئی جب سے
بہت جانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی
---
ہم اہلِ قفس تنہا بھی نہیں ہر روز نسیمِ صبحِ وطن
یادوں سے معطر آتی ہے اشکوں سے منور جاتی ہے
---
جو طلب پہ عہدِ وفا کیا تو وہ آبروئے وفا گئی
سرِ عام جب ہوئے مدعی تو ثوابِ صدق و وفا گیا
---
حدیثِ یار کے عنواں نکھرنے لگتے ہیں
تو ہر حریم میں گیسو سنورنے لگتے ہیں
---
متاعِ لوح و قلم چھین گئی تو کیا غم ہے
کہ خون دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے
---
رقصِ مے تیز کرو ساز کی لے تیز کرو
سوئے مے خانہ سفیرانِ حرم آتے ہیں
---
تیرےدستِ ستم کا عجز نہیں
دل ہی کافر تھا جس نے آ ہ نہ کی
-
دلِ عُشاق کی ۔۔۔۔۔۔خبر لینا
پھول کھلتے ہیں ان مہینوں میں
-
حرفِ حق دل میں کھٹکتا ہے جو کانٹے کی طرح
آج اِقرار کریں اور خلش مِٹ جائے
---
یوم پیدائش اور وفات شعرا " سے کاپیڈ