بلوچستان کی عوام عمران خان سے کتنی مطمئن تھی، اس کا واضح ثبوت فروری 2024 کا الیکشن تھا، جس میں اہلیانِ بلوچستان نے تحریک انصاف کو وسیع پیمانے پر ووٹ دیے۔ پارٹی نے صوبے کے 16 میں سے 4 قومی سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ تحریک انصاف 7 صوبائی سیٹوں پر جیت کی دعوے دار تھی، لیکن فرشتوں کے فارم 45 چھپانے کی وجہ سے آج بھی تحریک انصاف کے 4 قومی اور 4 صوبائی سیٹوں کے کیسز سپریم کورٹ میں چل رہے ہیں۔ سالار خان کاکڑ
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
@MeFixerr
عمران خان نے 2010 کے بدترین سیلاب میں بلوچستان کی خدمت کی، اس سے پہلے زلزلہ زدگان کی خدمت کی۔ ان کی حکومت میں 450 مسنگ پرسنز اپنے بچوں کے پاس واپس پہنچے۔ عمران خان نے بلوچستان کو 700 ارب روپے کے وسیع فنڈ دیے۔
آپ اور آپ جیسے دیگر کافی سابقہ بڑے ناموں کو میں نے عمران خان کے گھر بنی گالہ اور وزیراعظم سیکریٹریٹ میں لائنوں میں بیٹھ کر گھنٹوں انتظار کرتے اور مختلف مواقع پر ان کی چاپلوسی کرتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ عمران خان کی شفقت اور شرافت پر احسان فراموشی کے بجائے ظرف کا مظاہرہ کریں۔ وزیراعلیٰ صاحب، سچ بولیں، اگر آپ میں ہمت ہے تو!، سالار خان کاکڑ
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
@MeFixerr
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا یہ کہنا کہ بلوچستان میں بدامنی عمران خان کی وجہ سے ہے، نہ صرف بدترین بددیانتی ہے بلکہ ان کی اہلیت اور سنجیدگی پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ ایسے وقت میں جب بلوچستان لہولہان ہے، پورے صوبے میں آگ لگی ہوئی ہے، سرفراز بگٹی مضحکہ خیز بیانات دے کر اپنی کوتائیوں اور نااہلی کو چھپانے کی بونگی کوشش کر رہے ہیں۔ سالار خان کاکڑ
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
@MeFixerr
26نومبر کوہمارےموبائل چھیننے والےپولیس والوں سےگزارش ہےکہ اگرکوئی میراسامسنگ کاموبائل واپس کردےتوپانچ لاکھ انعام ہے۔ آئی فون بےشک اپنےپاس رکھ لیں۔ سامسنگ موبائل میں میرے بزرگوں، دوستوں کی تصاویراور ویڈیوزہیں جواب اس دنیامیں نہیں ہیں۔ کچھ یادیں ہیں جوقیمتی ہیں۔ سیاسی کچھ بھی نہیں۔
عمران خان کا دور پچھلے 27 سال میں بلوچستان کا پُرامن ترین دور تھا۔ بلوچستان کی تمام شاہراہیں محفوظ تھیں۔ بارڈر محفوظ تھے۔ کاروبار عروج پر تھا۔ عوام کو جان و مال کا تحفظ اور وسیع روزگار حاصل تھا۔
سرفراز حکومت جس دن سے اس بدنصیب صوبے پر عذاب بن کر مسلط ہوئی ہے، اس دن کے بعد بلوچستان کے باشندوں کو سکھ کا سانس نصیب نہیں ہوا۔ نوجوان درجنوں کے حساب سے قتل کیے جا رہے ہیں۔ قومی شاہراہیں مغرب کے بعد ٹریفک کے لیے بند ہو جاتی ہیں اور صوبے کا دیگر ملک سے رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔ پچھلے چھ مہینوں سے تمام قومی شاہراہوں پر عوامی املاک اور ٹرانسپورٹ مسلسل جلائی جا رہی ہیں۔ امپورٹ، ایکسپورٹ کے تمام کاروبار معطل ہو چکے ہیں۔ شہر کے شہر ویران ہیں۔ عوام الناس موت کے ڈر سے گھروں میں محصور ہیں۔ شہر کے شہر ہفتوں مسلسل دھرنوں، احتجاجوں پر بیٹھے ہوتے ہیں۔ صوبائی وزراء تک اپنے علاقوں میں نہیں جا سکتے۔ سالار خان کاکڑ
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
@MeFixerr
سالارکاکڑ کافارم 47 کےوزیراعلی سرفرازبگٹی کو عمران خان کےخلاف بیہودہ الزامات پر جواب:
وزیراعلی سرفرازبگٹی کا یہ کہنا کہ بلوچستان میں بدامنی عمران خان کیوجہ سےہےناصرف بدترین بددیانتی ہےبلکہ انکی اہلیت اورسنجیدگی پر سنگین سوالات اٹھاتاہے۔ ایسےوقت میں جب بلوچستان لہولہان ہے، پورے صوبےمیں آگ لگی ہوئی ہے،سرفرازبگٹی مضحکہ خیزبیانات دےکراپنی کوتائیوں اورنااہلی کوچھپانے کی بونگی کوشش کررہےہیں۔ عمران خان کادور پچھلے 27سال میں بلوچستان کاپرامن ترین دور تھا۔ بلوچستان کی تمام شاہرائیں محفوظ تھی۔ بارڈر محفوظ تھے۔ کاروبارعروج پر تھا۔ عوام کوجان ومال کا تحفظ اوروسیع روزگار حاصل تھا۔ بلوچستان کی عوام عمران خان سےکتنی مطمئن تھی اس کا واضح ثبوت فروری 2024 کاالیکشن تھا جس میں اہلیان بلوچستان نے تحریک انصاف کو وسیع پیمانے پر ووٹ دیے۔ پارٹی نے صوبے کے16 میں سے 4 قومی سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ تحریک انصاف 7صوبائی سیٹوں پر جیت کی دعویدارتھی لیکن فرشتوں کےفارم 45چھپانےکیوجہ سےآج بھی تحریک انصاف کے 4قومی اور 4صوبائی سیٹوں کےکیسزسپریم کورٹ میں چل رہے ہیں۔ سرفراز حکومت جس دن سے اس بدنصیب صوبےپر عزاب بن کرمسلط ہوئی ہے اس دن کےبعد بلوچستان کے باشندوں کو سکھ سا سانس نصیب نہیں ہوا۔ نوجوان درجنوں کے حساب سے قتل کیے جارہے ہیں۔ قومی شاہرائیں مغرب کے بعد ٹریفک کےلیے بندہوجاتی ہیں اور صوبے کا دیگر ملک سے رابطہ منقطع ہوجاتا ہے۔ پچھلے چھ مہینوں سے تمام قومی شاہراہوں پر عوامی املاک اور ٹرانسپورٹ مسلسل جلائی جارہی ہیں۔ امپورٹ ایکسپورٹ کے تمام کاروبار معطل ہوچکے ہیں۔ شہر کے شہر ویران ہیں۔ عوام الناس موت کے ڈر سے گھروں میں محصور ہیں۔ شہر کے شہر ہفتوں مسلسل دھرنوں، احتجاجوں پر بیٹھے ہوتے ہیں۔ صوبائی وزراء تک اپنے علاقوں میں نہیں جاسکتے۔ صوبائی حکومت کی اتنی اوقات نہیں کہ اپنے سرکاری ملازمین کو انکی جائز تنخوائیں دے سکیں۔ ملازمین کے آئینی، جمہوری احتجاج پر جو انکا بنیادی حق ہے انکو جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنطیموں، سول سوسائیٹی اور سیاسی تنظیمیں جب بلوچستان کی عوام کےلیے بنیادی حقوق کا تقاضہ کرتی ہیں تو ان کا مقابلہ لاٹھی، گولی اور جھوٹے کیسز سے کیا جاتا ہے۔ اس وقت بلوچستان کے کتنے رہنما جیلوں میں ہیں یا جیلیں کاٹ چکے ہیں وہ پورے پاکستان کو معلوم ہے۔ نااہل حکومت کے دور میں صوبہ کرپشن اور سمگلنگ کے نئے ریکارڈ قائم کرچکا ہے۔ متعدد علاقوں کے مکین سراپا احتجاج ہیں کہ انکے پہاڑوں، محلوں میں مسلحہ جتے غول در غول گھوم پھر رہے ہوتے ہیں۔ عوام کو روکتے ہیں، انکی تلاشی لیتے ہیں، انکو لوٹتے ہیں۔ وزیراعلی اور صوبائی وزیروں کی اتنی اوقات نہیں کہ حالیہ سانحہ زیارت کے شہداء کی فاتحہ خوانی میں شرکت کرسکیں۔ انہیں معلوم ہے کہ عوام انکا استقبال جوتوں سے کرینگے۔
لہزاء، وزیراعلی صاحب؛ اپنے گریبان میں جھانکے، اپنی نااہلی کی خوداحتسابی کریں، اپنی فارم 47 کی حکومت پر شرمندہ ہوں۔ آپکو نا عوام نے منتخب کیا ہے، نا آپ سے عوام کو کوئی امید ہے اور نا ہی آپ اس خیرات کی کرسی پر عوامی خدمت کےلیے بیٹھے ہیں۔ تنقید تو کجا، آپکی حیثیت نہیں ہے عمران خان کا نام لینے کی۔ عمران خان ایک مردمجاہد ہے جواس قوم اس ملک کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرکے تین سال سے جیل میں بیٹھے ہیں۔ عمران خان نے 2010 کے بدترین سیلاب میں بلوچستان کی خدمت کی، اس سےپہلے زلزلہ زدگان کی خدمت کی۔ انکی حکومت میں 450 مسنگ پرسنزاپنےبچوں کےپاس واپس پہنچے۔ عمران خان نےبلوچستان کو700ارب روپےکےوسیع فنڈدیے۔ آپ اور آپ جییسےدیگرکافی سابقہ بڑےناموں کومیں نےعمران خان کےگھربنی گالہ اوروزیراعظم سیکریٹریٹ میں لائنوں میں بیٹھ کرگھنٹوں انتظارکرتےاورمختلف مواقع پرانکی چاپلوسی کرتےاپنی آنکھوں سےدیکھاہے۔ عمران خان کی شفقت اورشرافت پر احسان فراموشی کےبجائے ظرف کامظاہرہ کریں۔ وزیراعلی صاحب، سچ بولیں، اگر آپ میں ہمت ہے تو!
یہ بلوچستان کے سمگلر ہیں جنکا طعنہ ہمیں پورا پاکستان دیتا ہے۔ غربت اوربیروزگاری کیوجہ سےشدیدمجبوری میں40 لیٹر پیٹرول کےدو کنسترموٹرسائیکل کےدونوں طرف باندھ کرتیس چالیس کلومیٹرسفرکرتے۔ لیٹرپردس روپےکمائیں تو800روپےبنتےجس سےخاندان کی کفالت کرتے۔ یوں سمجھیں بائیک کےساتھ80کلوکابم باندھاہواہے۔ جہاں گرےوہاں شہادت۔ آج 4 کےجھلسنےکی خبر ہے۔
24 سالہ احمد ولی 26نومبر کو شہید ہوا۔ یہ انکےمظلوم والد صاحب ہیں۔ شہادت کےبعد پشین بلوچستان میں جس مسجد میں انکی فاتحہ خوانی تھی وہاں پولیس جوتوں سمیت گھس گئی۔ کہا کہ یہ شہہد نہیں مردار ہے۔ ختم کرو یہ فاتحہ۔ گرفتاریاں کی،پرچے کیے۔
مرتے دم تک یہ الفاظ اور یہ سلوک نا بھولینگے۔
کوئٹہ میں زیارت سانحے کے دھرنے سے سالار کاکڑ کے گزارشات:
1۔ زیارت کے اندوہناک حادثہ پر ناصرف شہداء کےاقرباء بلکہ تمام بلوچستان شدید صدمے اور غم و غصہ میں ہے۔
2۔ ریاست امن و امان کو یقینی بنائے۔
3۔ حکومت عوامی خدشات دور کرنے کےلیے مائنز اینڈ منرلز بل واپس لے۔ لاکھوں ایکڑ کے جو مبینہ الاٹمنٹس غیر لوکل لوگوں کو دی ہیں وہ کینسل کرے۔
4۔ صوبے کے مخدوش صورتحال کےلیے آل پارٹیز و تمام قبائل مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔
#Balochistan
شہید اکبر شیرانی کو جب محاصرے میں مدد پہنچنے کی امید ختم ہوئی تو قلم کاغذ نکال کر ان پر جن افراد کا قرض تھا وہ نام لکھے، سامنے قرض کی رقم لکھی۔ خون آلود کاغز انکی جسد خاکی کی جیب سے برآمد ہوا۔
سانحہ مانگی، ضلع زیارت
#Balochistan