میں براہِ راست عاصم منیر سے سوال کرتا ہوں۔۔
کبھی تم صوبے بنا رہے ہو، کبھی صدر بن رہے ہو�� کبھی مارشل لا لگا رہے ہو۔ عاصم منیر، تم ہو کون؟ تم نے پاکستان کو سمجھ کیا رکھا ہے؟ تم ایک عام چوکیدار ہو، تمہاری حیثیت عام شہری سے بھی کم ہے۔ تمہاری زمینیں، تمہارے بنگلے، کھربوں کی جائیدادیں کہاں سے آتی ہیں؟ ہم تمہیں امریکہ کے جرنیل کے برابر تنخواہ دینے کو تیار ہیں، لیکن تم جزیروں سے کم تو بات نہیں کرتے۔
صوبے بننے چاہئیں، لیکن عوام کی مرضی سے، تمہاری مرضی سے نہیں۔ میں قائداعظم کا بمبئی کا محل دیکھ رہا تھا، وہ یہاں زیارت میں پڑا تھا۔ قائداعظم نے وہ محل کیوں بنوایا؟ انہوں نے اپنی بیٹی کو نہیں دیا۔ وہ ایک مصروف ترین وکیل تھے۔ قائداعظم نے ہر چیز اپنی قوم کو دی۔
مشرف صاحب کا بیس پچیس ارب کا محل ہے، جس میں وہ ایک رات بھی نہیں رہ سکا۔ عاصم، تمہارا انجام بہت برا ہوگا، پتہ نہیں ہم ہوں گے یا نہیں۔ عوام اب ہر چیز جان چکی ہے۔ سہیل آفریدی کو کون جانتا تھا؟ اس نے ات��ی عوام نکالی ہے۔
قوم عمران کو لیڈر مانتی ہے۔ وہ لاوارث نہیں ہے۔ تم کون ہو قوم کے لیڈر کا علاج روکنے والے؟ تم بتاؤ، آج تم ہو کون؟ تمہارے پاس ��رف بندوق ہے۔
میں 70 سال سے سیاسی ورکر ہوں۔ تم میرا کیا کر سکتے ہو؟ مجھے 12 سال کی عمر میں آپ کے ایوب خان نے پہلی دفعہ 1964 میں جیل بھیجا۔ میں نے اسمبلی میں ضیاء الحق کو 1985ء میں کہا تھا:
اور یہی تمہیں کہتا ہوں
عاصم منیر، تمہیں بھی کہتا ہوں:
About turn quick march go back to your barracks and never come back again.
جس طرح کی طِبی دہشت گردی عمران خان کے ساتھ کی گئی، اور اس پر جیسے ان کے ذاتی معالجین اور فیملی کے بغیر جو عسکری رپورٹس میڈیا پر چلائی گئیں اس سے مزید تشویش ناک صورت حال جنم لے رہی ہے۔ عمران خان اس وقت ریاست کی تحویل میں ہیں جہاں مسلسل اُن کی زندگی سے کھیلا جا رہا ہے۔ آخر کس چیز کو چھپایا جا رہا ہے؟
کنٹرولڈ چیک اپ، کنٹرولڈ انفارمیشن، کنٹرولڈ میڈیا ۔ جس سے زندگی کو خطرہ ہے، جن کی وجہ سے اس نہج پر پہنچے ان ہی کی بات پر یقین کیا جائے؟
اس سے قبل عمران خان پر وزیرآباد میں قاتلانہ حملہ کروایا گیا ان کو گولیاں لگیں، اللہ نے اُن کی زندگی کی حفاظت کی لیکن اس وقت بھی بیانیے بنائے گئے، لمحوں میں آئی ایس آئی نے میڈیا کو ویڈیو بیانات بھجوانا شروع کر دئیے۔
فوجی قیادت کے کہنے پر آئی ایس آئی نے ایک افغانی کو خان صاحب کو مارنے کا ٹاسک دیا، جب میں نے پریس کانفرنس میں اس سازش کا پردہ فاش کیا تو آئی ایس آئی اسلام آباد سیکٹر نے پریس کلب میں ایک افغانی کی پریس کانفرنس رکھوائی اور شام کو پرائم ٹائم ٹی وی پروگرام میں بیانیے کے لیے بھجوایا گیا۔ میں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا، مگر یہ جانتے تھے کس کا ذکر ہورہا ہے۔
صوابی میں ہیلی کاپٹر گرانے کا پلان اکسپوز ہوا جس کے لیے ڈبل ایجنٹ ہائیر کیا گیا تھا، جو بعد میں مارا گیا۔ اس کے بعد ہیلی کاپٹر میں غلط فیول بھروایا گیا اور رپورٹ آج تک سامنے نہ آسکی۔ اٹھارہ مارچ کو ڈیتھ ٹریپ بچھایا گیا اور جب ناکام ہوا تو پولیس افسر کو گالیاں دی گئیں کہ عمران خان کیسے بچ کر نکل گیا۔اس کے علاوہ متعدد کوششیں ہوئیں۔
گزشتہ تین سال سے عمران خان جیل میں ہیں اور مسلسل ان کی صحت کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ عسکری خبریں چلوانے والا میڈیا یہ کیوں بُھول رہا ہے کہ آپ پاکستان کے سب سے عظیم بیٹے عمران خان کی زندگی سے کھیلنے میں حصہ دار بن رہے ہو؟ عمران خان کی صحت کے حوالے سے سوال اٹھانے کو سیاست کا نام کیسے دیا جا سکتا ہے؟ کیوں ان کے ڈاکٹرز سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں ان کی فیملی سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں انہیں ہسپتال نہی�� منتقل کیا جا رہا؟
آخر ایسا کیا گیا ہے جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
ہاں خان صاحب نے جب جیل میں عاصم لاء اور ذہنی مریض کا ذکر کیا تو عاصم منیر نے سب کے سامنے کہا کہ عاصم لاء ہے تو ہے، اب بتاتا ہوں عاصم لاء اور ذہنی مریض کیا ہوتا ہے۔
اسی غصے میں ڈی چوک میں خون ریزی کا اقبال جرم کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بتایا تھا سنگجانی سے آگے مت بڑھو، کیا اکھاڑ لیا صرف ہم سے لوگ ہی مروائے نا۔ ”پھر کوشش کریں اسلام آباد آنے کی، اس دفعہ اٹک پل پر کھڑے ہوکر ماریں گے، ویسے بھی ڈی چوک میں مروا تو دئیے“۔
تو کیا اس غصے میں ہی کچھ ایسا کیا گیا ہے، جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
مد مقابل کا المیہ یہ ہ�� کہ وہ اب تک عمران خان کی جدوجہد کو سمجھ نہیں سکے۔ وہ سمجھتے ہیں ۷۳ سال کی عمر میں دنیا کا ہر عروج ہر کامیابی سمیٹنے کے بعد بھی اس کے لیے ایک برائے نام حکومت سنبھالنا کوئی معنی رکھتا ہوگا کہ جس کے لیے وہ جھکنے پر آمادہ ہوجائیگا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ تیس سال قبل سیاست میں نو آموز ہوتے ہوئے اپنے مقصد کو اپنی شاد آباد زندگی پر فوقیت دینے والے کو آج قید و بند، رقیق ذاتی حملے، اہل و عیال پر جبر سے مجبور کیا جاسکتا ہے۔ مد مقابل کا المیہ یہ ہے کہ وہ سمجھ نہیں پارہا کہ اس کی لگائی پود سے متضاد کہ جنہیں بوقت ضرورت سٹیج پر سجا دیا جاتا اور کردار پورا ہونے پر اتار دیا جاتا، وہ ان کے اس پتلی تماشے کی تاریں کاٹ رہا ہے۔
۷۸ سال سے پاکستان میں ریاست کی ایک ہی ڈیفینیشن رہی ہے؛ مافیہ طرز کا گٹ جوڑ جو اپنے مفادات کو ریاست نام کی آڑ لے کر بچاتا رہا ہے۔ جو اپنے آپ کو ایک مقدس گائے قرار دے کر اپنی جانب اٹھنے والی انگلی توڑنے کو جائز قرار دیتا ہے۔ جو اپنے ڈرامے میں حقیقت کا رنگ بھرنے کو کبھی ایک کردار کو ٹاکی شاکی مار کر پائیدان پر سجاتا ہے تو کبھی دوسرے کو۔
عمران خان اس وقت یہ ڈیفینیشن تبدیل کررہا ہے۔ اور حقیقت یہی ہے کہ یہ ڈیفینیشن تبدیل کیے بغیر اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ عمران خان یہ حقیقت جان چکا ہے کہ یہ اف��اد کی لڑائی نہیں وہ کسی فرد کو اپنا مقابل گردان کر اس کی شکست اور اس کے انجام کو ذہن میں رکھ کر نہیں لڑ رہا۔ وہ اس نظام کی جڑیں کھود رہا ہے جس کی بنیاد استحصال پر ہے۔ جس کی بقا خون بہانے، خون چوسنے، تقسیم کرنے، زباں بند رکھنے، آنکھوں کے پردوں کو روشنی اور پیروں کی بیڑیوں کو گھنگرو باور کرنے میں ہے۔ وہ نام تاریخ کے کسی سیاہ باب کے کردار کا لے رہا ہو اس کا مخاطب اس کا جانشین نہیں کہ وہ محض اسے موردِ الزام نہیں گردانتا بلکہ اس اختیار کو مانتا ہے جس کی رعونت میں آپ کروڑوں کے فیصلے کو جوتے کی نوک پر رکھ دیں چاہے اس کی قیمت ملک دولخت ہونا ہو۔ وہ آج اگر کسی کا نام لے لے کر للکار رہا ہے تو ایسا نہیں کہ اس کا مسئلہ کوئی ایک شخص ہے کہ جسے نیچا دکھا کر اس کے انا کی تسکین ہو۔ یہ اس کی انا کی تو جنگ ہی نہیں۔ یہ جنگ تو اس قوم کی ہے جس کے بیٹے اغوا ہوتے ہیں تو سالوں بعد ان کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔ کہ جس کی ریزگاری پر پلنے والا محافظ اس کے سر کا سودا کرتا ہے۔ کہ جو آدھی دہائی میں ایک مرتبہ اس غرور کے ساتھ گھر سے نکلتا ہے کہ اس کی رائے کی بھی کوئی وقعت ہے تو اس کے فیصلے کو روند کر اس کو اس کی اوقات بتائی جاتی ہے۔ کہ جس کو آواز اٹھانے پر گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے اور جس کے اپنے ملک کی عدالتیں اس کو انصاف دینے سے کتراتی ہیں، کہ جو اپنا پیٹ کاٹ کر ٹیکس بھرتا ہے، اس کے وسائل سے سبزازاروں میں پرائیوٹ اسٹیٹس بنتی ہیں اوروں کی اولادوں کے حال و مستقبل سنورتے ہیں مگر اس کے خود کے نصیبوں میں ایسی وحشتیں آتی ہیں کہ وہ اپنے گلی کوچے چھوڑ کشتیوں میں بیٹھ کر سمندر کے بے رحم حلق میں اترنے کو ترجیح دیتا ہے۔ سوال عمران خان کی حکومت کا نہیں ہے سوال اس ڈائن سے ماں کا ٹائٹل چھیننے کا ہے جو اس بےکس قوم کی گردن میں اپنے خون آشام پنجے گاڑے خود کو ریاست کہلانے پر مصر ہے۔
“سب سے پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں ہے-
میں اس آمریت کو کبھی تسلیم نہیں کروں گا اور اس آمریت کے خلاف جدوجہد میں مجھے جتنی دیر بھی جیل کی کال کوٹھری میں رہنا پڑا میں رہوں گا لیکن اپنے اصولوں اور قوم کی حقیقی آزادی کی جدوجہد پر سمجھوتہ نہیں کروں گا-
ہمارا عزم حقیقی آزادی، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی ہے، جس کے حصول تک اور آخری گیند تک لڑتے رہیں گے- کوئی ڈیل نہیں کروں گا اور تمام جھوٹے کیسز کا سامنا کروں گا-
میں ایک بار پھر قوم کو کہتا ہوں کہ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پڑھیں- پاکستان میں 1971 کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے- یحیٰ خان نے بھی ملک کو تباہ کیا اور آج بھی ڈکٹیٹر اپنی آمریت بچانے کے لیے اور اپنی ذات کے فائدے کے لیے یہ سب کر رہا ہے اور ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کر کھڑا کر دیا ہے-
آج القادر ٹرسٹ کے کالے فیصلے کے بعد عدلیہ نے اپنی ساکھ مزید تباہ کر دی ہے- جو جج آمریت کو سپورٹ کرتا ہے اور اشاروں پر چلتا ہے اسے نوازا جاتا ہے- جن ججز کے نام اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے بھیجے گئے ان کا واحد میرٹ میرے خلاف فیصلے دینا ہے-
یہ کیس تو دراصل نواز شریف اور اس کے بیٹے کے خلاف ہونا چاہییے تھا جنہوں نے برطانیہ میں اپنی 9 ارب کی پراپرٹی ملک ریاض کو 18 ارب میں بیچی- سوال تو یہ ہونا چاہیے کہ ان کے پاس 9 ارب کہاں سے آئے؟ پانامہ میں ان سے جو رسیدیں مانگی گئیں وہ آج تک نہیں دی گئیں۔ قاضی فائز عیسی کے ساتھ مل کر حدیبیہ پیپر ملز میں اربوں روپے کی منی لانڈرنگ معاف کروائی گئی۔
القادر یونیورسٹی شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کی طرح ہی عوام کے لیے ایک مفت فلاحی ادارہ ہے جہاں طلبأ سیرت النبی ﷺ کے بارے میں تعلیم حاصل کر رہے تھے- القادر یونیورسٹی سے مجھے یا بشرٰی بی بی کو ایک ٹکے کا بھی فائدہ نہیں ہوا اور حکومت کو ایک ٹکے کا بھی نقصان نہیں ہوا-
القادر ٹرسٹ کی زمین بھی واپس لے لی گئی جس سے صرف غریب طلبأ کا نقصان ہو گا جو سیرت النبی ﷺ کے بارے میں تعلیم حاصل کر رہے تھے-
القادر ٹرسٹ کا ایسا فیصلہ ہے جس کا پہلے ہی سب کو پتہ تھا- چاہے فیصلے کی تاخیر ہو یا سزا کی بات سب پہلے ہی میڈیا پر آ جاتا ہے- عدالتی تاریخ میں ایسا مذاق کبھی نہیں دیکھا گیا- جس نے فیصلہ جج کو لکھ کر بھیجا ہے اسی نے میڈیا کو بھی لیک کیا-
میری اہلیہ ایک گھریلو خاتون ہیں جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے- بشرٰی بی بی کو صرف اس لیے سزا دی گئی تاکہ مجھے تکلیف پہنچا کر مجھ پر دباؤ ڈالا جائے- ان پر پہلے بھی گھٹیا کیسز بنائے گئے- لیکن بشرٰی بی بی نے ہمیشہ اسے اللہ کا امتحان سمجھ کر مقابلہ کیا ہے اور وہ میرے کاز کے ساتھ کھڑی رہی ہیں-
مذاکرات میں اگر 9 مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن بنانے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوتی تو وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں- بددیانت لوگ (cheaters) کبھی نیوٹرل ایمپائرز کو نہیں آنے دیتے- حکومت جوڈیشل کمیشن کے مطالبے سے اسی لیے راہ فرار اختیار کر رہی ہے کیونکہ وہ بد دیانت ہے۔” - سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
عرصہ پہلے کہیں پڑھا تھا کہ زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسا وقت آتا ہے جب اللہ آپ کو ہر رشتے ہر تعلق کی اصلیت دکھا کر پوچھتا ہے کہ بتا اب کون ہے تیرا میرے سوا۔ مجھے خوف آتا ہے یہ سوچتے کہ یہ وقت عمران خان کا اور بحیثیتِ قوم ہمارا وہی وقت نہ ہو۔ مگر اس بات کی تسلی بھی ہے کہ اللہ ہے۔
میں نہیں جانتا کسی نے کسی کو دھوکہ دیا یا کسی کے ساتھ دھوکہ ہوا۔ وقت سارے راز کھول دے گا۔ میں جنہیں بہت اچھے سے جانتا تھا وقت بدلنے پر ان میں سے بہت سے، بہت انجان نکلے۔۔ نیتوں کے حال فقط ایک اللہ جانتا ہے، میں کسی کے حق میں ایسا دعوی نہیں کرسکتا۔ ہاں اتنے عرصے کی رفاقت کی بنیاد پر اپنے لیڈر کے متعلق اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ نہ اس نے کبھی اس قوم کا سودا کیا ہے نہ کرے گا۔ وہ اپنے مجرم معاف کردے گا اپنی قوم کے مجرموں کو معاف کرنے والا ہوتا تو آج کال کوٹھری میں نہیں مسند پر ہوتا۔
۴ اکتوبر کے احتجاج سے قبل بھی خان صاحب سے میدان میں اترنے کی اجازت چاہی جواباً یہی معلوم ہوا کہ آپ کے حوالے سے احکامات میں کوئی ردوبدل نہیں ہے۔ مجھے سیاست میراث میں نہیں ملی، میری سیاسی بقا اپنے لوگوں کے درمیان رہنے میں ہے ان کے ساتھ کھڑے رہنے میں ہے، یہ بھی میرا ایمان ہے کہ زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، میری قوم گواہ ہے، خود کو لاحق واضح خطرات کے باجود امن مارچ، جلسوں، عمران خان کی عدالتی پیشیوں، بنی گالہ اور زمان پارک کے کی��پوں میں حاضر رہا ہوں۔ مگر اب جو حکم ہے سو ہے۔ میں اس حکم کی مصلحت سے واقف نہیں نہ ہی میں خود کو اس تحریک کے لیے لازم و ملزوم سمجھتا ہوں۔ مگر ڈسپلن میرے لیڈر سے میری وفاداری کا تقاضہ ہے۔ مجھے جتنا بھی ناگوار ہے، لاکھ جبر سہی مگر میں اپنے عہدِ وفا کا پابند ہوں۔
اسی طرح ایک اور پابندی میں نے خود پر خود لگا رکھی ہے، پارٹی کے اندرونی معاملات پر پبلک فارمز پر بات نہ کرنے کی مگر میرا اپنی قوم سے وعدہ ہے میرا کوئی بھی اصول، کسی بھی شخص سے تعلق آپ سے اور عمران خان سے میرے تعلق سے بڑھ کر نہیں ہے۔ مجھ سے منصوب ہر شخص اس بات پر گواہ ہے کہ عمران خان کا نظریہ اور اس کی قوم میری زندگی م��ں ہر رشتے سے مقدم ہے۔ جس دن مجھے یہ یقین ہوگیا کہ پارٹی قیادت نے عمران خان سے غداری کی ہے آپ مجھے ہر لحاظ ہر مروت سے آزاد پائیں گے مگر اُس دن تک مجھے اور آپ کو اپنا ذہن تمام امکانات کے لیے کھلا رکھنا ہے۔ بدگمانی گھن کیطرح ہوتی ہے۔ اپنی سوچ کو بدگمانی کے سائے سے محفوظ رکھنا ہے۔ اور عین ممکن ہے یہ ہمارے خلاف بطورِ ہتھیار استعمال ہورہی ہو۔ میں جانتا ہوں کہ طے شدہ حکمت عملی اور خان صاحب کی واضح ہدایات پر عملدرآمد نہیں ہوا مگر میں فی الوقت اسے غفلت گردانوں گا۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں ہم میں سے کوئی بھی عمران خان نہیں ہے، ہم عمران خان بننے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کوشش میں ہم کوتاہیوں کے مرتکب ہوں گے، ان کوتاہیوں کی قیمت کا اندازہ رکھتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ لازم ہے، مگر یہ بھی اللہ کی ہی اپنے بندوں کو دی تسلی ہے کہ کیا خبر جس چیز کو تم اپنے لیے برا سمجھو وہی تمہارے حق میں بہتر ہو۔۔
یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ہمیں ہر سہارے، ہر بیساکھی سے آزاد ہوکر، کسی سے اپنی امیدیں وابستہ کیے بغیر اپنے بل بوتے پر لڑنا سکھا رہا ہو۔ اور لڑنا تو ہمیں ہے، بہرطور، بہ ہر صورت۔ کیونکہ یہ مسئلہ کسی اور کا نہیں ہمارا ہے۔ یہ ملک کسی اور کا نہیں ہمارا ہے تو پھر کسی سے گلہ شکوہ کیا۔ ہم اس جنگ میں نہ کسی اور کی خاطر اترے تھے نہ کسی اور کے بھروسے۔ ہمارا اور ہمارے لیڈر کا نظریہ اور رہنما صرف اللہ کی وحدانیت کا اقرار اور اس بنا پر غلامی سے انکار تھا، ہے اور رہے گا۔ یہی لا الہ ہمارا نظریہ اور یہی لا الہ ہماری م��عل راہ۔
میری قیادت سے بھی درخواست ہے آپ کو خان صاحب نے ڈی چوک احتجاج جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ منگل بدھ کو ملک گیر احتجاج کا پلان دے دیا تھا جس کی تحریری کاپی آفیشلی قوم کے ساتھ شئیر کرکے کال دی جائے۔ اس ضمن میں پارٹی عہدیدار متعلقہ تنظیموں، کارکنان منتخب ممبران سے رابطے کریں۔ خان صاحب کی یہ بھی ہدایت تھی کہ سوشل میڈیا پر پیغام احتجاجی تحریک کے لیے جاری ہوں لیکن عہدیدار، تنظیمیں وغیرہ انفرادی طور پر کارکنان، حلقے کے عوام اور ممبران سے رابطہ کریں۔ سو کارکن اور قیادت ہر سطح پر منظم ہوں۔ اپنا لائحہ عمل طے کریں۔ پلان کریں۔ پر امن رہیں، متحد رہیں، گرفتاریوں سے بچیں۔ گراونڈ کے علاوہ بھی سوشل میڈیا پر اپنا فوکس لامعنی بحثوں پر نہیں اپنے مقاصد پر رکھیں۔ عمران خان، بشری بی بی، دیگر قیادت اور کارکنان کی رہائ۔ آئین و قانون کی بالادستی۔ مینڈیٹ کی واپسی کے علاوہ کوئی اور بحث وقت کا زیاں ہے اور وقت اس وقت ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ وفاداری کا تقاضہ قاعدہ (ڈسپلن) ہے۔ جتنا بھی ناگوار ہو، قائم رکھنا ہے۔ کوئی اور رکھے نہ رکھے، آپ نے رکھنا ہے۔ ۹ مئی کے بعد بھی کوئی مرکزی قیادت منظر عام پر نہیں تھی کیا آپ نے ہار مانی تھی؟ پھر آج مایوسی کا سبب کیا ہے؟ کیا آپ کے لیڈر نے آپ سے غداری کی؟ کیا اس نے آپ کی حمیت کا سودا کیا؟ یا آپ کو اس جدوجہد کے علاوہ اپنی نسلوں کے لیے کوئی اور راستہ سجھائی دے گیا ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد کا بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کا آئی ایس آئی کیخلاف خط مکمل حقیقت پر مبنی ہے۔ اعلی عدلیہ کو سیکٹر کمانڈر سندھ بریگیڈیئر اعجاز احمد عباسی کو جسٹس جہانگیری کیخلاف شازش کرنے پر فوری نوٹس دینا چاہیے!
بانی چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام
۲۳ جولائی ۲۰۲۴
۱-
پرسوں میڈیا پر مخصوص ایجنڈے کے تحت بیانیہ بنایا گیا کہ میں نے عوام کو جی ایچ کیو جا کر احتجاج پر اکسایا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کی تقریباً ۳ دہائی پر محیط تاریخ میں پرتشدد احتجاج کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران تحریک انصاف کے خلاف بدترین ہتھکنڈے استعمال کر کے تشدد پر اکسایا گیا۔ نومبر ۲۰۲۲ میں مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور میری مرضی کی ایف آئی آر کاٹنے سے بھی انکا�� کیا گیا۔ اس کے بعد ۲ مرتبہ میری رہائش گاہ پر عسکری ادارے نے حملہ کیا، ایک مرتبہ میری پیشی کے موقع پر مجھے قتل کرنے کا باقاعدہ منصوبہ بنا کر سادہ لباس میں لوگوں کو چھوڑا گیا۔ صرف یہی نہیں ۹ مئی کو عوام کو انتشار دلانے کے لیے ایک سابق وزیر اعظم اور پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول سیاسی جماعت کے سربراہ کو جس ہتک آمیز انداز میں اغواء کیا گیا، وہ بھی کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا تھا لیکن تحریک انصاف کے کارکنان کی سیاسی تربیت میں تشدد کا کوئی عنصر شامل نہیں۔ تحریک انصاف سیاسی، آئینی و قانونی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔
۲-
۹ مئی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا۔ جس نے ۹ مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی، وہی ۹ مئی کے حقیقی ذمہ داران ہیں۔ ان کی عقل کا یہ عالم ہے کہ یہ ۹ مئی کو امریکہ کے کیپیٹل ہل کے احتجاج سے تشبیہ دیتے ہیں حالانکہ وہاں باقاعدہ شفاف تفتیش اور سی سی ٹی وی کے باریک بینی سے جائزے کے بعد صرف ملوث افراد کو سزا دی گئی، پوری سیاسی پارٹی “ ریپبلکن” کو کچھ نہیں کہا گیا۔ لیکن یہاں نہ صرف ثبوت مٹانے کی غرض س�� فوٹیج غائب کر دی گئی بلکہ پورے پاکستان میں ایکشن لیا گیا ہے۔ پورے پاکستان میں پی ٹی آئی کے مختلف علاقوں کے لوگ جنہوں نے احتجاج میں حصہ نہیں لیا ان کو بھی اُٹھایا گیا، ان کا کیا قصور تھا؟
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ امریکہ میں سابق صدر پر قاتلانہ حملہ ہوا تو سیکرٹ سروس کی چئیرپرسن نے ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے استعفی دیا جبکہ پاکستان میں جس سابق وزیراعظم پر قاتلانہ حملہ ہوا، “سیکرٹ سروس” نے اسی وزیراعظم کو قید کر دیا۔
۳-
پوری پاکستانی قوم کو دہشتگرد کہہ کر قوم کو متنفر کیا جا رہا ہے۔ ۷۰ کی دہائی میں جینے والے چند افراد جو اس امر سے یکسر نابلد ہیں کہ سوشل میڈیا کام کیسے کرتا ہے، وہ ڈیجیٹل دہشتگردی کے لقب بانٹ رہے ہیں۔ پاکستان کی ۹۰ فیصد آبادی تحریک انصاف کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاکستان کی ۹۰ فیصد عوام نے ۸ فروری کو تحریک انصاف کے حق میں ووٹ دیا تھا، ان سب کو اگر ڈیجیٹل دہشتگرد کہا جائے گا تو فوج اور عوام کے درمیان ایک خلیج پیدا ہوگی۔ اور یہ نفرت پیدا نہیں ہونی چاہیے۔ جو بھی لوگ یہ کررہے ہیں ان کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ ۱۹۷۱ میں بھی یہی کچھ ہوا تھا۔ 25 مارچ 1971 کو جب ڈھاکہ کے اندر یحییٰ خان نے لوگوں کی بڑی تعداد کے خلاف آپریشن کیا تھا تو اس کے نتائج ملک کیلئے اچھے نہیں نکلے۔اب بھی اگر پاکستان کی اکثریت آبادی کو دہشتگرد کہا جائے تو اس کے ملک کیلئے خطرناک نتائج نکلیں گے۔
۴-
ملک، حکومتیں اور معاشرے اخلاقیات کی بنیاد پر بنتے ہیں۔ جس معاشرے میں اخلاقیات ختم ہوجائیں باقی کچھ نہیں رہتا۔ آج لوگ اگر آپ کو بُرا بھلا کہہ رہے ہیں تو وہ صرف آئین کی بالادستی کی بات کررہے ہیں۔ آئین کی بالادستی اور حقیقی آزادی کا مطالبہ کرنا کوئی غداری نہیں ہے۔ یہ جو مضحکہ خیز کیسز بنائے جارہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے لوگ بالکل پر امن طریقے سے کام کررہے تھے اور جب آپ ان کو پر امن طریقے سے کنٹرول نہیں کر سکے تو پھر آپ نے ان کے خلاف فسطائیت کے حربے استعمال کرنا شروع کردیئے۔
۵-
وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کو ہدایات دی ہیں کہ وہ اسلام آباد میں جلسے کی قیادت کریں۔ پوری قوم حقیقی آزاد�� کے حصول کے لیے اور ملک میں رائج ظالمانہ اور فسطائی نظام کے خلاف اس جلسے میں بھرپور شرکت کی تیاری کرے۔
وزیرستان، بنوں میں فوجی چھاؤنیاں ہیں۔ بارڈر پر باڑ لگا دی، ایف سی ہے، انٹیلیجنس ایجنسیاں ہیں، اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی اسسٹنٹ کمشنر ہے، ڈی آئی جی، ایس پی ہے اور پولیس ہے اس کے باوجود دہشتگرد بنوں کیسے آتے ہیں؟
بنوں میں گزشتہ دنوں ہونے والے بم دھماکے/فوجی آپریشن میں شہید ہونے والے نصراللہ شہید کے گھر ان کے والد سے تعزیت۔
#Bannu
ماہانہ بنیادوں پر کور کمانڈر کانفرنس یا پھر فارمیشن کمانڈر کانفرنس بلا کر تحریک انصاف پر مذید ظلم کے اعلامیے جاری کرنے کا کیا مقصد ہے؟
پاکستان میں دہشتگردی کی لہر پر حکمت عملی کی بجائے ، ISPR کے اعلامیے تحریک انصاف پر مذید ظلم کی دھمکیوں دینے تک محدود ہیں۔
کیا قیدیوں کے ناخن کھینچنے سے لے کر بدترین جنسی و نفسیاتی تشدد جیسے مظالم کے بعد بھی چند اشخاص کی ایذا پسند ذہنیت کو تسکین نہیں ملی؟
کیا عمران خان کو 31 سال قید اور بشری بی بی پر ہتک آمیز مقدمے نے بدلے کی آگ ٹھنڈی نہیں کی؟
کیا تحریک انصاف کو الیکشن سے روکنے اور بدترین دھاندلی کے بعد بھی آپکے اندر انتقام کا لاوا اُبل رہا ہے؟
مذید کونسے مظالم ہیں جو ہونا باقی ہیں؟ یا یہ سب کرنے کا مقصد، SIFC کی ناکامی سے توجہ ہٹانا ہے؟
“Every Pakistani should study the Hamood ur Rahman Commission Report and get to know who was the true traitor, General Yahya Khan or Sheikh Mujibur Rahman.” - Founding Chairman PTI Imran Khan
#غدار_کون_تھا
(۳)
القادر سے بھونڈا اور مضحکہ خیر مقدمہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ جو پیسہ باہر سے وطن واپس لایا گیا وہ نہ صرف یہ کہ قومی خزانے میں موجود ہے بلکہ حکومت اس پر اربوں روپے کا منافع بھی کما رہی ہے۔ یہ رقم ملک ریاض اور برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے درمیان معاہدے جے نتیجے میں براہ راست سپریم کورٹ بھیجی گئی ، میری حکومت کا اس معاہدے میں کردار صرف اس معاہدے کی تفصیلات پبلک نہ کرنے کا تھا۔
نہ تو یہ رقم کسی بھی عدالت میں ریاست پاکستان کی ملکیت ٽابت ہوئی اور نہ ہی یہ کسی عدالت میں crime proceed ٽابت ہوئی، ۔
سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 2019کے آخر سے مئی 2023تک حکومتِ پاکستان وطن واپس آنے والے اس پیسے پر 13ارب 94کروڑ روپے کا منافع کما چکی ہے جبکہ مئی 2023سے آج تک کمائے گئے منافع کے اعداد و شمار آنا ابھی باقی ہیں۔ شوکت خانم اور نمل کی طرح القادر ٹرسٹ بھی میری یا میرے اہلخانہ کی ملکیت ہے نہ ہی میں نے اس سے ایک پائی کا ذاتی فائدہ اٹھایا۔ علومِ اسلامیہ اور جدید مضامین پر غریب بچوں کو مفت تعلیم کی فراہمی کیلئے ویران اور بیابان زمین پر قائم کی گئی القادر یونیوسٹی کا مکمل نظم و نسق ٹرسٹ کے ذمے ہے جو ہرگز میری یا میرے اہلخانہ میں سے کسی کی ملکیت نہیں چنانچہ اس بھونڈے اور بے بنیاد مقدمے کے محرکات مکمل طور پر سیاسی ہیں۔
زرداری اور نواز شریف کا معاملہ یہ ہے کہ وہ رفاہ عامہ کے کاموں کیلئے ٹرسٹ نہیں بلکہ اپنے لئے محلات بناتے ہیں جبکہ فوجی قبضہ شدہ نیب ان کے اور ان کے بچوں پر ثابت شدہ مقدمات معاف کر دیتا ہے۔
(۴)
چیف الیکشن کمشنر سے بے شرم شخص میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا جس نے تاریخ کا کرپٹ ترین الیکشن کروایا جس پر فافن اور پلڈاٹ جیسے اداروں نے اپنی تفصیلی آبزرویشن دیں اور ان انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیا۔ راولپنڈی کے کمشنر اور نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کے عائد کردہ الزامات/کئے گئے اعترافات کی تحقیقات چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر کی ��مہ داری تھی مگر وہ خود اس ساری دھاندلی کا حصہ تھے نتیجتاً تحقیقات کی بجائے اعترافی بیان دینے والے کمشنر ہی کو غائب کر دیا جاتا ہے۔
میری قوم یاد رکھے! یہ ملک میرا ملک ہے جسے چھوڑ کر باہر جانے کو میں ہرگز تیار نہیں ہوں۔ اسی طرح ڈیل کا بھی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستان کو ڈنڈے کے زور پر چلایا جا رہا ہے ہمارا ٹوٹل ریونیو 13.9کھرب روپے ہے جبکہ ہمیں سالانہ 9.8کھرب روپے سود کی مد میں ادا کرنا ہوتے ہیں۔ ملک ایسے ڈنڈے کے زور پر ہرگز نہیں چل سکتا! 2/2
اڈیالہ جیل میں ناحق قید بانی چئیرمین پاکستان تحریک ا��صاف عمران خان کا خصوصی پیغام!
13 مئی 2024
(۱)
اس ملک کی بد قسمتی ہے کہ یہاں ایک خود ساختہ ”بادشاہ سلامت“ فیصلے کرتے ہیں۔ جب کسی ملک میں حکومت ایسے لوگوں کو ملتی ہے جن کے پاس مینڈیٹ نہیں ہوتا تو ملک فساد اور انتشار کی نذر ہو جاتا ہے۔ یہ جو انتشار آج کشمیر میں نظر آرہا ہے اس کے پاکستان بھر میں پھیلنے کا خدشہ ہے۔پورے ملک میں فارم 47 والی جعلی حکومتیں قائم کر دیں گئیں ہیں۔ جمہوریت کا فائدہ یہ ہے کہ حکومت عوام کی منتخب کردہ ہوتی ہے جس کے پیچھے عوام کھڑے ہوتے ہیں۔ عوام اپنی منتخب کردہ حکومت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اگر کوئی تنازعہ کھڑا ہو جائے تو بات چیت کے ذریعے اس کا حل نکل آتا ہے، مگر جس قسم کی جعلی مسلط شدہ حکومتیں گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، پنجاب اور پاکستان میں قائم کردی گئی ہیں ان کا عوام سے کوئی رشتہ نہیں چنانچہ ہر جانب بےچینی اور مایوسی ہے۔ فارم 47 زدہ حکومتوں کے خلاف بجٹ کے موقع پر اور شدید ردعمل آئے گا۔ بدقسمتی سے ملک میں ایک مصنوعی سیٹ اپ عوام پر تھوپ دیا گیا ہے، نگران وزیراعظم کاکڑ اور راولپنڈی کے کمشنر نے سچ بیان کر کے اس حکومت کی اصلیت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس حکومت کی بالکل کوئی حیثیت نہیں۔ SIFCجیسا غیر آئینی ادارہ اس ملک پر تھوپ دیا جاتا ہے اور کوئی نہیں بولتا۔ اس کا ایک ہی کام تھا کہ ملک میں پیسہ لائے گا جبکہ پاکستان بزنس کونسل نے کھل کر بتا دیا ہے کہ پیسہ ملک میں آنے کی بجائے باہر جا رہا ہے۔ ایک طرف قوم کو زرعی انقلاب کی ٹرک کی بتی پیچھے لگایا گیا اور دوسری طرف گندم درامد کر کے اربوں کی دیہاڑیاں لگائی گئیں جس سے گندم کا کاشتکار معاشی طور پر قتل ہوگیا۔ اس جعلی سیٹ اپ میں حکومت ان لوگوں کو دیدی گئی ہے جن کی اپنی ساری دولت ڈالر کی شکل میں باہر پڑی ہوئی ہے۔ لیڈر کو قربانی دینا پڑتی ہے اور نواز اور زرداری کا یہ گروہ کسی صورت قربانی نہیں دیے گا نہ ہی یہ لوگ اپنا پیسہ ملک میں واپس لائیں گے ۔ ان کے حرام کے پیسے پر جنرل مشرف اور بعد کے ادوار میں آئی ایس آئی نے مجھ سمیت سب کو خود تفصیلات فراہم کیں اور آج ان کو ہمارے سروں پر مسلط کر دیا گیا ہے اور ان کی صفائیاں دیتے پھر رہے ہیں۔
اس جعلی نظام کو قوم پر مسلط کرنے کا مقصد صرف اس ایک آدمی کی طاقت میں اضافہ کرنا ہے جس نے اپنی ذاتی طاقت کے حصول کیلئے پورے ملک کو تباہ کر دیا ہے۔
حمود الرحمن کمیشن رپورٹ نے واضح کر دیا تھا کہ کس طرح ایک شخص یحییٰ خان نے اپنی ذاتی طاقت بڑھانے کیلئے ملک کو ٹوٹنے دیا۔ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ پاکستان کے ہر شہری کو پڑھنی چاہیے تاکہ سب کو پتا چل سکے کہ یحییٰ خان اور شیخ مجیب الرحمن میں سے غدار کون تھا۔
میں اس وقت جیل میں اس وجہ سے ہوں کیونکہ میرے جیل سے باہر ہونے سے بادشاہ کی طاقت کم ہوگی۔
(۲)
9مئی کو صبح پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ اور پاکستان کے سب سے زیادہ اعزازات/تمغے جیتنے والے شخص کو جس طرح ہائی کورٹ سے اغواء کیا گیا اس کا مقصد عوام کو اشتعال دلانا تھا جبکہ میں نے اس دن صبح اپنے ویڈیو پیغام میں واضح طور پر کہا تھا کہ اگر میری گرفتاری مقصود ہے تو وارنٹس دکھائیں اور گرفتار کر لیں میری جانب سے کوئی مزاحمت نہیں ہوگی۔ 9مئی سے پہلے 25مئی 2022، 3نومبر 2022، 8مارچ 2023، 14مارچ 2023 اور 18مارچ 2023کو مجھے راستے سے ہٹانے اور میری جماعت کے خلاف طاقت کے بہیمانہ استعمال کے ذریعے ہمیں ہدف بنانے کی کوششیں کی گئیں تاہم میں اور میری جماعت مکمل طور پر پرامن رہے اور کسی قسم کے اشتعال کا شکار ہوئے بغیر آئین و قانون کے دائرے میں اپنی جائز اور قانونی سیاسی جدوجہد آگے بڑھاتے رہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر اور چیف آف آرمی سٹاف دھمکی آمیز سیاسی بیانات داغ رہے ہیں اور فوج کو سیاست میں ملوث کر رہے ہیں جس سے فوج کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ جب سیاسی بیانات اور پریس کانفرنسز کی جائیں گے تو سیاسی جماعت ان کا جواب دینے کا حق رکھتی ہیں۔
9 مئی کی صبح میرا ہائی کورٹ سے غیر قانونی اغواء لندن پلان کا حصہ تھا جس پر جنرل عاصم منیر مجھ سے معافی مانگیں۔
1/2