ترکیہ کے شہر قیصری میں 1519ء میں تعمیر کیا گیا تاریخی گون خان (Gön Hanı) کاروان سرائے کئی دہائیوں تک بند رہنے اور مٹی میں دبے رہنے کے بعد دو��ارہ منظرِ عام پر آ رہا ہے۔ یہ تاریخی عمارت سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں وزیرِاعظم پیری محمد پاشا نے سلطان سلیم اول کے عہد میں تعمیر کروائی تھی اور شاہراہِ ریشم پر سفر کرنے والے تاجروں کے لیے اہم پڑاؤ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔
تقریباً 50 برس تک بند رہنے کے دوران یہ کاروان سرائے رفتہ رفتہ مٹی تلے دبتی گئی، تاہم اب بحالی کے کام کے ذریعے اس کے تاریخی ڈھانچے کو دوبارہ محفوظ کیا جا رہا ہے۔ قدیم عمارت کو اس کی اصل شناخت کے ساتھ بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ اسے مستقبل میں سیاحوں کے لیے کھولا جا سکے۔
صدیوں پرانی یہ عمارت آج بھی عثمانی دور کے تجارتی سفر اور تعمیراتی ورثے کی یاد دلاتی ہے۔ بحالی کا منصوبہ مکمل ہونے کے بعد گون خان قیصری کے تاریخی مرکز میں ایک اہم سیاحتی اور ثقافتی مقام کے طور پر سامنے آئے گا، جہاں آنے والے لوگ ماضی کی اس یادگار کو قریب سے دیکھ سکیں گے۔
دبئی کے مشہور شیخ زاید روڈ پر زیرِ تعمیر برج عزیزی 725 میٹر بلندی کے ساتھ مکمل ہونے پر دنیا کی دوسری بلند ترین عمارت بننے کی جانب گامزن ہے۔ اس میگا پروجیکٹ کی تعمیر تیزی سے جاری ہے اور موجودہ منصوبے کے مطابق ٹاور کی تکمیل 2030ء میں متوقع ہے۔
برج عزیزی میں لگژری رہائش گاہوں کے ساتھ 7 اسٹار ہوٹل، عمودی شاپنگ مال، تفریحی سہولیات اور 649 میٹر کی بلندی پر آبزرویشن ڈیک شامل ہوگا۔ منصوبے میں دنیا کی بلند ترین ہوٹل لابی، نائٹ کلب اور دیگر منفرد سہولیات بھی شامل ہیں، جو اسے دبئی کے اسکائی لائن کا ��یک نمایاں حصہ بنائیں گی۔
اس منصوبے کی ایک خاص بات اس کا 9 منزلہ زیرِ زمین خودکار کار پارکنگ سسٹم بھی ہے، جس پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ برج عزیزی کی تکمیل کے بعد دبئی کی بلند و بالا عمارتوں میں ایک اور عالمی معیار کا اضافہ ہوگا اور شہر کی اسکائی لائن مزید شاندار نظر آئے گی.
بجلی کی تین تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز ) کے ممکنہ خریداروں کا مطالبہ ہے کہ منافع ڈالرز میں دینے کی ضمانت دی جائے
مستقبل میں معاہدوں پر دوبارہ نظر ثانی نہ کرنے کی ضمانت دی جائے اور مہنگی بجلی خریدنے سے استثنیٰ دیا۔ جائے پہلے آئی پی پیز نے عوام کا خون چوسا ، اب ڈسکوز کی باری ہے؟
ابتدائی سالوں میں تو یہ سارا ملبہ عمران خان پر ڈال رہے تھے عمران خان کی حکومت سے پہلے نون لیگ اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے پر ڈالتے رہے اور باری باری حکومت کرتے رہے۔ان کی حکومتیں جانے دے اب یہ سارا ملبہ ارمی پر ڈالیں۔کرپشن ۔انصاف اور میرٹ پر کام کرنے والے مخلص قیادت لائیں