@oolabmys@SaddiaMazhar پاکستان بننے کے بعد پہلے سرکاری عشائیہ میں کھانے کی میز پر شراب موجود تھی۔
کسی کو نا تب دکھ ہوتا، نا آج تک ہوا ہے
کس کے نام پر ملک بنا، سب کہانیاں ہیں۔
@AAMIRHUSSAIN79 چائنیز کا تو صرف نام استعمال ہو رہا ہے VVIP پروٹوکول کی آڑ میں عوام و خاص کو ان سے دور رکھنے کے لیے۔
یہ چائنہ سے بطور لیبر ہائر کیے گئے ہیں جبکہ کاغذات میں ایک کمپنی کے طور پر شو کیے گئے ہیں۔
ان سب کے پیچھے کون ہے، جب یہ آپکو معلوم ہوا تو آپ اٹھا لیے جائیں گے۔
@jawadahmadone@NasrullahMalik1 ڈاکٹرز کیا کہتے ہیں، یہ مرض قابلِ علاج بھی ہے یا یونہی حسد کی آگ میں جل کر راکھ ہو جانا قسمت میں لکھا ہے؟
جواد کیوں ماں باپ کا نام بدنام کر رہے ہو۔
تمہیں اور تمہاری باتیں دیکھ کر تو اچھے بھلے انسان کو الٹی آ جائے، جسے بات تک کرنے کی تمیز نا ہو وہ چول وزیراعظم بننا چاہتا ہے۔
ن لیگی زیادہ حرام زادے ہیں اور اب ان حرام زادوں کو سبق سکھانے کا وقت آ گیا ہے۔ ایک ایک کو۔ دوسرا کلثوم نواز کے حوالے سے میں نے جو بات بھی لکھی اس پر بالکل قائم ہوں۔ مکمل شواہد موجود ہیں۔ جب آپ لوگ کہیں پیش کر سکتا ہوں۔
جوانو!
آپ نے جس جبر کا مقابلہ گذشتہ دو دنوں میں کیا ہے اس کی تعریف الفاظ میں ممکن نہیں ہے۔ بارہا آپ سے کہا ہے آج قوم کے سامنے دہرا رہا ہوں، آج سے اعصاب کی جنگ کا آغاز ہورہا ہے۔ جیسے جیسے آپ ڈی چوک کی قریب پہنچتے جائیں گے ہر لمحہ صورتحال بدلتی جائیگی۔ جبر تو آپ سہہ ہی رہے ہیں لیکن اب کبھی فوج کو آگے کیا جائیگا، کبھی آپ کے درمیان شرپسندوں کو پلانٹ کیا جائیگا۔ کبھی پراپگینڈا کیا جائیگا۔ نا ہی کسی کے کہنے پر مشتعل ہونا ہے۔ نا ہی صبر کا دامن چھوڑنا ہے۔ نا ہی واپسی کا راستہ لینا ہے۔ آپ نے اسی طرح منظم، پرامن اور ثابت قدم رہنا ہے۔
یہ جو میڈیا واٹس ایپ پر موصول احکامات کی بنیاد پر جھوٹے بیانیے بنا رہا ہے۔ انہیں بتائیں کہ آپ دہشتگرد نہیں آئین اور قانون کی بحالی اور اس ظلم اور درندگی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
سرکاری ملازمین جن کو ڈیوٹی کے نام پر آپ پر بندوقیں تاننے کا حکم دیا گیا ہے انہیں ان کا حلف اور اپنا حق یاد دلائیں۔ یہ آپ کے ہم وطن ہیں، آپ ان کے دشمن نہیں، یہ ان کے بھی بچوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ان کے علم میں لائیں۔
راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں!
ہم پاکستانی آپ کے مقروض ہیں جیسے آپ نے ۲۵ مئی سے آج تک آئین اور قانون کی اس پرامن جدوجہد میں ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا۔ آج بھی اللہ کی مدد کے بعد آپ کا ایثار ہمارا سب سے بڑا سہارا ہے۔ جو لوگ دو دن لڑ کر یہاں تک پہنچے ہیں ان کی ڈھال بھی بنیں اور ان کا سہارا بھی۔
پنجاب سے جو قافلے ابھی تک نہیں نکلے اب ان کی باری ہے۔
منزل ڈی چوک ہے۔ ڈی چوک پہنچنے اور وہاں قیام کی پلان پر کل سے عملدرآمد شروع کرادیا جائیگا۔
پہلا مطالبہ عمران خان اور کارکنان کی رہائی اور پھر جو فیصلہ عمران خان کا۔ جب تک سٹیج سے ایاک نعبد و وایاک نستعین کی صدا نہیں گونجے گی واپسی نہیں ہوگی۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
مطیع اللہ جان نے رینجرز کے غریب بے یارومددگار اہلکاروں کو گاڑیوں کے نیچے دے کر مارنے کی آئی ایس آئی کی سازش اور فسادی میڈیا کے پراپیگنڈہ کو مکمل طور پر دفن کر دیا۔ جھوٹی صحافت کے ذریعے فسادی میڈیا کا کام ہی بندے مروانا تھا۔