جیسے سالوں کے جاگ راتوں کے بعد آج چین کی نیند آئے گی، جیسے اندھیری رات کے بعد اچانک چاند رات کا شور ہو۔عمران خان کی ہسپتال منتقلی مرجھائے جذبوں کے لیے زندگی کی نوید ہے۔ عقاب قفس میں بھی ہو تو جلال وہی رہتا ہے۔ قوم کا یہ جذباتی طوفان اب سب کچھ بہا لے جائے گا۔
پی ٹی آئی کے شہید کارکنان کو انتظامیہ کو چھپا رہی تھی میں ا سپر کام کر رہا تھا اس لیے مجھے گرفتار کیا گیا۔
لیکن میں اپنا کام جاری رکھوں گا۔
یاد رہے کل پمز ہسپتال سے گرفتار کیا گیا تھا اور پمز کی چھت پر شہدا کی لاشوں کا نکشاف ہوا تھا۔
کل رات جب ڈی چوک پر ملٹری فورسز اندھادھند فائرنگ اور شیلنگ کر رہی تھی�� ایک کارکن ملٹری فورسز سے کہہ رہا تھا اس طرح نہ کرو بھائی آپکی مہربانی ہو گی آپ پیچھے جائیں ہم اپنی گاڑی لے کر یہاں سے واپس چلے جائیں گے مگر کسی کی فریاد نہیں سنی گئی 💔
دنیا نیوز کا شرمناک کردار دیکھیے ۔ رپورٹر حقائق بتا رہا ہے اور اینکر اور مجیب الرحمان شامی کا بس نہیں چل رہا ۔ بار ب��ر بریک کی بات ۔ مجیب الرحمان شامی کی بھی تسلی ہو گئی ۔ شرمناک انتہائی شرمناک
ہندوستان سے ایک کرکٹ میچ ہارنے پر آپ یقیناً رنجئدہ ہوں گے۔ لیکن مت بھولیں کہ یہ تو ایک گیم ہے جس میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ ہم تو ہندوستان سے ایک جنگ اور آدھا ملک ہارے ہوئے ہیں۔ یہ کیوں اور کیسے ہوا اسکے لئے حمودالرحمن کمیشن رپورٹ ضرور پڑھیے گا۔
"یہودی ایجنٹ" جیل میں ہوتے ہوئے بھی اسرائیلی مظالم کی مذمت کررہا ہے۔
"یہودی ایجنٹ" کی بہنیں غزہ بچاؤ دھرنے میں شرکت کر رہی ہیں
اور وہ جنہوں نے اُس پر "یہودی ایجنٹ" ہونے کا الزام لگایا تھا وہ آج اقتدار میں ہیں اور وہ پاکستانی سٹیڈیم میں فلسطین کا جھنڈا نہیں لہرانے دیتے، انکے دورِ اقتدار میں فلسطینیوں کے حق میں دھرنہ دیتے نوجوانوں کو شراب میں دھت ڈرائیور گاڑیوں میں کچل دیتے ہیں، انکی حکومت کے اکابرین اسرائیل کا نام لے کر مذمت کرنے سے گھبراتے ہیں۔
چند اہم تاریخی حقائق کو پیشِ نظر رکھیں تو آپ کو موجودہ حالات کا درست تجزیہ کرنے میں آسانی بھی ہوگی اور آپ مایوسی کا شکار بھی نہیں ہوں گے اور مایوسی پھیلائیں گے بھی نہیں۔
2007 کی وکلا ��حریک کو جنرل کیانی (ڈی جی آئی ایس آئی) کی پسِ پردہ حمایت حاصل تھی جبکہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت (پیپلزپارٹی) کی لیڈر بینظیر بھٹو کو امریکی پشت پناہی۔ اُس وقت مخصوص حالات کے باعث امریکہ، جنرل کیانی اور بینظیر کا مفاد مشترک ہوچکا تھا۔ لہذا مشرف کا جانا ٹھہر چکا تھا جسکو مہمیز دینے کیلئے جنرل کیانی (آئی ایس آئی)وکلا کی تحریک کی حمایت کررہے تھا۔
اگلی بات: مارچ 2009 میں ججوں کی بحالی کا لانگ مارچ ہوا۔ کیا آپ کو علم ہے کہ اس مارچ کو لیڈ کرنے کیلئے نواز شریف نے دوپہر کے قریب امریکی سفیر سے فون پر اجازت لی تھی؟ اور جب امریکی سفیر نے گرین سگنل دے دیا تو تب میاں صاحب باہر نکلے۔ اسی لئے پنجاب کی انتظامیہ نے ان کی راہ میں کوئی خاص روڑے نہیں اٹکائے۔
اب ذرا تحمل سے اپنے موجودہ حالات کا جائزہ لیں اور اسکا موازنہ 2007 سے کریں۔ کیا آج وکلا تحریک چلانا چاہیں تو انکو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے وہ سپورٹ (فنانسز اور میڈیا کوریج) ملے گی؟ کیا آج امریکہ سب سے بڑی سیاسی جماعت کے لیڈر (عمران خان) کیساتھ رابطے میں ہے؟ کیا آج اسٹیبلشمنٹ، عمران خان اور امریکہ کا مفاد مشترک ہے؟ نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ آج کے حالات 2007 سے یکسر مختلف ہیں۔ اسوقت 2007 جیسی ملک گیر وکلا تحریک چلانا ناممکن ہے ہے۔ موجودہ جعلی سیٹ اپ کو امریکہ اور اسٹیبلشمنٹ کمکی مکمل آشیر باد ہے۔
لہذا آج کی سیاسی لڑائی بہت مختلف اور نہایت ہی کٹھن اور دشوار ہے۔ اس جدوجہد میں عوام اور عوام کی جماعت تحریکِ انصاف تنِ تنہا میدان میں۔ انکو کسی اندرونی بیرونی طاقت کی کوئی سپورٹ نہیں۔ ان حالات میں سیاسی جدوجہد بہت مشکل اور صبرآزما ہوگی۔ اسلئے حوصلہ رکھیں اور اپنی تنقید کا نشانہ انہی کو بنائیں جنکئ طرف اسلام باد کے چھ دلاور ججز نے اشارہ کیا ہے۔ آپس میں دست و گریبان ہو کر ان قوتوں کا راستہ آسان مت کریں
For quite some time now, I have been amused – and somewhat annoyed – by the perennial triumphal mood and the never-fading afterglow that the young (and the not-so-young) CSS officers continue to wallow in, and the “Alhmadulillah-posted-this/that” tweets they continue to churn
یہ کہنا غلط ہے کہ اسوقت ملک میں شدید ترین سیاسی پولرائزیشن کی وجہ تحریکِ انصاف یا عمران خان کا رویہ ہے
ہر چیز کا ایک پسِ منظر ہوتا ہے اور تجزیہ پسِ منظر کو سامنے رکھ کر ہی کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ٹی وی اینکر/تجزیہ نگار ہر واقعے کو isolation میں دکھاتے ہیں
#امپورٹڈ_حکومت_نامنظور
ایک اور بات:
پنجاب میں بھی ہماری اکثریت ہے۔ اور یہاں حکومت بنائے بغیر وفاق میں حکومت بنانا احمقانہ فیصلہ ہوگا۔ ہمیں عوام نے وفاق پنجاب اور پختونخواہ کی حکومتیں سونپی ہیں اور ہم ان سے پیچھے نہیں ہٹیں گے