ہماری ISI نے ایک اور امریکہ دریافت کر لیا ہے؛ یہ خود کو کولمبس سمجھ بیٹھے ہیں۔ وہ میری دیوار کو برلن کی دیوار سمجھ کر گرا رہے تھے، لیکن آگے سے دیوارِ چین نکل آئی۔ کولمبس اُن لوگوں سے میرے خلاف پریس کانفر��س کر رہا ہے، جنہیں اپنی کھڑدادی، کھڑدادے، کھڑنانی یا کھڑنانے کی زمین بھی کسی اور سے لینی ہے۔
Bloody nincompoops! تمہاری نااہلی اور ناکامی کی وجہ سے پاکستان دہشتگردی کے معاملے میں دنیا میں صفِ اول پر آ گیا ہے، اور تم لوگ یہ حرکتیں کر رہے ہو۔ کوئی تو شرم کرو! جو کام ہے، وہ کرو۔ دنیا میں تمہارا مذاق بن رہا ہے۔
میں دبئی سے ایک مرتبہ واپس آ رہا تھا تو میرے ساتھ بیٹھے شخص نے کہا کہ میں ریٹائرڈ جنرل ہوں۔ مشرف کے کہنے پر آپ پر ٹارچر کیا، میرا ارادہ نہیں تھا اور میں شرمندہ ہوں۔ میں نے اُس سے پوچھا، بھائی، تمہارا تعارف کیا ہے؟ اُس نے کہا، میں ریٹائرڈ آئی ایس آئی افسر احسان الحق ہوں۔ یہ ان کی اوقات رہ جاتی ہے، یہ ان کی کل اوقات ہے۔ اب گورنر راج لگا کر اُسے گورنر KPK لگائیں گے۔
عاصم ��نیر صاحب، واپس آؤ! اپنی اوقات میں واپس آؤ۔ جو تمہاری حیثیت ہے، وہیں واپس آؤ۔ تم عوام کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ عوام سویا ہوا شیر ہے، اُسے مت جگاؤ۔ تمہاری کوئی اوقات نہیں، تم بھسم ہو جاؤ گے
پختونخواہ میں گورنر راج لگانا آپریشن سرچ لائٹ جیسی غلطی ہوگی۔ یہ بات پاک فوج بہت اچھی طرح جانتی ہے۔ یئیں یئیں یئیں نہ کریں اگر لگانا ہے تو لگائیں گورنر راج۔
کسی دن یہ تماشا مسکرا کر ہم بھی دیکھیں گے
آج سمجھانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟
بنگالیوں کے لیے پاکستان کیا تھا؟ ہماری فوج کے لیے پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟
ہمارا دس لوگوں کا وفد مشرقی پاکستان بھیجا گیا۔ ہمارے وفد میں سے ابھی کافی لوگ زندہ ہیں۔ ہمیں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ حفیظ خان صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ وہ بھی شاید اب کینیڈا میں رہتے ہیں۔ صلو در��نی@SalooDurrani بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جو کچھ ہم نے وہاں دیکھا، کاش ہم نہ دیکھتے۔
ہمارے ساتھ حامد میر کے والد، ڈاکٹر وارث میر، بھی تھے۔
انڈیا کی پابندی کی وجہ سے ہم پہلے سری لنکا گئے، وہاں سے پھر ڈھاکہ پہنچے۔ ہمارا قیام ڈھاکہ یونیورسٹی کے ہوسٹل میں تھا۔ جہاں ہم رہ رہے تھے، وہیں مکتی باہنی کا گڑھ بھی تھا۔ وہاں ہمارے سروں کی قیمتیں طے ہو چکی تھیں۔ ہمیں پتا چلا کہ ہمارے سروں کا سودا ہو چکا ہے۔
ہم مشکل سے وہاں سے بھاگ کر ڈھاکہ ایئرپورٹ پہنچے، جہاں سے آخری جہاز نکل رہا تھا۔ ہم پاکستان آئے اور سارا ماجرا بتایا۔
جو پاکستان کا شکار وہاں ہوا، وہ میں نے اکیلے نہیں بلکہ ہم سب نے دیکھا۔
وہاں بنگالی کی لاش کو کتے اور گدھ کھا رہے تھے، جو شتولاک دریا کے کنارے پڑی تھی۔ ہم نے فوجیوں سے پوچھا کہ یہ کس کی لاش ہے، تو جو جواب ملا، وہ بہت خطرناک تھا۔
انہوں نے کہا: ’’ہم نے اسے مارا۔ یہ بہت چالاک تھا۔ ایک گولی چلائی تو یہ دریا میں چلا گیا۔ چھ گولیاں چلائیں تو یہ بچ گیا۔ ساتویں گولی سے یہ مارا گیا۔‘‘
وہ بیچارہ کہیں سے مشکوک نہیں لگ رہا تھا۔ اپنی روزی روٹی کمانے نکلا ہوگا۔ انہوں نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر عورتوں کو مکتی باہنی کا حصہ قرار دے کر ان کے ساتھ زیادتیاں کیں۔
یہ آج خیبر پختونخوا میں بھی یہی کر رہے ہیں اور بلوچستان میں بھی یہی کر رہے ہیں۔ کشمیر اور پنجاب میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یہ وہاں تحریک انصاف کے لوگوں کو غائب کر رہے ہیں۔ اختر مینگل کے بھائی کی لاش کو کتے کھا رہے تھے، لیکن وہ آج بھی پاکستان کے ساتھ ہیں۔
سردار عطاء اللہ مینگل وزیر اعلیٰ تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان ٹوٹا تو بلوچستان کا نام پاکستان ہوگا اور قومی زبان بھی اردو ہوگی۔
تم نے اسلام آباد کو کنٹینرستان بنا دیا ہے۔ تم نے ہر عہد میں پاکستان کو توڑا ہے۔ آج بھی توڑنے کی سازش کر رہے ہو۔
عاصم منیر! تم نے اپنا محاصرہ خود کر لیا ہے۔
عاصم منیر! تم پاکستان کا تو کبھی نہیں سوچو گے، تم خود کو تو بچا لو۔
مشرقی پاکستان میں جو دیکھا اس کے بارے میں 2011 میں گفتگو۔ 👇
جو جو ایم پی ایز، ایم این ایز یا پارٹی ق��ئدین 4 اکتوبر کو پاکستان میں موجود نہیں ہوں گے، ان کا پاکستان تحریکِ انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ وہ اپنے لیے کوئی دوسری پارٹی بنا لیں۔
الیکٹرانک میڈیا کا دو ہفتے کے لیے بائیکاٹ کردیں انکے سارے غبارے سے ہوا نکل جائے گی۔ تحریک انصاف خود انکی آکسیجن ہے اور پھر یہ لوگ خود اسی کی کیمپین کا نشانہ بنتے ہیں۔
سہیل آفریدی اصل ہیرو ہے۔
Sword of Honor تمہارے پاس ہے۔
پوری اسٹیبلشمنٹ کو point of no return پر پہنچا دیا ہے۔ ان کی ازل سے ناکام پالیسیوں نے خیبر پختونخوا کے حالات کو اس نہج تک پہنچا دیا ہے۔ آپ نے انہیں اتنا ایکسپوز کر دیا ہے کہ یہ خود آ کر اعترافِ جرم کر رہے ہیں۔
گورنر راج،ایمرجنسی والی دھمکیاں دو،لیکن میں اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
میں ایسی کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجھے میرے نظریے سے ہٹائے۔
Loud and clear
پہلے فوج کو سمجھ ہی نہیں آئی۔ ریٹویٹس والی مشینیں پکڑتے پھرے۔ پھر بہت وسائل ضائع کرکے بہت مار کھا کر سمجھ آئی کہ انہیں منتشر کیا جاسکتا ہے۔ انہیں ٹھنڈی ہواوں کے پیچھے لگایا جاسکت�� ہے۔ انہیں اس صحافی کی خبر اس صحافی کی خبر کے پیچھے الجھایا جاسکتا ہے۔ فوج نے سال چھ مہینے وقتی سکون لیا۔ اب دوبارہ یوتھیوں نے چیک میٹ کردیا ہے۔ نا ٹھنڈی ہواوں کو مانتے ہیں نا کسی کی اندر کی خبر کو مانتے ہیں نا کسی کی باہر کی خبر کو مانتے ہیں۔ کانسیپٹس مکمل کلئیر ہیں۔
🇵🇰 Heartbreaking... 💔
“I find it hard to imagine that I will see him again.”
Imran Khan’s son says he hasn’t spoken to his father in more than 7 MONTHS.
He wants to visit Pakistan, but says he fears he and his brother could be IMPRISIONED and used as leverage against their father...
Khan remains behind bars, serving multiple sentences his family insists are politically motivated.
WHERE IS THE JUSTICE IN THIS???
Source: Reuters / Writer: Samuel
بصد احترام محترم @QasimKhanSuri صاحب ایسی بھی کیا مشکل آن پڑی کہ آپکو اُس عورت کو جو اس وقت عمران خان مخالف بیانیہ بیچ کر تنخواہ لے رہی ہے اُسے انٹرویو دینا پڑ گیا ؟
ٹاؤٹ نعیم اشرف بٹ اگر تو اپنے باپ کا ہے تو کر و چیلنج قبول ورنہ چھوڑو صحافت۔۔ویسے سعادت حسن منٹو نے تمھارے جیسے ٹاؤٹ صحافیوں کے بارے میں ہی یہ کہا تھا کہ ایک قلم فروش صحافی ایک جسم فروش صحافی سے زیادہ بد کردار ہوتا ہے
@NaeemAshrafBut2
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے وژن کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں پہلے نمبر پر آچکا ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ جس ملک کی سپاہ ہی دہشت گردوں کی سہولتکار ہوں، انہیں لا کر بسانے کی دلیلیں فراہم کرتی رہی ہوں اور تو اور ان کو ساتھ ملا کر سیاست دانوں کو اغوا کرتی ہوں۔ وہاں امن تو پھلنے پھولنے سے رہا۔
ذیل میں پاکستان میں دہشت گردی کی واپسی میں اس مافیہ کے کردار کی تاریخ کے متعلق اپنی کتاب ”دزدِ نیم شب کا رقیب“ کے متعلقہ اقتباسات جو پاکستان میں دہشت گردی کی واپسی کی ٹائم لائن ہے۔ پڑھیے اور سر دھنیے کہ کیسے آپ کو ایندھن بنانے کا سامان کیا گیا۔ اور آپ کے ٹیکس کے پیسوں سے ہی آپ کے قاتلوں کو حسبِ منشاء لایا لے جایا جاتا رہا۔ پڑھیے اور اپنی قسمت پر ماتم کیجیے کہ جن کے محافظ ان کا سودا کرآئیں اُن کا اپنی قسمت پر رونا ہی بنتا ہے۔
1/5
گورنر راج لگانے کی تمہاری اوقات نہیں، نہ تم ووٹ آف نو کانفیڈنس لا سکتے ہو۔ قوم تمہیں پہچانتی ہے، تمہاری حیثیت جانتی ہے۔ ڈر کے مارے جتنا مرضی زور لگا لو، پاکستان کا ایک ہی کانفیڈنس ہے، اور اُس کا نام عمران خان ہے!
عاصم منیر، تمہارے پاس ایک ہی راستہ ہے۔ براہِ راست مارشل لاء لگاؤ، اور وہ بھی تم 10 دن سے زیادہ نہیں چلا سکو گے۔ تمہارے اپنے تمہارے ساتھ وہ کرے گی جو تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ہوگا۔
🚨🇵🇰 Imran Khan’s sisters have now been on HUNGER STRIKE for 48 hours!!!
They are REFUSING food inside prison to protest their ILLEGAL DETENTION and the reported mistreatment of female inmates.
Authorities are already under fire over the handling of Khan’s relatives and supporters...
They're NOT going to make it easy on them.
Source: @ShazadAkbar / Writer: Samuel
🇵🇰 PAKISTAN has found an extraordinary way to demonstrate how SERIOUSLY it takes PTI’s MARCH:
it has started physically dismantling the normal functioning of its own capital.
More than 1,500 SHIPPING CONTAINERS have been brought in around Islamabad, stacked and in places welded together to block roads ahead of PTI supporters marching for Imran Khan’s release.
Authorities have also detained Khan’s 3 sisters and hundreds of party activists.
Some of those containers weren’t simply rented. According to reporting in Pakistan, police seized trucks and containers already carrying commercial cargo, disrupting freight traffic in the process. Keeping 1,550 containers alone is expected to cost Rs46.5 million per day.
And then PTI changed the equation.
The march, originally due to begin September 27, has BEEN PUSHED TO October 4. PTI spokesman Zulfi Bukhari put the resulting problem rather neatly:
“How long they’re willing to keep the country closed off?”
That may now be the more interesting test.
PTI postponed the march by a week.
Islamabad has to decide whether to keep living behind the barricades for one.
Source: NY Times / Writer: Oliver