By using railway bridges and tracks carelessly, we are putting our families and children at serious risk. Have mercy on your children — such railway infrastructure is not meant for public crossing or recreation. One moment of negligence can lead to a lifetime of regret. Please stay safe and avoid using railway bridges in this way.
Picture: courtesy Pak Railography
گیارہویں صدی میں انگلینڈ اور فرانس کے درمیان ایک جنگ ہوئی جس میں انگلینڈ کو شکست ہوئی۔ جنگ کے نتیجے میں ولیم اوّل انگلینڈ کا بادشاہ بنا۔ وہ فرانس سے آیا تھا اس لیے فرانسیسی زبان بولتا تھا۔ چنانچہ بادشاہ کے دربار میں فرانسیسی زبان کو اپنا لیا گیا۔
یوں انگلینڈ میں ایک ہی وقت میں دو زبانیں رائج ہو گئیں۔ فاتحین فرانسیسی زبان بولتے جبکہ مقامی افراد پرانی انگریزی میں گفتگو کیا کرتے۔
تقریباً تین سو سال تک انگلینڈ میں دونوں زبانیں بولی جاتی رہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انگریزی میں بہت سے ایسے الفاظ آ گئے جو بنیادی طور پر فرانسیسی تھے۔ مثلاً کورٹ، جج، سرونٹ، نوبل، کراؤن، جسٹس، بیف، مٹن، رائل، لینگوئج، بیوٹی، فیشن وغیرہ۔
یوں موجودہ انگریزی زبان وجود میں آئی جس میں بہت سے ایسے لفظ ہیں جو فرانسیسی زبان سے لیے گئے۔
ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ پرانی انگریزی کی گرامر جرمن قبیلوں کی دی ہوئی تھی جو پانچویں صدی میں انگلینڈ آئے تھے۔ جدید انگریزی زبان کا ڈھانچہ اسی گرامر پر کھڑا ہے۔
ایک شام مسلسل فتوحات کے بعد سکندرِ اعظم اپنے ساتھیوں کے ساتھ ضیافت میں مصروف تھا۔ شراب پی جا رہی تھی اور خوب باتیں ہو رہی تھیں۔ اسی دوران ایک بحث چھڑ گئی۔
بحث اس بات پر تھی کہ فتوحات کا اصل سہرا کس کے سر ہے، سکندر کے یا اُس کے والد فلپ دوم کے۔
بحث کرنے والوں میں سے ایک نام کلِیٹس کا تھا۔ یہ وہی شخص تھا جس نے کبھی میدانِ جنگ میں سکندر کی جان بچائی تھی۔
کلِیٹس نے نشے کی حالت میں فلپ دوم کی تعریف کی اور سکندر کو یاد دلایا کہ اس کی کامیابیاں دراصل فلپ دوم کی وجہ سے ہیں۔
یہ الفاظ سکندر کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوئے۔ غصہ بڑھا، تلخ جملے کہے گئے، اور پھر ایک لمحہ آیا جب سکندر نے نیزہ اٹھایا اور کلِیٹس کو وہیں قتل کر دیا۔
جیسے ہی غصہ ٹھنڈا ہوا، حقیقت نے سکندر کو آ لیا۔ وہ شدید ندامت میں ڈوب گیا اور کئی دن تک خود کو سزا دیتا رہا۔
بعد ازاں سکندر اپنے اس عمل کو زندگی کی سب سے بڑی غلطی مانتا رہا۔
انسان چاہے کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہو، غصے کا ایک لمحہ اس کی برسوں کی عظمت کو داغدار کر سکتا ہے۔
Reference: Alexander the Great by Philip Freeman
تجھے ہے مشقِ ستم کا ملال ویسے ہی
ہماری جان تھی جاں پر وبال ویسے ہی
چلا تھا ذکر زمانے کی بے وفائی کا
سو آ گیا ہے تمہارا خیال ویسے ہی
ہم آ گئے ہیں تہِ دام تو نصیب اپنا
وگرنہ اس نے تو پھینکا تھا جال ویسے ہی
مجھے بھی شوق نہ تھا داستاں سنانے کا
فرازؔ اس نے بھی پوچھا تھا حال ویسے ہی
احمد فراز
یہ 1898ء کی بات ہے، چیف جسٹس الہ آباد ہائی کورٹ سر جان ایج کے ریٹائرمنٹ ڈنر کا موقع تھا۔ وہاں ان سے کئی سوال پوچھے گئے۔ ایک سوال انڈین سِول سروس افسران کی ورکنگ بارے بھی تھا۔
سر جان ایج نے بتایا کہ بحیثیت چیف جسٹس الہٰ آباد ہائی کورٹ، انہیں ہزاروں خطوط موصول ہوئے جن میں سول سروس کے افسران کے بارے شکایات درج تھیں۔ ان میں سے بعض خطوط بے نام اور بغیر دستخط کے تھے جن کا مقصد صرف افسران کو ہدفِ تنقید بنانا تھا۔
انہوں نے ڈنر پر مدعو مہمانوں کو بتایا کہ ان خطوط میں سول سرونٹس بارے ہزاروں شکایات تھیں۔ لیکن ایک بھی شکایت ایسی نہ تھی جس سے اشارہ بھی ملا ہو کہ کوئی سول سرونٹ کرپٹ ہے۔
لوگ ان افسروں سے لاکھ اختلاف کرتے تھے، ان کی سختی، ان کے قوانین، ان کے فیصلوں، ان کے طرزِ عمل سے بے شک ناراض ہوئے مگر ایمانداری پر انگلی اٹھانے کی کسی کی ہمت نہ ہوئی۔
سر جان ایج کی یہ بات دراصل ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ریاستیں صرف قوانین سے نہیں، کردار کے ستونوں پر کھڑی ہوتی ہیں۔ اور جب کردار مضبوط ہو تو قومیں ترقی بھی کرتی ہیں۔
Reference: The Ruling Caste by David Gilmour
The rope that shaped American History
In 1620, when the Mayflower ship was crossing the Atlantic, a powerful storm shook it badly. Waves smashed onto the deck and the wind roared fiercely. In the middle of this chaos, a young passenger, John Howland accidentally stepped onto the open deck.
A huge wave hit and threw him straight into the sea. For a moment, everyone thought he was gone. But while falling, his hands touched a loose rope hanging from the ship and he grabbed it tightly.
The crew quickly pulled him back on board. It was a miracle, one small slip and he would have been lost forever.
The same storm had cracked the ship’s main beam. To save the ship, the crew used a large iron screw and supported the beam with heavy barrels including beer barrels. These barrels helped the Mayflower stay together until it reached land.
That lucky rescue changed history. John Howland later became the ancestor of 3 US presidents:
Franklin D. Roosevelt
George H. W. Bush
George W. Bush.
One man holding onto a rope in a wild ocean ended up shaping the future of a nation.
ایڈ ینگ Pulitzer Prize یافتہ مصنف ہیں۔ ان کی ایک کتاب An Immense World بڑی مقبول ہوئی۔ وہ لکھتے ہیں:
دنیا صرف وہ نہیں جو ہمیں نظر آتی ہے، بلکہ ہر جاندار کیلیے ایک الگ کائنات کی مانند ہے۔ ہمارے ارد گرد کیا ہے، اس کا ادراک ہر ذی روح اپنی senses کے حساب سے کرتا ہے۔ مثلاً:
ہاتھی زمین کی گہرائیوں سے آنے والی معمولی سی آہٹ کو بھی اپنے پیروں کے ذریعے محسوس کر لیتے ہیں۔ جب دُور کہیں بادل گرج رہے ہوں یا کوئی بڑا ریوڑ چل رہا ہو تو انہیں فوراً معلوم ہو جاتا ہے۔
پرندے ایسی روشنی دیکھ سکتے ہیں جو ہمارے لیے بالکل پوشیدہ ہے۔ کُتّے خوشبو کی ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں وقت بھی مہک بن کر گزرتا ہے۔ وہ گزرے ہوئے کل کو بھی سونگھ کر دیکھ لیتے ہیں کہ کون کب یہاں سے گزرا۔ کون خوش ہے اور کون مضطرب، سب کچھ ان کی ناک بتا دیتی ہے۔
سانپ اندھیرے میں بھی شکار کو دیکھ لیتے ہیں کیونکہ انہیں حرارت محسوس ہو جاتی ہے۔ چمگادڑ آواز کی بازگشت سے دنیا کا نقشہ بناتی ہے جہاں ہمارے لیے خاموشی ہے، وہاں ان کے لیے ایک مکمل بصری کائنات ہے جو آوازوں سے روشن ہے۔
کچھ مچھلیاں الیکٹرک فیلڈ کے ہلکے سے بہاؤ سے راستہ ڈھونڈتی ہیں اور ایک دوسرے سے بات بھی کرتی ہیں۔ شہد کی مکھیاں پھولوں کے برقی تاثر کو محسوس کرتی ہیں، جیسے پھول خاموش زبان میں انہیں بتا رہے ہوں کہ ان کے پاس ابھی بھی رس ہے یا نہیں۔
سمندری کچھوے زمین کے مقناطیسی نقشے پڑھ کر ہزاروں میل دور اپنے جنم والے ساحل پر واپس پہنچ جاتے ہیں۔
یہی کائنات کا حسن ہے۔ ہر مخلوق اپنی الگ دنیا میں سانس لیتی ہے، دیکھتی ہے، سنتی ہے، محسوس کرتی ہے۔ اور ہم جتنا اس تنوّع کو سمجھتے ہیں، اتنا ہی یہ احساس گہرا ہوتا جاتا ہے کہ حقیقت ایک نہیں، بے شمار ہے۔ سب کچھ وہ نہیں جو انسان دیکھتا ہے، ہماری سوچ سے پَرے بھی جہان آباد ہیں۔
جب سکندر کی عمر تقریباً دس سال تھی تو فارس (Persia) کے چند سفیر اُس کے والد شاہ فلپ دوم کے دربار میں آئے۔ عام طور پر بادشاہوں کے بچوں کو سفیروں سے نہیں ملوایا جاتا تھا۔ لیکن شاہ فلپ نے سکندر کو فارس کے سفیروں سے ملنے کی اجازت دے دی۔
دربار میں آنے والے بچوں سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ کھیل کود، کھلونوں، کپڑوں یا کھانوں سے متعلق ہلکے پھلکے سوال کریں گے۔ فارس کے سفیروں کو بھی سکندر سے کچھ ایسی ہی توقع تھی کہ ایک ننھا شہزادہ غیر اہم اور بچگانہ باتیں کرے گا۔ لیکن سکندر معمولی بچہ نہیں تھا۔
سکندر نہایت اعتماد سے آگے بڑھا اور سفیروں سے ایسے سوال کیے جن سے وہ حیران رہ گئے۔ ان سوالوں میں بچگانہ تجسّس نہیں بلکہ فوجی ذہانت، سیاسی فہم اور ایک فاتح کی سوچ جھلکتی تھی۔ قدیم مورخ پلوٹارک (Plutarch) کے مطابق سکندر نے یہ سوالات کیے:
فارس کا بادشاہ جنگ میں کیسا ہے؟
کیا وہ خود اپنی فوج کی قیادت کرتا ہے؟
میدانِ جنگ میں اُس کی عادتیں اور طریقے کیا ہیں؟
فارس کی فوج کی اصل طاقت کیا ہے؟
اس کی کمزوریاں کہاں ہیں؟
اس کی سلطنت کہاں تک پھیلی ہوئی ہے؟
ایشیا تک کون سے راستے جاتے ہیں؟”
مقدونیہ سے فارس تک کون کون سی ندیاں، پہاڑ اور بیابان پڑتے ہیں؟
ایک لشکر کو اُن میں سے کیسے گزارا جا سکتا ہے؟
یہ سوالات ایک بچے کے نہیں بلکہ اس شخص کے تھے جو فارس کو اپنے سامنے کھڑا دیکھ رہا تھا۔ مہمان سفیروں نے شاہ فلپ سے کہا: "آپ کے بیٹے میں ایک بادشاہ کا ذہن ہی نہیں، ایک فاتح کی روح بھی ہے۔"
چند سال بعد اسی بچے نے جوان ہو کر فارس کو فتح کیا، اسی نے اپنی فوج کی خود قیادت کی، اسی نے وہی ندیاں، پہاڑ اور بیابان عبور کیے جن کے بارے میں بچپن میں سوال کیا تھا۔
یہ واقعہ پلوٹارک نے اپنی کتاب "دی لائف آف الیگزینڈر" میں لکھا ہے۔