نیدر لینڈ کی شاندار انجینئرنگ، سطح سمندر سے نیچے شہر بسا لئے!
ملک کا 26 فیصد رقبہ،زرخیز زمینیں بھی سطح سمندر سے نیچے!
ہزار سال پہلے یہ کارنامہ کیسے سرانجام دیا گیا؟جانئے
Cause and direction of the Nepal disaster in a 3D map.
A massive wave of ice, rocks, mud and floodwater travelled from the high mountains deep into Nepal, destroying roads, bridges, buildings and other infrastructure along the way.
1. Glacier / High Mountain
- A lower part of a Himalayan glacier collapsed, sending huge amounts of ice and rock downhill. The exact cause is still being investigated.
2. Lhende Khola
- The ice and rocks crashed into the Lhende Khola, triggering a massive flood filled with mud, rocks and debris.
3. Rasuwagadhi
- The powerful surge reached Rasuwagadhi, around 20 km from the suspected collapse site, and entered Nepal.
4. Timure
- The flood rushed toward Timure, sweeping away roads, bridges, buildings and vehicles.
5. Syapru Besi
- The flood continued toward Syapru Besi, causing major damage to homes, roads, hydropower projects and other infrastructure.
6. Trishuli River
- Carrying the flood wave deeper into the valley.
7. Further Downstream
- The flood then affected areas including Nuwakot, Dhading, Chitwan, Gorkha, Tanahu and Nawalparasi East.
Existe una relación directa y confirmada científicamente entre el calentamiento global, el deshielo de glaciares y las catástrofes que ocurren con frecuencia en la frontera entre Nepal y China.
Diferentes estudios han revelado que en estas zonas, las temperaturas están aumentando a un ritmo muy superior al promedio global. El deshielo acelerado debilita la estructura física de las montañas.
Al perder la masa helada, que actúa como un pegamento, y que sostenía las laderas, se acumula agua subterránea o desborda en lagos glaciares, entonces los desprendimientos masivos de rocas y el hielo (avalanchas, deslizamientos) se vuelven habituales. Es verdaderamente lamentable y catastrófico lo que ha sucedido. (Mira esta simulación)
#catastrofe #China #Nepal #GlobalWarming #ElNiño
آج نیپال میں آنے والی تباہ کن سیلابی صورتحال اور اس کے بعد کی تباہی کی یہ مناظر پوری ہمالیائی خطے کے لیے ایک بڑا انتباہ ہیں۔ حالیہ تباہی میں گلیشیئر کے ٹوٹنے اور برف و چٹان کے اچانک بہاؤ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔
ہندوکش ہمالیہ (HKH) ریجن کا اہم حصہ گلگت بلتستان بھی ہے۔ ہمارے گلیشیئرز، دریا، جھیلیں اور پہاڑی بستیاں بھی موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتے ہوئے قدرتی خطرات کی زد میں ہیں۔
یہ وقت صرف تباہی کی ویڈیوز دیکھنے کا نہیں، بلکہ سبق سیکھنے اور بروقت اقدامات کرنے کا ہے۔
اب وقت ہے۔۔۔ جاگو!
اپنے گلیشیئرز، دریاؤں اور ماحول کی حفاظت کرو
ہری پور کی 5 سال کی معصوم بچی آیت نور کیلئے آپ سب کو آواز اٹھانی چاہیے ۔ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں ۔ اس ہیش ٹیگ #JusticeForAyatNoor کو بھی ضرور استعمال کریں ۔
بچی 14 روز سے لاپتہ ہے ۔
پولیس نے 3 ملزم پکڑے ہیں ۔ لیکن تاحال بچی کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ۔
اہل علم کہتے ہیں قرآن کا یہ لفظ عربی کا سب سے لمبا یک لفظی جملہ ہے۔جو ایک لفظ ہے لیکن جملہ ہے۔ ترجمہ:
سو اللہ تمہارے لیے ان لوگوں کے مقابلے میں کافی ہو گا۔
کلاڈ استعمال کرنا مہنگا بھی پڑسکتا ہے اگر احتیاط سے استعمال نا کیا جائے تو۔ اس پوسٹ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ میں کم سے کم خرچ میں کلاڈ کیسے استعمال کرتا ہوں۔ اس سے بہتر بھی طریقے ہونگے۔ آپ احباب اپنے تجربات لکھئے
فرض کریں کہ مجھے ایک full stack ایپ بنوانی ہو۔ سب سے پہلی ہدایت جو میں دیتا ہوں وہ یہ کہ کوئی کوڈ نہیں لکھنا جب تک میں نا کہوں۔
اس کے بعد میں اسے فرنٹ اینڈ کے بارے میں بتاتا ہوں کہ مجھے کیسا چاہئے۔ کیا فیچر چاہئے ہیں ۔ GUI کے بارے میں تفصیل بتاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اسکی صرف png بنا کر دو ۔ اسکے بعد اس png میں تبدیلیاں کرواتا ہوں جب تک کے مطمئن نا ہو جاؤں۔
پھر بیک اینڈ کی تفصیلات بتاتا ہوں کہ ڈیٹا کہاں ہوگا، ڈیٹابیس کا ڈیزائن کیا ہے۔ معلومات کہاں سے اٹھانی ہے کہاں سیف کرنی ہے۔ اس کا بھی png بنواتا ہوں، پھر اس سے کہتا ہوں کہ ایک animated ویڈیو بناؤ جس میں پورا ڈیٹا فلو گرافکس کے ذریعے ظاہر کیا گیا ہو۔
جب فرنٹ اینڈ اور بیک اینڈ سے مکمل طور پر مطمئن ہوجاتا ہوں تو پھر اس سے کہتا ہوں کہ اب کوڈ لکھو۔ پھر اس full stack ایپ کو اچھی طرح ٹیسٹ کرکے فیڈ بیک فوراً نہیں دیتا بلکہ جمع کرتا رہتا ہوں۔ جب اچھی طرح ٹیسٹ کرلوں تو پھر فیڈ بیک دے کر کوڈ میں تبدیلی کرواتا ہوں
یاد رکھیں کلاڈ سے کوڈ بنوانا سب سے مہنگا ہوتا ہے۔ چنانچہ کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ تبدیلیاں بغیر کوڈ کے کروائیں اور بالکل آخر میں کوڈ بنوائیں
ایک بات کی داد 1992 سے پاکستانی فوجی قیادت کو دیں کہ ان تمام برسوں میں ہر آرمی چیف کی حیران کن خواہش رہی کہ نواز لیگ کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف ہوں،نواز شریف نہ ہوں۔
آخر تیس سال کے بعد یہ فوجی خواہش 2022 میں پوری ہوئی اور فوج نے خود ہی پوری کی۔ اس دوران سات آٹھ آرمی چیف گزرے لیکن ان سب کی پسند شہباز شریف صاحب ہی رہے۔ بس نواز شریف ہی رکاوٹ بنے رہے۔ جنرل مشرف مارشل لاء لگانے سے پہلے اپنی بیگم صاحبہ کے ساتھ رائے ونڈ بڑے میاں صاحب کا منت ترلہ کرنے تک گئے تھے کہ بڑے بیٹے کو واپس لے جائیں، دراصل چھوٹا ہمارے کام کا ہے۔
صدر غلام اسحاق خان نے بھی میاں شریف کو یہی کہا تھا شہباز کو وزیراعظم بنا دیں کیونکہ نواز شریف لڑ پڑتا ہے۔
آخر کچھ تو ایسا ان صدر اسحاق سے دس بارہ ٹاپ فوجی جرنیلوں نے شہباز شریف صاحب میں دیکھا تھا کہ انہیں لگا پوری نواز لیگ /شریف فیملی میں وہی ان کے کام کا بندہ ہے جو کہیں گے وہی کرے گا۔ ہمیں سیلوٹ مارے گا۔ کبھی ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالے گا۔ ہمارے کہنے پر دن کو رات اور رات کو دن۔
ویسے آپ ہمارے فوجی بھائیوں کی ریڈنگ/ابزرویشن کی داد تو دیں کتنی ٹھیک نکلی ہے۔
یہ لیجئے۔ عوام کے پرزور اصرار پر agentic ai کا ٹیبل۔ یاد رہے کہ agentic ai تکنیکی کام کرتا ہے۔ جیسے ایپ بنانا، پروگرامنگ اور کوڈنگ کرنا، ڈیٹا انالسس کرنا، مینوئل پراسس کو آٹومیٹ کرنا وغیرہ۔ اس ٹیبل میں بتایا گیا ہے کہ مختلف ٹول کی کیا صلاحتیں ہیں
اے آئی کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
ایک generative ai اور دوسرا agentic ai ہے۔
پہلا generative ai وہ حصہ ہے جس میں آپ آرٹ کا کام کرتے ہیں جیسے تصاویر بنانا، ویڈیو بنانا، میوزک بنانا، مضامین لکھنا، ڈاکیومنٹ بنانا وغیرہ
دوسرا agentic ai وہ حصہ ہے جس میں آپ تکنیکی کام کرتے ہیں جیسے ایپ بنانا، پراسس کو آٹومیٹ کرنا، کوڈنگ کرنا، ڈاٹا انالسس کرنا وغیرہ
جو لوگ generative ai میں دلچسپی رکھتے ہوں ان کیلئے ایک چھوٹا سا ٹیبل بنایا ہے جس میں بنیادی ٹولز ہیں۔
ان ٹولز کو سیکھا بھی اےآئی کی مدد جا سکتا ہے۔ gpt, gemini, copilot سے کہیں کہ مجھے فلاں ٹول سیکھنا ہے وہ سکھانا شروع کردیگا
سی سی ڈی گولیاں چلا کر جنسی جنون اور جرائم ختم نہیں کر سکی تو ولاد ڈریکولا سے سبق لیا جائے۔
ولاد ڈریکولا ریاست “ولایئشیا” یعنی آج کی ریاست رومانیہ کا مطلق العنان حکمران تھا جس نے بزبان انگریزی “ایمپیلنگ” “Impaling” نامی سزا ایجاد کی جس میں مجرم کے جسم سے لکڑی ایسے گزاری جاتی تھی کہ کوئی اہم اندرونی عضو نہ کٹے اور اس لکڑی پر اسے تادم مرگ سرعام ٹانگ دیا جاتا تھا۔ آج کے پاکستان میں معصوم بچوں بچیوں کے خلاف جنسی جرائم کی اسی سزا کو قانونی شکل دینے کی ضرورت ہے۔
#تورپیکئی
وہ میری خاموشی سے خفا تھے لیکن اتنا نہ جان سکے کہ میں تخیل میں قطرہ قطرہ جا رہا تھا۔
———————————-
يستاؤون من صمتي
ولم يلحظوا أنني
كنتُ أُغادرُ
فكرةً.. فكرة
Stress Left Behind. Adventure Ahead.
Skardu is not just a destination — it is your escape from everything!
Pakistan Travel Guide has the Perfect Skardu Tour Packages for You — Discounted Rates, Comfortable Stays & Expert Guides!
📞 Contact Now: 03041110281