آپ کی دوائی، آپ کی روٹی، آپ کی بجلی مہنگی ہونے سے صرف اس حکومت کو فرق پڑے گا جو آپ کے ووٹ سے اقتدار میں آئے گی۔ آپ کی مرضی کے خلاف آئی حکومت کبھی آپ کی خیرخواہ نہیں ہوگی۔
ایک سوال بار بار پوچھا جاتا ہے کہ حکومت پر تنقید کیوں کرتے ہیں؟
اس کا جواب بہت سادہ ہے: تنقید حکومت کی نہیں، پالیسیوں اور طرزِ حکمرانی کی ہوتی ہے۔
2013 میں جب نواز شریف صاحب کو اقتدار ملا اور اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں دھرنے ہوئے، تو ایک تصور تھا “سول سپریمیسی” کا۔ بہت سے لوگوں نے منتخب حکومت کا ساتھ اس لیے دیا کہ اصول یہ تھا کہ عوام کے ووٹ سے آنے والی حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ پاناما کیس ہو یا دیگر بحران، لوگ اس اصول پر کھڑے رہے۔
پھر عمران خان کا دور آیا۔ اس وقت سوشل میڈیا پر عمران خان ایک بڑی طاقت تھے، مگر ہم نے ان پالیسیوں پر تنقید کی جو عوام پر بوجھ ڈالتی تھیں، اختیارات کو چند ہاتھوں میں مرکوز کرتی تھیں یا جمہوری روایت کو کمزور کرتی تھیں۔
آج حالات مختلف ہیں۔ اپوزیشن کمزور ہے، اسٹیبلشمنٹ حکومت کے ساتھ کھڑی ہے، عالمی سطح پر بھی حکومت کو تنہائی کا سامنا نہیں، اور عمران خان جیل میں ہیں۔ ایسے موافق حالات میں اگر عام آدمی کو ریلیف نہ ملے، مہنگائی، ٹیکسوں اور معاشی دباؤ میں اضافہ ہو، تو سوال اٹھانا فطری بات ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت جب جواب دہی سے آزاد ہو جائے تو حکمران عوام سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت میں تنقید کو دشمنی نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ریاست اور حکومت ایک چیز نہیں ہوتیں۔ ریاست کے مفاد، قومی سلامتی، کشمیر، ایران یا بھارت جیسے معاملات میں ہم ریاست کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، لیکن حکومت کی غلط پالیسیوں پر خاموش رہنا بھی ذمہ داری نہیں۔
جن باتوں پر ہم کل عمران خان پر تنقید کرتے تھے، انہی باتوں پر آج موجودہ حکومت کی تعریف نہیں کر سکتے۔ اصول اگر بدل جائیں تو سیاست رہ جاتی ہے، کردار ختم ہو جاتا ہے۔
یہ تنقید نفرت سے نہیں، احتساب کے احساس سے ہے۔ جیسے گھر میں اولاد غلط راستے پر چلے تو اس کی اندھی تعریف نہیں کی جاتی بلکہ اسے سمجھایا جاتا ہے، ویسے ہی حکومت کو بھی یاد دلانا ضروری ہوتا ہے کہ اقتدار کا مقصد اشرافیہ کو فائدہ پہنچانا نہیں بلکہ عوام کو سہولت دینا ہے۔
@RShahzaddk بکواس تو آپ کر رہے کیوں کہ آپ کو پتہ ہے جو چیز غائب کرنی تھی وہ آپ لوگوں نے انوینٹری فارم میں لکھی ہی نہیں۔ انوینٹری فارم بھی تو آپ نے تیار کیئے۔
@RShahzaddk سر منسٹر صاحب نے اساتذہ کمیونٹی نہیں بلکہ کچھ گندے انڈوں کے بارے میں بات کی۔ اس طرح کے ہزاروں نہیں تو سینکڑوں واقعات ہوئے ہیں جن میں آوٹ سورس ہونے والے سکولوں کے سامان کو ادھر ادھر کیا گیا۔ مجھے جو سکول ملا اس میں سے سولر سسٹم اتار کے لے گئے۔ میرے پاس ویڈیو ثبوت موجود ہیں۔
سر منسٹر صاحب نے اساتذہ کمیونٹی نہیں بلکہ کچھ گندے انڈوں کے بارے میں بات کی۔ اس طرح کے ہزاروں نہیں تو سینکڑوں واقعات ہوئے ہیں جن میں آوٹ سورس ہونے والے سکولوں کے سامان کو ادھر ادھر کیا گیا۔ مجھے جو سکول ملا اس میں سے سولر سسٹم اتار کے لے گئے۔ میرے پاس ویڈیو ثبوت موجود ہیں۔
🚨🚨انتہائی خطرناک ہر طرف پھیلا دو
آپ ابھی تو وزیر تعلیم پنجاب کے ٹیچر کے پنکھے چوری کرنے والے بیان پر غصہ کر رہے ابھی تو وہ جو ان کا گسٹاپو فورس جیسا گروپ اسکے وائس نوٹ اور سکرین شاٹ میرے پاس جس میں اس بیان پر سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوں کے نمبر ڈھونڈ کر متعلقہ تھانوں میں ایس ایچ او کو فون کر کے استادوں کو اٹھوانے کا پلان بنایا جا رہا ننگی گالیاں دے رہے ہیں اب تو وزیر تعلیم پر تنقید کرنے پر غنڈا فورس متحرک ہو رہی ہے آپ حکم کریں گے وہ سارے وائس نوٹ وہ سارے سکرین شاٹ یہاں پوسٹ کر دوں گا تاکہ پتہ چلے کہ نون لیگ کا وزیر تعلیم کس فاشسٹ سوچ کا مالک ہے اور نو سو ارب روپیہ تعلیم کا کس طرح عوام کی آواز دبانے مخالفین پر مقدمات کرنے پولیس سے ڈرانے پر لگ رہا ہے
@RShahzaddk سر یہ ہمارے لئے عام سی بات ہے ہم ہر سال دو سال بعد اپنے محلے یا واٹر سپلائی سکیم کا ٹرانسفارمر مرمت کروانے کے لیے واپڈا اہلکاروں کو مرمت کی مد میں ستر سے اسی ہزار روپے ادا کرتے۔
@Bilalahmadjj@RShahzaddk سر یہ سارے اینٹی عمران خان والنٹیئرز کی سوشل میڈیا کمپینز کو اپنے کھاتے میں ڈالتے۔ حالانکہ والنٹیئرز کو نکال دیں تو یہ خود انڈہ ہیں۔
2018-2022 کے دور میں جب ن لیگ کی لیڈرشپ جیل میں تھی اور سوشل میڈیا پر ایکٹیو لوگ گنے چنے تھے، اُس وقت راجہ عامر شہزاد@RShahzaddk اور اُن جیسے کئی والنٹیئرز نے ہی گراؤنڈ سنبھالا ہوا تھا۔ اُس وقت نہ کوئی مرکزی بیانیہ تھا، نہ کوئی منظم سوشل میڈیا سیل۔
جب آپکا ٹویٹر اکاؤنٹ ایک انڈہ تھا تب آپ نے مسلم لیگ نون کا پلیٹ فارم استعمال کیا، مسلم لیگ نون کا بیانیہ استعمال کیا، مسلم لیگ نون کی سوشل میڈیا فورس استعمال کی مسلم لیگ نون کی لیڈرشپ استعمال کی اور تب جا کر آپکا اکاؤنٹ اس قابل ہوا کہ آپ غریب کی آواز بنے
اچھی بات ہے غریب کی آواز بنیں لیکن جن کے کندھوں پر بیٹھ کر آپ اس قابل ہوئے ہیں کہ آپکی آواز سُنی جائے کم سے کم بندہ شرموں شرمی ہی اُنکے خلاف نہیں لکھتا۔
اردو ٹائپنگ میں اعراب کیسے لگاتے ہیں ؟
اکثر زیر، زبر یا پیش لگانا ضروری ہو جاتا ہے کیونکہ مَردوں اور مُردوں میں فرق ضروری ہے😁
جس حرف پر اعراب لگانے ہوں وہ حرف ٹائپ کر کے نیچے تصویر میں جس بٹن پر پیلے رنگ کا دائرہ ہے اسے ایک سیکنڈ کیلئے دبائیں تو سب زیر، زبر، پیش، شد، کھڑی زبر زبر پیش وغیرہ شو ہو جائیں گے اپنی ضرورت کے مطابق کلک کریں اس حرف پر وہ اعراب لگ جائیں گے
@RShahzaddk شرم محسوس کرنے کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب بندہ ذاتی مفاد کے لیے اصول بیچ دے۔ تنقید اگر حقائق پر ہو، تہذیب کے دائرے میں ہو، تو وہ نمک حرامی نہیں، احتساب کہلاتی ہے