پاک فوج کا Mi-17 ہیلی کاپٹر مظفرآباد کے قریب تکنیکی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے نتیجے میں تمام اہلکار شہید ہو گئے۔ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے بورڈ آف انکوائری قائم کر دیا گیا ہے جو حادثے کے تمام تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے گا، آئی ایس پی آر ۔
*ایک شوھر اپنی بیوی کو ڈنڈے سے مار رھا تھا، ایک بزرگ پاس سے گزرے اور پوچھنے لگے کہ بیٹا کیوں اپنی بیوی کو مار رھے ھو؟؟؟*
*شوھر نے غصے سے کہا: "یہ بہت گستاخ ھوگئی ھے۔"*
*بزرگ مسکرائے اور بولے: "بیٹا! عورت کو ڈنڈے سے نہیں مارتے، عورت کو عورت سے مارتے ھیں۔"*
*شوھر کی آنکھوں میں حیرت اتر آئی، ڈنڈا ایک طرف پھینک کر بولا: "عورت کو عورت سے کیسے مارتے ھیں؟؟؟"*
*بیوی فوراً سمجھ گئی کہ بزرگ کا اشارہ دوسری شادی کی طرف ھے۔*
*کڑک کر بولی:*
*"بابا جی ایویں دوسروں کے معاملات میں ٹانگ نا اڑاؤ... نکلو ایتھوں۔"*
*اور ڈنڈا اٹھا کر دوبارہ شوھر کے ھاتھ میں دیتے ھوئی بولی:*
"*جانو تسی کم جاری رکھو۔*" 😅🤣😅😂🤣
چودھری صاحب فرماتے ہیں کہ کشمیر دراصل پنجاب کا حصہ ہے اور پنجاب پولیس غداروں کو گرفتار کر کے گولیوں سے بھون دیگی ۔۔۔ اگر سزائیں پنجاب پولیس نے دینی ہیں تو کشمیر میں عدالتیں کیوں قائم کیں؟ کیا یہ دعوے اور دھمکیاں آئین پاکستان کے مطابق ہیں یا آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہیں؟ آئین پاکستان کی دفعہ 257 کے مطابق کشمیر پنجاب کا حصہ نہیں ہے لیکن کچھ پنجابی انتہا پسند پاکستانیت کا لبادہ اوڑھ کر آئین پاکستان کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں انہیں روکنے والا کوئی نہیں
اگر شعور ہوتا تو ہرن کو معلوم ہوتا کہ اسکی بھاگنے کی رفتار نوے کلو میٹر فی گھنٹہ ہے ... جبکہ شیر کی ساٹھ بھی نہیں، کبھی پکڑائی نہ دیتا۔
جہالت اور کم علمی خوف پیدا کر دیتی ہے چاہے کسی بھی شعبہ زندگی میں کیوں نہ ہو۔
بجلی کا ایک یونٹ کیسے بنتا ہے ؟
بجلی کی بڑھتی قیمت کے پیش نظر ہم سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے گھر میں مختلف اشیا کتنی بجلی استعمال کرتی ہیں
اس چارٹ میں اگر کوۂی غلطی ہو تو نشان دھی کی جاۓ
⬅️ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں پاسداران انقلاب کی جانب سے اردن میں فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعوی
⬅️امریکی سینٹرل کمانڈ کا ایران کے خلاف اپنی ’جوابی کارروائیاں‘ ختم کرنے کا اعلان
تفصیل: https://t.co/yuOfDkrNzH
سعودی عرب مدینہ منورہ کے علاقے المھد میں
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور کے قدیم تاریخی نقوش ملے ہیں
جن کی تعداد 461 ہے
جب کہ 2500 سال قبل قوم ثمود کے زمانے کے بھی 34 آثار دریافت ہوئے ہیں
کل 1774 قدیم آثار ملے ہیں
یہ مہد علاقہ مدینہ منورہ سے 150 کلومیٹر دور شمال مشرق میں واقع ہے
قدیم زمانے میں یہ جنوب شمال جانے والے قافلوں کا اہم روٹ تھا
ثمودی نبطی اور اسلامی دور میں قافلے یہاں پڑاؤ کرتے تھے
ہر زور ثاقب چدھڑ کی مومنہ اقبال اور اس کے خاندان پر کی گئی مبینہ نوازشوں کی نئی تفصیل سامنے آ رہی ہے۔ میڈیا بھی بہت فارغ ہے اس ایک موضوع کے لیے۔
بندہ پوچھے کہ ن لیگ کے اس MPA کے پاس اتنا پیسہ آیا کہاں سے؟ گردے بیچنے کا اعتراف تو TV پر ہو چکا ہے۔
دوسرا یہ کہ جب تم اندھا دھند پیسہ اڑا رہے تھے، تب نہیں سوچا کہ یہ میں کیا کر رہا ہوں؟
لوگ لاقانونیت اور بھوک سے مر رہے ہیں، یہاں یہ سیاپا ہی ختم نہیں ہو رہا۔
ہم سندھ والوں نے پی پی حکومت میں بنگلے بنائے بچے انجینئر ہوگئے اب گلگت والوں کی باری ہی انہوں نے پی پی سے یاری کی ہے گلگت کے تین چار پہاڑ تو پی پی نے سر پہ ہاتھ پھیر کر غائب کر دینے ہیں۔
یار کمال کا طنز و مزاح ہے !
مسلم لیگ (ن) ہر جگہ ووٹر کھو چکی ہے، اس لیے اب وہ ووٹ گننے والوں کو اور زیادہ مضبوطی سے تھامے رکھے گی۔ سیرل المیڈا
@cyalm
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
🚨شجرہ نسب عمران احمد خان نیازی
اس تحریر میں عمران خان کا خاندانی پس منظر پیش کرتی ھوں تاکہ آئندہ کے لیے ریکارڈ رھے اور اخلاقیات کا جنازہ نکالنے والے افراد محتاط رھیں:
عمران خان کے والد اکرام اللہ خان نیازی نے 1946ء میں "امپیریل کالج لندن" سے سول انجینئرنگ میں اعلی تعلیم حاصل کی۔ ان کے پدری جد "ھیبت خان نیازی" سولہویں صدی میں شیر شاہ سوری کے جنرل اور بعد ازاں پنجاب کے گورنر رھے۔
اکرام اللہ خان کے والد (عمران خان کے دادا) "عظیم خان" سند یافتہ ڈاکٹر تھے۔
عمران خان کی والدہ "شوکت خانم" جالندھر کے سیشن جج احمد حسن خان کی دختر تھیں۔ احمد حسن کے جد "احمد شاہ خان" سول سرونٹ تھے، سینسس کمشنر اور ڈسٹرک کمشنر رھے۔
والدہ کی طرف سے عمران خان کا تعلق جنوبی وزیرستان کے "برکی" قبائل کے ایک خاندان سے ھے جو لگ بھگ 600 سال قبل ھندوستان کے ضلع جالندھر میں جا بسا تھا۔ جالندھر میں "اسلامیہ کالج" قائم کرنے میں اس خاندان نے نمایاں کردار ادا کیا۔ احمد حسن خان نے قائد اعظم کو جالندھر میں اپنے اجداد کی بنائی "بستی پٹھان" میں خوش آمدید کہا۔ تقسیم ھند کے بعد یہ خاندان لاھور کے ایک علاقے میں آ کر آباد ھوا جو عمران کے نانا کے بھائی خان بہادر محمد زمان خان، پوسٹ ماسٹر جنرل کے نام سے موسوم ھے اور "زمان پارک" کہلاتا ھے۔
عمران خان والدین کے اکلوتے بیٹے ھیں۔ ان کی چار بہنیں ھیں جن کا تعارف ذیل میں درج ھے:
1۔ روبینہ خانم ۔۔۔لندن سکول آف اکنامکس سے فارغ اتحصیل ھیں اور اقوام متحدہ کے لیے کام کرتی رھی ھیں۔
2۔ علیمہ خان LUMS سے MBA کرنے کے بعد کاروبار میں آئیں، کپڑا اور کپڑے سے بنی مصنوعات درآمد کرنے کا کاروبار کرتی ھیں۔ انکی کمپنی۔۔۔Cotcom Sourcing (Pvt) Ltd
کے دفاتر لاھور، کراچی اور نیویارک میں موجود ھیں۔ بڑے درآمدگان میں ان کا شمار ھوتا ھے اور کئی خیراتی اداروں کی بوڑد ممبر ھیں۔
3۔ عظمی خان کوالیفائڈ سرجن ھیں۔
4۔ رانی خانم یونیورسٹی گریجویٹ ھیں اور خیراتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ھیں۔
جمائمہ خان (سابقہ بھابی) نے ان سب بہنوں کی تعریف کرتے ھوئے کہا کہ عمران خان کی بہنیں اعلی تعلیم یافتہ، سلجھی ھوئی اور مضبوط کردار کی حامل خواتین ھیں جو باوقار اور خود مختار زندگی گزار رھی ھیں۔
عمران خان کا خاندان "شیرمان خیل" کہلاتا ھے اور بہت بڑا خاندان ھے۔ ان کے زیادہ تر چچازاد مسلم لیگ نون کے رکن ھیں۔ نامی گرامی کھلاڑی اور فوجی جنرل اس خاندان سے تعلق رکھتے ھیں۔ نمایاں نام جاوید برکی، ماجد خان اور مصباح الحق ھیں۔ والدہ کی جانب سے دو کزن پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان رھے۔ والدہ کی جانب سے لیفٹننٹ جنرل ظہیرالدین اور والد کی جانب سے جنرل زاہد علی اکبر سے ان کا رشتہ ھے۔
کہا جاتا ھے کہ پشتو زبان کے حروف تہجی ایجاد کرنے والے "پیر روشن" ( بایزید خان) بھی عمران خان کے اجداد میں سے تھے جو نسلا" "کرد" نسل کے ترک تھے اور محمود غزنوی کی فوج کے ساتھ منتقل ھو کر ھندوستان میں آ بسے تھے۔
--
عمران خان کے درج بالا شجرہ نسب اور خاندانی وجاہت کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے مخالفین کس کو پیش کریں گے؟
👍🔥❤️
یہ ہے پنجاب پولیس وزیر اعلیٰ مریم نواز کہتی ہیں کہ یہ برطانیہ طرز پر ہو گی ، کیا برطانیہ میں بھی پولیس اہلکار سائل کو درخواست لکھ کر دیں تو بدلے میں پیسے مانگتا ہے ، کیا برطانیہ میں پولیس اہلکار کا رویہ خواتین سے ایسا ہوتا ہے
یاد رہے کہ پنجاب میں خواتین مریم نواز صاحبہ کی ریڈ لائن ہیں
@MaryamNSharif@hinaparvezbutt@OfficialDPRPP
🐄🐃 جانور سب بتاتا ہے!
تحریر: ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan)
مویشی پال حضرات اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ جانور اچانک بیمار ہو گیا، دودھ کم ہو گیا یا اچانک کمزور پڑ گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر بیماریوں میں جانور اچانک بیمار نہیں ہوتا بلکہ بیماری کی علامات کئی دن پہلے ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم ان علامات کو پہچان نہیں پاتے یا انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
جانور بول نہیں سکتا، لیکن وہ اپنی صحت، تکلیف اور بیماری کے بارے میں مسلسل اشارے دیتا رہتا ہے۔ اس کی خوراک، پانی پینے کی عادت، جگالی، دودھ کی پیداوار، جسمانی حرکات، سانس لینے کا انداز اور رویہ اس کی صحت کا آئینہ ہوتے ہیں۔ ایک کامیاب مویشی پال وہی ہے جو اپنے جانوروں کی ان خاموش باتوں کو سمجھنا سیکھ لے۔
اگر کوئی جانور اچانک خوراک کم کر دے یا مکمل طور پر کھانا چھوڑ دے تو یہ اکثر بیماری کی پہلی علامت ہوتی ہے۔ صحت مند جانور بھوک کے ساتھ خوراک کھاتا ہے، جبکہ بیمار جانور چارے اور دانے میں دلچسپی کم دکھاتا ہے۔ اسی طرح جگالی کا کم ہونا یا بند ہو جانا ہاضمے کے مسائل، بخار یا دیگر بیماریوں کی نشاندہی کر سکتا ہے۔
دودھ دینے والے جانوروں میں دودھ کی پیداوار ایک اہم اشارہ ہے۔ اگر کسی گائے یا بھینس کا دودھ اچانک کم ہونا شروع ہو جائے تو اس کے پیچھے ماسٹائٹس، بخار، غذائی کمی، ہیٹ اسٹریس یا کسی اور بیماری کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ دودھ کی مقدار میں کمی کو کبھی بھی معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔
جانور کا رویہ بھی بہت کچھ بتاتا ہے۔ جو جانور پہلے چاق و چوبند تھا لیکن اب ایک کونے میں خاموش کھڑا رہتا ہے، ریوڑ سے الگ تھلگ رہتا ہے یا معمول سے زیادہ لیٹا رہتا ہے، وہ یقیناً کسی نہ کسی جسمانی مسئلے کا شکار ہو سکتا ہے۔ اسی طرح بار بار اٹھنا بیٹھنا، پیٹ کی طرف دیکھنا یا بے چینی ظاہر کرنا درد کی علامات ہو سکتی ہیں۔
سانس لینے میں دشواری، کھانسی، ناک سے پانی یا رطوبت آنا اور آنکھوں سے اخراج بھی اہم علامات ہیں جنہیں فوری توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ علامات نمونیا، سانس کی بیماریوں یا متعدی امراض کی طرف اشارہ کر سکتی ہیں۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو بیماری دوسرے جانوروں تک بھی پھیل سکتی ہے۔
لنگڑاہٹ یا چلنے پھرنے میں دشواری بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ پنجوں کی بیماریاں، زخم، جوڑوں کی سوزش یا غذائی مسائل جانور کو لنگڑا بنا سکتے ہیں۔ چونکہ لنگڑاہٹ خوراک کے استعمال کو متاثر کرتی ہے، اس لیے اس کا براہ راست اثر دودھ اور گوشت کی پیداوار پر پڑتا ہے۔
مویشی پال حضرات کو چاہیے کہ روزانہ کم از کم چند منٹ اپنے جانوروں کا بغور مشاہدہ کریں۔ خوراک کی کھپت، پانی پینے کی مقدار، دودھ کی پیداوار، جسمانی حالت، جگالی اور رویے پر نظر رکھیں۔ بیماری کی ابتدائی علامات کو پہچاننا کامیاب فارمنگ کی بنیادی شرط ہے۔
یاد رکھیں، بروقت تشخیص اور علاج نہ صرف جانور کی جان بچاتا ہے بلکہ علاج کے اخراجات کم کرتا ہے، پیداوار کو برقرار رکھتا ہے اور فارمر کے معاشی نقصان سے بھی بچاتا ہے۔ صحت مند جانور ہی کامیاب اور منافع بخش لائیو اسٹاک فارمنگ کی بنیاد ہیں۔
اہم پیغام
جانور خاموش ضرور ہے، لیکن بے زبان نہیں۔ وہ اپنی ہر حرکت، اپنی خوراک، اپنی آنکھوں، اپنی سانسوں اور اپنی پیداوار کے ذریعے اپنی کیفیت بیان کرتا ہے۔ جو مویشی پال اپنے جانوروں کی زبان سمجھ لیتا ہے، وہ بیماری کو وقت پر پہچان لیتا ہے، نقصان سے بچ جاتا ہے اور اپنے فارم کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیتا ہے۔
جانور سب بتاتا ہے، ضرورت صرف اسے سمجھنے کی ہے۔
ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan)
Save Farmer, Save Pakistan
جیسے جیسے مصنوعی ذہانت (AI) کی دوڑ تیز ہوتی جا رہی ہے، چین کی ٹیکنالوجی کمپنیاں ڈیٹا سینٹرز کو سمندر کی تہہ میں نصب کر رہی ہیں تاکہ انہیں ٹھنڈا رکھنے کے اخراجات میں نمایاں کمی کی جا سکے۔
یہ جدید طریقہ اگرچہ توانائی کی بچت کا ایک منفرد حل پیش کرتا ہے، لیکن اس نے سمندری حیات پر اس کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات کے بارے میں سنگین خدشات بھی جنم دیے ہیں۔
بھاری AI ورک لوڈز کو سنبھالنے کے لیے تیار کیے گئے زیرِ آب ڈیٹا سینٹرز پہلے ہی شنگھائی اور ہائنان کے ساحلوں کے قریب کام کر رہے ہیں، جہاں سمندر کی قدرتی گہرائی کو غیر فعال (Passive) کولنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
چونکہ روایتی زمینی ڈیٹا سینٹرز میں کولنگ کا نظام عموماً کل توانائی کا تقریباً نصف حصہ استعمال کرتا ہے، اس لیے ماہرین کے مطابق زیرِ آب تنصیب سے یہ شرح کم ہو کر دس فیصد سے بھی نیچے آ جاتی ہے۔
زیادہ توانائی خرچ کرنے والے صنعتی چِلرز کی ضرورت ختم کرکے یہ سمندری ماڈیولز نہ صرف کاربن اخراج میں نمایاں کمی لاتے ہیں بلکہ زمینی وسائل کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
تاہم، اس بظاہر ماحول دوست حل کا ایک تشویش ناک پہلو بھی موجود ہے۔
ان بڑے زیرِ آب سرور کلسٹرز سے خارج ہونے والی حرارت نے ماحولیاتی ماہرین کو فکر مند کر دیا ہے۔
ٹیکنالوجی کمپنیاں تیزی سے کمپیوٹنگ طاقت بڑھانے کی دوڑ میں ممکنہ طور پر سمندری ماحول میں مسلسل اور غیر فطری حرارت شامل کر رہی ہیں، جس سے نازک آبی ماحولیاتی نظام متاثر ہو سکتے ہیں اور بعض علاقوں میں سمندری "مردہ زونز" (Dead Zones) بننے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
پانچ مرلہ زمین کی مالکیت پر حکومت پنجاب کی جانب سے 15 لاکھ روپے گھر بنانے کیلئے دو اقساط کی صورت کی میں ملتے ہیں ساڑھے سات لاکھ روپے اپکو پہلی قسط دی جاتی ہے جس سے اپ گھر کی تعمیر شروع کر سکتے ہیں
پانچ مرلہ ڈی پی سی کا خرچا ۔۔۔ اینٹوں پر
چار ہزار اینٹ فی اینٹ پرائس 17 سے 23 روپے
بیس بوری سیمنٹ فی بوری ریٹ 1435 روپے
ریت دو ٹرالی فی ٹرالی ریٹ 8 ہزار روپے
دو ٹرالی گیڑہ ۔۔ فی ٹرالی ریٹ 6 ہزار
مزدوری اور مستری کا خرچ الگ
یعنی ڈی پی سی B کلاس مٹیریل کے ساتھ خرچ تقریبا ڈیڑھ لاکھ سے ایک لاکھ 70 ہزار تک
دوسری قسط لینے سے پہلے اپکے گھر کا لینٹر پورا ہونا چاہئیں تب دوسری قسط ایشو ہو۔ گی وہ بھی ٹیم کے وزٹ کے بعد
بلاک پر سٹرکچر
تین ہزار بلاکس ۔۔۔ فی بلاک قیمت 80 سے 85 روپے
سیمنٹ 40 بوری فی بوری قیمت 1435 روپے
ریت تین ٹرالی ۔۔ فی ٹرالی قیمت 8 ہزار روپے۔
کالم بیم کیلئے بجری اور سریہ الگ سے
مزدوری اور مستری کا خرچہ 230 روہے مربع فٹ
دروازوں کی چوکاٹھ اور بجلی کے پائپ الگ خرچا
پانی اور بجلی کا خرچ الگ
اب لینٹر پر معمولی سے معمولی سے معمولی خرچا بمع شٹرنگ مستری مزدور اور تمام مٹیریل چار سے پانچ لاکھ
یہ اخراجات مارکیٹ اور شہر کی مناسبت سے کم یا زیادہ ہو سکتے ہیں۔
اب بتائیں 7 لاکھ 50 ہزار میں لینٹر تک۔ کیسے تیار ہو سکتا ہے ؟؟؟
اور باقی گھر 7 لاکھ پچاس ہزار میں
جس میں پلستر فرش باتھ رومز دروازے کھڑکیاں بجلی بورنگ سیوریج اور دیگر چھوٹے موٹے کام پورے کرنے ہیں
کوئی انتہائی ماہر ائیڈیا دے اس بارے میں