🚨 BREAKING NEWS 🚨
22 Former Int'l Cricket Captains have once again written a letter to Pakistan PM Shehbaz Sharif over the treatment for Imran Khan. They first wrote a similar letter in Feb, 2026
Kapil Dev, Sunil Gavaskar and Dilip Vengsarkar are among the 22 former captains
Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
ضروری اعلان🚨🚨
عمران خان کا اڈیالہ جیل سے باہر پہلا قدم رکھنے پر چاروں صوبوں کے گلدستے یکجہتی کے لیے ہندوستان کے خلاف بارڈر پر پہنچ جائے گا
رہا کرو پ��کستان کی عزت کی خاطر...!!!
جب خیبر پختونخواہ کا دل آئے جائے، تو تیسری بار بھی دیتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ سے بڑے بڑے لیڈروں کا صفایا کر دیا ہے پی ٹی آئی نے اور لوگوں نے پی ٹی آئی کو بھرپور مینڈیٹ دیا ہے۔ - مہر بخاری
The United States Govt and the European Union have joined us in questioning the credibility of Yesterday's elections in Pakistan. Meanwhile Nawaz Sharif can continue with his " defeat celebrations"
فائزعیسٰی قاضی صاحب نےجس خوبصورتی سےجمہوریت،الیکشن،ووٹ کی عزت،تحریکِ انصاف کو “ٹیکنکل ناک آؤٹ “کیا ہےاتنی ہی خوبصورتی سےوہ اپنی اورسپریم کورٹ کی رہی سہی ساکھ کو بھی “ٹیکنیکل ناک آؤٹ“ کرگئے۔۔
Well Played سر۔۔
آپکو مبارک ہو سر۔۔
سر آپکا یہ فیصلہ تاریخ کےکوڑےدان میں سب سےاوپر ہوگا۔۔
جیسے آج آپ کے احساسات ہیں ۹ اپریل کی رات ہمارے بھی تھے۔ ہم نہیں جانتے تھے قوم کیا سوچ رہی ہے ہم نے جو سُنا تھا پچھلے اودوار کے بارے میں ہمیں ویسے ہی ردعمل کی توقع تھی۔ جو منظر آپ ٹی وی پر دیکھ کر ٹوٹے تھے ہم اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے تھے۔ ہمارے سامنے وہ اٹھا تھا اور خالی ہاتھ وزیر اعظم ہاؤس سے نکل گیا تھا۔ ہم دل شکستہ خود سے نظریں نا ملا پارہے تھے۔ پھر کیا ہوا؟ کیا ۹ اپریل کو عمران خان ہارا تھا یا ۹ اپریل کو عمران خان کی اب تلک کی سب سے بڑی فتح ہوئ تھی؟
آپ نے لکھی تھی عمران خان کی جیت کی عبارت۔ وہ یونہی آپ کے حوالے اپنی جنگ نہیں کرکے گیا۔ وہ ہمیشہ سے جانتا تھا کہ جس دن اللہ نے آپ کے دل اس کی جانب موڑے دنیا کی کوئ طاقت اس کو شکست نہیں دے سکے گی۔ اس کی جنگ کبھی بھی اقتدار کے لیے نہیں تھی۔ اس کی جنگ اقتدار کی ہوتی تو وہ پانچ مہینے سے ایک تنگ و تاریک کال کوٹھری میں اپنے تقوی کی ڈھال تلے نہ بیٹھا ہوتا۔ اس کی جنگ محظ طاقت کے حصول کی ہوتی تو وہ گولیاں کھا کر مسکراتے ہوئے آپ کا حوصلہ نہ بحال کرتا۔ اس کی جنگ وزیر اعظم کی کرسی کے لیے ہوتی تو اُس کرسی کو دوام دینے والے سارے مہرے اس کی آنکھوں کے سامنے ۹ اپریل کو سجنے والی بساط پر پ��ے تھے اور ایک عرصے تک پڑے رہے تھے۔۔ اس کی جنگ کا مقصد ہمیشہ سے آپ کو ایک عظیم قوم بنانا تھا۔ وہ جس دن دنیا کے سامنے کھڑے ہو کر لا الہ الا للہ کہہ رہا تھا اسی منبر پر کھڑے کھڑے اس کے پیروں سے سانپ لپٹنے لگے تھے۔ پھر بھی اس کی للکار سست نہیں پڑی۔ وہ جب مغرب کی ج��ہور پسندی کے نقاب نوچ رہا تھا، تو اُن کے خون آشام دانتوں کو اس نے اپنی شہہ رگ پر تب ہی محسوس کرلیا تھا مگر اس نے آپ کا سر نیچا نہیں ہونے دیا۔ وہ جب اپنے نبی پاک (ص) کی حُرمت کے لیے آواز اٹھا رہا تھا تو بھی جانتا تھا کہ وہ آتشِ نمرود میں کود رہا ہے لیکن وہ مانتا تھا کہ اولادِ ابراہیم (ع) کو بس یہی شیوہ دیتا ہے۔ اور تاریخ کا سبق بھی یہی ہے کہ وقت کے یزید کتنے ہی طاقتور ہوں حسین (رض) کی للکار ان کی تلواروں سے زیادہ زور آور رہتی ہے۔ اُس کی جیت تو اُسی دن ہوگئ تھی جس دن آپ نے کوفی بننے سے انکار کردیا تھا۔ اب اپنی جیت کو امر آپ نے اُس للکار سے کرنا ہے جس کا درس حسین (رض) اپنے خون سے لکھ گئے ہیں۔ جو پیادے آج آپ کے سامنے ناخدا بنے بیٹھے ہیں ان میں کسی کا قد نہیں اُس کو شکست دینے کا۔ اُس کا مقابلہ خدائ کے دعویداروں سے ہے اور اِس مقابلے میں اُس کا ہتھیار آپ ہیں؛ خلقِ خدا۔ جہاں ابھی تک آپ کے قدم نہیں ڈگمگائے ویسے ہی اب آپ کی آواز نہیں کمزور پڑنی چاہئے۔ گلی، مُحلے، چوک، چوراہے میں آپ کی للکار گونجنی چاہئے۔ ہر دیوار، ہر مکان، ہر چوبارے پہ آپ کی پُکار نشر ہونی چاہئے۔ یہ ہم پر اُس آدمی کا قرض ہے جس نے تخت و تاج ٹھکرائے ہمارا سودا نہیں کیا۔ جس نے خنجر سہے، تیر کھائے ہم پر آنچ نہیں آنے دی۔ جس نے خود کو تاراج کردیا ہماری نسلوں کی آبادی کی خاطر۔ جو کشمیر سے لے کر فلسطین اور افغانستان تک کے مظلوموں کی آواز بنا۔ جو ہر اُس مسلمان کی آواز بنا کہ جس کے لیے اُس کے امن و آشتی کے مذہب کو تہمت بنا دیا گیا تھا۔
یاد رکھیں ہم اس کی جنگ میں اللہ کے بھروسے اترے تھے۔ اپنے ایمان کے سہارے ڈٹے رہے ہیں اور اب اپنے آباء کی میراث کو اپنے سینوں میں سمو کر اسے لڑیں گے۔ ہم نہیں جھکیں گے!!!!
ہم نے پارٹی ڈسپلن کی پابندی کرتے ہوئے NA121 اور PP153 سے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے ہیں. ہم نے اب تک اپنے بچوں سے جدائی، کروڑوں کا کاروباری نقصان، جبر اور تمام مشکلات کسی ٹکٹ یا عہدے کے لالچ میں برداشت نہیں کی تھی. ہم انشاءاللہ پاکستان کی خوشحالی کے لیے تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے رہیں گے. تمام امیدواروں کے لیے نیک تمنائیں.
یقین جانیں پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لینے یا نہ لینے سے پی ٹی آئی کے ووٹرز اور سپورٹرز کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پی ٹی آئی کا واحد انتخابی نشان “خان” ہے۔۔۔