سب بچے اسکول جاتے ہیں اور میں سڑک پر احتجاج کرتی ہوں ۔ میرے چاچا جان کو عدالت میں پیش کیا جائے ۔
نصیب اللہ بادینی سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کو بازیاب کرو ۔
#EndEnforcedDisappearances
ایک بلوچ دانشور کو ریاستی ڈیتھ اسکواڈ نے شہید کیا، اور ریاست ہر بار یہی سمجھتی رہی ہے کہ بلوچ دانشوروں کو شہید کر کے بلوچ آزادی کی جنگ کو کمزور کیا جا سکتا ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے
You can kill a man, but not his ideology.
اب بلوچ قومی آزادی کی جنگ قومی آزادی تک جاری رہے گی
#saba
ہمیں انسانوں کے لیئے انسانیت کے لئیے ہار نہیں ماننا ہوگا
اگر ہم خاموش ہونگے تو ہمارے آنے والی نسلیں بھی اس ظلم کی چکی میں پیسے جائینگے.
آئیے جبری لاپتہ افرادوں کے لیے آواز اٹھائیں۔
#ReleaseAzeemDost
مہروان نا سنگت Beebow Baloch
بیبو بلوچ ایک مہروان ساتھی جو ہر وقت لاپتہ افراد کے لیئے آواز بلند کرتی ہیں اور اسی پاداش میں وہ پچھلے کئ دنوں سے خود پاپند سلاسل ہیں۔
گل زادي بلوچ کو بازياب کرو
#ReleaseBeebowBaloch#ReleaseBYCLeaders
بلوچستان میں کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جب آپ کے کسی دوست رشتہ دار یا کسی جاننے والے کو ریاستی ادارے اُٹھا کر نا لے جائیں۔
اور پھر سالہ سال انھیں نامعلوم زندانوں میں قید کرکے رکھتی ہے
انہی حالات سے متاثر خاندان جب سڑکوں پر احتجاج کرنے آتے ہیں تو انھیں بھی دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے
By attacking these unarmed Baloch women, #PakArmy has once again exposed their cowardice. Every drop of blood only emboldens these Baloch women to fight for their loved ones harder. Violence & barbarism won’t stop them. 1/
#SaveBalochWomen@GHANIBALOCH_@BalochLatif@pawalbaloch
ڈاکٹر صبیحہ بلوچ
“جب بلوچ دنیا کے کسی بھی کونے میں محفوظ نہ رہا، تو یہ لگا کہ خطرہ بلوچ کو ہے
پھر لاپتہ افراد کی لسٹ دیکھی، تو لگا دشمنی تعلیم سے ہے
تو جب کوئی شخص دونوں ہو، بلوچ بھی ہو اور تعلیم یافتہ بھی، تو یقیناً اسے اپنے دن گن لینے چاہییں۔ یہ زمین اس کے لیے محفوظ جگہ نہیں۔